اس تحریر کو آپ آڈیو میں بھی سن سکتے ہیں
[audio mp3="http://snaji.com/wp-content/uploads/2015/06/pak-tea-house-lhr.mp3"][/audio]
پاک ٹی ہاؤس لاہور میں مال روڈ پر واقع ہے جو کہ نیلا گنبد کے قریب اور انار کلی بازار کے باہری حصے کی جانب واقع ہے ۔پاک ٹی ہاؤس کے سامنے کی جانب پنجاب یونیورسٹی ہے ، دائیں جانب کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج ہے اور بائیں جانب اے جی آفس کی جانب جانے والی سڑک نظر آتی ہے اور اگر ہم پیچے کی جانب دیکھیں تو وائی ایم سی کی پرانی بلڈنگ ہمیں کھڑی نطر آئے گی ۔
کہا یہ جاتا ہے کہ 1940 میں ایک سکھ بوٹا سنگھ نے "انڈیا ٹی ہاؤس" کے نام سے یہ چائے خانہ شروع کیا تھا۔۔۔ تقریباً چار سال اس چائے خانے کو چلانے کے باوجود بھی بوٹا سنگھ کی اس چائے خانے سے آمدن نہ ہونے کے برابر تھی جس سے بوٹا سنگھ کا دل اس چائے خانے سے اچاٹ ہو گیا اور وہ اس کو بیچنے کے بارے میں سوچنے لگا ۔اس زمانے میں بوٹا سنگھ کے چائے خانے میں دو سکھ بھائی جو گورنمنٹ کالج کے سٹوڈنٹ تھے اپنے دوستوں کے ہمراہ اکثر چائے پینے آتے تھے 1940ء میں یہ دونوں بھائی گورنمنٹ کالج سے گریجوایشن کر چکے تھے اور کسی کاروبا ر کے متعلق سوچ رہے تھے کہ ایک روز اس چائے خانہ پر بیٹھے، اس کے مالک بوٹا سنگھ سے بات چل نکلی اور بوٹا سنگھ نے یہ چائے خانہ ان کو بیچ دیا ۔
لاھور کے مشہور چائے خانوں میں سب سے مشہور چائے خانہ پاک ٹی ہاؤس تھا جو ایک ادبی، تہذیبی اور ثقافتی علامت تھا پاک ٹی ہاؤس شاعروں، ادیبوں، نقاد کا مستقل گڑھ تھا جو ثقافتی، ادبی محافل کا انعقاد کیا کرتی تھیں۔
اس زمانے میں پاک ٹی ہاؤس میں بیٹھنے والے ادیبوں اور شاعروں میں سے سوائے چند ایک کے باقی کسی کا بھی کوئی مستقل ذریعہ معاش نہیں تھا کسی ادبی پرچے میں کوئی غزل، نظم یا کوئی افسانہ لکھ دیا تو پندرہ بیس روپے مل جاتے تھے لیکن کبھی کسی کے لب پر تنگی معاش کا شکوہ نہیں تھا اگر شکوہ کرتے تھے تو محبوب کی بے وفائی کا۔۔۔۔۔۔ وہ بھی اپنی شاعری میں ۔۔۔
سعادت حسن منٹو، اے حمید، فیض احمد فیض، ابن انشاء، احمد فراز، منیر نیازی، میرا جی، کرشن چندر، کمال رضوی، ناصر کاظمی، پروفیسر سید سجاد رضوی، استاد امانت علی خان، ڈاکٹر محمد باقر، انتظار حسین، اشفاق احمد، قیوم نظر، شہرت بخاری، انجم رومانی، امجد الطاف امجد، احمد مشتاق، مبارک احمد، انورجلال، عباس احمد عباسی، ہیرو حبیب، سلو، شجاع، ڈاکٹر ضیاء، ڈاکٹر عبادت بریلوی، سید وقار عظیم وغیرہ پاک ٹی ہاؤس کی جان تھے
ساحر لدھیانوی بھارت جا چکے تھے اور وہاں فلمی گیت لکھ کر اپنا نام کما رہے تھے۔۔ اس وقت کے شاعر اور ادیب اپنے اپنے تخلیقی کاموں میں مگن تھے ادب اپنے عروج پہ تھا اس زمانے کی لکھی ھوئی غزلیں، نظمیں، افسانے اور مضامین آج کے اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں اس زمانے کی بوئی ہوئی ذرخیز فصل کو ھم آج کاٹ رہے ہیں
پاک ٹی ہاؤس کئ نشیب و فراز سے گزرا اور کئ مرتبہ بند ہو کر خبروں کا موضوع بنتا رہا
