facebook لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
facebook لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 3 اگست، 2018

مرشد پاک دیاں ایجنسیاں شریف


آجکل ایجنسیز لوگوں کو اٹھا کر لے جاتی ہیں اور کچھ دنوں بعد کالا سیاہ کرکے پانچ وقت کا پابند نمازی کرکے چھوڑ جاتی ہیں۔
یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ سمجھ لیں بندے کے اندر جو "کیڑا" ہوتا ہے وہ کڈ کر بندے کو سیدھا تیر یعنی صراط المسقیم پر چڑھا دیتی ہیں۔
اور دعا بھی دیتی ہیں کہ جا بچہ اللہ دین ایمان کا پکا رکھے ای۔
زیادہ تو نہیں معلوم لیکن اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ کوئی نا کوئی "وجہ" ضرور ہوتی ہے۔
کہ "ایجنسیوں" کو مجبوراً بندہ "چیک" کرنا پڑتا ہے۔
ایسے حالات میں گہیوں کے ساتھ تھوڑا بہت گہن بھی پس ہی جاتا ہے۔
صبر کر لینا چاھے اور درجات کی بلندی کی دعا کرلینی چاھئے۔
اب یہی دیکھ لیں ۔
دہشت گردی میں کافی کمی ہوئی ہے۔ ورنہ ڈر ہی لگا رہتا تھا کہ کون کہاں پر پھٹ پڑےگا۔
الیکشن کا کنجر خانہ جو فی الحال پورے جوش وخروش سے رواں دواں ہی ہے۔ اس کے دوران ہی دو شدید قسم کے "دہشت گردی" کے واقعات ہوئے ہیں۔
لوگوں کی کافی تعداد ماری گئی اور سینکڑوں لولے لنگڑے ابھی بھی زیر علاج ہیں۔۔
فوج کو گالیاں دینے والے ایک لمحے کیلئے سوچیں کہ جنہیں "ایجنسیز " اٹھاتی ہیں۔ وہ لوگ آخر کیوں "ایجنسیز" کی نگاہ میں آتے ہیں؟
مثال کے طور پر
"سوشل میڈیا" پر ہمارے سامنے سلیمان حیدر ، وقاص گورایہ ، اور ابو علیحہ کو اٹھایا گیا اور جھاڑ پونچھ کرکے چھوڑ دیا گیا۔
ان تینوں کو ہم پڑھتے ہی رہتے تھے۔ اور اب بھی ان کا لکھا نظروں سے گذرتا ہی رہتا ہے۔
ابو علیحہ فی الحال زیر علاج اور آفٹر شاکس سے گذر رہے ہیں۔ کافی شبھ شبھ لکھ رہے ہیں۔
باقی دو کا "کیڑا" شاید سپورٹ تگڑی ہونے کی وجہ سے سر "اٹھاتا" ہی رہتا ہے۔
بحرحال ہم ان تینوں کے لکھے کو کسی طرح بھی "آزادیِ اظہارِ رائے" کے زمرے نہیں رکھ سکتے تھے۔
ایک دو سٹیٹس لوگوں کو جمع کرنے کیلئے "لفاظیت" سے لکھتے تھے اور پھر "حق سچ" کےنام پر "منافرت" پھیلاتے تھے۔
ساری دنیا میں "ریاستوں" کا یہی طریقہ کار ہے مشکوک بندے کو پہلے اٹھایا جاتا ہے "تفتیش" کی جاتی ہے۔
بیگناہ یا احمق بیوقوفانہ طریقہ سے سستی شہرت یا مالی فائدہ اٹھانے والا ہونے کی تصدیق ہونے کے بعد چھوڑ دیا جاتا ہے۔
جاؤ تسی بیگناہ ہو۔ اللہ اللہ خیر صلا۔
اگر اس "تفتیشی عمل" کے دوران بندہ سوکھ سڑ کر تھوڑا بہت "کالا کلوٹا" ہو جاتا ہے تو میرے خیال میں "اٹھائے " جانے والے کو اپنا "حق سچ" بولنے کا "معاوضہ " ادا کرنا سمجھ کر صبر شکر کر لینا چاھئے۔
اور بھولیئے مت پاکستان دہشت گردی کی زد پر ہے اور مسلسل "لاشے" اٹھائے جارہے ہیں۔

ہمارے ادھر جاپان سے قدیم و عظیم بلاگرعقلاں اور دانشاں "کمہاراں " آلی سرکار بھی بہت "حق سچ" کا پر چار کرتے رہتے ہیں۔
مذہبی منافرت ، لسانی منافرت ، نسلی منافرت ، کے علاوہ
ساڈی جان سے بھی پیاری افواج پاکستان کے خلاف ہرزہ سائی بھی کرتے رہتے ہیں۔ :D
بس ان کی بھی پین دی سری کی جائے :D
اس بار پاکستان یاترا کریں تو انہیں بھی ذرا ائیر پورٹ سے "چیک" کرنے کیلئے "ایجنسیوں" کو وصول کر لینا چاھئے۔
سو فیصد ضمانت دی جاتی ہے کہ کچھ فیس بک پیجز اور کچھ مشکوک "سائیٹز" ضرور ان کی "کرامتوں" کی مرہون منت چل رہی ہوں گئیں۔
کون کون سے پیج اور سائیٹز پوچھ مت لینا۔۔تُکے سے کام لیا جارہا ہے۔۔۔۔۔۔
:D :D
اور سلیمان حیدر، وقاص گورایہ ، ابو علیحہ ان تینوں سے ضرور کوئی نا کوئی تعلق واسطہ ہوگا۔ بلکہ میرے خیال میں تو باقاعدہ روابط ہوں گئے۔
ابو علیحہ کی "مشکوک" فلم کیلئے "سرمایہ " فراہم کرنے کا تو "ایجنسیوں" کو معلوم ہو ہی چکا ہے (اندروں دی گل)
ہم نے "حب الوطنی " کا مظاہرہ کرتے ہوئے غفور انکل کو اطلاع دے دی ہے۔
پھر نہ کہنا "خبر " نہ ہوئی۔ :D
نوٹ؛-
منجانب از ادارہ خوامخواہ جاپانی ٹوٹلی حالتِ وجدبوٹ پالشی میں لکھا گیا آرٹیکل

اتوار، 22 جولائی، 2018

الیکشن 2018 سوشل میڈیا اور نفرت انگیز مواد کی تشہیر


آج سے تین دن پیشتر مجھے فرخ منظور نے پاکستان کی ایک معروف این جی اوز ‘‘ برگد ‘‘ کی جانب سے آیا ہوا ایک دعوت نامہ پہنچایا کہ اتوار صبح گیارہ بجے سے ایک بجے تک ‘‘ برگد ‘‘ کی جانب سے پاکستان الیکشن 2018 کے سلسلہ میں سوشل میڈیا پر گالی گلوچ اور نفرت انگیز مواد کی روک تھام پر ایک مکالمہ ہو رہا ہے جس میں بلاگرز نے بھی شرکت کرنی ہے ۔

