Pakistan politics party لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Pakistan politics party لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 28 جون، 2018

کیا عمران خان ہنی ٹریپ کا شکار ہوچکے ہیں؟؟ ۔۔ مہتاب عزیز






کیا عمران خان ہنی ٹریپ کا شکار ہوچکے ہیں؟؟

حالات تو اسی جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ تحریک انصاف کے سربراہ اس جال میں پھنس چکے ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ 66 سال کا جہاندیدہ سیاستدان کیا دامِ الفت (honey trap) کا شکار ہو سکتا ہے؟
اس کا جواب ہاں میں ہے، دنیا کے کئی سیاسی اور عسکری رہنماوں کی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ جہیں ڈھلتی یا آخری عمر میں دامِ الفت (honey trap) میں پھنسا کر استعمال کیا گیا۔

خصوصا پاکستانی سیاستدانوں اور فوجی سربراہوں کے ریکارڈ تو اس سلسلے میں بہت خراب ہے۔ یوں تو اس دامِ الفت (honey trap) میں پھنسنے والوں میں پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کا نام بھی لیا جاتا ہے۔ جن کا تعلق پنجاب کے علاقے کرنال سے تھا۔ جنہوں نے 38 سال کی عمر میں دوسری شادی بیگم رعنا سے 1936 میں ہوئی۔ بیگم رعنا کی پیدائش ہندوستان کے علاقے اترکھنڈ میں الموڑہ کے مقام پرایک عیسائی خاندان میں ہوئی اور ان کے والد ڈینیل پنت نے ان کا نام شیلا آئرین پنت رکھا تھا۔ شیلا آئرین پنت نے بعد میں لیاقت علیخان کی محبت میں گرفتار ہو کر اپنا مذہب تبدیل کیا۔ اور شادی کے بعد رعنا لیاقت علی خان بن گئیں۔ پاکستان آرمی نے انہیں پہلی خاتون بریگیڈئر جنرل کا اعزاز دیا۔آپ نے پاکستان کی پہلی خاتون سفیر کے طور نیدرلینڈ، اٹلی اور تیونس میں خدمات سرانجام دیں۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ میں وزیر رہیں۔بعدازاں بھٹو نے انہیں سندھ کی پہلی خاتون گورنر کے طورپر تعنیات کیا۔ بیگم رعنا پاکستان میں خواتین کو گھروں سے نکالنے، آزاد خیالی اور پردے کی مخالفت کی بانی ہیں۔ انہوں نے اپوا کی بنیاد رکھی جس نے پاکستان کی ابتدا سے شرعی قوانین کے نفاذ کی مخالفت کی۔

دامِ الفت (honey trap) کا باقاعدہ شکار ہونے والا پہلا پاکستانی سربراہ گورنر جنرل غلام محمد تھا۔ فالج کا شکار یہ معذور شخص آخری عمر میں ایک جرمن نژاد امریکی خاتون روتھ بورال کی زلف کا اسیر ہوا۔ یہ ایک ایسا سربراہ تھا فالج کی وجہ سے جس کی زبان بھی کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا۔ اور نہ ہی یہ کسی کاغذ پر دستخط کر سکتا تھا۔ اس کے بیانات اورہر طرح کے احکامات پر دستخط اس کی امریکی سیکریٹری ہی جاری کرتی تھی۔ اس حالت میں اس نے امریکیوں کو پہلی بار پاکستان میں مداخلت کا موقعہ دیا۔ اور پشاور کے نزدیک بڈبھیر کا ہوائی اڈا امریکیوں کو دیا۔ اسی نے اسمبلیاں توڑ کر غلط رسم کا آگاز کیا، امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر محمد علی بوگرا کو اچانک وزیر اعظم مقرر کر کے پورے ملک کو حیران کر دیا۔ یہی دور تھا جب پاکستان امریکی کالونی بنا۔

امریکی میں تعنات پاکستانی سفیر کو اچانک پاکستان کا تیسرا وزیراعظم محمد علی بوگرہ بنائے گئے تھے۔ جن کے دور میں پاکستان میں امریکیوں کو خصوصی مراعات حاصل ہوئیں۔ بوگرا صاحب بھی امریکی میں تعناےی کے دوران دامِ الفت کا شکار ہوئے۔ انکی دوسری بیوی عالیہ سدی لبنانی نژاد امریکی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔

پاکستان کے ایک اور وزیراعظم حسین شہید سہروردی بھی دام الفت کا شکار ہوئے۔ اُن کی دوسری اہلیہ کا تعلق روس سے تھا۔ وہ ماسکو آرٹ تھیٹر سے وابستہ ایک روسی اداکارہ تھیں۔ ان کا نام ویرا الیگزینڈرونا کالڈر تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ حسین شہید سہروردی کا پاکستان میں جاری روس امریکہ کشمکش کے دوران جھکاو روس کی جانب تھا۔

پاکستان کے ساتویں وزیر اعظم ملک فیروز خان نون کی اہلیہ بیگم وقار النسا نون کا تعلق اسٹریا سے تھا۔ ان کا پیدائشی نام وکٹوریہ ریکھی تھا۔ ملک فیروز خان نون جب برطانیہ میں حکومت ہند کے ہائی کمشنر تھے تب ان کی ملاقات وکٹوریہ سے ہوئی۔ جس کے بعد دونوں کی محبت کا آغاز ہوا جو شادی پر منتہج ہوئی۔ بعد ازاں وکٹوریہ اپنا مذہب اور نام ترک کر کے بیگم وقار النسا نون ہوگئیں۔ یہ خواتین کی آزاد خیالی کی حامی اولین تنظیم اپواء کے بانیوں میں شامل تھیں۔ پاکستان میں تعلیم کو سیکولر خطوط پر ڈھالنے میں ان کا اہم کردار ہے۔

ہنی ٹریپ کا دوسرا شکار پاکستان کا آخری گورنر جنرل اور پہلا صدر سکندر مرزا تھا۔ جسے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ معروف غدار میر جعفر کا پڑپوتا تھا۔ اس کی دوسری اہلیہ ناہید افغامی سے محبت اور شادی کو باقاعدہ ایرانی انٹیلیجنس کا کارنامہ قرار دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اُس وقت کی ایرانی انٹیلیجنس امریکی سی آئی اے کا ایک ذیلی ادارہ سمجھی جاتی تھی۔ نائید افغامی پاکستان میں ایران کے ملٹری اتاشی کی بیوی کی حیثیت سے پاکستان آئیں۔ ایران کے ڈیفنس اتاشی کی اہلیہ کی حیثیت سے اُن کی ملاقات اُس وقت کےڈیفنس سیکرٹری میجر جنرل سکندر مرزا سے ہوئی۔ ملاقاتیں محبت میں بدل گئیں۔ پھر نائید نے اپنے ایرانی شوہر سے طلاق حاصل کر کے اسکندر مرزا سے شادی کر لی۔ میجر جنرل سکندر مرزا کے چور دروازے سے اقتدار میں آنے کے بعد نائید ملک کے سیاہ اور سفید کی مالک بن گئیں۔ اس دور میں ایران اور امریکہ کے مفاد میں ہونے والے اقدامات کی تفصیل کے لیے ایک پوری کتاب درکار ہے۔

پاکستان کے دوسرے فوجی آمر آغا محمد یحیٰ خان کا کردار اتنا گھنونہ ہے کہ اُس پر بات کرت ہوئے گھن آتی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یحیٰ خان کی داشتہ اقلیم اختر المعروف جنرل رانی بھی غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ایجنٹ تھی۔

ایرانی انٹیلیجنس کا دوسرا کارنامہ ذولفقار علی بھٹو کو دام الفت میں گرفتار کرنا قرار دیا جاتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی دوسری اہلیہ بیگم نصرت اصفحانی کا تعلق ایران کے شہر اصفحان سے تھا۔ وہ گریجویشن کے بعد پاکستان آئیں، جہاں کراچی میں اُن کی ملاقات بھٹو سے کرائی گئی۔ جو پہلے محبت اور پھر شادی کا باعث بنی۔ ذولفقار علی بھٹو کے کئی اقدامات کے پیچھے نصرت بھٹو کی وساطت سے ایرانی اثرات کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے ذولفقار علی بھٹو کی اقتدار سے برطرفی کے بعد میں سزائے موت کے بعد ان کا خاندان افغانستان اور پھر شام منتقل ہوا۔ دونوں ممالک اُس وقت ایران کے زیر اثر تھے۔ خاندان کے باقی افراد بعد ازاں مغربی ممالک چلے گئے لیکن دہشت گردی کی متعدد وارداتوں میں پاکستان کو مطلوب میر مرتضیٰ بھٹو شام میں ہی مقیم رہے۔ جن کی اہلیہ غنویٰ بھٹو کا تعلق بھی شام سے ہے۔

