اردو شاعری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اردو شاعری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 29 جون، 2017

ساتوں رنگ ۔۔۔۔ ناصر کاظمی کے دیوان اور مختلف اشعار کا انتخاب

ناصر کاظمی ایک بلند پایہ شاعر تھے ۔۔ ان کی شاعری اپنی مثال آپ ہے ۔۔ساتوں رنگ میں اعجاز عبید صاحب نے ناصر کاظمی کے دیوان اور مختلف کتب سے بہترین اشعار کا انتخاب کیا ہے ۔ساتوں رنگ کتاب ورڈ فارمیٹ میں پیش کی جارہی ہے جسے آپ یہاں سے کلک کر کے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں ۔

ساتوں رنگ یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
وہ تری یاد تھی اب یاد آیا

آج مشکل تھا سنبھلنا اے دوست
تو مصیبت میں عجب یاد آیا

دن گزارا تھا بڑی مشکل سے
پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا

تیرا بھولا ہوا پیمانِ وفا
مر رہیں گے اگر اب یاد آیا

پھر کئی لوگ نظر سے گزرے
پھر کوئی شہرِ طرب یاد آیا

حالِ دل ہم بھی سُناتے لیکن
جب وہ رُخصت ہوا تب یاد آیا

بیٹھ کر سایۂ گل میں ناصر
ہم بہت روئے وہ جب یاد آیا

جمعرات، 27 اپریل، 2017

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
مسجد شب بھر شہر لاہور میں شاہ عالمی چوک کے ساتھ واقع ہے ۔ اگر آپ لوہاری دروازے کی جانب سے آئیں تو دائیں ہاتھ اور اگر موچی دروازہ کی جانب سے آئیں تو بائیں ہاتھ شاہ عالمی چوک کے کونے میں واقع ہے۔۔۔کہا جاتا ہے کہ قیام پاکستان سے قبل مسلمانوں نے اسے ایک رات میں تعمیر کیا تھا۔اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسی مسجد کے بارے میں علامہ اقبال نے یہ شعر کہا تھا ۔۔۔۔۔۔

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا

[gallery ids="2360,2361,2362,2363,2364"]

لاہور میں واقع ‘‘ مسجد شب بھر ‘‘ کو ایک رات میں تعمیر کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ انگریزوں کے دور میں یہ مقام ہندؤں اور مسلمانوں دونوں کی آماجگاہ تھا ۔دو دراز سے آنے والے مسافر یہاں بسیرا کیا کرتے تھے۔کہا جاتا ہے کہ ایک دن ایک مسلمان مسافر کی اس جگہ نماز پڑھنے کے بعد وہاں بیٹھے ہندؤں سے تو تکار ہو گئی ۔بات ہاتھا پائی سے ہوتی ہوئی ہنگامہ آرائی کی شکل اختیار کر گئی ۔ ہنگامہ آرائی اتنی بڑھی کہ پولیس کو مداخلت کرنا پڑی اور دونوں فریقین کے درمیان کیس درج کر لیا گیا ۔۔۔ اب بات عدالت تک جا پہنچی تھی ۔

عدالت میں ہندؤں نے موقف اختیار کیا کہ یہ ہمارے مندر کی جگہ ہے اور یہاں ہم اب نیا مندر تعمیر کریں گے ۔۔۔ جبکہ دوسری جانب مسلمانوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ چونکہ اس جگہ ہم عبادت کرتے ہیں سو یہ جگہ ہماری مسجد کے لئے ہے ۔مسلمانوں کی جانب سے اس کیس کی پیروی قائد اعظم محمد علی جناح کر رہے تھے ۔ اس موقع پر محمد علی جناح نے کہا کہ اگر ہم یہ ثابت کر سکیں کہ یہاں مسلمانوں کی عبادت گاہ موجود ہے تو یہ کیس ہم آسانی سے جیت جائیں گے اور کیس کا فیصلہ ہمارے حق میں ہو گا۔

کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں نے گاماں پہلوان کی قیادت میں پانچ سو سے زائد افراد کے ساتھ راتوں رات مسجد کے ڈھانچے کو کھڑا کر دیا ۔تاریخ بتاتی ہے کہ ان افراد میں کافی تعداد میں عورتیں بھی شامل تھیں جو اپنے گھروں سے پانی لا لا کر مردوں کا ہاتھ بٹاتی رہیں ۔ صبح تک لوگوں نے دیکھا کہ ‘‘ مسجد شب بھر ‘‘ پوری آب و تاب کے ساتھ اپنی جگہ موجود تھی ۔دوسری جانب مسجد کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد عدالت نے مسلمانوں کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔
علامہ اقبال کو جب اس ‘‘ مسجد شب بھر ‘‘ کی تعمیر کا پتہ چلا تو آپ نے یہ مشہور شعرکہے ۔