موضوع چونکہ دلچسپ تھا اس لئے سوچا شرکت لازمی کرنا چاہئے ۔۔۔ وقت زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے میں نے صرف لاہور کے مرد و زن اور ایک خواجہ سرا بلاگر کو بھی اپنی طرف سے اس مکالمے میں شرکت کی درخواست کر دی ۔۔۔مگر خواتین اور خواجہ سرا بلاگر نے مصروفیت زیادہ ہونے کی وجہ سے مکالمے میں شرکت پر معذرت کر لی ۔۔۔ جس کا مجھے افسوس ہوا۔

وقت مقررہ پر جب ہم معروف این جی اوز ‘‘ برگد ‘‘ کے آفس پہنچے تو انہوں نے بڑی عزت سے ہمیں خوش آمدید کہا ۔۔۔ آپس میں تعارف کروانے کے بعد ہمیں الیکشن 2018 کے سلسلے میں سوشل میڈیا پر مختلف لوگوں اور تنظیمیوں کی جانب سے جو نفرت انگیز مواد شائع کیا جارہا تھا اس کے سروے سے آگاہ کیا گیا اور اس پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔


معروف این جی اوز ‘‘ برگد ‘‘ کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فیس بک کے ماہانہ صارفین کی تعداد ‘‘ تین کروڑ ‘‘ کے لگ بھگ ہے جبکہ دوسری جانب اس کے مقابلے میں ٹیویٹر کے ماہانہ صارفین صرف 35 لاکھ ہیں ۔۔مگر پھر بھی فیس بک کی نسبت ٹویٹر پر نفرت انگیز مواد اور اس پر اظہار رائے زیادہ موثر ثابت ہوتا ہے ۔۔الیکشن 2018 اور سوشل میڈیا صارفین کے حوالے سے مرتب کی جانے والی اس رپورٹ کے لئے تیس ہزار صارفین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا تین ماہ ( اپریل 2018 تا جولائی 2018 تک ڈیٹقا اکھٹا کیا گیا ۔

یہ تحقیقایک پراجیکٹ ‘‘ پر امن الیکشن اور نوجوانوں کا کردار ‘‘ کا حصہ تھی جس میں خیبر پختونخواہ اور پنجاب کی کل دس یونیورسٹیز کے 200 طلباء و طالبات نے براہ راست دو دن کے مشاورتی اجلاسوں میں حصہ لیا اور تربیت حاصل کرنے کے بعد دونوں صوبوں میں پر امن الیکشن اور نوجوانوں کے کردار کے حوالہ سے 100 کے قریب مختلف پراجیکٹس کئے ۔

اس رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی کہ سوشل میڈیا نفرت نانگیز مواد کی اشاعت میں کس طرح مددگار ثابت ہو رہا ہے۔اور سیاسی تشہیر میں اس قابل نفرت مواد کو سیاسی رہنما اور اس کے حامی کس طرح استمال کر رہے ہیں ۔


تحقیقی رپورٹ کے مطابق یہ بات بھی سامنے آئی کی تحریری مواد کے ساتھ ساتھ تصاویر ، آڈیو اور ویڈیوز کا استمال نفرت انگیز مواد پھیلانے میں سب سے زیادہ ہوتا ہے ۔۔۔اپریل سے جولائی تک کی سیاسی تشہیر میں سب سے زیادہ نفرت انگیز مواد کا استمال کیا گیا جس میں نفرت انگیز مواد کی تائید ، تشہیر اور اس پر مباحث شامل تھے ۔اس رپورٹ سے یہ بھی بات سامنے آئی کہ نفرت انگیز مواد میں اعتراضات ،الزامات اور شخصی تشخص کو نشانہ بنانے کا استمال سب سے زیادہ کیا جاتا ہے ۔۔مزید مذہبی عدم برداشت اور صنفی اعتبار سے مخالفین کو تضحیک اور قابل نفرت انداز میں پیش کرنا بھی ایک مقبول طرز عمل ہے ۔۔اس حوالے سے ٹویٹر پر ایسے ہیش ٹیگ کا استمال جا بجا دیکھا گیا جو براہ راست نفرت انگیز بیانئے پر مشتمل تھے ۔سیاسی جماعتوں مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے حامیوں کے درمیان سوشل میڈیا پر براہ راست گالم گلوچ ،عقیدے ، برادری ، پیشہ اور صنفی اعتبار سے نفرت انگیز مواد کا پھیلاؤ زیادہ نمایاں طور پر سامنے آیا ۔۔


اس تحقیقی رپورٹ میں یہ بھی بات سامنے آئی کہ الیکشن کے دنوں میں انفرادی اور ایک گروہ کی صورت میں نفرت انگیز مواد کی تخلیق و تشہیر کو باقاعدہ ایک منظم طریقے سے بھی کیا جارہا ہے اور ایسے کئی صارفین اور پیج متحرک ہیں جو نفرت انگیز مواد کی تشہیر باقاعدہ کرتے ہیں ۔۔


معروف این جی اوز ‘‘ برگد ‘‘ کی اس حالیہ رپورٹ کی رو سے ہمیں ضرورت ہے کہ نفرت انگیز مواد کے حوالے سے قابل عمل قانون سازی کی جائے اس کے ساتھ ساتھ لوگوں میں جانکاری بڑھانے کے لئے نصاب میں ایسے اسباق شامل کئے جائیں جو کہ قابل نفرت رویے اور ان کے اظہار کو روکنے میں مدد دے سکیں ۔

منگل، 17 جولائی، 2018

تجربات سے سیکھنا اور "کمینگی" ۔۔۔۔ یاسر جاپانی



آ ئیے آپ کو "تجربات" کا سفر پڑھائیں :D

یکسانیت کے شکار ہوں یا تکرار مسلسل لگے تو مرغِ بسمل کی طرح بانگنا منع نہیں ہے :D

مسلمانوں کی "معصومیت" صدیوں سے "مشہور ومعروف" ہے اور "یہود ونصاری" کی عیارانہ و مکارانہ "سازشیں" بھی صدیوں سے مشہور و معروف ہیں۔۔

اسپین میں مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہوئیں مسلمان کو سپین سے مار نکال دیا گیا۔

اٹلی کے "سسلی" اور سابقہ "صقیلیہ" میں مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہوتی رہیں۔

