بابو جی بچے بھوکے ہیں ۔۔۔۔ اللہ کے نام پہ کچھ دے دو نا
جاؤ بی بی جاؤ ۔۔۔ ہٹی کٹی ہو ۔۔۔ سوہنی ہو ۔۔۔۔محنت کرو ۔۔۔کسی کے گھر کا کام کاج کر کے عزت کی روزی کماؤ
بابو جی دے دو نا ۔۔۔اللہ کے نام پر مانگ رہی ہوں ۔۔۔
چل گشتی ! کہیں اور جا کہ مانگ ۔۔۔
سبز اشارہ کھلتے ہی لگزری کار میں ساتھ بیٹھی اپنی خوبرو بیوی سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جانو ! یاد ہے نا آج ایک بڑی پارٹی میں جانا جہاں سارے بڑے بڑے افسر اور سیاستدان آرہے ہیں ۔۔۔۔۔
ذرا اچھی طرح تیار ہونا
شیخو
روشن خیال جانور لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
روشن خیال جانور لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
جمعرات، 22 دسمبر، 2016
اتوار، 6 نومبر، 2016
قبرستان میں ہیرا منڈی ( چکلہ ) ۔۔ پہلا حصہ ۔۔۔
شہر خموشاں میں کوئی جن بھوت نہیں ہوتے یہ سب فرضی باتیں ہیں ۔۔۔۔مردے بھلا کسی کو کیا کہہ سکتے ہیں انہیں تو اپنے حساب کی فکر پڑی رہتی ہے ۔۔۔۔۔ہاں زندہ انسانوں نے وہاں چکلے ضرور کھول لئے ہیں ۔۔۔ کیونکہ وہاں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔۔۔۔ نہ جن بھوت ۔۔۔ نہ مردے اور نہ ہی مردہ دل حکمران ۔۔۔۔
آج ویڈیو بلاگ کا اس سلسلہ میں پہلا حصہ پیش کیا جارہا ہے جلد ہی کل یا پرسوں اس کا دوسرا حصہ پیش کیا جائے گا۔۔۔۔ دیکھنا نہ بھولئے گا ۔۔۔ پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی
آج ویڈیو بلاگ کا اس سلسلہ میں پہلا حصہ پیش کیا جارہا ہے جلد ہی کل یا پرسوں اس کا دوسرا حصہ پیش کیا جائے گا۔۔۔۔ دیکھنا نہ بھولئے گا ۔۔۔ پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی
جمعرات، 14 اپریل، 2016
مخصوص ایام جنسی خواہش کو کم نہیں کرتے ؟
مخصوص ایام جنسی خواہش کو کم نہیں کرتے ؟
کچھ روز پیشتر لاہور کی بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی میں لڑکیوں نے مخصوص ایام ( ماہواری ) کے ساتھ خواتین سے وابستہ شرمندگی کے احساس اور تصورات کے خلاف احتجاج کیا۔جس میں انہوں نے اپنی یونیورسٹی کی دیوار مہربانی پر خواتین کے مخصوص ایام ( ماہواری ) پیریڈ میں استعمال ہونے والے پیڈز بڑی تعداد میں یونیورسٹی کی دیوار مہربانی پر لگا دیئے اور ان کے اوپر خوشنما انداز میں یہ فقرے لکھ دئے کہ ۔۔۔۔۔۔
ماہواری کا ۔۔۔۔۔ ”خون گندہ نہیں ہوتا“ ۔۔۔
ہمارے مخصوص ایام ہماری جنسی خواہش کوکم نہیں کرتے، بلکہ بڑھاتے ہیں
اگر مرد کھلے عام کنڈوم خرید سکتا ہے تو میں پیڈ کیوں نہیں خرید سکتی؟
ہمارے سیکس آرگنز سے متعلق مسائل کو اتنا پیچیدہ اور پوشیدہ کیوں کر دیا گیا ہے ؟
پیریڈز کو اتنا برا کیوں سمجھا جاتا ہے ؟
جب ہر گھر میں ماں، بہن، بیوی، بیٹی موجود ہے تو کیا انکو یہ مسائل نہیں ہوتے ؟
ہمیں اک چھوئی موئی، اچھوت اور چھپنے کے قابل مخلوق ہی کیوں بنا دیا گیا ہے ؟
جبکہ یہ قدرتی عمل ہے پھر ہم کو کیوں محسوس کروایا جاتا ہے اس بات پر شرمندہ بھی ہونا ہے ؟
اگر ایک بیٹی کو پہلی بار پیریڈ ہوں تو وہ بے چاری ڈر کے مارے کونوں میں چھپتی پھرتی ہے
اس کو گناہ یا بے شرمی کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔
جب ہر طرف مردانہ کمزوری کے اشتہارات نظر آتے ہیں تو پھر عورتوں کے مسائل پر بات تک کیوں نہیں ہو سکتی ؟
ہمیں اس کو ایک نارمل چیز ماننا ہوگا اور اس پر اپنے بچوں کو کھل کر تعلیم دینی ہوگی۔
سب سے پہلی بات کہ ۔۔۔۔۔فرض کریں اگر کسی لڑکی کا دل کرتا ہے کہ وہ ماہواری پر بات کرے اور اس بارے لوگوں کو آگاہی دے تو اسے بالکل دینی چاہئے ۔۔۔۔۔ اب ہونا یہ چاہئے تھا کہ وہ اپنا ماہواری والا پیڈ ، کپڑا ، ٹشو پیپر بغیر دھوئے انڈروئیر سمیت یونیورسٹی کی دیوار مہربانی پر لٹکا کر اس بارے آگاہی دیتیں۔۔۔۔۔۔۔مگر دیکھئے کیسا تضاد ہے کہ گندگی اور بدبو کے خوف سے انہوں نے ان کپڑوں اور اپنی پیٹھ کو مصنوعی لال رنگ سے رنگ و رنگ کیا اور تصویر کھنچوا کر سرخرو ہو گئیں ۔۔۔۔اگر یہی وہ کسی سہیلی کا ماہواری کے خون سے لتھڑا روئی کا گولہ یا کپڑا چوم چوم کر لوگوں کو آگاہی دیتیں تو عام خواتین کی سمجھ میں ان کی بات بھی آتی ۔۔
بیکن ہاؤس یونیورسٹی کی لڑکیاں بالیاں کہتی ہیں کہ ماہواری کا ‘‘ خون گندا نہیں ہوتا ‘‘ ۔۔۔۔۔۔ اچھی بات ہے ۔۔۔ تو پی لو نہ اس خون کو ۔۔۔ کس نے روکا ہے ۔۔۔۔ کوئی فتوی لگائے تو تب بھی لعنت بھیج کر پی لو ۔۔۔۔