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا

اب اس کا نام ‘‘ مسجد شب بھر ‘‘ کس نے رکھا ۔۔۔ اس کے بارے میں مختلف بیانات موجود ہیں ۔۔البتہ تاریخ کی کتابوں میں اس مسجد کا سن تعمیر 1917ء اور اس کا نام “مسجد شب بھر“ درج ہے

علامہ اقبال کی لکھی گئی پوری غزل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا
کیا خوب امیرِ فیصل کو سنوسی نے پیغام دیا
تو نام و نسب کا حجازی ہے پر دل کا حجازی بن نہ سکا
تر آنکھیں تو ہو جاتی ہیں پر کیا لذت اس رونے میں
جب خونِ جگر کی آمیزش سے اشک پیازی بن نہ سکا
اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتار کا یہ غازی تو بنا کردار کا غازی بن نہ سکا

بدھ، 29 مارچ، 2017

شاعروں پر ظلم بند کریں

شاعری کیا ہے ؟ ایک احساس ۔۔۔۔ ایسا احساس جسے الفاظ میں ڈھالا جاتا ہے
شاعری کو الفاظ میں ڈھالنا ایک فن ہے اور یہ فن ایک خداداد صلاحیت ہے ۔۔۔۔
دوسرے درجے کی شاعری میں احساس کو الفاظ میں بنایا جاتا ہے جسے ہم تخلیقی شاعری کہہ سکتے ہیں
کئی شاعروں نے چرس کے نشے میں ڈوب کر لکھا ۔۔۔۔ اور جو لکھا ۔۔ وہ یادگار تھا
کئی شاعروں نے شراب کے نشے میں کمال کے شعر کہہ ڈالے ۔۔۔اس وقت ان کو بھی نہیں پتہ چلا کہ کس کی شان میں کہہ ڈالے
کئی شاعروں نے پاخانے میں بیٹھے کمال کی غزلیں تخلیق کر ڈالیں
اب جو شعر کہے جاتے ہیں وہ شاعر کی مختلف ذہنی کفیت اور احساس کا عکاس ہوتے ہیں ۔۔۔تب شاعر کے ذہن میں پتہ نہیں کیا تصور ہوتا ہے یا پتا نہی اس نے وہ کس تناظر میں کہے ہوتے ہیں ۔۔۔
اب انہیں اشعار کو خود پر فٹ کر کے اپنے تئیں موقع کی مناسبت سے میدان میں پھینک کر داد وصول کرنا ظلم نہیں تو اور کیا ہے ؟

پیر، 15 جون، 2015

پاک ٹی ہاؤس اور ہیر رانجھا

اس تحریر کو آپ آڈیو میں بھی سن سکتے ہیں

[audio mp3="http://snaji.com/wp-content/uploads/2015/06/pak-tea-house-lhr.mp3"][/audio]

پاک ٹی ہاؤس لاہور میں مال روڈ پر واقع ہے جو کہ نیلا گنبد کے قریب اور انار کلی بازار کے باہری حصے کی جانب واقع ہے ۔پاک ٹی ہاؤس کے سامنے کی جانب پنجاب یونیورسٹی ہے ، دائیں جانب کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج ہے اور بائیں جانب اے جی آفس کی جانب جانے والی سڑک نظر آتی ہے اور اگر ہم پیچے کی جانب دیکھیں تو وائی ایم سی کی پرانی بلڈنگ ہمیں کھڑی نطر آئے گی ۔

کہا یہ جاتا ہے کہ 1940 میں ایک سکھ بوٹا سنگھ نے "انڈیا ٹی ہاؤس" کے نام سے یہ چائے خانہ شروع کیا تھا۔۔۔ تقریباً چار سال اس چائے خانے کو چلانے کے باوجود بھی بوٹا سنگھ کی اس چائے خانے سے آمدن نہ ہونے کے برابر تھی جس سے بوٹا سنگھ کا دل اس چائے خانے سے اچاٹ ہو گیا اور وہ اس کو بیچنے کے بارے میں سوچنے لگا ۔اس زمانے میں بوٹا سنگھ کے چائے خانے میں دو سکھ بھائی جو گورنمنٹ کالج کے سٹوڈنٹ تھے اپنے دوستوں کے ہمراہ اکثر چائے پینے آتے تھے 1940ء میں یہ دونوں بھائی گورنمنٹ کالج سے گریجوایشن کر چکے تھے اور کسی کاروبا ر کے متعلق سوچ رہے تھے کہ ایک روز اس چائے خانہ پر بیٹھے، اس کے مالک بوٹا سنگھ سے بات چل نکلی اور بوٹا سنگھ نے یہ چائے خانہ ان کو بیچ دیا ۔