عرصہ دراز تک اہل قلم کو اپنی آغوش میں پناہ دینے کے بعد 2000ء میں جب ٹی ہاؤس کے مالک نے اسے بند کرنے کا اعلان کیا تو ادبی حلقوں میں تشویس کی لہر دوڈ گئ اور اھل قلم نے باقاعدہ اس فیصلے کی مزاحمت کرنے کا اعلان کر دیا
دراصل ٹی ہاؤس کے مالک نے یہ بیان دیا تھا کہ "میرا ٹی ہاؤس میں گزارہ نہیں ہوتا میں کوئی دوسرا کاروبار کرنا چاہتا ہوں" ادبی تنظیموں نے مشترکہ بیان دیا کہ ٹی ہاؤس کو ٹائروں کی دکان بننے کی بجائے ادیبوں کی بیٹھک کے طور پر جاری رکھا جائے کیونکہ اس چائے خانے میں کرشن چندر سے لیکر سعادت حسن منٹو تک ادبی محفلیں جماتے رھے
ادیبوں اور شاعروں نے اس چائے خانے کی بندش کے خلاف مظاہرہ کیا اور یہ کیس عدالت میں بھی گیا اور بعض عالمی نشریاتی اداروں نے بھی احتجاج کیا آخر کار 31 دسمبر 2000ء کو یہ دوبارہ کھل گیا اور اہل قلم یہاں دوبارہ بیٹھنے لگے لیکن 6 سال کے بعد مئ 2006ء میں یہ دوبارہ بند ہو گیا اس بار ادیبوں اور شاعروں کی طرف سے کوئی خاص احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا
میاں نواز شریف نے بالآخر 23 مارچ 2012 کو پاک ٹی ہاؤس میں چائے پی کر اور اس کا افتتاح کر کے ادیبوں اور شاعروں کے لیے اس کے دروازے ایک بار پھر کھول دئیے ۔
آجکل پاک ٹی ہاؤس میں ادبا اور شعرا تو خال خال ہی نظر آتے ہیں البتہ دوپہر گیارہ بجے سے شام پانچ بجے تک لیلی مجنوں ، شیریں فرہاد ، سسی پنوں اور ہیر رانجھا اپنی اپنی سرگوشیوں میں مشغول رہتے ہیں ۔
https://soundcloud.com/urduhome/pak-tea-house
.....................
Audio Blogging لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Audio Blogging لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
پیر، 15 جون، 2015
اتوار، 14 جون، 2015
کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے
وہی خدا ہے ۔۔۔۔ مظفر وارثی کی خوبصورت آواز میں سنئے
[audio mp3="http://snaji.com/wp-content/uploads/2015/06/wohi-kjuda-hai.mp3"][/audio]
کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے
وہی خدا ہے
دکھائی بھی جو نہ دے، نظر بھی جو آ رہا ہے
وہی خدا ہے
وہی ہے مشرق، وہی ہے مغرب
سفر کريں سب اُسی کی جانب
ہر آئینے میں جو عکس اپنا دِکھا رہا ہے
وہی خدا ہے
تلاش اُس کو نہ کر بتوں میں
وہ ہے بدلتی ہوئی رُتوں میں
جو دن کو رات اور رات کو دن بنا رہا ہے
وہی خدا ہے
نظر بھی رکھے سماں پہ بھی
وہ جان لیتا ہے نیتیں بھی
جو خانہ لاشعور میں جگمگا رہا ہے
وہی خدا ہے
کسی کو سوچوں نے کب سراہا
وہی ہوا جو خدا نے چاہا
جو اختیارِ بشر پے پہرے بٹھا رہا ہے
وہی خدا ہے
کسی کو تاج وقار بخشے،کسی کو ذلتِ کے غار بخشے
جو سب کے ماتھے پے مہر قدرت لگا رہا ہے
وہی خدا ہے
سفید اسکا، سیاہ اسکا، نفس نفس ہے گواہ اسکا
جو شعلہ جاں جلا رہا ہے، بجھا رہا ہے
وہی خدا ہے
https://soundcloud.com/urduhome/wohi-kjuda-hai
...................