میں تو بار بار یہ کہتا ہوں کہ علم تہذیب نہیں سکھاتا بلکہ تہذیب ماں باپ ، گھر کا ماحول اور بعد آزاں معاشرہ سکھاتا ہے ۔۔۔۔ رہی بات جنسی تعلیم کی تو اس کی بھی ایک حد ہے اور اس کو سکھانے کا طریقہ بھی تہذیبانہ ہے ۔۔۔۔۔ جنسی تعلیم میں یہ نہیں ہوتا کہ میاں بیوی کے ذاتی تعلقات کا طریقہ سمجھاتے ہوئے اسے عملی کر کے بھی دکھایا جائے ۔۔۔۔ یعنی ‘‘ جدید معاشرے ‘‘ میں ایک مرد استاد ایک شاگرد لڑکی کو جنسی تعلیم کا لیکچر دے گا تو اسے عملی طریقے سے نہیں سمجھائے گا بلکہ تہذیب یافتہ انداز میں سمجھائے گا ۔۔۔۔۔۔
اصل میں ہمارے معاشرے کی جدید لڑکیاں بذات خود ننگا ہونا چاہتی ہیں ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ ہم سڑکوں پر ‘‘ الف ننگا ‘‘ پھریں ۔۔۔ اور ہمیں چھیڑے بھی کوئی نا ۔۔۔۔۔ ایسا بھلا کیسے ممکن ہے ۔۔۔۔۔ ننگے پن کو دیکھ کر تو جانور بھی بپھر جاتے ہیں ۔۔۔۔ سڑکوں پر چلنے پھرنے والے تو پھر انسان ہیں ۔۔۔۔ وہ کیسے برداشت کریں گے ۔
حیرت مجھے اس بات پر بھی ہے کہ دیکھو ۔۔۔۔ لڑکیوں نے ایشو بھی کونسا اُٹھایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ہاہہہہہہہ گندیاں ۔۔۔۔ آخ تھو ۔۔۔ او بندہ پوچھے یار جسم کے کسی اور جگہ کا ایشو بنا لو ۔۔۔۔دسو یار ۔۔۔ ماہواری کے خون کا ایشو ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ذرا سونگھ کر تو دیکھو اپنا ماہواری کا خون ۔۔۔۔ سہیلی کا خون سونگھنا تو بعد کی بات ہے ۔۔۔۔۔۔
اگر محبت کرنے والے کے پاس بیٹھے ہوئے پیٹھ میں سے گندی ہوا خارج کر دو نا تو اسے تمہاری ساری خوبصورتی بھول جائے گی ۔۔۔اگر وہ کچھ کھا رہا ہو گا تو اسے الٹیاں شروع ہوجائیں گی ۔۔۔
پہلے تو اس پر مکالمہ کیا جائے کہ عشق کرنے والے جوڑے ایک دوسرے کے سامنے گندے بدبودار ‘‘ پاد ‘‘ ہوا خارج کر سکتے ہیں یا نہیں اور اگر کر سکتے ہیں تو آیا ہوا خارج کرتے ہی پیٹھ کے ساتھ منہہ لگانے سے جذبات کی شدت اور سیکس میں کتنا اضافہ ممکن ہے
-------------------------------------------
ہمارے ایک بہت محترم بلاگر جناب سلیم شانتو صاحب نے مخصوص ایام ( ماہواری ) کے حوالے سے کچھ تحقیقی مواد جمع کیا ہے ۔۔۔ جو میں اسی اپنی تحریر کے نیچے جوں کا توں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں ۔۔۔ تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت آنے والی نسلوں کے کام آوے
-------------------------------------------
(5:25 AM - 29 Sep 2014)
کو ایک بدیشی خاتونہ (پروفائل سے اس کے علاوہ کچھ پتہ نہیں چل پا رہا کہ یہ بس کسی لبرل کی بہن ہے) نے عورتوں کی آبرو ریزی پر مردوں کی عدم دلچسپی اور بیزار رویئے کو عورتوں کی ماہواری سے جوڑ کر ایک ٹویٹ کیا جسے ہزاروں بار پڑھا اور پسند کیا گیا۔
(imagine if men were as disgusted with rape as they are with periods)
مارچ 2015 میں ایلن نامی ایک جرمن خاتون بلاگر نے اس ٹویٹ سے متاثر ہو کر اپنے ماہواری پیڈز پر کچھ تنبیہی، کچھ آگاہی اور بیشتربولڈ اور غیر مہذب پیغامات لکھے اور اپنے شہر
(Karlsruhe)
کے سارے در و دیوار پر چپکا دیئے۔ تاہم اس کی یہ حرکت قابل دست اندازی قانون ٹھہری اور اسے عدالت کا سامنا کرنا پڑا۔
عالمی اخبارات میں اس خبر کی پذیرائی کے بعد اسی ہفتے دہلی کی "جامعہ ملیہ اسلامیہ" کی طالبات نے ایلن کی اس انفرادی حرکت کو باقاعدہ تحریک کے طور پر اپنایا اور اپنی جامعہ میں اور جامعہ سے باہر دہلی مین راتوں رات نسوانی پیڈز پر عبارات لکھ کر جگہ جگہ پبلک مقامات پر لگا دیئے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طالبات سے شہ پا کر کولکتہ کی جامعہ
(Kolkata’s Jadavpur University)
کی طالبات نے بھی اپنی جامعہ کی در و دیوار کو اپنے پیڈز پر اپنے دلی جذبات لکھ لکھ کر خوب سجایا۔
اس کے بعد بھی یہ سلسلہ دراز رہا تاہم "با جماعت" ایلن کی اس سنت کے احیاء کیلئے اس ہفتے پاکستان کے زندہ دلان لاہور کی کچھ کاکیوں نے ایلن کی اس سنت کی عملی ادائیگی کا عملی اہتمام کیا۔
سبب بننے والا ٹویٹ یہاں دیکھیں:
https://twitter.com/cutequeer96/status/516564388606521346
جرمنی کی ایلن کا تذکرہ یہاں دیکھیں:
http://www.buzzfeed.com/…/a-woman-is-writing-feminist-messa
دہلی کی خواتین کا کمال یہاں دیکھیں:
http://www.indiatimes.com/…/sanitary-pads-with-pro-women-me
کولکتہ کی جامعہ کی طالبات کے بیانات پیڈز پر لکھے ہوئے یہاں دیکھیں:
http://indianexpress.com/…/sanitary-pad-protest-spreads-to…/