اور مسلمان "سسلی" میں اپنی عظیم والشان نشانیاں ہی چھوڑ گئے۔

یہ علیحدہ بات ہے کہ "پناہ گزین" مسلمان اب بھی اسپین اور اٹلی میں ہی اپنی جان ومال و عزت مسلم ممالک کی نسبت زیادہ محفوظ سمجھتا ہے۔

ھندوستان میں مسلمانوں کی حکمرانی تھی ۔

مسلمانوں کی "سلطنت" ختم ہونے کے قریب ہی تھی کہ

"احمد شاہ ابدالی" نے "مرہٹوں" کو ایسی شکست فاش دی کہ "مرہٹے" ہمیشہ ہمیشہ کیلئے "پانی پت " میں نیست و نابود ہوگئے۔

پھر "برطانوی گوروں " نے "سازش کرکے "مسلمانوں" کی حکومت کا خاتمہ کیا اور "جھوٹا" بیان دے دیا کہ

ہم نے تو انڈیا کا "اقتدار" مسلمانوں سے نہیں "مرہٹوں" سے چھینا ہے۔

"مغل شہنشاہیت" ایک "نشانی" کے طور پر وجود ضرور رکھتی تھی۔

زیادہ تر "مولوی" اور "شاعر" اس شہنشاہت کے "ٖخطبے و قصیدے" پڑھتے رہتے تھے۔

اور ہندوں سکھوں اور مسلمانوں کے راجاؤں ،نوابوں اور نکے نکے بادشاہوں کی اپنی اپن ریاستیں تھیں۔

جو کہ ایک دوسرے سے ہمیشہ "خطرے" میں ہی رہتی تھیں۔جیسے ہی "بیرونی" طاقت کو دیکھا سب ایک دوسرے کے خوف سے اس "بیرونی" طاقت کے ہاتھ پاؤں مضبوط کرنا شروع ہوگئے تھے اور ہوجاتے تھے۔

"خلافت عثمانیہ" کی بحالی تحریک "ہندوستان " میں زور وشور سے جاری تھی۔۔۔

"عرب" ترکوں سے "آزادی" کی جنگ لڑ رہے تھے۔یہودی اسرائیل کے قیام کی سازشوں میں لگے ہوئے تھے۔

تھوڑا ماضی میں جائیں تو "برصغیر" کا یہی حال تھا۔ہر "بیرونی طاقت" سے مل کر ایک دوسرے کی "بینڈ " ہی بجائی جاتی تھی۔

اللہ انگریز کی عمردراز کرے اور برطانیہ کو تاقیامت قائم رکھے۔ کہ وکٹوریائی ہندوستان کے تمام راجے مہاراجے نواب وغیرہ کے خاندان اب بھی اپنے لئے "لندن" کو ہی زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔

اور اپنی "بادشاہت" کے مزے لینے کیلئے سال میں چند بار انڈیا پاکستان بھی آجاتے ہیں۔

ہم نے اپنے تجربے سے یہی سیکھا ہے کہ " ہندوستانی ، پاکستانی ، افغانستانی" مسلمان نے ہر حال میں ایک دوسرے کے "خلاف" سازش کرنی ہوتی ہے۔

چاھے اس کا ایک ٹکے کا فائدہ بھی نہ ہو۔

فیس بک کی وجہ سے جاپان میں بھی "پاکستانی و جاپانی " ہمارے "انجانے" جاننے والے کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ جس کا ہمیں کافی عرصے بعد "علم" ہوا۔

وہ بھی اس طرح کہ فیس بک نے پرانی آئی ڈی بلاک کردی تو

"تھرتھلی" مچ گئی۔۔۔

ابے۔۔۔۔۔یہ کیا ۔۔۔۔روزانہ کوئی نا کوئی کسی ناکسی طریقے سے "کھوج " لگا رہاہے۔!!

بس کچھ ایسی ہی حالت تھی۔

ابے ۔۔اگر پڑھتے دیکھتے تھے تو "لائیک " ہی کر دیا کرتے؟

یا کم ازکم "اچھا یا برا" کمنٹ ہی کردیا کرتے تاکہ ہمیں بھی معلوم ہوا۔ آپ کو ہمارا "لکھا" سمجھ آیا ہے کہ نہیں؟ یا کم ازکم "مہذب" انداز میں آپ اپنی "رائے" کا اظہار ہی کردیتے؟

تاکہ ہم ہی آپ سے کچھ سیکھ سکتے۔

غیر ضروری "سازشی" ذہنیت کا آخری تازہ تازہ انتہائی "بے فضول تجربہ " ہمارے ساتھ تین چار ماہ پہلے واقعہ ہوا تھا کہ

ایک جاننے والے جو کہ کافی " کمپلیکیٹڈ پرسنالٹی" ہیں۔ کبھی کبھی ملاقات کرنے آجاتے تھے۔ تو ہم بھی "مروت"میں صاف انکار نہیں کرتے تھے کہ کسی کی دل آزاری کرنا بھی اچھی بات نہیں ہے۔

ایک بارریسٹورنٹ میں کھانا کھایا۔ بل ادائیگی کے وقت "میں دوں گا ، میں دوں گا" کا ڈرامہ چلا اور آخر کار "ہیرو" کا سین مجھے مل گیا۔

جب میں بل ادا کر رہا تھا۔ تو سامنے "کھڑکی کے شیشے" پر نظر پڑی رات کا وقت تھا۔ دیکھا ایک "ارب پتی " بزنس مین کرسی پہ بیٹھے بیٹھے ہی خوشی میں دیوانگی سے ہاتھ اٹھائے ناچ رہے ہیں۔

ارے۔۔پین دی سری ۔انہیں کیا ہوا؟!!

حیرت سے گردن موڑ کردیکھا تو

بالکل سنجیدہ چہرے لئے بیٹھے ہوئے ہیں۔!!!

ابے۔۔۔۔۔یہ کیا؟!!

