گشتی اصل میں فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ۔۔۔ چکر لگانا یا مارا مارا پھرنا کے ہیں۔۔بعد آزاں یہ لفظ اور دوسرے بہت سارے فارسی الفاظ کی طرح اردو میں بھی رائج ہو گیا۔۔۔۔اس کے معنی وہی رہے۔۔
۔۔۔"" گشتی "" لفظ اردو زبان میں ایک عزت والا لفظ ہے جس کے عام معانی یہ ہیں کہ ایک مخصوص جگہ یا علاقے کے گرد چکر لگانا۔۔۔۔۔جیسے گشی پولیس یا گشتی پارٹی ۔۔۔۔جیسا کے گاؤں کے یا شہر کے لوگ بدامنی ، چوروں ڈاکؤں سے بچاؤ کے لئے چار پانچ یا دس پر مشتمل افراد کا ایک جتھا تشکیل دیتے ہیں جو علاقے کی حفاظت پر مامور ہوتا ہے ۔۔۔۔ اسے گشتی پارٹی بھی کہا جاتا ہے۔
تمام محکموں میں یا جگہوں پر ایک ہی مراسلے کو بانٹنے کو گشتی مراسلہ بھی کہا جاتا ہے۔
گشتی لفظ اپنے نام کی وجہ سے مونث ہونےکا تاثر چھوڑتا ہے مگر یہ اسم نکرہ ہے ۔
ہماری پنجابی زبان ذرا وکھری ٹائپ کی ہے۔۔۔ اس کی مثالیں اندر خانے چبھنے کے ساتھ ساتھ سچائی کے اظہار میں بھی کوئی ثانی نہیں رکھتی ۔
پنجابی میں گشتی ایک غلیظ گالی ہے۔مگر اس غلاظت کے باوجود پنجابی گھرانوں کے ساٹھ فیصد سے زائد گھروں میں گشتی لفظ کا استمال کثرت سے کیا جاتا ہے۔
پنجابی میں گشتی اس عورت کو کہتے ہیں جو شریفانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے غلط کاموں میں ملوث ہو ۔۔۔یعنی یوں جانئے کہ گشتی شریفوں کے محلات کی ہی عورتوں میں سے کوئی عورت ہوتی ہے۔۔۔۔
پنجاب خاص کر لاہور میں آپ کو بس اسٹاپ ، سکول سٹاپ ، بازار یا راہ چلتے کبھی بھی کسی گشتی سے پالا پڑ سکتا ہے۔۔۔۔ نقاب کئے ہوئے کالے رنگ کا مخصوص برقعہ ان کی پہچان ہے۔۔۔۔بعض گشتیوں کو چادروں میں بھی دیکھا گیا ہے۔
اسی طرح شریفوں کے محلے کے ایک ہی گھر میں بہت ساری یا چند عورتوں کے اکھٹا ہو کر جسم فروشی کے کاروبار کرنے والی جگہ کو "" گشتی خانہ "" بھی کہا جاتا ہے۔
گشتی کی نسبت کنجری ایک عزت دار خاتون ہوتی ہے۔اس کے قول و فعل میں نہ ہی کوئی تضاد ہوتا ہے اور نہ ہی وہ منافقت سے بھری ہوتی ہے۔کنجری کو سب لوگ کنجری ہی کہتے اور سمجھتے ہیں ۔اسے اپنے پیشے سے دکھ تو ہوتا ہے مگر شرمندگی نہیں ۔۔۔
دوسری جانب اگر ہم گشتی کے قول و فعل اور کردار کا جائزہ لیں تو یہ کنجری سے زیادہ خطرناک ہے ۔۔۔۔۔ یہ اپنے گندے اور عیاش ذہن کی وجہ سے ایک شریف معاشرے کے لئے زہر قاتل ہے ۔۔۔ اس کا ذہن ایک کنجری کی نسبت انتہائی غلیظ ، شاطر اور مکارانہ ہوتا ہے۔یہ کسی بھی وقت اپنے کسی بھی پیارے فرد ۔۔۔۔ ماں ، باپ ، بھائی ، بہن ، خاوند بیٹے یا بیٹی کو دغا دے سکتی ہے۔
hera mandi لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
hera mandi لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
جمعہ، 29 اپریل، 2016
ہفتہ، 22 اگست، 2015
لاہور کی ہیرا منڈی میں چند لمحات
