پی آئی اے کی نا اہلی اور ٹی وی میڈیا کی لاشوں پر کمائی
پاک میڈیا و اخبارات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
پاک میڈیا و اخبارات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
جمعرات، 8 دسمبر، 2016
اتوار، 6 نومبر، 2016
قبرستان میں ہیرا منڈی ( چکلہ ) ۔۔ پہلا حصہ ۔۔۔
شہر خموشاں میں کوئی جن بھوت نہیں ہوتے یہ سب فرضی باتیں ہیں ۔۔۔۔مردے بھلا کسی کو کیا کہہ سکتے ہیں انہیں تو اپنے حساب کی فکر پڑی رہتی ہے ۔۔۔۔۔ہاں زندہ انسانوں نے وہاں چکلے ضرور کھول لئے ہیں ۔۔۔ کیونکہ وہاں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔۔۔۔ نہ جن بھوت ۔۔۔ نہ مردے اور نہ ہی مردہ دل حکمران ۔۔۔۔
آج ویڈیو بلاگ کا اس سلسلہ میں پہلا حصہ پیش کیا جارہا ہے جلد ہی کل یا پرسوں اس کا دوسرا حصہ پیش کیا جائے گا۔۔۔۔ دیکھنا نہ بھولئے گا ۔۔۔ پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی
آج ویڈیو بلاگ کا اس سلسلہ میں پہلا حصہ پیش کیا جارہا ہے جلد ہی کل یا پرسوں اس کا دوسرا حصہ پیش کیا جائے گا۔۔۔۔ دیکھنا نہ بھولئے گا ۔۔۔ پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی
جمعرات، 27 اکتوبر، 2016
اتوار، 14 اگست، 2016
پیر، 11 جولائی، 2016
بدھ، 8 جون، 2016
پیر، 23 مئی، 2016
ہفتہ، 23 اپریل، 2016
جمعرات، 14 اپریل، 2016
مخصوص ایام جنسی خواہش کو کم نہیں کرتے ؟
مخصوص ایام جنسی خواہش کو کم نہیں کرتے ؟
کچھ روز پیشتر لاہور کی بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی میں لڑکیوں نے مخصوص ایام ( ماہواری ) کے ساتھ خواتین سے وابستہ شرمندگی کے احساس اور تصورات کے خلاف احتجاج کیا۔جس میں انہوں نے اپنی یونیورسٹی کی دیوار مہربانی پر خواتین کے مخصوص ایام ( ماہواری ) پیریڈ میں استعمال ہونے والے پیڈز بڑی تعداد میں یونیورسٹی کی دیوار مہربانی پر لگا دیئے اور ان کے اوپر خوشنما انداز میں یہ فقرے لکھ دئے کہ ۔۔۔۔۔۔
ماہواری کا ۔۔۔۔۔ ”خون گندہ نہیں ہوتا“ ۔۔۔
ہمارے مخصوص ایام ہماری جنسی خواہش کوکم نہیں کرتے، بلکہ بڑھاتے ہیں
اگر مرد کھلے عام کنڈوم خرید سکتا ہے تو میں پیڈ کیوں نہیں خرید سکتی؟
ہمارے سیکس آرگنز سے متعلق مسائل کو اتنا پیچیدہ اور پوشیدہ کیوں کر دیا گیا ہے ؟
پیریڈز کو اتنا برا کیوں سمجھا جاتا ہے ؟
جب ہر گھر میں ماں، بہن، بیوی، بیٹی موجود ہے تو کیا انکو یہ مسائل نہیں ہوتے ؟
ہمیں اک چھوئی موئی، اچھوت اور چھپنے کے قابل مخلوق ہی کیوں بنا دیا گیا ہے ؟
