Supreme Court of Pakistan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Supreme Court of Pakistan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 7 اکتوبر، 2015

سپریم کورٹ ، سود اور زنا

انصاف ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتا ہے اور انصاف سے ہی قوموں کو عروج و زوال حاصل ہوتا ہے ۔ جن قوموں سے انصاف ختم ہوجائے تباہی اور بربادی ان کا مقدر بن جاتی ہے ۔آپ اپنے ملک پاکستان کو ہی دیکھ لیں ۔۔۔ انصاف نام کی چیز کہیں بھی نظر نہیں آتی ۔۔۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول یہاں ہر جگہ کارگر اور لاگو ہے ۔ جن کے پاس پیسہ یا حکومتی طاقت ہے وہ وقت کا بادشاہ ہے ۔جو جی چاہے کرے اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ۔۔۔ یعنی بقول محترم عزت مآب جسٹس سرمد جلال عثمانی صاحب کی مثال کے طور پر کہ جو ظلم ڈھا رہے ہیں وہ نہ ڈھائیں ۔۔۔ اگر وہ ظلم ڈھائیں گے تو ان سے اللہ پوچھے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گزشتہ روز سپریم کورٹ نے سودی نظام کے خاتمے کیلئے دائر درخواست خارج کردی تھی ۔محترم عزت مآب جسٹس سرمد جلال عثمانی صاحب کا کہنا یہ تھا کہ ہم مانتے ہیں کہ سود بالکل حرام ہے لیکن چونکہ یہ مقدمہ شرعی عدالت میں پہلے سے زیر سماعت ہے، جس کا فیصلہ ہونے تک سپریم کورٹ سماعت نہیں کرسکتی ۔
یہاں یہ بات قابل ذکر اور قابل غور ہے کہ بہت سے ایسے کیسیز کی مثالیں موجود ہیں جو نچلی عدالتوں میں زیرسماعت ہونے کے باوجود سپریم کورٹ میں بھی آئے ۔۔۔ بلکہ کئی کیس تو ایسے بھی ریکارڈ پر ہیں جو دوسری عدالتوں میں زیرسماعت ہو سکنے کے باوجود ان پر سوموٹو ایکشن لے کر ان کے فیصلے سنائے گئے ۔

چلیں ہم یہاں ساری چیزوں کو چھوڑ کر محترم عزت مآب جسٹس سرمد جلال عثمانی صاحب کی بات کی طرف آتے ہیں انہوں نے خود تسلیم کیا ہے کہ ‘‘ سود حرام ہے ‘‘ تو فیصلہ دیں کہ یہ حرام ہے اس کا متبادل بندوبست کیا جائے اور غیر سودی نظام کی جانب رجوع کیا جائے ۔ شرعی عدالت کا مقدمہ چلنے دیں ۔۔۔ وہ خود تو انصاف کریں جس کا اختیار انہیں اللہ تعالیٰ نے دیا ہے ۔۔۔۔۔۔

اللہ کے دئے ہوئے اپنے اختیار کا فائدہ اٹھا کر بجائے مثبت فیصلہ دینے کے محترم عزت مآب جسٹس سرمد جلال عثمانی صاحب نے اللہ پر ہی سب کچھ پھینک دیا ۔۔۔۔ اپنے ریمارکس میں فرماتے ہیں ۔۔۔۔ ‘‘ جو ربا ( سود ) نہیں لینا چاہتے وہ نہ لیں جو لے رہے ہیں ان سے اللہ پوچھے گا۔ سپریم کورٹ آئین کی محافظ ہے۔ ہم سپریم کورٹ کے باہر مدرسہ کھول کر لوگوں کو سود کے خاتمے کا سبق نہیں پڑھا سکتے۔

محترم عزت مآب جسٹس سرمد جلال عثمانی صاحب ہم آپ کو سیلوٹ کرتے ہیں اور آپ کے اس اہم فیصلے کو ڈبل سیلوٹ کرتے ہیں کہ آپ کے اس فیصلے نے کم از کم ہمیں مادر پدر آزاد تو کیا ۔ملک میں انارکی پھیلنے سے کیا ہوگا پہلے ہی ہمارا پاکستان کون سا امن کا گہوارہ ہے ۔۔۔۔۔
اب کم از کم ہم سے کوئی نہیں پوچھے گا کہ بھئی آپ سود کیوں کھا رہے ہو ، آپ زنا کیوں کر رہے ہو ، آپ ڈاکے کیوں ڈال رہے ہو ، آپ قتل کیوں کر رہے ہو ، آپ بازاروں میں ننگے کیوں گھوم رہے ہوں ۔۔۔۔۔ کیونکہ
جو ربا ( سود ) نہیں لینا چاہتے وہ نہ لیں جو لے رہے ہیں ان سے اللہ پوچھے گا
جو زنا کر رہے ہیں وہ نہ کریں ۔۔۔۔۔۔۔ اگر کرہے ہیں تو ان سے اللہ پوچھے گا
جو ڈاکے ڈال رہے ہیں وہ نہ ڈالیں۔۔۔۔اگر ڈالیں گے تو ان سے اللہ پوچھے گا
جو قتل کر رہے ہیں وہ نہ کریں ۔۔۔۔۔اگر کریں گے تو ان سے اللہ پوچھے گا