بڑے دنوں سے سوچ رہا تھا کہ رنگ محل جانا ہے اور فلاں فلاں چیز خریدنی ہے ۔آج اتفاق سے میرے پاس دوپہر میں دو تین گھنٹے فارغ تھے ، سوچا چونکہ کل اتوار ہے آج ہی رنگ محل والے کام نبٹا دیتا ہوں ۔۔
رنگ محل سے خرایداری کرنے کے بعد ایویں ہی دل میں خیال آیا کہ ساتھ ہی ہیرا منڈی ہے کیوں نہ آج پرانی یادیں تازہ کی جائیں۔۔ارداہ بنایا پہلے ‘‘ پھجے ، فجے ‘‘ کے پائے کھاؤں گا بعد آزاں ‘‘ آس ‘‘ کا ایک عدد پان کھا کر دل پشوری کروں گا۔۔
پھجے کے پائے تیار نہ ہونے کی صورت میں ، میں بُجھے دل کے ساتھ ‘‘ آس ‘‘ پان والے کی جانب پیدل ہی چل پڑا ۔۔ابھی چند قدم ہی چلا ہوں گا کہ پیچھے سے آواز آئی باؤ جی ذرا گل تے سننا( باؤ جی ذرا بات تو سنیں ) میں ایک دم چونک پڑا کیونکہ مجھے آواز جانی پہچانی سی لگی تھی ۔۔۔۔۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ‘‘ ماجھا دَ لاً ‘‘ ( دلال ) جھکی ہوئی کمر کے ساتھ سڑک کنارے چارپائی پر بیٹھا تھا ۔۔۔۔ میں بڑا حیران ہوا اور پوچھا ۔۔ اوئے ماجھیا تینوں کی ہویا ( ارے ماجھے آپ کو کیا ہوا ) ۔۔۔۔ کہنے لگا باؤ جی تسی وی تے چٹے کر لے جے ( آپ کے بھی تو بال سفید ہو گئے ہیں ) ۔۔۔۔
ماجھے سناؤ اور کیا ہو رہا ہے آج کل ، میں نے پوچھا ۔۔۔ کہنے لگا باؤ جی بس ہونا کیا ہے سب کچھ آپ کے سامنے ہی ہے سب برباد ہوا پڑا ہے ، روٹی پانی بڑی مشکل سے چل رہا ہے۔رات مجرے میں بھی کم ظرف لوگ آتے ہیں ۔۔ویسے بھی باؤ جی وہ بہاریں کہاں ۔۔۔ میں نے ماجھے سے پوچھا کہ بازار میں اتنی خاموشی کیوں ہے ۔ نہ کسی دوکان پر گانوں کی آواز نہ کوئی ہلا گلا اور نہ ہی کوئی گالی گلوچ ۔۔۔ کدھر چلے گئے یہاں کہ سارے دَلًے ( دلال ) اور بدمعاش ۔۔۔۔
کہنے لگا ۔۔۔ باؤ جی جانا کہاں ہے بائیاں سب شرفا کے محلوں میں چلی گئیں ، کچھ دلے ( دلال) سیاستدانوں کے ساتھ ان کے بندہ خاص بن گئے اور جو بدمعاش تھے وہ اب بائیوں کے ساتھ رہ کر شرفاء کہلاتے ہیں ۔۔چھڈو باؤ جی آپ سناؤ کیا ہو رہا ہے آج کل ۔۔۔۔ فیس بک پر تو بڑی شریفوں والی تصویر لگا رکھی ہے ۔۔۔۔۔۔
تمہیں کیسے پتا ہے ماجھے ۔۔۔ میں حیران رہ گیا ۔۔۔۔۔ سب پتا ہے باؤ جی ۔۔۔ مجھے تو یہ بھی پتہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بہت سے نام نہاد شرفاء بڑی گندی اور غلیظ گالیاں نکالتے ہیں ۔۔۔۔۔ چھوڑو ماجھے یہ تو چلتا رہتا ہے اب کسی کی زبان کو کوئی روک تو نہیں سکتا۔۔۔۔
باؤ جی یہ جو گندی اور غلیظ گالیاں اور حرکتیں کرنے والے ہیں نا ۔۔ یہ اپنے ہی بھائی بند ہیں اور انہی کنجریوں کے نطفے ہیں جو شرفاء کے محلوں میں جا کر بس گئی ہیں ۔۔۔۔ میں نے کہا نہیں یار ماجھے ایسا نہیں ہے اور ایسا نہیں کہتے ۔۔۔ بری بات ہے۔۔اچھا چلو چھوڑو پھر بات ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔میں ‘‘ آس ‘‘ پان والے طرف چل پڑا ۔۔۔۔۔۔۔پیچھے سے ماجھے دَلًے کی آواز پھر مجھے آئی باؤ جی مان لو یہ حقیقت ہے ‘‘ یہ انہی کنجریوں کے نطفے ہیں جو شرفاء کے محلوں میں جا کر بس گئی ہیں ‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔
شام ہو چلی ہے مگر اب بھی ماجھے دَلًے کی آواز میرے کانوں میں گونج رہی ہے کہ ‘‘ یہ انہی کنجریوں کے نطفے ہیں جو شرفاء کے محلوں میں جا کر بس گئی ہیں ‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔
رنگ محل سے خرایداری کرنے کے بعد ایویں ہی دل میں خیال آیا کہ ساتھ ہی ہیرا منڈی ہے کیوں نہ آج پرانی یادیں تازہ کی جائیں۔۔ارداہ بنایا پہلے ‘‘ پھجے ، فجے ‘‘ کے پائے کھاؤں گا بعد آزاں ‘‘ آس ‘‘ کا ایک عدد پان کھا کر دل پشوری کروں گا۔۔
پھجے کے پائے تیار نہ ہونے کی صورت میں ، میں بُجھے دل کے ساتھ ‘‘ آس ‘‘ پان والے کی جانب پیدل ہی چل پڑا ۔۔ابھی چند قدم ہی چلا ہوں گا کہ پیچھے سے آواز آئی باؤ جی ذرا گل تے سننا( باؤ جی ذرا بات تو سنیں ) میں ایک دم چونک پڑا کیونکہ مجھے آواز جانی پہچانی سی لگی تھی ۔۔۔۔۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ‘‘ ماجھا دَ لاً ‘‘ ( دلال ) جھکی ہوئی کمر کے ساتھ سڑک کنارے چارپائی پر بیٹھا تھا ۔۔۔۔ میں بڑا حیران ہوا اور پوچھا ۔۔ اوئے ماجھیا تینوں کی ہویا ( ارے ماجھے آپ کو کیا ہوا ) ۔۔۔۔ کہنے لگا باؤ جی تسی وی تے چٹے کر لے جے ( آپ کے بھی تو بال سفید ہو گئے ہیں ) ۔۔۔۔
ماجھے سناؤ اور کیا ہو رہا ہے آج کل ، میں نے پوچھا ۔۔۔ کہنے لگا باؤ جی بس ہونا کیا ہے سب کچھ آپ کے سامنے ہی ہے سب برباد ہوا پڑا ہے ، روٹی پانی بڑی مشکل سے چل رہا ہے۔رات مجرے میں بھی کم ظرف لوگ آتے ہیں ۔۔ویسے بھی باؤ جی وہ بہاریں کہاں ۔۔۔ میں نے ماجھے سے پوچھا کہ بازار میں اتنی خاموشی کیوں ہے ۔ نہ کسی دوکان پر گانوں کی آواز نہ کوئی ہلا گلا اور نہ ہی کوئی گالی گلوچ ۔۔۔ کدھر چلے گئے یہاں کہ سارے دَلًے ( دلال ) اور بدمعاش ۔۔۔۔
کہنے لگا ۔۔۔ باؤ جی جانا کہاں ہے بائیاں سب شرفا کے محلوں میں چلی گئیں ، کچھ دلے ( دلال) سیاستدانوں کے ساتھ ان کے بندہ خاص بن گئے اور جو بدمعاش تھے وہ اب بائیوں کے ساتھ رہ کر شرفاء کہلاتے ہیں ۔۔چھڈو باؤ جی آپ سناؤ کیا ہو رہا ہے آج کل ۔۔۔۔ فیس بک پر تو بڑی شریفوں والی تصویر لگا رکھی ہے ۔۔۔۔۔۔
تمہیں کیسے پتا ہے ماجھے ۔۔۔ میں حیران رہ گیا ۔۔۔۔۔ سب پتا ہے باؤ جی ۔۔۔ مجھے تو یہ بھی پتہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بہت سے نام نہاد شرفاء بڑی گندی اور غلیظ گالیاں نکالتے ہیں ۔۔۔۔۔ چھوڑو ماجھے یہ تو چلتا رہتا ہے اب کسی کی زبان کو کوئی روک تو نہیں سکتا۔۔۔۔