جبکہ یہ قدرتی عمل ہے پھر ہم کو کیوں محسوس کروایا جاتا ہے اس بات پر شرمندہ بھی ہونا ہے ؟
اگر ایک بیٹی کو پہلی بار پیریڈ ہوں تو وہ بے چاری ڈر کے مارے کونوں میں چھپتی پھرتی ہے
اس کو گناہ یا بے شرمی کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔
جب ہر طرف مردانہ کمزوری کے اشتہارات نظر آتے ہیں تو پھر عورتوں کے مسائل پر بات تک کیوں نہیں ہو سکتی ؟
ہمیں اس کو ایک نارمل چیز ماننا ہوگا اور اس پر اپنے بچوں کو کھل کر تعلیم دینی ہوگی۔
سب سے پہلی بات کہ ۔۔۔۔۔فرض کریں اگر کسی لڑکی کا دل کرتا ہے کہ وہ ماہواری پر بات کرے اور اس بارے لوگوں کو آگاہی دے تو اسے بالکل دینی چاہئے ۔۔۔۔۔ اب ہونا یہ چاہئے تھا کہ وہ اپنا ماہواری والا پیڈ ، کپڑا ، ٹشو پیپر بغیر دھوئے انڈروئیر سمیت یونیورسٹی کی دیوار مہربانی پر لٹکا کر اس بارے آگاہی دیتیں۔۔۔۔۔۔۔مگر دیکھئے کیسا تضاد ہے کہ گندگی اور بدبو کے خوف سے انہوں نے ان کپڑوں اور اپنی پیٹھ کو مصنوعی لال رنگ سے رنگ و رنگ کیا اور تصویر کھنچوا کر سرخرو ہو گئیں ۔۔۔۔اگر یہی وہ کسی سہیلی کا ماہواری کے خون سے لتھڑا روئی کا گولہ یا کپڑا چوم چوم کر لوگوں کو آگاہی دیتیں تو عام خواتین کی سمجھ میں ان کی بات بھی آتی ۔۔
بیکن ہاؤس یونیورسٹی کی لڑکیاں بالیاں کہتی ہیں کہ ماہواری کا ‘‘ خون گندا نہیں ہوتا ‘‘ ۔۔۔۔۔۔ اچھی بات ہے ۔۔۔ تو پی لو نہ اس خون کو ۔۔۔ کس نے روکا ہے ۔۔۔۔ کوئی فتوی لگائے تو تب بھی لعنت بھیج کر پی لو ۔۔۔۔
میں تو بار بار یہ کہتا ہوں کہ علم تہذیب نہیں سکھاتا بلکہ تہذیب ماں باپ ، گھر کا ماحول اور بعد آزاں معاشرہ سکھاتا ہے ۔۔۔۔ رہی بات جنسی تعلیم کی تو اس کی بھی ایک حد ہے اور اس کو سکھانے کا طریقہ بھی تہذیبانہ ہے ۔۔۔۔۔ جنسی تعلیم میں یہ نہیں ہوتا کہ میاں بیوی کے ذاتی تعلقات کا طریقہ سمجھاتے ہوئے اسے عملی کر کے بھی دکھایا جائے ۔۔۔۔ یعنی ‘‘ جدید معاشرے ‘‘ میں ایک مرد استاد ایک شاگرد لڑکی کو جنسی تعلیم کا لیکچر دے گا تو اسے عملی طریقے سے نہیں سمجھائے گا بلکہ تہذیب یافتہ انداز میں سمجھائے گا ۔۔۔۔۔۔
اصل میں ہمارے معاشرے کی جدید لڑکیاں بذات خود ننگا ہونا چاہتی ہیں ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ ہم سڑکوں پر ‘‘ الف ننگا ‘‘ پھریں ۔۔۔ اور ہمیں چھیڑے بھی کوئی نا ۔۔۔۔۔ ایسا بھلا کیسے ممکن ہے ۔۔۔۔۔ ننگے پن کو دیکھ کر تو جانور بھی بپھر جاتے ہیں ۔۔۔۔ سڑکوں پر چلنے پھرنے والے تو پھر انسان ہیں ۔۔۔۔ وہ کیسے برداشت کریں گے ۔