لاھور کے مشہور چائے خانوں میں سب سے مشہور چائے خانہ پاک ٹی ہاؤس تھا جو ایک ادبی، تہذیبی اور ثقافتی علامت تھا پاک ٹی ہاؤس شاعروں، ادیبوں، نقاد کا مستقل گڑھ تھا جو ثقافتی، ادبی محافل کا انعقاد کیا کرتی تھیں۔


اس زمانے میں پاک ٹی ہاؤس میں بیٹھنے والے ادیبوں اور شاعروں میں سے سوائے چند ایک کے باقی کسی کا بھی کوئی مستقل ذریعہ معاش نہیں تھا کسی ادبی پرچے میں کوئی غزل، نظم یا کوئی افسانہ لکھ دیا تو پندرہ بیس روپے مل جاتے تھے لیکن کبھی کسی کے لب پر تنگی معاش کا شکوہ نہیں تھا اگر شکوہ کرتے تھے تو محبوب کی بے وفائی کا۔۔۔۔۔۔ وہ بھی اپنی شاعری میں ۔۔۔



سعادت حسن منٹو، اے حمید، فیض احمد فیض، ابن انشاء، احمد فراز، منیر نیازی، میرا جی، کرشن چندر، کمال رضوی، ناصر کاظمی، پروفیسر سید سجاد رضوی، استاد امانت علی خان، ڈاکٹر محمد باقر، انتظار حسین، اشفاق احمد، قیوم نظر، شہرت بخاری، انجم رومانی، امجد الطاف امجد، احمد مشتاق، مبارک احمد، انورجلال، عباس احمد عباسی، ہیرو حبیب، سلو، شجاع، ڈاکٹر ضیاء، ڈاکٹر عبادت بریلوی، سید وقار عظیم وغیرہ پاک ٹی ہاؤس کی جان تھے

ساحر لدھیانوی بھارت جا چکے تھے اور وہاں فلمی گیت لکھ کر اپنا نام کما رہے تھے۔۔ اس وقت کے شاعر اور ادیب اپنے اپنے تخلیقی کاموں میں مگن تھے ادب اپنے عروج پہ تھا اس زمانے کی لکھی ھوئی غزلیں، نظمیں، افسانے اور مضامین آج کے اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں اس زمانے کی بوئی ہوئی ذرخیز فصل کو ھم آج کاٹ رہے ہیں

پاک ٹی ہاؤس کئ نشیب و فراز سے گزرا اور کئ مرتبہ بند ہو کر خبروں کا موضوع بنتا رہا
عرصہ دراز تک اہل قلم کو اپنی آغوش میں پناہ دینے کے بعد 2000ء میں جب ٹی ہاؤس کے مالک نے اسے بند کرنے کا اعلان کیا تو ادبی حلقوں میں تشویس کی لہر دوڈ گئ اور اھل قلم نے باقاعدہ اس فیصلے کی مزاحمت کرنے کا اعلان کر دیا

دراصل ٹی ہاؤس کے مالک نے یہ بیان دیا تھا کہ "میرا ٹی ہاؤس میں گزارہ نہیں ہوتا میں کوئی دوسرا کاروبار کرنا چاہتا ہوں" ادبی تنظیموں نے مشترکہ بیان دیا کہ ٹی ہاؤس کو ٹائروں کی دکان بننے کی بجائے ادیبوں کی بیٹھک کے طور پر جاری رکھا جائے کیونکہ اس چائے خانے میں کرشن چندر سے لیکر سعادت حسن منٹو تک ادبی محفلیں جماتے رھے
ادیبوں اور شاعروں نے اس چائے خانے کی بندش کے خلاف مظاہرہ کیا اور یہ کیس عدالت میں بھی گیا اور بعض عالمی نشریاتی اداروں نے بھی احتجاج کیا آخر کار 31 دسمبر 2000ء کو یہ دوبارہ کھل گیا اور اہل قلم یہاں دوبارہ بیٹھنے لگے لیکن 6 سال کے بعد مئ 2006ء میں یہ دوبارہ بند ہو گیا اس بار ادیبوں اور شاعروں کی طرف سے کوئی خاص احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا


میاں نواز شریف نے بالآخر 23 مارچ 2012 کو پاک ٹی ہاؤس میں چائے پی کر اور اس کا افتتاح کر کے ادیبوں اور شاعروں کے لیے اس کے دروازے ایک بار پھر کھول دئیے ۔

آجکل پاک ٹی ہاؤس میں ادبا اور شعرا تو خال خال ہی نظر آتے ہیں البتہ دوپہر گیارہ بجے سے شام پانچ بجے تک لیلی مجنوں ، شیریں فرہاد ، سسی پنوں اور ہیر رانجھا اپنی اپنی سرگوشیوں میں مشغول رہتے ہیں ۔

https://soundcloud.com/urduhome/pak-tea-house

.....................