باؤ جی یہ جو گندی اور غلیظ گالیاں اور حرکتیں کرنے والے ہیں نا ۔۔ یہ اپنے ہی بھائی بند ہیں اور انہی کنجریوں کے نطفے ہیں جو شرفاء کے محلوں میں جا کر بس گئی ہیں ۔۔۔۔ میں نے کہا نہیں یار ماجھے ایسا نہیں ہے اور ایسا نہیں کہتے ۔۔۔ بری بات ہے۔۔اچھا چلو چھوڑو پھر بات ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔میں ‘‘ آس ‘‘ پان والے طرف چل پڑا ۔۔۔۔۔۔۔پیچھے سے ماجھے دَلًے کی آواز پھر مجھے آئی باؤ جی مان لو یہ حقیقت ہے ‘‘ یہ انہی کنجریوں کے نطفے ہیں جو شرفاء کے محلوں میں جا کر بس گئی ہیں ‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔
شام ہو چلی ہے مگر اب بھی ماجھے دَلًے کی آواز میرے کانوں میں گونج رہی ہے کہ ‘‘ یہ انہی کنجریوں کے نطفے ہیں جو شرفاء کے محلوں میں جا کر بس گئی ہیں ‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔
جمعرات، 13 فروری، 2014
شورہ ۔۔۔۔ شوربہ نہیں بن سکتا
شورہ پنجابی زبان کا لفظ ہے ۔آپ اس لفظ کو پنجابی کی گالی بھی کہہ سکتے ہیں۔ہمارے لاہوریوں میں یہ گالی کثرت سے نکالی جاتی ہے ۔یعنی اگر کوئی شخص گندہ ، غلیظ ہو یا کہ اس کی عادتیں غلیظ ہوں اس کو عموماً ‘‘ شورہ ‘‘ کہا جاتا ہے۔کچھ لوگ لڑکیوں کے دلال جسے عرف عام میں پنجابی زبان میں ‘‘ دلا ‘‘ بھی کہا جاتا ہے ۔۔ کو بھی شورہ کہتے ہیں ۔۔۔۔
ضروری نہیں کہ دلال کو ہی شورہ کہا جاتا ہے بلکہ ایسے لوگ جو بغل میں چھری منہہ میں رام رام کی مالا جپتے نظر آتے ہیں ۔۔یعنی منافق کو۔۔۔ کو بھی لاہوری ‘‘ شورہ ‘‘ کے لقب سے پکارتے ہیں ۔
ایک آدمی میں بہت سی بری عادتیں جمع ہوں اور اس کی حرکتیں بھی گندی ہوں جو کہ اس کے قول فعل سے ظاہر بھی ہوتی ہوں تو اسے بھی ‘‘ شورہ ‘‘ کہتے ہیں ۔
کچھ ایسے لوگوں کو بھی ‘‘ شورہ ‘‘ کا لقب دیا جاتا ہے جن کو عزت راس نہ آئے ۔۔ یعنی کہ ان کی عزت کی جائے مگر وہ اپنی ہٹ دھرمی پر اڑے رہیں ۔ ۔۔ اس لئے انہیں شورہ کا لقب دیا جاتا ہے اور انہیں جتایا جاتا ہے کہ تم شورے ہی رہو گے شوربے نہیں بن سکتے ۔
اب ‘‘ شورے ‘‘ اور ‘‘ شوربے ‘‘ میں کیا فرق ہے ۔کسی بھی سالن میں پانی میں مرچ مصالحے ڈال شوربہ تیار کیا جاسکتا ہے ۔پتلے اور زیادہ شوربے کے لئے زیادہ پانی اور گاڑھے شوربے کے لئے مصالحہ جات کے ساتھ کم پانی استمال کر کے شوربہ بنایا جاتا ہے۔
اسی طرح ‘‘ شورہ ‘‘ معاشرے کے مصالحہ جات سے پک کر تیار ہوتا ہے ۔اس کی ابیاری اس کے گھر سے ہوتی ہے ۔بعد ازاں اس میں تمام بری عادتیں ڈال کر اس کو پکایا جاتا ہے تب جاکر اسے اس عظیم نام ‘‘ شورہ ‘‘ کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔
اسی طرح پاکستان کے مختلف شہروں میں اپنی اپنی بولی اور مزاج کے حساب سے مختلف الفاظ رائج ہیں ۔ جو کہ اپنے آپ میں معنی خیز ہوتے ہوئے ایک پوری تاریخ رکھتے ہیں ۔اسی طرح لفظ ‘‘ شورے ‘‘ کی بھی اپنی ایک تاریخ ہے ۔کہا جاتا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد تقریباً ١٩٥٠ میں پہلی دفعہ یہ لفظ ‘‘ شاہی محلے ‘‘ میں ‘‘ استاد فیقے ‘‘ نے بولا تھا۔کنجروں کے مستند زرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ استاد فیقے کی معشوقہ ایک دن کوٹھے پر ڈانس کے لئے نہیں آئی تو اس کے دلال کو استاد فیقے نے ‘‘ شورے ‘‘ کے الفاظ سے پکارا تھا ۔۔۔ صحیح الفاظ کے بارے میں کوئی سند تو نہیں مل سکی البتہ تاریخ ( بڑے بوڑھوں کی زبانی تاریخ ) میں جو الفاظ ملتے ہیں وہ کچھ یوں تھے‘‘‘‘‘ اوئے شورے اج ننھی مجرے تے نہی آئی ‘‘‘‘
