بہت سے لوگ دوسروں کی مختلف سوچوں ، باتوں ، انداز ، عادات و اطوار ، خصوصا ایسی سوچ یا باتیں جو ان کی ذہنی سوچ سے مطابقت نہ رکھتی ہوں سے متنفر ہو کر ذہنی ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ہر انسان کی سوچ عمومی یا خصوصی دوسروں کی سوچ سے بہت کم مطابقت رکھتی ہے جس کی وجہ سے انسان اکتاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے اور یہی اکتاہٹ جب حد سے بڑحتی ہے تو بندہ سکون چاہتا ہے۔
میری نظر میں اس کے سب سے بہتر دو حل ہیں
اگر تو آپ میں برداشت کا مادہ کم ہے اور آپ صرف اپنی ذہنی سوچ کے مطابق ہی ہر چیز چاہتے ہیں تو آپ کو چاہئے کہ کتابوں کی طرح اپنے موضوع کی کتاب تک محدود رہیں۔
دوسرا اس کا حل یہ ہے کہ دوسروں کی سوچوں کو پڑھیں اور اس سے سبق حاصل کریں ۔اگر کوئی سوچ آپ کی برداشت سے باہر ہے تو اسے نظرانداز کردیں ۔
نظراندازی خود کے لئے سکون اور دوسروں کے لئے عذاب کا باعث ہوتی ہے
نظر اندازی خود کیلئے سکون اور دوسرے کیلئے عذاب ہے۔
جواب دیںحذف کریں