لاہور کی کاکیوں کے کمالات یہاں دیکھیں
http://snaji.com/2016/04/14/mahwari/
کچھ روز پیشتر لاہور کی بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی میں لڑکیوں نے مخصوص ایام ( ماہواری ) کے ساتھ خواتین سے وابستہ شرمندگی کے احساس اور تصورات کے خلاف احتجاج کیا۔جس میں انہوں نے اپنی یونیورسٹی کی دیوار مہربانی پر خواتین کے مخصوص ایام ( ماہواری ) پیریڈ میں استعمال ہونے والے پیڈز بڑی تعداد میں یونیورسٹی کی دیوار مہربانی پر لگا دیئے اور ان کے اوپر خوشنما انداز میں یہ فقرے لکھ دئے کہ ۔۔۔۔۔۔
ماہواری کا ۔۔۔۔۔ ”خون گندہ نہیں ہوتا“ ۔۔۔
ہمارے مخصوص ایام ہماری جنسی خواہش کوکم نہیں کرتے، بلکہ بڑھاتے ہیں
اگر مرد کھلے عام کنڈوم خرید سکتا ہے تو میں پیڈ کیوں نہیں خرید سکتی؟
ہمارے سیکس آرگنز سے متعلق مسائل کو اتنا پیچیدہ اور پوشیدہ کیوں کر دیا گیا ہے ؟
پیریڈز کو اتنا برا کیوں سمجھا جاتا ہے ؟
جب ہر گھر میں ماں، بہن، بیوی، بیٹی موجود ہے تو کیا انکو یہ مسائل نہیں ہوتے ؟
ہمیں اک چھوئی موئی، اچھوت اور چھپنے کے قابل مخلوق ہی کیوں بنا دیا گیا ہے ؟
جبکہ یہ قدرتی عمل ہے پھر ہم کو کیوں محسوس کروایا جاتا ہے اس بات پر شرمندہ بھی ہونا ہے ؟
اگر ایک بیٹی کو پہلی بار پیریڈ ہوں تو وہ بے چاری ڈر کے مارے کونوں میں چھپتی پھرتی ہے
اس کو گناہ یا بے شرمی کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔
جب ہر طرف مردانہ کمزوری کے اشتہارات نظر آتے ہیں تو پھر عورتوں کے مسائل پر بات تک کیوں نہیں ہو سکتی ؟
ہمیں اس کو ایک نارمل چیز ماننا ہوگا اور اس پر اپنے بچوں کو کھل کر تعلیم دینی ہوگی۔
سب سے پہلی بات کہ ۔۔۔۔۔فرض کریں اگر کسی لڑکی کا دل کرتا ہے کہ وہ ماہواری پر بات کرے اور اس بارے لوگوں کو آگاہی دے تو اسے بالکل دینی چاہئے ۔۔۔۔۔ اب ہونا یہ چاہئے تھا کہ وہ اپنا ماہواری والا پیڈ ، کپڑا ، ٹشو پیپر بغیر دھوئے انڈروئیر سمیت یونیورسٹی کی دیوار مہربانی پر لٹکا کر اس بارے آگاہی دیتیں۔۔۔۔۔۔۔مگر دیکھئے کیسا تضاد ہے کہ گندگی اور بدبو کے خوف سے انہوں نے ان کپڑوں اور اپنی پیٹھ کو مصنوعی لال رنگ سے رنگ و رنگ کیا اور تصویر کھنچوا کر سرخرو ہو گئیں ۔۔۔۔اگر یہی وہ کسی سہیلی کا ماہواری کے خون سے لتھڑا روئی کا گولہ یا کپڑا چوم چوم کر لوگوں کو آگاہی دیتیں تو عام خواتین کی سمجھ میں ان کی بات بھی آتی ۔۔
بیکن ہاؤس یونیورسٹی کی لڑکیاں بالیاں کہتی ہیں کہ ماہواری کا ‘‘ خون گندا نہیں ہوتا ‘‘ ۔۔۔۔۔۔ اچھی بات ہے ۔۔۔ تو پی لو نہ اس خون کو ۔۔۔ کس نے روکا ہے ۔۔۔۔ کوئی فتوی لگائے تو تب بھی لعنت بھیج کر پی لو ۔۔۔۔
میں تو بار بار یہ کہتا ہوں کہ علم تہذیب نہیں سکھاتا بلکہ تہذیب ماں باپ ، گھر کا ماحول اور بعد آزاں معاشرہ سکھاتا ہے ۔۔۔۔ رہی بات جنسی تعلیم کی تو اس کی بھی ایک حد ہے اور اس کو سکھانے کا طریقہ بھی تہذیبانہ ہے ۔۔۔۔۔ جنسی تعلیم میں یہ نہیں ہوتا کہ میاں بیوی کے ذاتی تعلقات کا طریقہ سمجھاتے ہوئے اسے عملی کر کے بھی دکھایا جائے ۔۔۔۔ یعنی ‘‘ جدید معاشرے ‘‘ میں ایک مرد استاد ایک شاگرد لڑکی کو جنسی تعلیم کا لیکچر دے گا تو اسے عملی طریقے سے نہیں سمجھائے گا بلکہ تہذیب یافتہ انداز میں سمجھائے گا ۔۔۔۔۔۔
اصل میں ہمارے معاشرے کی جدید لڑکیاں بذات خود ننگا ہونا چاہتی ہیں ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ ہم سڑکوں پر ‘‘ الف ننگا ‘‘ پھریں ۔۔۔ اور ہمیں چھیڑے بھی کوئی نا ۔۔۔۔۔ ایسا بھلا کیسے ممکن ہے ۔۔۔۔۔ ننگے پن کو دیکھ کر تو جانور بھی بپھر جاتے ہیں ۔۔۔۔ سڑکوں پر چلنے پھرنے والے تو پھر انسان ہیں ۔۔۔۔ وہ کیسے برداشت کریں گے ۔
حیرت مجھے اس بات پر بھی ہے کہ دیکھو ۔۔۔۔ لڑکیوں نے ایشو بھی کونسا اُٹھایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ہاہہہہہہہ گندیاں ۔۔۔۔ آخ تھو ۔۔۔ او بندہ پوچھے یار جسم کے کسی اور جگہ کا ایشو بنا لو ۔۔۔۔دسو یار ۔۔۔ ماہواری کے خون کا ایشو ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ذرا سونگھ کر تو دیکھو اپنا ماہواری کا خون ۔۔۔۔ سہیلی کا خون سونگھنا تو بعد کی بات ہے ۔۔۔۔۔۔
اگر محبت کرنے والے کے پاس بیٹھے ہوئے پیٹھ میں سے گندی ہوا خارج کر دو نا تو اسے تمہاری ساری خوبصورتی بھول جائے گی ۔۔۔اگر وہ کچھ کھا رہا ہو گا تو اسے الٹیاں شروع ہوجائیں گی ۔۔۔