پیر، 27 جون، 2011
کالے نیلے پیلے اور زرد عاشق
ہمارا زمانہ تھا کہ لڑکیوں کے اسکول اور کالجوں کے باہر جن عاشقوں (عرف عام میں جنہیں آپ بھونڈ بھی کہہ سکتے ہیں) کا جھمگٹا ہوتا تھا وہ خوب بن سنور کر آتے تھے اور اس کے برعکس لڑکیاں بڑی سادہ سی،سلجھی ہوئیں بالکل گاؤ ماتا جیسی ہوتی تھیں۔
اگر کسی لڑکی سے ان میں سے کسی کا آنکھ مٹکا ہوتا تھا تو وہ بڑے سلیقے اور رازداری سے اس کی طرف اپنا محبت بھرا خط تھمادیتا تھا۔جس پر عموما کچھ اس قسم کے الفاظ درج ہوتے تھے کہ شام کو چھت پر یا کھڑکی پر ضرور آنا یا کہ میں تمہیں فون کروں گا۔اتنی سی بات کے لئے اس عاشق یا بھونڈ کو کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا تھا اور فون کرنے کے لئے تو ہزاروں پاپڑ بیلنے پڑتے تھے کیونکہ فوں کبھی لڑکی کا ابا اٹھا لیتا تھا اور کبھی امی ۔۔۔ اور لڑکیاں بھی ایسی شرم حیا والی ہوتی تھیں فون کی گھنٹی سنتے ہی ان کی جان چلی جاتی تھی کہ کہیں ابا یا امی کو پتہ نہ چل جائے۔۔۔
کئی چالاک عاشق یا بھونڈوں کو اپنی بہن یا بھابی کی منتیں کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا تھا کہ باجی یا بھابھی جی صرف ایک بار اسے فون کر کے فون پر بلا دیں میں آپ کا احسان ساری زندگی نہیں بھولوں گا۔
غرض یہ کہ اس وقت کہ عاشق تہذیب یافتہ بھی تھے اور منہہ متھے بھی لگتے تھے اور لڑکیاں بھولی بھالی ،حقیقی خوبصورت اور گاؤ ماتا جسی ہوتی تھیں
آج بہت سالوں بعد مجھے لاہور میں وحدت کالونی کے خواتین کالج جانے کا اتفاق ہوا ۔میری بچی کا آج بی کام کا آخری پیپر تھا اور وہ پیپر صرف ڈیڑھ گھنٹے پر محیط تھا ۔۔سوچا واپس گھر کیا جانا ہے دیڑھ گھنٹہ ہی تو ہے یہاں ہی انتظار کر لیتے ہیں۔۔۔ہو سکتا ہے ذہن میں پرانے جراثیم بھی ہوں جس کی وجہ سے مجھے وہاں ٹھرنے کی تحریک ملی ہو۔
دیکھتا ہوں آج بھی لڑکیوں کے کالج کے باہر ویسے ہی عاشقوں (بھونڈوں) کا جھمگٹا لگا ہوا ہے ۔کئی نیلے کالے سے لڑکے ، اپنے پیلے اور زرد چہرے لئے ہوئے کان سے موبائیل فون لگائے گیٹ سے کبھی ادھر جا رہے ہیں اور کبھی اُدھر ۔۔۔۔اور لڑکیاں جنہوں نے ابھی زمانہ دیکھنا ہے میک اپ کی تہہ میں اپنے چہرے کو سجائے ہوئے بڑے آرام سے گیٹ کے باہر آ کر اپنے اپنے عاشقوں کے ساتھ کھڑی ہو کر بڑے مزے سے خوش گپیوں میں مصروف ہو جاتی ہیں ۔۔انہیں نہ اپنے باپ کی فکر اور عزت کا احساس ہے اور نہ ہی اپنے بھائی کی ۔۔جونہی ان میں سے کسی لڑکی کا باپ یا بھائی انہیں لینے آتا وہ بڑے مزے سے باتیں کرتے کرتے ان کے ساتھ روانہ ہو جاتیں۔