منگل، 10 جون، 2014

فیض احمد فیض کی شاعری ڈاؤنلوڈ کریں

فیض احمد فیض کی شاعری یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

ڈاکٹر شکیل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ فیض احمد فیض برصغیر کی تہذیب کی جمالیات سے رشتہ رکھتے ہں جس کی جڑیں اس زمین کی گہرائیوں مںو پیوست اور دور دور تک پھیلی ہوئی ہں ، جس کی خوبصورت روایتیں تاریخ مں مسلسل سفر کرتی رہی ہںت اور جس نے اس عہد مںا اپنی تاریخی، سماجی اور سیاسی حیثیتوں کو زندگی کی معنویت کے ساتھ اُجاگر کر رکھا ہے۔
فیض احمد فیض کی شخصیت کا ارتقاء اسی تہذیب مںت ہوا ہے، ان کی شاعری اسی تہذیب کی جمالیات کے مختلف پہلوؤں کو پیش کرتی ہے، ان پہلوؤں اور جہتوں کو ’ہیومنزم‘ کے جمالیاتی مظاہر سے تعبیر کرنا مناسب ہوگا۔ فیض احمد فیض کا اپنا منفرد رومانی،جمالیاتی شعور و احساس ہے جو اس عہد کی دین ہے۔ ’ہیومنزم‘ کے جمالیاتی مظاہر، معاشرے کے مختلف طبقوں کے احساس و شعور کا حصہ بن کر ’’جمالیاتی ثقافت‘‘ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہںخ ۔


میں فیض احمد فیض کی اس قیمتی شاعری کے لئے اردو محفل خصوصاً اعجاز عبید صاحب ، جویریہ مسعود صاحبہ ، منصور قیصرانی صاحب ، فرخ منظور صاحب سیدہ شگفتہ صاحبہ ، نبیل نقوی صاحب ، شعیب افتخار (فریب) صاحب، محب علوی صاحب، رضوان صاحب ، شمشاد صاحب سید اویس قرنی المعروف بہ چھوٹا غالب کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور ساتھ ساتھ اردو محفل لائبریری کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اپنی محنت سے انٹرنیٹ کی دنیا میں یونی کوڈ کتابوں کے حصول کو آسان اور مفت بنا دیا

بدھ، 4 جون، 2014

جون ایلیا کی غزلیں، نظمیں، قطعات ڈاؤنلوڈ کریں

جون ایلیا کی غزلیں، نظمیں، قطعات یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

جون ایلیا ایک عجیب اور منفرد شاعر جو کہ چھوٹے بحر کی شاعری میں کمال کا درجہ رکھتا تھا ۔۔۔ ایسا شاعر جو تھوڑے الفاظ میں بہت کچھ کہہ جاتا تھا ۔ جون ایلیا ایک جگہ کہتا ہے ۔اپنی شاعری کا جتنا منکر میں ہوں، اتنا منکر کوئی نہ ہو گا. کبھی کبھی تو مجھے اپنی شاعری اشتعال انگیز حد تک بری اور بے تکی لگتی ہے.

میں جون ایلیا کی ان قیمتی غزلوں ، نظموں اور قطعات کے لئے اردو محفل خصوصاً اعجاز عبید صاحب ، جویریہ مسعود صاحبہ ، منصور قیصرانی صاحب ، فرخ منظور صاحب سیدہ شگفتہ صاحبہ ، نبیل نقوی صاحب ، شعیب افتخار (فریب) صاحب، محب علوی صاحب، رضوان صاحب ، شمشاد صاحب سید اویس قرنی المعروف بہ چھوٹا غالب کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور ساتھ ساتھ اردو محفل لائبریری کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اپنی محنت سے انٹرنیٹ کی دنیا میں یونی کوڈ کتابوں کے حصول کو آسان اور مفت بنا دیا