ظاہر ہے ہم نے اپنی " سادگی" کے باوجود دنیا دیکھی ہے۔بندے کے "اندر کا چینل" میرے خیال میں ، میں بہت اچھی طرح "پڑھ " لیتا ہوں۔

یہ علیحدہ بات ہے کہ عموماً "نظر انداز" کر دیتا ہوں۔ جس سے مجھے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اچھے برے لوگوں کا اندازہ ہوجاتا ہے۔

بحرحال ۔۔۔

کہنے کا مقصد یہ ہے۔

کم ازکم پاکستانی "عیاری و مکاری و چالاکی" موقعہ پرستی، مفاد پرستی ، خود غرضی اور خاص کر ضروری و غیر ضروری سازشیں کرنے میں "اپنی مثال" آپ ہیں۔

مجھے ان "ارب پتی" صاحب کی حرکت کا "مقصد" بالکل سمجھ نہیں آیا تھا اور نا ہی آیا ہے۔

شاید ان کی " خوشی " کی وجہ

1ٓ- ہم لوگوں نے جو مشترکہ کھانا پینا کیا تھا اس کا خرچہ میری جیب سے کروانا انہیں میرا نقصان لگا تھا اور انہیں میرے نقصان کی "خوشی" ہوئی تھی۔

حالانکہ ان سے میری نا ہی دوستی ہے اور نا ہی کوئی کاروباری تعلق!۔

بس ایک "مشترکہ " دوست یا جاننے والے صاحب کی وجہ سے دسترخوان کااشتراک ہوگیا تھا۔

2- ان صاحب کے دل میں میرے لئے کسی "وجہ" سے شدید کا قسم کا "بغض و عناد یا حسد" جڑ پکڑے بیٹھی تھی۔

اور ان کے خیال میں "بل" کی ادائیگی کرنے سے میرا "نقصان" ہوا ہے ۔ اور میرے جیسے غریب مسکین بندے کیلئے یہ بہت بڑا" جانی نقصان" ہے۔ انہیں اس بات کی خوشی ہوئی تھی؟

3- یا صرف صدیوں کی اپنے آپ کو "مسلمان" کہنے والی "ذہنیت" کی "گندگی" تھی ۔

جو کہ وجہ بلاوجہ ایک دوسرے کے خلاف موقعہ پاتے ہی متحرک ہو جاتی ہے۔ اور "تعلق واسطے رشتے" کی کوئی بھی کم سے کم شکل ہونے کی صورت میں "تکلیف" پہونچانے کی "کمینگی" اچھل کر باہر آگئی تھی؟۔

*

ہماری یہ "کمینگی" اس وقت "پائے تسکین" پہونچتی ہے۔ جب تک ہم "دوسرے" کا جانی مالی نقصان نہ کردیں۔

یہ "کمینگی" ہمیں سماجی ، معاشرتی معاملات میں "اکثر" دکھائی دیتی ہے اور ہم بہت اچھی طرح اس "کمینگی" سے واقف ہیں۔

ملکی قومی اور سیاسی سطح پر آجکل ہمیں "باپ بیٹی " کا جیل جانا ایک عجیب سی "کمینی قسم " کی "تسکین" دے رہا ہے ۔

سابقہ بیوی ریحام خان کی "کتاب" کے بارویں باب کے بعد جو "رنگین" قسم کی "تذلیل" پڑھنے کو ملتی ہے اس کا اپنا ہی مزا ہے۔

اور عمران خان کا "پٹواریوں" اور لہوریوں کا "کھوتا" کہنے کے انداز نے جو لطف دیا اس "کمینگی" کو لہوریوں کی کھوتا خوری سے جوڑ کر جو مزا آیا اس کے کیا کہنے۔

اور ڈی چوک میں کٹی پتنگ کی طرح جھوم جھوم کر ناچ گانا کرنے والے پرویز خٹک کا "ناچ گانا" کرنے والوں کے گھر کو جھنڈے والا"طوائف" کا گھر کہنے سے "دل ہی دل" میں جو "کمینی سی خوشی" ہوئی اس کا تو جواب ہی نہیں۔ :D

مندرجہ بالا تمام "کمینگیوں" پر غور کیجئے۔!!

ان کے فوائد بھی اور نقصانات بھی "ہم سب" کے "مشترکہ" ہیں۔

جب ہم "خاک" ہو جائیں گئے۔

تو "یاد " کرنے والے "اچھے یا برے" الفاظ میں ہمیں ضرور یاد کریں گے۔

لیکن کیا ہے کہ

ہم نہ ہوں گے۔ اور دنیا چند دنوں کی ہی ہے۔

ہم صدیوں سے "جاری " کمینگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش تو کر سکتے ہیں۔۔

جو کہ

"بارودی جیکٹ" پہن کر پھٹے بغیر بھی کی جا سکتی ہے۔ :D

خلافت راشدہ جیسی "بابرکت و مقدس" ریاست تاقیامت قائم نہ رہ سکی تو ہماری تمہاری "ڈیڑھ اینٹ " کی "عبادت گاہ" کس کھیت کی مولی ہے۔

بحرحال "خدا" واقعی ہمیں "تجربات" سے "سیکھنے" کا موقعہ دیتا ہے۔

اور ہمارے اندر کی "کمینگی" ہمیں "سیکھنے " نہیں دیتی۔

ہفتہ، 1 جولائی، 2017

گوگل ایڈ سینس سے ہزاروں روپے کمائیں ۔۔ آزمودہ نسخہ

گوگل ایڈ سینس گوگل کے وہ اشتہارات ہیں جن کو ویب سائٹس یا بلاگ پر لگا کر پیسے کمائے جاسکتے ہیں۔یہ پہلے صرف انگلش کی ویب سائٹ پر ہی لگائے جا سکتے تھے ۔۔۔ ابھی دو تین دن پیشتر ہی گوگل نے یہ سروس اردو یونی کوڈ یعنی اردو تحریری ویب سائٹ اور بلاگ والوں کے لئے بھی مہیا کر دی ہے ۔۔۔ اس سلسلے میں آپ کی آگاہی کے لئے اردو میں گوگل ایڈ سینس کے بارے میں یہ آسان سی ویڈیو بنائی ہے جس سے آپ کو گوگل ایڈ سینس کو سمجھنے میں آسانی پیش آئے گی ۔
ویڈیو سنئے اور نیک نیتی سے محنت کیجئے اگر نیک نیتی سے محنت کریں گے تو اس کا پھل بھی آپ کو اچھا ملے گا

https://youtu.be/uQJPYVpxjCE

منگل، 19 جولائی، 2016

اپنے موبائل فون سے بہت آسانی سے اردو میں لکھیں ۔۔جدید ایڈیشن

اپنے موبائل فون سے بہت آسانی سے اردو میں لکھیں ۔۔جدید ایڈیشن
ویڈیو کو بڑا کر کے دیکھیں ۔۔۔ آپ کو سمجھنے میں آسانی رہے گی