حیرت مجھے اس بات پر بھی ہے کہ دیکھو ۔۔۔۔ لڑکیوں نے ایشو بھی کونسا اُٹھایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ہاہہہہہہہ گندیاں ۔۔۔۔ آخ تھو ۔۔۔ او بندہ پوچھے یار جسم کے کسی اور جگہ کا ایشو بنا لو ۔۔۔۔دسو یار ۔۔۔ ماہواری کے خون کا ایشو ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ذرا سونگھ کر تو دیکھو اپنا ماہواری کا خون ۔۔۔۔ سہیلی کا خون سونگھنا تو بعد کی بات ہے ۔۔۔۔۔۔
اگر محبت کرنے والے کے پاس بیٹھے ہوئے پیٹھ میں سے گندی ہوا خارج کر دو نا تو اسے تمہاری ساری خوبصورتی بھول جائے گی ۔۔۔اگر وہ کچھ کھا رہا ہو گا تو اسے الٹیاں شروع ہوجائیں گی ۔۔۔
پہلے تو اس پر مکالمہ کیا جائے کہ عشق کرنے والے جوڑے ایک دوسرے کے سامنے گندے بدبودار ‘‘ پاد ‘‘ ہوا خارج کر سکتے ہیں یا نہیں اور اگر کر سکتے ہیں تو آیا ہوا خارج کرتے ہی پیٹھ کے ساتھ منہہ لگانے سے جذبات کی شدت اور سیکس میں کتنا اضافہ ممکن ہے
-------------------------------------------
ہمارے ایک بہت محترم بلاگر جناب سلیم شانتو صاحب نے مخصوص ایام ( ماہواری ) کے حوالے سے کچھ تحقیقی مواد جمع کیا ہے ۔۔۔ جو میں اسی اپنی تحریر کے نیچے جوں کا توں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں ۔۔۔ تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت آنے والی نسلوں کے کام آوے
-------------------------------------------
(5:25 AM - 29 Sep 2014)
کو ایک بدیشی خاتونہ (پروفائل سے اس کے علاوہ کچھ پتہ نہیں چل پا رہا کہ یہ بس کسی لبرل کی بہن ہے) نے عورتوں کی آبرو ریزی پر مردوں کی عدم دلچسپی اور بیزار رویئے کو عورتوں کی ماہواری سے جوڑ کر ایک ٹویٹ کیا جسے ہزاروں بار پڑھا اور پسند کیا گیا۔
(imagine if men were as disgusted with rape as they are with periods)
مارچ 2015 میں ایلن نامی ایک جرمن خاتون بلاگر نے اس ٹویٹ سے متاثر ہو کر اپنے ماہواری پیڈز پر کچھ تنبیہی، کچھ آگاہی اور بیشتربولڈ اور غیر مہذب پیغامات لکھے اور اپنے شہر
(Karlsruhe)
کے سارے در و دیوار پر چپکا دیئے۔ تاہم اس کی یہ حرکت قابل دست اندازی قانون ٹھہری اور اسے عدالت کا سامنا کرنا پڑا۔
عالمی اخبارات میں اس خبر کی پذیرائی کے بعد اسی ہفتے دہلی کی "جامعہ ملیہ اسلامیہ" کی طالبات نے ایلن کی اس انفرادی حرکت کو باقاعدہ تحریک کے طور پر اپنایا اور اپنی جامعہ میں اور جامعہ سے باہر دہلی مین راتوں رات نسوانی پیڈز پر عبارات لکھ کر جگہ جگہ پبلک مقامات پر لگا دیئے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طالبات سے شہ پا کر کولکتہ کی جامعہ