بدھ، 15 جون، 2011

میری محبوب! کہیں اور ملا کر مجھ سے

تاج، تیرے لئے اک مظہرِ اُلفت ہی سہی
تُجھ کو اس وادئ رنگیں ‌سے عقیدت ہی سہی

میری محبوب! کہیں اور ملا کر مجھ سے
بزمِ شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی؟
ثبت جس راہ پہ ہوں سطوتِ شاہی کے نشاں
اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی؟

مری محبوب پسِ پردہِ تشہیر وفا
سطوت کے نشانوں کے مقابر سے بہلنے والی
مُردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی
اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا

ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے
کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جذبے ان کے
لیکن ان کے لئے تشہیر کا ساماں نہیں
کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے

یہ عمارات و مقابر، یہ فصیلیں، یہ حصار
مطلق الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستوں
سینہ دہر کے ناسور ہیں کہنہ ناسور
جذب ہے ان میں ترے اور مرے اجداد کا خوں

میری محبوب! انہیں بھی تو محبت ہوگی
جن کی صنائی نے بخشی ہے اسے شکلِ جمیل
ان کے پیاروں کے مقابر رہے بے نام و نمود
آج تک ان پہ چلائی نہ کسی نے قندیل

یہ چمن زار، یہ جمنا کا کنارہ یہ محل
یہ منقش درودیوار، یہ محراب، یہ طاق
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق

میری محبوب! کہیں اور ملا کر مجھ سے

ساحر لدھیانوی

ہفتہ، 4 جون، 2011

ہیں رہبروں کی عقل پر پتھر پڑے ہوئے

نکلے صدف کی آنکھ سے موتی مرے ہوئے
پھوٹے ہیں چاندنی سے شگوفے جلے ہوئے
ہے اہتمام گریہ و ماتم چمن چمن
رکھے ہیں مقتلوں میں جنازے سجے ہوئے
ہر ایک سنگ میل ہے اب تگِ رہگذر
ہیں رہبروں کی عقل پر پتھر پڑے ہوئے
بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں
کچھ باغباں ہیں برق و شرر سے ملے ہوئے
اب میکدے میں بھی نہیں کچھ اہتمام کیف
ویران ہیں شعور تو دل ہیں بجھے ہوئے
ساغر یہ واردات سخن بھی عجیب ہے
نغمہ طراز شوق ہوں لب ہیں سلے ہوئے
ساغر صدیقی

منگل، 16 جنوری، 2007

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

فیض احمد فیض کی اپنی آواز میں سننے کے لئے آڈیو کو چلائیں

[audio:http://lcweb2.loc.gov/mbrs/master/salrp/08205.mp3]

بول، کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول، زباں اب تک تیری ہے
تیرا ستواں جسم ہے تیرا
بول، کہ جان اب تک تیری ہے
دیکھ کہ آہن گر کی دوکان میں
تند ہیں شعلے سرخ ہے آہن
کھلنے لگے قفلوں کے دھانے
پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن
بول، یہ تھوڑا وقت بہت ہے
جسم و زباں کی موت سے پہلے
بول، کہ سچ زندہ ہے اب تک
بول، جو کچھ کہنا ہے کہہ لے

رومن اردو

bol ke lab aazaad haiN tere
bol zabaaN ab tak terii hai
teraa sutvaaN jism hai teraa
bol ke jaaN ab tak terii hai
dekh ke aahaNgar kii dukaaN meN
tuNd haiN shole surKh hai aahan
khulne lage qufloN ke dahaane
phailaa har ek zanjiir kaa daaman
bol ye thoRaa vaqt bahut hai
jism-o-zubaaN kii maut se pahle
bol ke sach ziNdaa hai ab tak
bol jo kuch kehnaa hai keh le

بدھ، 15 نومبر، 2006

گیسوئے تاب دار کو

گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر
ہوش و خرد شکار کر ، قلب و نظر شکار کر
عشق بھی ہو حجاب میں ، حسن بھی ہو حجاب میں
یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر
تو ہے محیط بے کراں ، میں ہوں ذرا سی آبجو
یا مجھے ہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر
میں ہوں صدف تو تیرے ہاتھ میرے گہر کی آبرو
میں ہوں خزف تو تو مجھے گوہر شاہوار کر
نغمۂ نو بہار اگر میرے نصیب میں نہ ہو
اس دم نیم سوز کو طائرک بہار کر
باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کار جہاں دراز ہے ، اب مرا انتظار کر
روز حساب جب مرا پیش ہو دفتر عمل
آپ بھی شرمسار ہو ، مجھ کو بھی شرمسار کر