پیر، 9 مئی، 2016

بلاگروں کا ماما

پاکستان بنا ۔۔۔۔ لوگوں نے مل بانٹ کے کھایا ۔۔۔ تم نے کچھ لکھا ؟
بالکل نہیں۔۔۔
آدھا پاکستان بیچ دیا گیا ۔۔۔۔ تم نے اس پر روشنی ڈالی ؟
بالکل نہیں جی۔۔۔
سیاستدانوں نے رج کے ملک کو لوٹا اور پھر کھایا ۔۔۔۔ تم نے کچھ لکھا ؟
نہیں جی ۔۔۔
لوگوں نے زمینوں پر قبضے کر کے بنگلے بنا دیئے ۔۔۔ تم کچھ بولے؟
نہیں جی۔۔۔
لوگوں نے پاکستانی پیسوں سے سوئس بینک بھر دئے۔۔۔تم نے کچھ کہا
نہیں تو۔۔۔
اب پانامہ لیگ کا کٹا کھلا ۔۔۔ تمہیں تکلیف ہوئی ؟
بالکل بھی نہیں ۔۔میں نے اس کو معمول کی بات جانا ۔۔۔۔
اور یہ جو اب سیکرٹری مالیات بلوچستان کے اربوں ڈکارے سامنے آئے ۔۔۔ تمیں حیرت ہوئی ؟
حیرت تو دور کی بات میں نے اسے روز کا معمول جانا ۔۔۔
تو پھر ماما یہ معمولی سی بات پر اپنوں سے پنگا لینا کیا معنی ؟
بات تو آپ کی ٹھیک ہے مگر ۔۔۔
اگر مگر کچھ نہیں ، تم مامے ہو بلاگروں کے ؟
نہیں ۔۔ بالکل بھی نہیں ۔۔
اگر بلاگروں کے مامے نہیں ہو تو مارو پھر نعرہ ۔۔۔ سانوں کی
جی بہتر ۔۔۔ مار دیا نعرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سانوں کی

جمعرات، 7 اپریل، 2016

انسانی ذہن پر سوشل میڈیا کے اثرات اور اس کے نتائج

اردو ہوم کا ایک سروے جو پانچ سالوں ( ٢٠١١ تا ٢٠١٦ ) پر محیط ہے ۔۔۔یہ سروے فروری ٢٠١١ میں شروع کیا گیا ۔۔۔ جس کے مختصر ترین نتائج آج میں اپنے بلاگ پر پیش کر رہا ہوں ۔۔۔۔

انسانی ذہن پر سوشل میڈیا کے اثرات اور اس کے نتائج

انسان بہت جلد مذہبی ہوجاتا ہے ( چاہے وہ کسی بھی مذہب سے ہو ) ۔۔۔۔۔ 20 پرسنٹ
انسان بہت جلد انتہا پسند مذہبی ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 10 پرسنٹ
انسان بہت جلد دہریہ ( ملحد ) ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 20 پرسنٹ
انسان بہت جلد ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. 40 پرسنٹ
انسان معتدل رہنا سیکھ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 10 پرسنٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ ۔۔۔ یہ تمام نتائج سوشل میڈیا فیس بک، گوگل پلس اور ٹویٹر کی تحریروں اور تبصروں سے اخذ کئے گئے ہیں ۔جن میں مختلف موضوعات کے تقریباً بارہ ہزارگروپس ، دس ہزار کے قریب ذاتی صفحات ، دوست و احباب اور ہزاروں کی تعداد میں عام لوگ شامل ہیں

پیر، 7 دسمبر، 2015

خفیہ گروپ سے سیکسی گروپ کا سفر

دو دن پیشتر ایک ہمارے مہربان اور نیک نام فیس بکی دوست نے اپنے خفیہ سیکسی گروپ میں ہمیں داخلہ دے دیا۔۔۔ کیا دیکھتے ہیں کہ تقریبا ڈھائی ہزار کے اس سیکسی گروپ میں بڑے بڑے جیّد عالم فاضل ، ڈاکٹر ، حکیم ، ہومیو پیتھک کے ماہر میرے جیسے اناڑی لوگوں کو سیکس کی تعلیم و تربیت دینے کے لئے ہمہ وقت موجود ہیں ۔ لڑکیاں بالیاں بھی کھلم کھلا اپنے اپنے گھمگیر مسائل لئے لائن میں لگی نظر آرہی تھیں جس سے وہاں کے ماحول کی رنگینی میں عجیب سی عاشقانہ اور جنسیانہ خوشبو پھیلی ہوئی تھی ۔

ہم نے سوچا اب آ ہی گئے ہیں تو ایک آدھ مسلہ ہم بھی پوچھ لیں تاکہ زندگی اور آسان ہوجائے۔۔۔ ہم نے جو مسلہ پوچھا وہ ہمارے نیک نام فیسبکی دوست کو غالبا پسند نہیں آیا اور اسی وجہ سے شاید انہوں نے اپنے خفیہ گروپ سے ہمیں باہر دھکیلنے میں ہی عافیت جانی ۔

فیسبکی سیکسی گروپ سے تو ہم باہر ہوگئے مگر وہ جو آدھ سے پون گھنٹہ ہم نے سیکسی گروپ میں گزارا اس کو فیس بک کے عالموں نے ہمارا ٹھرک پن اور عادت جان لیا۔اب اس دن سے ہماری وال پر ننگی تصویروں والی پروفائل ، پیج اور گروپس کو ایڈ کرنے کی تجویز اور تحریک دی جارہی ہے ۔ کسی لڑکی کا نام جانو گشتی ہے تو کسی کا گشتی رنڈی ۔۔۔کسی پیج کا نام آؤ مزے لوٹیں ہے تو کسی گروپ کا نام کنواری لڑکیاں۔۔۔۔۔۔۔
سوچ رہا ہوں چلو میں تو گناہگار ہوگیا ،۔۔۔ اب جس شریف النفس دوست نے مجھے اپنے سیکسی گروپ میں ایڈ کیا تھا اس کا کیا بنے گا۔۔۔۔۔

یاد رہے کہ سوشل میڈیا خاص کر فیس بک پر ایسے سینکڑوں خفیہ گروپ موجود ہیں جن تک کسی کی رسائی ممکن نہیں اور یہ گروپ زیادہ تر سیکس اور دوسری غیر قانونی سرگرمیوں کے لئے استمال کئے جارہے ہیں ۔۔۔دیکھا یہ بھی گیا ہے بہت سے کرمنل لوگ فیس بک پر اپنی سادہ سی پروفائل بنا کر پیغام رسانی کے لئے عام گروپس یا خفیہ گروپس کے استمال کو ترجحیح دیتے ہیں