پہلے تو اس پر مکالمہ کیا جائے کہ عشق کرنے والے جوڑے ایک دوسرے کے سامنے گندے بدبودار ‘‘ پاد ‘‘ ہوا خارج کر سکتے ہیں یا نہیں اور اگر کر سکتے ہیں تو آیا ہوا خارج کرتے ہی پیٹھ کے ساتھ منہہ لگانے سے جذبات کی شدت اور سیکس میں کتنا اضافہ ممکن ہے
-------------------------------------------
ہمارے ایک بہت محترم بلاگر جناب سلیم شانتو صاحب نے مخصوص ایام ( ماہواری ) کے حوالے سے کچھ تحقیقی مواد جمع کیا ہے ۔۔۔ جو میں اسی اپنی تحریر کے نیچے جوں کا توں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں ۔۔۔ تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت آنے والی نسلوں کے کام آوے
-------------------------------------------
(5:25 AM - 29 Sep 2014)
کو ایک بدیشی خاتونہ (پروفائل سے اس کے علاوہ کچھ پتہ نہیں چل پا رہا کہ یہ بس کسی لبرل کی بہن ہے) نے عورتوں کی آبرو ریزی پر مردوں کی عدم دلچسپی اور بیزار رویئے کو عورتوں کی ماہواری سے جوڑ کر ایک ٹویٹ کیا جسے ہزاروں بار پڑھا اور پسند کیا گیا۔
(imagine if men were as disgusted with rape as they are with periods)
مارچ 2015 میں ایلن نامی ایک جرمن خاتون بلاگر نے اس ٹویٹ سے متاثر ہو کر اپنے ماہواری پیڈز پر کچھ تنبیہی، کچھ آگاہی اور بیشتربولڈ اور غیر مہذب پیغامات لکھے اور اپنے شہر
(Karlsruhe)
کے سارے در و دیوار پر چپکا دیئے۔ تاہم اس کی یہ حرکت قابل دست اندازی قانون ٹھہری اور اسے عدالت کا سامنا کرنا پڑا۔
عالمی اخبارات میں اس خبر کی پذیرائی کے بعد اسی ہفتے دہلی کی "جامعہ ملیہ اسلامیہ" کی طالبات نے ایلن کی اس انفرادی حرکت کو باقاعدہ تحریک کے طور پر اپنایا اور اپنی جامعہ میں اور جامعہ سے باہر دہلی مین راتوں رات نسوانی پیڈز پر عبارات لکھ کر جگہ جگہ پبلک مقامات پر لگا دیئے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طالبات سے شہ پا کر کولکتہ کی جامعہ
(Kolkata’s Jadavpur University)
کی طالبات نے بھی اپنی جامعہ کی در و دیوار کو اپنے پیڈز پر اپنے دلی جذبات لکھ لکھ کر خوب سجایا۔
اس کے بعد بھی یہ سلسلہ دراز رہا تاہم "با جماعت" ایلن کی اس سنت کے احیاء کیلئے اس ہفتے پاکستان کے زندہ دلان لاہور کی کچھ کاکیوں نے ایلن کی اس سنت کی عملی ادائیگی کا عملی اہتمام کیا۔
سبب بننے والا ٹویٹ یہاں دیکھیں:
https://twitter.com/cutequeer96/status/516564388606521346
جرمنی کی ایلن کا تذکرہ یہاں دیکھیں:
http://www.buzzfeed.com/…/a-woman-is-writing-feminist-messa
دہلی کی خواتین کا کمال یہاں دیکھیں:
http://www.indiatimes.com/…/sanitary-pads-with-pro-women-me
کولکتہ کی جامعہ کی طالبات کے بیانات پیڈز پر لکھے ہوئے یہاں دیکھیں:
http://indianexpress.com/…/sanitary-pad-protest-spreads-to…/
لاہور کی کاکیوں کے کمالات یہاں دیکھیں
http://snaji.com/2016/04/14/mahwari/
جمعرات، 20 اگست، 2015
دنیا والو , ایک کمزور عورت کو جینے دو
باجی ایان علی غلطی سے ایک بڑے مگر مچھ کی کیرئر بن کے تین ماہ جیل میں رہی.ایک مجبور و مظلوم عورت کو روزانہ میڈیا پر ذہنی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاتا رہا......مگر باجی ایان کچھ نہ بولی..
اور اب جبکہ وہ رہا ہوکر فلاحی کاموں میں حصہ لے کر خود پر لگائے دھبے کو دھونا چاہتی ہے تو عوام کو بھی اس کا ساتھ دینا چاہئے.
ابھی گزشتہ روز ہی مولانا طارق جمیل کی تقلید کرتے ہوئے جامعہ کراچی جو کہ جماعت اسلامی کا گڑھ ہے نے باجی ایان کو اپنے ہاں تبلیغ کے لئے مدعو کیا.باجی ایان نے وہاں سے باقاعدہ ایوارڈ بھی وصول کیا اور وہاں موجود طلباء و طالبات کو بھاشن بھی دیا.بھاشن کے بعد وہاں کی نقاب پوش طالبات نے اپنے نقاب اتار کر باجی ایان کے ساتھ بڑے ذوق و شوق سے سیلفیوں کا سیشن مکمل کیا.
ظلم کی بات دیکھئے کہ کسی کم ظرف نے باجی ایان کے بھاشن کی فوٹو اور وہ خوبصورت سیلفیاں میڈیا کو پہنچا دیں جن کی خوب تشہیر کر کے باجی ایان کو بدنام کرنے کی کوششیں جاری و ساری ہیں.
سوشل میڈیا پر باجی ایان سے زیادہ جامعہ کراچی کے پرنسپل سمیت سب استادوں کو کے بارے میں خوب لے دے جاری ہے.کچھ لوگ انہیں بھڑووں سے تشبیح دے رہے ہیں اور کچھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اب جامعہ کے باہر ہیرا منڈی کا بورڈ بھی چسپاں کر دینا چاہئے.
اگر ہم ٹھنڈے دل سے سوچیں اور دوسری باجی کنجرہوں سے باجی ایان کا موازنہ کریں تو باجی ایان کے کریکٹر پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا..