(Kolkata’s Jadavpur University)
کی طالبات نے بھی اپنی جامعہ کی در و دیوار کو اپنے پیڈز پر اپنے دلی جذبات لکھ لکھ کر خوب سجایا۔
اس کے بعد بھی یہ سلسلہ دراز رہا تاہم "با جماعت" ایلن کی اس سنت کے احیاء کیلئے اس ہفتے پاکستان کے زندہ دلان لاہور کی کچھ کاکیوں نے ایلن کی اس سنت کی عملی ادائیگی کا عملی اہتمام کیا۔
سبب بننے والا ٹویٹ یہاں دیکھیں:
https://twitter.com/cutequeer96/status/516564388606521346
جرمنی کی ایلن کا تذکرہ یہاں دیکھیں:
http://www.buzzfeed.com/…/a-woman-is-writing-feminist-messa
دہلی کی خواتین کا کمال یہاں دیکھیں:
http://www.indiatimes.com/…/sanitary-pads-with-pro-women-me
کولکتہ کی جامعہ کی طالبات کے بیانات پیڈز پر لکھے ہوئے یہاں دیکھیں:
http://indianexpress.com/…/sanitary-pad-protest-spreads-to…/
لاہور کی کاکیوں کے کمالات یہاں دیکھیں
http://snaji.com/2016/04/14/mahwari/
کچھ روز پیشتر لاہور کی بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی میں لڑکیوں نے مخصوص ایام ( ماہواری ) کے ساتھ خواتین سے وابستہ شرمندگی کے احساس اور تصورات کے خلاف احتجاج کیا۔جس میں انہوں نے اپنی یونیورسٹی کی دیوار مہربانی پر خواتین کے مخصوص ایام ( ماہواری ) پیریڈ میں استعمال ہونے والے پیڈز بڑی تعداد میں یونیورسٹی کی دیوار مہربانی پر لگا دیئے اور ان کے اوپر خوشنما انداز میں یہ فقرے لکھ دئے کہ ۔۔۔۔۔۔
ماہواری کا ۔۔۔۔۔ ”خون گندہ نہیں ہوتا“ ۔۔۔
ہمارے مخصوص ایام ہماری جنسی خواہش کوکم نہیں کرتے، بلکہ بڑھاتے ہیں
اگر مرد کھلے عام کنڈوم خرید سکتا ہے تو میں پیڈ کیوں نہیں خرید سکتی؟
ہمارے سیکس آرگنز سے متعلق مسائل کو اتنا پیچیدہ اور پوشیدہ کیوں کر دیا گیا ہے ؟
پیریڈز کو اتنا برا کیوں سمجھا جاتا ہے ؟
جب ہر گھر میں ماں، بہن، بیوی، بیٹی موجود ہے تو کیا انکو یہ مسائل نہیں ہوتے ؟
ہمیں اک چھوئی موئی، اچھوت اور چھپنے کے قابل مخلوق ہی کیوں بنا دیا گیا ہے ؟
جبکہ یہ قدرتی عمل ہے پھر ہم کو کیوں محسوس کروایا جاتا ہے اس بات پر شرمندہ بھی ہونا ہے ؟
اگر ایک بیٹی کو پہلی بار پیریڈ ہوں تو وہ بے چاری ڈر کے مارے کونوں میں چھپتی پھرتی ہے
اس کو گناہ یا بے شرمی کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔
جب ہر طرف مردانہ کمزوری کے اشتہارات نظر آتے ہیں تو پھر عورتوں کے مسائل پر بات تک کیوں نہیں ہو سکتی ؟
ہمیں اس کو ایک نارمل چیز ماننا ہوگا اور اس پر اپنے بچوں کو کھل کر تعلیم دینی ہوگی۔