منگل، 27 اکتوبر، 2015

ہندو انتہا پسند اور جامعہ بنوریہ کے مفتی

جامعہ بنوریہ کراچی کے محترم عزت مآب مفتی نعیم صاحب نے زلزلہ آنے سے ایک دن پہلے سوشل میڈیا ( فیس بک ) پر ایک تحریری اور صوتی ( ویڈیو ) کی صورت میں بیان ( فتوٰی ) جاری کیا ہے کہ ‘‘ میں مفتی نعیم صدر جامعہ بنوریہ یونیورسٹی ایک پاکستانی ہوں اور میں انڈیا سے نفرت نہیں کرتا۔۔۔اس محبت میں میں اکیلا نہیں ہوں بلکہ اور بہت سارے عالم حضرات بھی میرے ہمنوا ہیں ‘‘ ۔۔۔۔
محترم عزت مآب مفتی نعیم صاحب نے اپنے ویڈیو پیغام میں یہ بھی کہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان میں گزشتہ ستر سال سے ایسی فضا پیدا کر دی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا آپس میں عناد ہے بغض ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ہندوستان میں چند انتہا پسند لوگ ہیں جنہوں نے پورے ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے پورے ملک کی کفیت میں یئہ دیکھا جارہا ہے کہ ہندوستان کی عوام چاہتی ہے کہ پاکستان میں آئے اور ان کے عزیزواقارب اور رشتہ دار ہیں ۔۔۔۔ اسطرح پاکستان کی عوام چاہتی ہے کہ وہ وہاں جائے وہاں ان کے عزیزو اقارب ہیں،ان کے رشتہ دار موجود ہیں ۔۔ان کے خاندانوں کی قبریں ان کی زمینیں ہیں وہاں پر ۔۔۔۔ وہ ان کے ہاں نہیں جاسکتے اس کی وجہ چند انتہا پسندوں کی دشمنی کی وجہ سے ۔۔۔۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ چند ہندوستان کے نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر یہ بات کہی اور بڑی خوشی کی بات ہے کہ میں پاکستان سے نفرت نہیں کرتا باوجود اس کے کہ میں ہندوستان کا ہوں ۔۔۔۔ اسی طر ح پاکستان کے نوجوانوں نے بھی ان کو پیغام دیا کہ ہم ہندوستان سے محبت کرتے ہیں وہ اس لئے کہ ہمارے اباؤاجداد یہاں پیدا ہوئے ۔۔پہلے ہمارے اباؤاجداد وہیں کے رہنے والے تھے ۔۔۔۔ تو صرف بات یہ ہے کہ چند انتہا پسندوں نے پورے ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے ۔۔۔ دونوں نوجوانوں نے یہ تحریک سوشل میڈیا پر چلائی ہے ۔۔۔ میں سمجھتا ہوں اس کو خوب چلائیں ۔۔۔ ہندوستان کے نوجوان بھی پاکستان کے نوجوان بھی ۔۔۔ تاکہ یہ انتہا پسندوں کا چہرہ سامنے آئے اور ملک کے اندت ایک ایسی فضا قائم ہو کہ دونوں ملک آپس میں پڑوسی ہیں ایک دوسرے کے آ جا سکیں ، ایک دوسرے سے دوستی رکھ سکیں ۔۔ اگر یہ ہوا تو میں سمجھتا ہوں اس سے زیادہ فائدہ ہو گا ۔۔۔ تجارت کے اعتبار سے بھی اور دوسرے اعتبار سے بھی ۔۔۔۔۔ یورپ میں دیکھئے کہ ان تمام ملکوں نے آپس میں اتحاد کر کے بنا لیا ہے ۔۔۔ خلیجی ممالک ایک بن چکے ہیں لیکن پاکستان اور ہندوستان کو ایک ایسی فضا بنانی چاہئے کہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور یہ بنانے والے صرف چند انتہا پسند ہیں ۔۔۔ لہذا ان انتہا پسندوں کو ختم کرنے کے لئے نوجوانوں نے جو ترتیب اختیار کی ہے وہ قابل تحسین ہے اور اس کو زیادہ سے زیادہ چلایا جائے تاکہ یہ اتحادو اتفاق کی بنیاد بن سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت اعلیٰ جناب محترم عزت مآب مفتی نعیم صاحب ۔۔۔ آپ عالم اور مفتی انسان ہیں اور آپ نے یہ بیان یا ( فتوٰٰی، میں اسے فتوٰی ہی کہوں گا) جامعہ بنوریہ یعنی اہل دیوبند کی کی نمائندگی کرتے ہوئے جاری کیا ہے ۔۔۔ ساتھ ہی آپ نے یہ بھی کہا ہے کہ ‘‘ اس محبت میں میں اکیلا نہیں ہوں بلکہ اور بہت سارے عالم حضرات بھی میرے ہمنوا ہیں ‘‘ ۔۔۔۔۔ بہت اعلیٰ جناب محترم عزت مآب مفتی نعیم صاحب ذرا ان کے نام بھی بتائیے کہ اور کون کون ہندوستان سے پیار کی پینگیں بڑھانے کے خواہاں ہیں ۔۔۔تاکہ دنیا کو بھی آپ علماء کرام کی ہندوستان سے محبتوں کا اندازہ ہوسکے ۔۔۔۔۔

جناب محترم عزت مآب مفتی نعیم صاحب مجھے نہیں پتہ آپ کے آباؤاجداد کا مگر ہمارے آباؤ اجداد نے ہجرت کی ۔۔۔اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اپنی ماں ، بہنوں ، بیویوں ، بیٹیوں کی عزتوں کو پامال کرواتے ہوئے اس دھرتی پاکستان پر قدم رکھا ۔۔۔۔۔ کس لئے مفتی صاحب ۔۔۔۔ اس لئے کہ یہ ہمارا اپنا ملک ہے ، یہ مسلمانوں کا ایک اسلامی ملک ہے ۔۔۔۔ اگر ہندو کے ساتھ ہی رہنا تھا تو ہمیں اپنی عزتیں گنوانے کی کیا ضرورت تھی ، پاکستان بنانے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔ ہندو بنئے کی دھوتی میں سر گھسائے وہیں بیٹھے رہتے ۔۔۔۔مفتی صاحب آپ باتیں کرتے ہیں وہاں کے اپنے رشتہ داروں کی ، وہاں دفن ہوئے اپنے مردوں کی ۔۔۔۔۔ جائیے پوچھئے ان رشتہ داروں سے کہ کیسے رہ رہے ہیں وہاں ۔۔۔ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے ڈرتے ہیں ۔۔۔۔۔
اور آپ کہتے ہیں سب کچھ بھول کر ان سے دوستی کر لیں