پیر، 14 جنوری، 2008

الیکشن ٢٠٠٨ کا ایک تجزیہ

میرا یہ مضمون آپ اردو نیوز پر بھی پڑھ سکتے ہیں

جب الیکشن ٢٠٠٨ کی بازگشت شروع ہوئی تھی تو ساتھ ہی میاں نواز شریف کی آمد کا بگل بھی بجنا شروع ہو گیا تھا۔سیاسی تجزیہ نگاروں کا یہ ماننا تھا کہ بے نظیر تو پاکستان میں امریکہ کہ آشیرباد سے آسکتی ہیں مگر نواز شریف کا آنا نا ممکن دکھائی دیتا ہے۔قصہ مختصر کہ دنیا نے دیکھا کہ بے نظیر بھی پاکستان آئیں اور حکومت پاکستان کو نواز شریف کی آمد کا غم بھی سہنا پڑا۔میاں نواز شریف کی وطن واپسی سے قاف لیگ کو جتنا بڑا دھچکا لگا شاید وہ بے نظیر کی آمد کا عشرِ عشیر بھی نہیں تھا۔

اب جبکہ پاکستان کے اقتدار کی جنگ میں محترمہ بے نظیر بھٹو اپنی جان کی بازی ہار چکی ہیں تو میدان میاں نواز شریف کے لئے بالکل خالی ہوچکا ہے۔قاف لیگ کو عوام میں پہلے بھی اتنی پزیرائی حاصل نہیں تھی جو کہ ان دونوں بڑی پارٹیوں ( پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ نون ) کے مقابلے میں کوئی قابل ذکر کارکردگی دکھا پاتی مگر اب بے نظیر کی المناک موت کے بعد تو قاف لیگ صرف نام کی جماعتوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔

اگر ہم صرف پنجاب کے حوالے سے ہی الیکشن ٢٠٠٨ کی صورتحال کا جائزہ لیں تو ١٨ فروری کو ہونے والے انتخابات میں پنجاب میں کل اہل ووٹروں کی تعداد ٤ کروڑ ٤٦ ہزار ہے ، ضلع لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد میں سیاسی صورتحال بظاہر نون لیگ کے حق میں دکھائی دیتی ہے، گجرات، رحیم یار خان اور بعض دیگر اضلاع قاف لیگ کے مضبوط قلعے ہیں۔