کیا کسی نے باجی ایان کو سٹیج پر فحش ڈانس یا ننگا ڈانس کرتے دیکھا ہے؟
کیا کسی نے باجی ایان کی کسی نے کوئی فحش ویڈیو دیکھی ہے؟
کیا کسی نے باجی ایان کو فلموں میں سرعام بوس وکنار کرتے دیکھا ہے؟
کیا کسی نے باجی ایان کی دوسری باجی کنجریوں کی طرح کوئی غیر اخلاقی حرکت دیکھی ہے؟
صرف باجی ایان کے تین قصور ہیں.....
وہ ایک خوبصورت عورت ہے
منی لارڈنگ کے کیس میں ملوث ہوئی
ماڈلنگ کرتی ہے
دنیا والو , ایک کمزور عورت کو جینے دو
کسی پر ثبوت دیکھے بغیر الزام نہ لگاؤ کل کلاں کو آپ نے بھی جواب دینا ہے
جمعہ، 31 جنوری، 2014
علم والوں اور بے علموں کو ایک جیسا ہی دیکھا گیا ہے
کبھی کبھی تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ آپ ترقی کے اس دور جدید کے ہوتے ہوئے بھی پتھر ہی کے دور میں رہ رہے ہیں ۔انسان اتنا پڑھنے ، سمجھنے اور تجربات حاصل کرنے کے باوجود بھی جانور سے بدتر ہی ہے ۔میں نے تو علم والوں اور بے علموں کو بھی ایک جیسا ہی دیکھا اور پرکھا ہے ۔بلکہ کبھی کبھار تو ‘‘ بے علم ‘‘ علم والوں سے کئی درجے بہتر دکھائی دیتے ہیں۔
بڑے بوڑھے کہتے ہیں کہ ‘‘ زن ، زر اور زمین ‘‘ انسان کو گمراہ کر دیتے ہیں ۔بڑے بوڑھے صحیح کہتے ہیں مجھے ان کی باتوں کو ترازو کے پلڑے میں تولنے کی ضرورت بھی نہیں بلکہ میں تو یہ کہنا چاہوں گا کہ ‘‘ جاہ ‘ یعنی حکمرانی ، طاقت ، اکڑ اور غرور بھی انسان کو تباہی کے دہانے میں لے جا پھینکتے ہیں ۔
انسان مرد اور عورت میں سے کسی بھی روپ میں ہو ۔۔۔ اس کو سمجھنے کا دعوٰی کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ۔ انسان اپنی ‘‘ خو ‘‘ میں رہتے ہوئے کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ جس میں اچھائی اور برائی کے دونوں پہلو شامل ہیں ۔
آج میں کیا کہنا چاہتا ہوں یہ میں خود بھی جان نہیں پا رہا ۔۔۔ جبکہ سوچ اور قلم بھی ساتھ دے رہے ہیں ۔۔۔ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ جو میں کہنا چاہتا ہوں اسے میں دوسروں کے ساتھ بانٹنا نہیں چاہتا۔
قارئین کرام نوٹ فرما لیں !
بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر میں نے اپنے ذاتی بلاگ کو یہاں بلاگسپاٹ پر منتقل کر دیا ہے ۔ہو سکتا ہے آپ کو بعض تصاویر و تحریر یا کہ تبصرے نظر نہ آئیں ۔انشااللہ وقت کے ساتھ ساتھ انہیں اپنی اصل حالت میں شائع کر دیا جائے گا۔
بڑے بوڑھے کہتے ہیں کہ ‘‘ زن ، زر اور زمین ‘‘ انسان کو گمراہ کر دیتے ہیں ۔بڑے بوڑھے صحیح کہتے ہیں مجھے ان کی باتوں کو ترازو کے پلڑے میں تولنے کی ضرورت بھی نہیں بلکہ میں تو یہ کہنا چاہوں گا کہ ‘‘ جاہ ‘ یعنی حکمرانی ، طاقت ، اکڑ اور غرور بھی انسان کو تباہی کے دہانے میں لے جا پھینکتے ہیں ۔
انسان مرد اور عورت میں سے کسی بھی روپ میں ہو ۔۔۔ اس کو سمجھنے کا دعوٰی کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ۔ انسان اپنی ‘‘ خو ‘‘ میں رہتے ہوئے کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ جس میں اچھائی اور برائی کے دونوں پہلو شامل ہیں ۔
آج میں کیا کہنا چاہتا ہوں یہ میں خود بھی جان نہیں پا رہا ۔۔۔ جبکہ سوچ اور قلم بھی ساتھ دے رہے ہیں ۔۔۔ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ جو میں کہنا چاہتا ہوں اسے میں دوسروں کے ساتھ بانٹنا نہیں چاہتا۔
قارئین کرام نوٹ فرما لیں !
بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر میں نے اپنے ذاتی بلاگ کو یہاں بلاگسپاٹ پر منتقل کر دیا ہے ۔ہو سکتا ہے آپ کو بعض تصاویر و تحریر یا کہ تبصرے نظر نہ آئیں ۔انشااللہ وقت کے ساتھ ساتھ انہیں اپنی اصل حالت میں شائع کر دیا جائے گا۔
بدھ، 29 مئی، 2013
بندر اور انسان میں فرق
بندر اور انسان میں خاصا فرق ہے ، ہاں بندر اور بلبل میں کوئی خاص فرق نہیں ہے وہ اس لئے کہ دونوں پیچھے سے لال ہوتے ہیں۔۔۔۔۔
رہی بات بندر اور انسان کے خاندانی پس منظر کی تو ان میں کوئی خاصا فرق نہیں ہے ان دونوں کا خاندانی پس منظر کتے کی ایک خاص نسل بگھیاڑ سے جا ملتا ہے۔جو وقت آنے پر ایک دوسرے کو بھی چیر پھاڑ کر کھا جاتے ہیں
رہی بات بندر اور انسان کے خاندانی پس منظر کی تو ان میں کوئی خاصا فرق نہیں ہے ان دونوں کا خاندانی پس منظر کتے کی ایک خاص نسل بگھیاڑ سے جا ملتا ہے۔جو وقت آنے پر ایک دوسرے کو بھی چیر پھاڑ کر کھا جاتے ہیں
بندر اور انسان میں فرق
بندر اور انسان میں خاصا فرق ہے ، ہاں بندر اور بلبل میں کوئی خاص فرق نہیں ہے وہ اس لئے کہ دونوں پیچھے سے لال ہوتے ہیں۔۔۔۔۔