آخر میں یاد دہانی کے طور پر میں یہاں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سود اور انصاف بارے واضح احکامات کے حوالہ جات صرف سورہ نمبر اور آیات نمبر کے ساتھ پیش کر رہا ہوں
سود کے احکام ۔۔۔۔۔ سورہ 2 آیات 275 , سورہ 2 آیات 276 ، سورہ 2 آیات 278 ، سورہ 2 آیات 279 ، سورہ 2 آیات 281 ، سورہ 3 آیات 130 ، سورہ 30 آیات 39
انصاف کے احکامات ۔۔۔۔ سورہ 4 آیات 127 ، سورہ 4 آیات 135 ، سورہ 5 آیات 8 ، سورہ 6 آیات 152 ، سورہ 7 آیات 29 ، سورہ 11 آیات 85 ، سورہ 16 آیات 90 ، سورہ 42 آیات 15 ، سورہ 49 آیات 9 ، سورہ 55 آیات 8 ، سورہ 57 آیات 25 ، سورہ 4 آیات 58 ، سورہ 4 آیات 105 ، سورہ 5 آیات 42 ، سورہ 38 آیات 26 ، سورہ 5 آیات 48 ، سورہ 5 آیات49 ، سورہ 5 آیات 50 ، سورہ 5 آیات 44 ،سورہ 5 آیات 45 ، سورہ 5 آیات 47
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیر، 23 فروری، 2015

رانا بھگوان داس اور جنت

پاکستان کے سابق چیف جسٹس رانابھگوان داس جو کہ ایک ہندو گھرانے سے تعلق رکھتے تھے آج انتقال کر گئے ہیں ۔رانا بھگوان داس نے 1965ء میں بار میں شمولیت اختیار کی اور 1967 میں عدلیہ کا حصہ بنے ۔انہوں نے کئی سال سیشن جج کے طور پر بھی اپنے فرائض انجام دئے۔1994میں سندھ ہائیکورٹ کے جج بنے اور سن 2000 میں سپریم کورٹ کے جج تعینات کر دئے گئے ۔9 مارچ 2007 ءکو جسٹس افتخار چوہدری کی معزولی کے بعد جسٹس رانا بھگوان داس کو پرویز مشرف نے قائم مقام چیف جسٹس تعینات کر دیا ۔رانا بھگوان داس نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار بھی کیا تھا جس کی پاداش میں انہیں دیگر ججز کی طرح گھر میں نظر بند کردیاگیا تھا۔رانا بھگوان داس انتہائی اچھی شہرت کے حامل ہوتے اپنے کیرئیر کے دوران ہمیشہ غیر متنازع رہے۔ان کی نیک نامی کی وجہ سےگزشتہ برس حکومت اور اپوزیشن نے اتفاق رائے سے چیف الیکشن کمشنرکےعہدے کےلیےان کےنام پراتفاق کرلیاتھا لیکن رانا بھگوان داس نے عہدہ سنبھالنےسےمعذرت کرلی تھی ۔

رانا بھگوان داس ایک ہندو ہونے کے باوجود اپنی نیک نامی ، ایمانداری اور اچھی شہرت کی وجہ سے ہمیشہ غیر متنازعہ رہے ۔رانا بھگوان داس ایک اچھے شاعر بھی تھے ان کی ایک نعت جو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ صلعم کے حضور نذرانہ عقیدت کے طور پر لکھی تھی اور وہ خاصی مشہور بھی ہوئی تھی ۔

جمالِ دو عالم تری ذاتِ عالی​
دو عالم کی رونق تری خوش جمالی​
خدا کا جو نائب ہوا ہے یہ انسان​
یہ سب کچھ ہے تری ستودہ خصالی ​
تو فیاضِ عالم ہے دانائے اعظم​
مبارک ترے در کا ہر اِک سوالی​
نگاہِ کرم ہو نواسوں کا صدقہ​
ترے در پہ آیا ہوں بن کے سوالی ​
میں جلوے کا طالب ہوں ، اے جان عالم!​
دکھادے ،دکھادے وہ شانِ جمالی ​
ترے آستانہ پہ میں جان دوں گا ​
نہ جاؤں ، نہ جاؤں ، نہ جاؤں گا خالی ​
تجھے واسطہ حضرتِ فاطمہ کا​
میری لاج رکھ لے دو عالم کے والی ​
نہ مایوس ہونا ہے یہ کہتا ہے بھگوان ​
کہ جودِ محمد ہے سب سے نرالی ​

بے شمار ایسے ہندو ہیں جن کے نعتیہ کلام موجود ہیں چند ایک کے تو نعتیہ دیوان بھی شائع ہو چکے ہیں جن میں ایک چودھری دلو رام کوثری کا دیوان حلقہ مشائخ بک ڈپو دہلی نے شائع کیا تھا۔

رانا بھگوان داس چونکہ ایک ہندو تھے اس لئے وہ جنت میں ہرگز نہیں جائیں گے ۔ان کی اچھی خدمات اور نیک نامیوں کا صلہ انہیں ان کی زندگی میں ہی مل گیا ہوگا۔