مفتی صاحب یاد کیجئے ہندوستان کا یہ وزیراعظم دہشت گرد انتہا پسند ہندو مودی جب سن 2002 میں چیف منسٹر تھا ۔ایودھیا سے زائرین کی ایک ٹرین آرہی تھی انہی انتہا پسند ہندؤں نے جان بوجھ کر اس ٹرین میں آگ لگا کر پچاس سے زائد مسافروں کو زندہ جلا دیا گیا تھا ۔۔۔ اسی حادثے کو بنیاد بنا کر گجرات میں یہی ہندو شدت پسند جن سے آپ پیار کی پینگیں بڑھانا چاہتے ہیں مسلمانوں سے نفرت کی آگ میں پاگل کتے بن گئے تھے ۔۔۔انہیں شدت پسند ہندؤں نے گجرات کی سٹرکوں پر مسلمانوں کو زندہ جلا دیا تھا گھروں سے مسلمان عورتوں کو نکال کر سرعام ان کی عزتیں لوٹی گئی تھیں۔۔۔ ان کے پستان تک کاٹ دئے گئے تھے۔۔ دوہزار کے قریب مسلمان مردو و عورتوں کو گجرات کی سڑکوں پر سرعام قتل کر دیا گیا تھا ۔ ان کے گھروں کو آگ لگا دی گئی تھی ۔لگ بھگ ایک لاکھ سے زائد مسلمان اپنے گھروں سے بے گھر ہوگئے تھے ۔
اور آپ کہتے ہیں سب کچھ بھول کر ان سے دوستی کر لیں

مفتی صاحب یاد کیجئے سمجھوتہ ایکسپریس والا واقعہ جو اسی دہشت گرد مودی نے انہیں دہشت گرد اور شرپسند ہندؤں نے پوری ٹرین کو آگ لگا کر تمام مسلمانوں کو کوئلہ بنا دیا تھا ۔۔۔۔یہ سب کیسے بھولوں جناب محترم عزت مآب مفتی نعیم صاحب
اور آپ کہتے ہیں سب کچھ بھول کر ان سے دوستی کر لیں

تھوڑے دن پہلے ہی انتہا پسند ہندؤں نے گاؤ ماتا کے چکر میں دو مسلمانوں کو مار ڈالا تھا
اور آپ کہتے ہیں سب کچھ بھول کر ان سے دوستی کر لیں

دہشت گرد ہندوستان آجکل بھی شکر گڑھ کے سکوال ،جگوال ،بھوپال پور ، بیکا چک اور دیگر علاقوں میں بمباری کر کے معصوم شہریوں کو شہید کر رہا ہے ۔۔۔
اور آپ کہتے ہیں سب کچھ بھول کر ان سے دوستی کر لیں

مفتی صاحب بابری مسجد کو شہید کرنے والوں سے کیسے دوستی کا ہاتھ بڑھائیں
کشمیر میں اپنی ماؤں بہنوں کی عزتیں پامال کرنے والوں سے کیسے دوستی کرلیں
مفتی صاحب آپ کو کیا پتہ کہ عزت کیا ہوتی ہے ۔۔۔ اگر پتہ ہوتا تو آج ہندوستان کے ساتھ دوستی کی باتیں نہ کرتے
مفتی صاحب پاکستان میں بم دھماکوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے ؟ انہیں دہشت گرد ہندؤں گا
مفتی صاحب بلوچستان میں شرپسندوں کی مدد کون کر رہا ہے ؟ یہ دہشت گرد ہندو
افغانستان سے پاکستان کے مولویوں کو خرید کر دہشت گردی کے نیٹ ورک کون سپورٹ کر رہا ہے ؟ یہی دہشت گرد ملک ہندوستان
اور آپ کہتے ہیں سب کچھ بھول کر ان سے دوستی کر لیں

چلیں آئیں مفتی نعیم صاحب ۔۔۔۔۔ چھوڑیں اسلام اسلام کھیلنا
چلیں آئیں ہندو کے گھر کا کھاتے ہیں
چلیں آئیں ہندو کی لڑکی سے شادی کرتے ہیں ۔۔۔ جائز ہونے کا فتوٰی آپ دے دینا
چلیں آئیں ان کے استھان پر گاؤماتا کو ذبح کرکے اس کے تکے بھون کر کھاتے ہیں
چلیں آئیں ان کے شمشان گھاٹ پر فاتحہ خوانی کرنے جاتے ہیں
ہمت ہے یہ سب کرنے کی مفتی صاحب ؟
چھوڑیں چلیں آئیں مفتی نعیم صاحب جامعہ بنوریہ میں قرآن و حدیث کی تعلیم کی بجائے انڈیا کی فلمیں لگاتے ہیں ۔۔۔۔ آمدن بھی زیادہ ہوگی اور مریدین کی تعداد میں اضافہ بھی ممکن ہے ۔۔۔ ویسے بھی ہندوستان کی فلم انڈسٹری میں پاکستانی تاجروں کے کروڑوں ڈوب رہے ہیں ۔۔۔۔ وہ ہی بچ جائیں گے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جمعرات، 8 جنوری، 2015

ورڈ پریس سے مائکروبلاگنگ کا سفر

ہم نے اپنی پچھلی تحریر میں گوگل کی مشہور بلاگنگ سروس بلاگ سپاٹ سے مائکرو بلاگنگ پر روشنی ڈالی تھی۔آج ہم بلاگنگ کی دنیا کے بادشاہ ورڈ پریس سے مائکرو بلاگنگ پر روشنی ڈالیں گے ۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ گوگل کی بلاگ سروس دنیا میں نمبر ون پر ہے اور آج تک اس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکا۔مگر ورڈ پریس کی بلاگ سروس بھی اپنی مثال آپ ہے ۔ اور ورڈ پریس کی سیلف ہوسٹڈ بلاگ سروس کا تو کوئی جواب نہیں ہے ۔
اگر آپ نے ورڈ پریس کو اپنی ڈومین اور اپنی خریدی گئی ویب ہوسٹنگ پر ڈالا ہوا ہے تو پھر آپ اس سے بہترین اور کامیاب مائکرو بلاگنگ کر سکتے ہیں۔

آئیے سب سے پہلے ہم اپنے بلاگ کو کھولتے ہیں۔ایڈمن اکاؤنٹ سے لاگن ہو کر اپنے بلاگ کے ایڈمن پینل میں جائیں یعنی ڈیش بورڈ میں جائیں ۔۔

١ ۔۔پلگ ان آپشن میں جائیں اور وہاں جا کر ایک نیا پلگ ان jetpack انسٹال کر لیں ۔۔۔ جنہوں نے اسے انسٹال کیا ہوا ہے انہیں اس بارے علم ہو گا ۔‘‘جیٹ پیک ‘‘ ورڈ پریس کا ہی ایک پلگ ان کا مجموعہ ہے جس میں پندرہ سے زائد کار آمد پلگ ان موجود ہیں ۔۔ اس ایک پلگ ان کے انسٹال کرنے سے باقی پلگ ان کی ضرورت کم ہی پیش آتی ہے ۔ کیونکہ اس میں تقریباً سب ہی اہم اہم پلگ ان موجود ہیں ۔

