گالیاں نکالنے سے فرسٹریشن میں کمی آتی ہے اور سکون ملتا ہے ۔۔۔۔ پنجابی کی گالیاں قتل و غارت گری اور طلاق کی نوبت تک لیجا سکتی ہیں ۔۔۔ اس لئے مناسب یہی ہے کہ تہذیب سے اردو میں گالیاں نکال لی جائیں ۔۔۔ اگر پھر بھی خطرہ ہو تو اکیلے میں دل کی بھڑاس نکال سکتے ہیں ۔۔۔( فتاوی زن مرید ، باب 14 ، صفحہ 14 ۔۔)