رہی بات بندر اور انسان کے خاندانی پس منظر کی تو ان میں کوئی خاصا فرق نہیں ہے ان دونوں کا خاندانی پس منظر کتے کی ایک خاص نسل بگھیاڑ سے جا ملتا ہے۔جو وقت آنے پر ایک دوسرے کو بھی چیر پھاڑ کر کھا جاتے ہیں
رہی بات بندر اور انسان کے خاندانی پس منظر کی تو ان میں کوئی خاصا فرق نہیں ہے ان دونوں کا خاندانی پس منظر کتے کی ایک خاص نسل بگھیاڑ سے جا ملتا ہے۔جو وقت آنے پر ایک دوسرے کو بھی چیر پھاڑ کر کھا جاتے ہیں
ہفتہ، 18 نومبر، 2006
روشن خیال مجرے
آج سوچا تھا کہ کچھ لکھوں گا ، کیا دیکھتا ہوں کہ میرا پاکستان والے جناب افضل صاحب نے لاہور کے ایک ناظم میاں محمود کی ایک طوائف کے ساتھ تصویر کو موضوع سخن بنایا ہے۔
لکھتا بھی ، تو کیا لکھتا ، ساری سوچیں غائب ہوگئیں ، کبھی جناب افضل صاحب کی تلخ اور تیکھی تحریر کو پڑھتا اور کبھی ناظم میاں محمود کی تہذیب یافتہ انداز میں کھنچوائی تصویر کو دیکھا کیا۔
جناب افضل صاحب بھی بھولے بادشاہ ہیں ، باہر رہ کر وہ اسی پرانے پاکستان کی تصویر کو اپنی آنکھوں میں سجائے بیٹھے ہیں جس کو کبھی وہ چھوڑ کے گئے تھے۔انہیں نہیں پتہ کہ پاکستان اب ترقی پذیر ملکوں کی فہرست سے نکل کر ترقی یافتہ اور روشن خیال ہو چکا ہے۔
سوچتا ہوں کہ اب جب وہ پاکستان آئے تو انہیں اپنے پاس بٹھا کر کیبل دکھاؤں گا جو ہر گھر میں چل رہی ہے۔جس پر روزانہ ننگے مجرے دھڑلے سے دکھائے جاتے ہیں۔دوپہر ہو یا رات کا کوئی پہر ، یہ ننگے مجرے سٹیج شو کے نام سے کیبل پر آپ کسی بھی وقت دیکھ سکتے ہیں ۔روشن خیالی کی روایات کو مدِ مظر رکھتے ہوئے رات کے آخری پہر ان مجروں میں کپڑوں کی پابندی ختم کر دی جاتی ہے۔
محترم افضل صاحب نے اس خبر کو بڑی گروانا ہے ، کہتے ہیں اس خبر کے چھپنے کے باوجود اگر ملک میں بھونچال نہ آسکا تو وہ سمجھیں گے کہ صرف حکومت ہی نہیں بلکہ عوام بھی ایسی ذلالتوں کے عادی ہوچکے ہیں۔
کیا کریں عوام ؟ کس سے فریاد کریں ؟ کس عدالت میں فریاد کریں ؟
بھونچال کون لائے گا ، جن کے پاس کھانے کو نہیں ؟
بھونچال کون لائے گا ، وہ جو صرف فتویٰ دینا جانتے ہیں
بھونچال کون لائے گا ، جو خود اسٹیج پر بیٹھ کر مجرا دیکھتے ہیں ؟
وہ زمانے لَد گئے جب چیخ و پکار سے بھونچال آیا کرتے تھے۔
ایسے نہیں آنے کا بھونچال ،
جب تک بھوکے ننگے لوگ ( جو تن اور من سے بھی بھوکے ہو چکے ہیں ) سچے دل سے اپنے رب سے معافی اور روشن خیالی کو ٹھوکر نہ ماردیں تب تک بھونچال آنے سے رہا ۔
لکھتا بھی ، تو کیا لکھتا ، ساری سوچیں غائب ہوگئیں ، کبھی جناب افضل صاحب کی تلخ اور تیکھی تحریر کو پڑھتا اور کبھی ناظم میاں محمود کی تہذیب یافتہ انداز میں کھنچوائی تصویر کو دیکھا کیا۔
جناب افضل صاحب بھی بھولے بادشاہ ہیں ، باہر رہ کر وہ اسی پرانے پاکستان کی تصویر کو اپنی آنکھوں میں سجائے بیٹھے ہیں جس کو کبھی وہ چھوڑ کے گئے تھے۔انہیں نہیں پتہ کہ پاکستان اب ترقی پذیر ملکوں کی فہرست سے نکل کر ترقی یافتہ اور روشن خیال ہو چکا ہے۔
سوچتا ہوں کہ اب جب وہ پاکستان آئے تو انہیں اپنے پاس بٹھا کر کیبل دکھاؤں گا جو ہر گھر میں چل رہی ہے۔جس پر روزانہ ننگے مجرے دھڑلے سے دکھائے جاتے ہیں۔دوپہر ہو یا رات کا کوئی پہر ، یہ ننگے مجرے سٹیج شو کے نام سے کیبل پر آپ کسی بھی وقت دیکھ سکتے ہیں ۔روشن خیالی کی روایات کو مدِ مظر رکھتے ہوئے رات کے آخری پہر ان مجروں میں کپڑوں کی پابندی ختم کر دی جاتی ہے۔
محترم افضل صاحب نے اس خبر کو بڑی گروانا ہے ، کہتے ہیں اس خبر کے چھپنے کے باوجود اگر ملک میں بھونچال نہ آسکا تو وہ سمجھیں گے کہ صرف حکومت ہی نہیں بلکہ عوام بھی ایسی ذلالتوں کے عادی ہوچکے ہیں۔
کیا کریں عوام ؟ کس سے فریاد کریں ؟ کس عدالت میں فریاد کریں ؟
بھونچال کون لائے گا ، جن کے پاس کھانے کو نہیں ؟
بھونچال کون لائے گا ، وہ جو صرف فتویٰ دینا جانتے ہیں
بھونچال کون لائے گا ، جو خود اسٹیج پر بیٹھ کر مجرا دیکھتے ہیں ؟
وہ زمانے لَد گئے جب چیخ و پکار سے بھونچال آیا کرتے تھے۔
ایسے نہیں آنے کا بھونچال ،
جب تک بھوکے ننگے لوگ ( جو تن اور من سے بھی بھوکے ہو چکے ہیں ) سچے دل سے اپنے رب سے معافی اور روشن خیالی کو ٹھوکر نہ ماردیں تب تک بھونچال آنے سے رہا ۔
جمعہ، 28 جولائی، 2006
مان کے ہی نہیں رہتے
شیدا ٹلی سے میری ملاقات سعید چائے والے کے ہوٹل میں ہوئی تھی۔بڑا خوش تھا۔پوچھنے پر کہنے لگا۔لگی بھئی لگی، میں بڑا حیران ہوا اور پوچھا، کیا مطلب شیدے ، کچھ پلے نہیں پڑا،کس کو لگی اور کیا لگی ، کہاں کی ہانکے جا رہا شیدے یار۔