٢ ۔۔ انسٹال ہونے کے بعد ‘‘ جیٹ پیک ‘‘ پلگ ان آپ کے ایڈمن پینل کے بائیں ہاتھ اوپر سے دوسرے نمبر پر آجائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیچے دیکھیں تصویر میں ۔۔۔۔۔



jetpack کو کلک کریں اور اس سے منسلک کھڑکی میں سیٹنگ کو کلک کر دیں ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔نیچے دیکھیں تصویر میں ۔۔۔۔۔



جیٹ پیک کی سیٹنگ میں جانے کے بعد آپ دیکھیں گے کہ آپ کے بائیں ہاتھ جیٹ پیک کے بہت سے پلگ ان موجود ہوں گے ۔۔۔ ان میں سے آپ sharing کے آپشن کو کلک کریں گے تو آپ کے سامنے activate لکھا آ جائے گا ۔۔۔ آپ اس کو کلک کر دیں ۔۔۔ کلک کرنے سے آپ کے سامنے configure کی آپشن آ جائے گی ،،،اس کو آپ کلک کر دیں ۔۔۔۔۔۔نیچے دیکھیں تصویر میں ۔۔۔۔۔



یہاں آپ کے سامنے ایک ونڈو کھل جائے گی ۔۔۔اس میں فیس بک ، ٹویٹر ، گوگل وغیرہ کی آپشن ہوں گی ۔۔ہر ایک کے سامنے connect لکھا ہو گا آپ ان کو جب کلک کریں گے تو ایک ونڈو کھلے گی جو آپ سے اس سائٹ کا لوگن اور پاسورڈ مانگے گی ۔۔۔ آپ اس ونڈو میں اپنی معلومات دے کر اس سائٹ سے کنکٹ ہو جائیں گے ۔۔۔نوٹ ۔۔اگر آپ اسی براؤزر سے کسی اور جگہ یعنی فیس بک وغیرہ میں پہلے سے ہی لاگ ان ہیں تو پھر یہ صرف آپ سے اس سائٹ کے لئے اجازت طلب کرے گی آپ ‘‘ آلاؤ ‘‘ کر دیں۔۔۔۔۔۔نیچے دیکھیں تصویر میں ۔۔۔۔۔



جب آپ سب سے یا کسی ایک سائٹ سے نتھی ہو جاتے ہیں تو جب آپ پوسٹ کریں گے تو ساتھ آپ کے بلاگ کے علاوہ وہ وہاں بھی پوسٹ چلی جائے گی جس سائٹ سے آپ نتھی ہوں گے ۔۔۔۔۔۔نیچے دیکھیں تصویر میں ۔۔۔۔۔



اب آپ کا ویب سائٹ پر بلاگ کا کام ختم ہوا ۔۔۔ اب آجائیے اپنے موبائل فون پر جہاں سے آپ اب اپنے بلاگ کے زریعہ سے بڑی آسانی سے مائکرو بلاگنگ کر سکتے ہیں ۔
اپنے موبائل سے پلے سٹور میں جائیں ۔۔ وہاں سے ‘‘ ورڈ پریس کا ایپ ‘‘ اپنے موبائل فون میں انسٹال کر لیں ۔۔ ورڈ پریس انسٹال ہونے کے بعد آپ کے پاس اس کا آئکون آ جائے گا،۔۔اس کو کلک کر دیں ۔۔۔نیچے دیکھیں تصویر میں ۔۔۔۔۔



ورڈ پریس کو کلک کرنے کے بعد آپ کے پاس جو ونڈو کھلے گی اس پر ‘‘ ایڈ سیلف ہوسٹڈ سائٹ ‘‘ لکھا آئے گا اس کو کلک کر دیں ۔۔۔۔۔نیچے دیکھیں تصویر میں ۔۔۔۔۔



اس ونڈو میں آپ نے اپنا لوگن ، پاسورڈ اور سائٹ کا نام دینا ہے ۔۔۔ ۔۔۔۔۔نیچے دیکھیں تصویر میں ۔۔۔۔۔




اب آپ اپنے ایڈمن پینل کے ڈیش بورد میں داخل ہو چکے ہیں ۔۔۔اوپر جمع کا جہاں نشان ہے وہاں کلک کر کے آپ اپنی تحریر لکھ سکتے ہیں ۔۔تین ڈاٹس کو کلک کر کے آپ بلاگ کی سیٹنگ میں چلے جائیں گے۔۔۔یہاں آپ اپنی مرضی کی سیٹنگ کر سکتے ہیں اگر کچھ بھی نہ کرنا چاہیں تو کسی چیز کو نہ چھیڑیں کیونکہ آپ نے اپنے بلاگ کی ویب پر پہلے ہی سیٹنگ کی ہوئی ہے ۔۔۔نیچے دیکھیں تصویر میں ۔۔۔۔۔






یہ پوسٹ کرنے کی ونڈو ہے اس کے سب سے نیچے آپ کلک کر کے اپنی مرضی کئ پوسٹ سیٹنگ کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔نیچے دیکھیں تصویر میں ۔۔۔۔۔







پیر، 6 اکتوبر، 2014

سماجی رابطوں کی رنگ برنگی دنیا اور ڈپریشن

facebookسماجی رابطوں کے اس جدید ترین دور اور رنگ برنگی دنیا میں جس تیزی سے نِت نئی معلومات ، سوچ ، باتوں سے ہم لوگ روزانہ مستفید ہو رہے ہیں ان کو ہضم کرنا یا ان سے فائدہ اٹھانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے ۔ بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ ان کو بہت کم لوگ برداشت کر پاتے ہیں ۔

بہت سے لوگ دوسروں کی مختلف سوچوں ، باتوں ، انداز ، عادات و اطوار ، خصوصا ایسی سوچ یا باتیں جو ان کی ذہنی سوچ سے مطابقت نہ رکھتی ہوں سے متنفر ہو کر ذہنی ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ہر انسان کی سوچ عمومی یا خصوصی دوسروں کی سوچ سے بہت کم مطابقت رکھتی ہے جس کی وجہ سے انسان اکتاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے اور یہی اکتاہٹ جب حد سے بڑحتی ہے تو بندہ سکون چاہتا ہے۔

میری نظر میں اس کے سب سے بہتر دو حل ہیں
اگر تو آپ میں برداشت کا مادہ کم ہے اور آپ صرف اپنی ذہنی سوچ کے مطابق ہی ہر چیز چاہتے ہیں تو آپ کو چاہئے کہ کتابوں کی طرح اپنے موضوع کی کتاب تک محدود رہیں۔
دوسرا اس کا حل یہ ہے کہ دوسروں کی سوچوں کو پڑھیں اور اس سے سبق حاصل کریں ۔اگر کوئی سوچ آپ کی برداشت سے باہر ہے تو اسے نظرانداز کردیں ۔

نظراندازی خود کے لئے سکون اور دوسروں کے لئے عذاب کا باعث ہوتی ہے