[audio mp3="http://snaji.com/wp-content/uploads/2015/06/wohi-kjuda-hai.mp3"][/audio]
کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے
وہی خدا ہے
دکھائی بھی جو نہ دے، نظر بھی جو آ رہا ہے
وہی خدا ہے
وہی ہے مشرق، وہی ہے مغرب
سفر کريں سب اُسی کی جانب
ہر آئینے میں جو عکس اپنا دِکھا رہا ہے
وہی خدا ہے
تلاش اُس کو نہ کر بتوں میں
وہ ہے بدلتی ہوئی رُتوں میں
جو دن کو رات اور رات کو دن بنا رہا ہے
وہی خدا ہے
نظر بھی رکھے سماں پہ بھی
وہ جان لیتا ہے نیتیں بھی
جو خانہ لاشعور میں جگمگا رہا ہے
وہی خدا ہے
کسی کو سوچوں نے کب سراہا
وہی ہوا جو خدا نے چاہا
جو اختیارِ بشر پے پہرے بٹھا رہا ہے
وہی خدا ہے
کسی کو تاج وقار بخشے،کسی کو ذلتِ کے غار بخشے
جو سب کے ماتھے پے مہر قدرت لگا رہا ہے
وہی خدا ہے
سفید اسکا، سیاہ اسکا، نفس نفس ہے گواہ اسکا
جو شعلہ جاں جلا رہا ہے، بجھا رہا ہے
وہی خدا ہے
https://soundcloud.com/urduhome/wohi-kjuda-hai
...................
ہفتہ، 13 جون، 2015
پاکستان سے باہر ہمارا کچھ نہیں یارو
[audio mp3="http://snaji.com/wp-content/uploads/2015/06/pak-watan.mp3"][/audio]
یہ آڈیو پیغام ہمارے فیس بک کی انتہائی محترم ہستی جناب خالد نعیم الدین کی جانب سے ہے جو میرے اور آپ سب پاکستانیوں کے لئے ہے ۔اس پیغام کے کچھ درمیانی حصے کو میں نے تحریر میں لکھ دیا ہے ۔۔۔ مگر جو لطف اور جوش و ولولہ اس پیغام کو سننے میں ہے وہ تحریر میں ہر گز نہیں ۔
اسی خاک وطن سے اس جہاں میں راج ہے اپنا
اسی دھرتی کے صدقے میں یہ تخت و تاج ہے اپنا
اسی کو زندگی سمجھو اسی پر زندگی وارو
پاکستان سے باہر ہمارا کچھ نہیں یارو
بقاء کی جو ضمانت ہے ہمارے حوصلوں تک ہے
ہمارے گھر کی مظبوطی ہمارے پربتوں تک ہے
ہماری شان آزادی ہماری سرحدوں تک ہے
غلامی کے سوا کچھ بھی نہیں اس پار شہزادو
پاکستان سے باہر ہمارا کچھ نہیں یارو
اگر یہ آڈیو ساؤنڈ کلاؤڈ پر بھی سن دسکتے ہیں ۔۔۔ ساؤنڈ کلاؤڈ پر سننے کے لئے نیچے دئے گئے لنک پر کلک کریں
https://soundcloud.com/urduhome/pak-watan
...............
یہ آڈیو پیغام ہمارے فیس بک کی انتہائی محترم ہستی جناب خالد نعیم الدین کی جانب سے ہے جو میرے اور آپ سب پاکستانیوں کے لئے ہے ۔اس پیغام کے کچھ درمیانی حصے کو میں نے تحریر میں لکھ دیا ہے ۔۔۔ مگر جو لطف اور جوش و ولولہ اس پیغام کو سننے میں ہے وہ تحریر میں ہر گز نہیں ۔
اسی خاک وطن سے اس جہاں میں راج ہے اپنا
اسی دھرتی کے صدقے میں یہ تخت و تاج ہے اپنا
اسی کو زندگی سمجھو اسی پر زندگی وارو
پاکستان سے باہر ہمارا کچھ نہیں یارو
بقاء کی جو ضمانت ہے ہمارے حوصلوں تک ہے
ہمارے گھر کی مظبوطی ہمارے پربتوں تک ہے
ہماری شان آزادی ہماری سرحدوں تک ہے
غلامی کے سوا کچھ بھی نہیں اس پار شہزادو
پاکستان سے باہر ہمارا کچھ نہیں یارو
اگر یہ آڈیو ساؤنڈ کلاؤڈ پر بھی سن دسکتے ہیں ۔۔۔ ساؤنڈ کلاؤڈ پر سننے کے لئے نیچے دئے گئے لنک پر کلک کریں
https://soundcloud.com/urduhome/pak-watan
...............
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)