وہ جو انٹر نیٹ پر تیری الفاظوں کی مارا ماری ہے نا ،اُس کی بات سوچ رہا تھا کہ سچی بات کی چھبن ضرور ہووے ہے۔
وہ تو ہے یار شیدے ، پر تجھے کیسے پتہ چلا۔
ارے جانی پتہ کیسے نہیں چلے گا تو کیا جانے ہے ارے ساری نظر ہے۔
کس پر؟
ارے جانے دے اور سن ، یہ جو ہووئیں ہیں نا ، یہ تکیہ کرتے ہیں ، تو جتا جی چاہے کہتا رہ ، مان کے ہی نہیں رہتے۔
وہ جو انٹر نیٹ پر تیری الفاظوں کی مارا ماری ہے نا ،اُس کی بات سوچ رہا تھا کہ سچی بات کی چھبن ضرور ہووے ہے۔
وہ تو ہے یار شیدے ، پر تجھے کیسے پتہ چلا۔
ارے جانی پتہ کیسے نہیں چلے گا تو کیا جانے ہے ارے ساری نظر ہے۔
کس پر؟
ارے جانے دے اور سن ، یہ جو ہووئیں ہیں نا ، یہ تکیہ کرتے ہیں ، تو جتا جی چاہے کہتا رہ ، مان کے ہی نہیں رہتے۔
جمعرات، 27 جولائی، 2006
یہودیوں کے ہمنوا
ہمارے باہر کے رہنے والے بہت سے مسلمانوں میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ جو باہر رہ کر اور زیادہ مسلمان ہو جاتے ہیں اور کچھ میں سے زیادہ ایسے ہیں جو اپنے مفاد کی خاطر ، جان و مال اور وہاں رہنے کی خاطر مسلمانی تو کیا سب کچھ بھول کر ان کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔اس کی مثال ہماری اردو کیمونٹی میں دیکھنے کو عام ملتی ہے۔اس کیمونٹی میں سے کرتا دھرتا دو کردار ایسے ہیں جو سرعام یہودیوں کو اچھا بھی کہتے ہیں اور انہیں سپورٹ بھی کرتے ہیں اور روشن خیالی ( جس کو میں جدید دہریت کہتا ہوں ) میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔
ان میں سے ایک کردار آج کل لبنان کی صورتحال کو دیکھ کر بڑھ چڑھ کر اسرائیل کے حق میں چنگھاڑ رہا ہے۔لبنان میں جب بچوں پر گولہ بارود گرتا ہے تو اس کی چنگھاڑ میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔مردوں کو مردہ بنایا جا رہا ہے تو اس کی تحریروں اسرائیل کے حق میں اور مٹھاس شامل ہوتی جارہی ہے۔
آج کی چنگھاڑ میں تو اس کے منہہ سے خون نکلتے بھی دیکھا گیا ہے۔القاعدہ کی ایک خبر پر تو لگا جیسے اس کو دورہ سا پڑ گیا ہو فوراً ہی اس نے ایک تحریر زہر میں بجھی ہوئی اپنے آقا اسرائیل کے حق میں لکھ ماری ہے۔اُس کی اس چنگھاڑ کو دیکھ کر مجھے خاص حیرت کا جھٹکا لگا کیونکہ حزب اللہ ایک شعیہ تنظیم ہے اور اگر ایک شعیہ ہی اُس پر چنگھاڑے تو حیرت کے جھٹکے لگنا ایک فطری عمل ہے۔مگر شاید اس روشن خیال کو بھی ابھی باہر کے ملک رہنا ہے اور باہر والوں کا تو آپ کو پتہ ہی ہے کہ انہیں اپنے مذہب سے زیادہ اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں۔
ان میں سے ایک کردار آج کل لبنان کی صورتحال کو دیکھ کر بڑھ چڑھ کر اسرائیل کے حق میں چنگھاڑ رہا ہے۔لبنان میں جب بچوں پر گولہ بارود گرتا ہے تو اس کی چنگھاڑ میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔مردوں کو مردہ بنایا جا رہا ہے تو اس کی تحریروں اسرائیل کے حق میں اور مٹھاس شامل ہوتی جارہی ہے۔
آج کی چنگھاڑ میں تو اس کے منہہ سے خون نکلتے بھی دیکھا گیا ہے۔القاعدہ کی ایک خبر پر تو لگا جیسے اس کو دورہ سا پڑ گیا ہو فوراً ہی اس نے ایک تحریر زہر میں بجھی ہوئی اپنے آقا اسرائیل کے حق میں لکھ ماری ہے۔اُس کی اس چنگھاڑ کو دیکھ کر مجھے خاص حیرت کا جھٹکا لگا کیونکہ حزب اللہ ایک شعیہ تنظیم ہے اور اگر ایک شعیہ ہی اُس پر چنگھاڑے تو حیرت کے جھٹکے لگنا ایک فطری عمل ہے۔مگر شاید اس روشن خیال کو بھی ابھی باہر کے ملک رہنا ہے اور باہر والوں کا تو آپ کو پتہ ہی ہے کہ انہیں اپنے مذہب سے زیادہ اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں۔
بدھ، 19 جولائی، 2006
میں نے دو کُتے پال لئے
لوگ کہتے تھے شیخو روشن خیال نہیں ہے ، لو جی آخر کار ہم نے بھی اس دنیا میں قدم رکھنے کا ارادہ کر ہی لیا۔اسی سلسلے میں ہم نے جو پہلا قدم اُٹھایا ہے وہ دو عدد کتوں کا پالنا ہے۔چونکہ مغربی ممالک میں کتوں سے سب سے زیادہ محبت کی جاتی ہے اور یہی محبت پچھلے دنوں آپ سب نے بھی دیکھی ہو گی کہ ورلڈ کپ کے دوران کتوں کو یار لوگوں نے اپنے ملک کی ٹیم کی وردیاں تک پہنا دی اور اسے تمام دنیا میں خوب سراہا بھی گیا۔
سوچتا ہوں ہم پاکستانی بھی کتنے دقیانوسی ہیں کہ کتوں جیسی عظیم شخصیات کو ایویں ہی کتا کتا کرتے رہتے ہیں۔اور تو اور ہم نے کتا کہنے کو بھی گالی بنا لیا ہوا ہے ، شرم آنی چاہئے ہمیں ، مغرب والے کیا سوچیں گے ۔