پنجاب میں عام انتخابات ٢٠٠٨ء میں اس مرتبہ صورتحال نہایت دلچسپ رہیگی، ضلع لاہور میں سیاسی صورتحال واضح طور پر (ن) لیگ کے حق میں نظر آرہی ہے، اسی طرح راولپنڈی اور فیصل آباد میں بھی بظاہر (ن) لیگ مضبوط دکھائی دیتی ہے، تاہم گجرات، رحیم یار خان اور بعض دیگر اضلاع میں (ق) لیگ کی پوزیشن انتہائی مستحکم ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پہلے نمبر پر صوبہ پنجاب میں جہاں مجموعی طور پر 4 کروڑ 46 ہزار 914 ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سب سے کم 4 لاکھ 37 ہزار 4 سو 34 مرد اور خواتین ووٹر اپنا ووٹ کا حق استعمال کریں گے۔ضلع اٹک میں 461032 مرد اور 3 لاکھ 94 ہزار 9 سو 9 خواتین اپنا ووٹ کاسٹ کریں گے۔ ضلع بہاولپنگر میں 747178 مرد حضرات 617973 خواتین، ضلع خوشاب میں 299426 مرد، 257371 خواتین، ضلع گجرات جو کہ (ق) لیگ کے سرکردہ رہنماؤں کا گڑھ کہلاتا ہے چھ لاکھ 85 ہزار 9 سو 65 مرد، 603228 خواتین ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گی۔ ضلع بھکر میں 31278 مرد حضرات، 253267 خواتین ووٹرز ہین۔ یہاں شاہانی گروپ کے امیدوار عروج پر ہیں۔ ضلع ڈیرہ غازی خان میں (ن) لیگ کے امیدواروں کا گراف دن بدن بڑھ رہا ہے۔ یہاں پر مرد ووٹروں کی تعداد 626101 اور 480849 خواتین ووٹرز ہیں۔ ضلع فیصل آباد میں پی پی پی اور (ن) لیگ کے امیدواروں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہو گی۔یہاں مرد ووٹروں کی تعداد 1636649 اور 1311049 خواتین ووٹرز میں یہ پنجاب میں دوسرے نمبر پر ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں بھی دوسرے نمبر پر اتنی بڑی تعداد میں ووٹ ہیں جبکہ ملک بھر میں ضلع لاہور پہلے نمبر پر ہے جس میں مرد ووٹروں کی تعداد 20 لاکھ 42 ہزار 4 سو 82، خواتین 1631638 رائے دہی کیلئے اپنا حق استعمال کریں گی۔ ضلع لاہور سیاست کے اعتبار سے مسلم لیگ (ن) کا قلعہ ہے اور یہاں بھی (ق) لیگ کی دال گلتی نظر نہیں آرہی۔ اسی طرح دیگر اضلاع جن میں خانیوال مرد 572197 اور خواتین 457522 ضع قصور میں 722771 مرد اور 551886 خواتین، ضلع گوجرانوالہ جہاں ہمیشہ برادری ازم کو فوقیت حاصل رہی ہے میں مرد ووٹرز کی تعداد 133072 اور خواتین 1101947 ہیں۔ ضلع حافظ آباد میں 228873 مرد اور 173909 خواتین ووٹرز ہیں۔ ضلع جھنگ جو کہ ایک کالعدم مذہبی تنظیم کا گڑھ سمجھا جاتا ہے میں مرد ووٹرز کی تعداد 103345 اور خواتین کی 858753 ہے۔ اسی طرح دیگر اضلاع کی تعداد درج ذیل ہے۔ ضلع جہلم مرد حضرات 191771، خواتین 357277، ضلع لیہ مرد 320559 خواتین 238002، ضلع لودھراں ، مرد 307536، خواتین اور خواتین 225177، ضلع منڈی بہاؤ الدین میں 370528 مرد اور 278521 خواتین، ضلع میانوالی 348786 مرد اور خواتین 289180، ضلع ملتان 1206049 مرد اور خواتین 1002299، ضلع مظفر گڑھ میں مرد اہل ووٹروں کی تعداد 778637، خواتین 559666، ضلع ننکانہ میں مرد 364884 اور 286070 خواتین، ضلع نارووال میں 3565641 مرد اور 286072 خواتین، ضلع اوکاڑہ میں 804629 مرد اور 693515 خواتین، ضلع پاکپتن میں 3581442 مرد اور 297288 خواتین اہل ووٹر ہیں۔ ضلع رحیم یار خان میں مرد ووٹرز 1188090 اور خواتین 967464، ضلع راجن پور میں مرد 347217 اور خواتین 230476 اہل ووٹرز ہیں۔ ضلع راولپنڈی جہاں پر اس دفعہ فرزند راولپنڈی شیخ رشید کو دونوں حلقوں میں جاوید ہاشمی اور محمد حنیف عباسی جیسے مضبوط امیدواروں کا سامنا ہے۔ یہاں پر اہل مرد ووٹرز کی تعداد 1271509 اور 1137849 خواتین ووٹرز ہیں۔ ضلع ساہیوال بودلہ اور کاٹھیاں خاندانوں کا روائتی اکھاڑہ رہا ہے یہاں پر اہل رائے دہند گان مردوں کی تعداد 526909 اور خواتین 426251 ہیں۔ ضلع سرگودھا میں 1055628 اور خواتین 884451، ضلع شیخو پورہ میں 522932 مرد، 385144 خواتین ووٹرز ہیں۔ سیالکوٹ 814130 مرد اور 669993 لیڈیز ووٹرز ہیں۔ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مرد ووٹر حضرات 48714 اور خواتین 404518 اہل ہیں جبکہ ضلع وہاڑی میں مرد اہل رائے دھند گان کی تعداد 714447 اور خواتین کی 610418 موجود ہیں۔ پورے صوبہ پنجاب میں حلقہ این اے 53 راولپنڈی جہاں دونوں سابق وزراء پنجہ آزما ہیں ان میں (ن) لیگ کے چوہدری نثار علی خان اور (ق) لیگ کے غلام سرور خان آمنے سامنے ہیں جبکہ این اے 55,56 سے شیخ رشید احمد اور (ن) لیگ کے جاوید ہاشمی اور حنیف عباسی، این اے 72 میانوالی سے ڈاکٹر شیر افگن، این اے 69 سے خوشاب 14 سے سمیرا ملک سابق وزیر امور خواتین و امور نوجوانان، این اے 1269 نارووال سے محمد نصیر خان، سابق وزیر صحت اپنی قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ 2002ء میں ہونے والے الیکشن میں ٹرن اوور 35-6 فیصد تھا اور موجودہ ملکی صورتحال میں ٹرن اوور 25 یا 30 فیصد سے زائد نہیں ہو گا۔قیاس یہی ہے کہ صوبہ پنجاب میں (ن) لیگ اپنے قائد نواز شریف کی واپسی کی بدولت کلین سویپ کر جائیگی۔ اب یہ وقت ہی بتائے گا کہ آئیندہ پاکستان کے اقتدار کی مسند پر کون بیٹھے گا؟