میں اب تک حیران ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ کیا واقع میں ہمارا پاکستان ترقی کر گیا ہے ؟ کیا ترقی ایسی ہوتی ہے اور کیا اب ہمیں ہیرا منڈیوں پر پابندی نہیں لگادینی چاہئے کیونکہ ویسے بھی اب ان کا کوئی فائدہ نہیں رہ گیا
اگر کسی لڑکی سے ان میں سے کسی کا آنکھ مٹکا ہوتا تھا تو وہ بڑے سلیقے اور رازداری سے اس کی طرف اپنا محبت بھرا خط تھمادیتا تھا۔جس پر عموما کچھ اس قسم کے الفاظ درج ہوتے تھے کہ شام کو چھت پر یا کھڑکی پر ضرور آنا یا کہ میں تمہیں فون کروں گا۔اتنی سی بات کے لئے اس عاشق یا بھونڈ کو کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا تھا اور فون کرنے کے لئے تو ہزاروں پاپڑ بیلنے پڑتے تھے کیونکہ فوں کبھی لڑکی کا ابا اٹھا لیتا تھا اور کبھی امی ۔۔۔ اور لڑکیاں بھی ایسی شرم حیا والی ہوتی تھیں فون کی گھنٹی سنتے ہی ان کی جان چلی جاتی تھی کہ کہیں ابا یا امی کو پتہ نہ چل جائے۔۔۔
کئی چالاک عاشق یا بھونڈوں کو اپنی بہن یا بھابی کی منتیں کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا تھا کہ باجی یا بھابھی جی صرف ایک بار اسے فون کر کے فون پر بلا دیں میں آپ کا احسان ساری زندگی نہیں بھولوں گا۔
غرض یہ کہ اس وقت کہ عاشق تہذیب یافتہ بھی تھے اور منہہ متھے بھی لگتے تھے اور لڑکیاں بھولی بھالی ،حقیقی خوبصورت اور گاؤ ماتا جسی ہوتی تھیں
آج بہت سالوں بعد مجھے لاہور میں وحدت کالونی کے خواتین کالج جانے کا اتفاق ہوا ۔میری بچی کا آج بی کام کا آخری پیپر تھا اور وہ پیپر صرف ڈیڑھ گھنٹے پر محیط تھا ۔۔سوچا واپس گھر کیا جانا ہے دیڑھ گھنٹہ ہی تو ہے یہاں ہی انتظار کر لیتے ہیں۔۔۔ہو سکتا ہے ذہن میں پرانے جراثیم بھی ہوں جس کی وجہ سے مجھے وہاں ٹھرنے کی تحریک ملی ہو۔
دیکھتا ہوں آج بھی لڑکیوں کے کالج کے باہر ویسے ہی عاشقوں (بھونڈوں) کا جھمگٹا لگا ہوا ہے ۔کئی نیلے کالے سے لڑکے ، اپنے پیلے اور زرد چہرے لئے ہوئے کان سے موبائیل فون لگائے گیٹ سے کبھی ادھر جا رہے ہیں اور کبھی اُدھر ۔۔۔۔اور لڑکیاں جنہوں نے ابھی زمانہ دیکھنا ہے میک اپ کی تہہ میں اپنے چہرے کو سجائے ہوئے بڑے آرام سے گیٹ کے باہر آ کر اپنے اپنے عاشقوں کے ساتھ کھڑی ہو کر بڑے مزے سے خوش گپیوں میں مصروف ہو جاتی ہیں ۔۔انہیں نہ اپنے باپ کی فکر اور عزت کا احساس ہے اور نہ ہی اپنے بھائی کی ۔۔جونہی ان میں سے کسی لڑکی کا باپ یا بھائی انہیں لینے آتا وہ بڑے مزے سے باتیں کرتے کرتے ان کے ساتھ روانہ ہو جاتیں۔
میں اب تک حیران ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ کیا واقع میں ہمارا پاکستان ترقی کر گیا ہے ؟ کیا ترقی ایسی ہوتی ہے اور کیا اب ہمیں ہیرا منڈیوں پر پابندی نہیں لگادینی چاہئے کیونکہ ویسے بھی اب ان کا کوئی فائدہ نہیں رہ گیا
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