ویسے تو کُتوں کی بہت سی نایاب نسلیں پوری دنیا میں موجود ہیں مگر جو بات پاکستانی کُتوں اور ہندوستانی کُتوں میں ہے اور کسی میں نہیں۔پاکستانی کتوں میں بگہیاڑ اور ڈبو کتے کی نسل کا توجواب ہی نہیں ہے۔یہ وہ نسل ہے جو انسان کو پھاڑ کھاتی ہے ، شاید اس وجہ سے کہ انسان کا انہیں کُتا کہنا پسند نہ آتا ہو۔
میں نے جن دو کُتوں کا انتخاب کیا ہے وہ ہندوستان اور پاکستان میں یکساں پائے جاتے ہیں ان کی نسل کا نام گلیڑ ( گَل یَڑ ) ہے ، جنہیں ہم گلیوں میں پھرنے والے آوارہ کتوں کا نام دیتے ہیں۔یہ گلیڑ نسل بھی بڑی نایاب سی نسلوں میں سے ہے۔جب سے کُتوں کا وجود منظرِعام پر آیا تھا تب سے یہ نایاب نسل ہمارے پاکستان اور ہندوستان میں موجود ہے۔
ہندوستان سے جو گلیڑ کُتا میں نے منگوایا تھا ، اُس کے لانے والے کہتے ہیں کہ اِس گلیڑ کُتے کے خاندان میں واحد کتیا اُس کی ماں ہی تھی جو سب سے زیادہ خوبصورت تھی اور اسی وجہ سے اُس پر بہت سے کُتے فدا بھی تھے اور انہیں فدا ہونے والوں میں سے کسی ڈبو نسل کے کُتے کی یہ واحد اولاد ہے۔اِس کُتے کو لانے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسی وجہ سے اس گلیڑ کُتے کی بچپن سے ہی عادتیں ذرا وکھری ٹائپ کی تھیں۔گلیڑ نسل کا ہوتے ہوئے بھی اسے اپنی نسل کے کتے پسند نہیں آتے تھے۔باہر سے جو بھی کتا آتا تھا چاہے وہ کسی بھی نسل کا ہو یہ اُس کے آگے پیچھے دم ہلاتا نظر آتا تھا۔بچپن سے ہی اسے مندروں سے بھی خاص لگاؤ تھا جس کی وجہ سے اُس کی ماں بھی اس سے تنگ تھی۔کھوج لگانے پر پتہ یہ چلا تھا کہ ایک دفعہ مندر کے پروہتوں نے اُس کی ماں کے ساتھ زیادتی کی تھی جس کی وجہ سے اُس کو اپنے بیٹے کا مندروں میں جانا پسند نہیں تھا۔شائد وہ نہیں چاہتی ہو گی کہ اُس کے بیٹے کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو جو اُس کے ساتھ ہوا۔مگر یہ بھی عجیب کُتا تھا ، مجال ہے جو اپنی ماں کی مانی ہو۔اب یہ پتہ نہیں چل سکا کہ اس کُتے کے ساتھ پروہتوں نے کیا برتاؤ کیا ہو گا۔
جاری ہے۔۔۔
سوچتا ہوں ہم پاکستانی بھی کتنے دقیانوسی ہیں کہ کتوں جیسی عظیم شخصیات کو ایویں ہی کتا کتا کرتے رہتے ہیں۔اور تو اور ہم نے کتا کہنے کو بھی گالی بنا لیا ہوا ہے ، شرم آنی چاہئے ہمیں ، مغرب والے کیا سوچیں گے ۔
ویسے تو کُتوں کی بہت سی نایاب نسلیں پوری دنیا میں موجود ہیں مگر جو بات پاکستانی کُتوں اور ہندوستانی کُتوں میں ہے اور کسی میں نہیں۔پاکستانی کتوں میں بگہیاڑ اور ڈبو کتے کی نسل کا توجواب ہی نہیں ہے۔یہ وہ نسل ہے جو انسان کو پھاڑ کھاتی ہے ، شاید اس وجہ سے کہ انسان کا انہیں کُتا کہنا پسند نہ آتا ہو۔
میں نے جن دو کُتوں کا انتخاب کیا ہے وہ ہندوستان اور پاکستان میں یکساں پائے جاتے ہیں ان کی نسل کا نام گلیڑ ( گَل یَڑ ) ہے ، جنہیں ہم گلیوں میں پھرنے والے آوارہ کتوں کا نام دیتے ہیں۔یہ گلیڑ نسل بھی بڑی نایاب سی نسلوں میں سے ہے۔جب سے کُتوں کا وجود منظرِعام پر آیا تھا تب سے یہ نایاب نسل ہمارے پاکستان اور ہندوستان میں موجود ہے۔
ہندوستان سے جو گلیڑ کُتا میں نے منگوایا تھا ، اُس کے لانے والے کہتے ہیں کہ اِس گلیڑ کُتے کے خاندان میں واحد کتیا اُس کی ماں ہی تھی جو سب سے زیادہ خوبصورت تھی اور اسی وجہ سے اُس پر بہت سے کُتے فدا بھی تھے اور انہیں فدا ہونے والوں میں سے کسی ڈبو نسل کے کُتے کی یہ واحد اولاد ہے۔اِس کُتے کو لانے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسی وجہ سے اس گلیڑ کُتے کی بچپن سے ہی عادتیں ذرا وکھری ٹائپ کی تھیں۔گلیڑ نسل کا ہوتے ہوئے بھی اسے اپنی نسل کے کتے پسند نہیں آتے تھے۔باہر سے جو بھی کتا آتا تھا چاہے وہ کسی بھی نسل کا ہو یہ اُس کے آگے پیچھے دم ہلاتا نظر آتا تھا۔بچپن سے ہی اسے مندروں سے بھی خاص لگاؤ تھا جس کی وجہ سے اُس کی ماں بھی اس سے تنگ تھی۔کھوج لگانے پر پتہ یہ چلا تھا کہ ایک دفعہ مندر کے پروہتوں نے اُس کی ماں کے ساتھ زیادتی کی تھی جس کی وجہ سے اُس کو اپنے بیٹے کا مندروں میں جانا پسند نہیں تھا۔شائد وہ نہیں چاہتی ہو گی کہ اُس کے بیٹے کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو جو اُس کے ساتھ ہوا۔مگر یہ بھی عجیب کُتا تھا ، مجال ہے جو اپنی ماں کی مانی ہو۔اب یہ پتہ نہیں چل سکا کہ اس کُتے کے ساتھ پروہتوں نے کیا برتاؤ کیا ہو گا۔
جاری ہے۔۔۔
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