سب سے پہلی بات کہ ۔۔۔۔۔فرض کریں اگر کسی لڑکی کا دل کرتا ہے کہ وہ ماہواری پر بات کرے اور اس بارے لوگوں کو آگاہی دے تو اسے بالکل دینی چاہئے ۔۔۔۔۔ اب ہونا یہ چاہئے تھا کہ وہ اپنا ماہواری والا پیڈ ، کپڑا ، ٹشو پیپر بغیر دھوئے انڈروئیر سمیت یونیورسٹی کی دیوار مہربانی پر لٹکا کر اس بارے آگاہی دیتیں۔۔۔۔۔۔۔مگر دیکھئے کیسا تضاد ہے کہ گندگی اور بدبو کے خوف سے انہوں نے ان کپڑوں اور اپنی پیٹھ کو مصنوعی لال رنگ سے رنگ و رنگ کیا اور تصویر کھنچوا کر سرخرو ہو گئیں ۔۔۔۔اگر یہی وہ کسی سہیلی کا ماہواری کے خون سے لتھڑا روئی کا گولہ یا کپڑا چوم چوم کر لوگوں کو آگاہی دیتیں تو عام خواتین کی سمجھ میں ان کی بات بھی آتی ۔۔
بیکن ہاؤس یونیورسٹی کی لڑکیاں بالیاں کہتی ہیں کہ ماہواری کا ‘‘ خون گندا نہیں ہوتا ‘‘ ۔۔۔۔۔۔ اچھی بات ہے ۔۔۔ تو پی لو نہ اس خون کو ۔۔۔ کس نے روکا ہے ۔۔۔۔ کوئی فتوی لگائے تو تب بھی لعنت بھیج کر پی لو ۔۔۔۔
میں تو بار بار یہ کہتا ہوں کہ علم تہذیب نہیں سکھاتا بلکہ تہذیب ماں باپ ، گھر کا ماحول اور بعد آزاں معاشرہ سکھاتا ہے ۔۔۔۔ رہی بات جنسی تعلیم کی تو اس کی بھی ایک حد ہے اور اس کو سکھانے کا طریقہ بھی تہذیبانہ ہے ۔۔۔۔۔ جنسی تعلیم میں یہ نہیں ہوتا کہ میاں بیوی کے ذاتی تعلقات کا طریقہ سمجھاتے ہوئے اسے عملی کر کے بھی دکھایا جائے ۔۔۔۔ یعنی ‘‘ جدید معاشرے ‘‘ میں ایک مرد استاد ایک شاگرد لڑکی کو جنسی تعلیم کا لیکچر دے گا تو اسے عملی طریقے سے نہیں سمجھائے گا بلکہ تہذیب یافتہ انداز میں سمجھائے گا ۔۔۔۔۔۔
اصل میں ہمارے معاشرے کی جدید لڑکیاں بذات خود ننگا ہونا چاہتی ہیں ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ ہم سڑکوں پر ‘‘ الف ننگا ‘‘ پھریں ۔۔۔ اور ہمیں چھیڑے بھی کوئی نا ۔۔۔۔۔ ایسا بھلا کیسے ممکن ہے ۔۔۔۔۔ ننگے پن کو دیکھ کر تو جانور بھی بپھر جاتے ہیں ۔۔۔۔ سڑکوں پر چلنے پھرنے والے تو پھر انسان ہیں ۔۔۔۔ وہ کیسے برداشت کریں گے ۔
حیرت مجھے اس بات پر بھی ہے کہ دیکھو ۔۔۔۔ لڑکیوں نے ایشو بھی کونسا اُٹھایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ہاہہہہہہہ گندیاں ۔۔۔۔ آخ تھو ۔۔۔ او بندہ پوچھے یار جسم کے کسی اور جگہ کا ایشو بنا لو ۔۔۔۔دسو یار ۔۔۔ ماہواری کے خون کا ایشو ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ذرا سونگھ کر تو دیکھو اپنا ماہواری کا خون ۔۔۔۔ سہیلی کا خون سونگھنا تو بعد کی بات ہے ۔۔۔۔۔۔
اگر محبت کرنے والے کے پاس بیٹھے ہوئے پیٹھ میں سے گندی ہوا خارج کر دو نا تو اسے تمہاری ساری خوبصورتی بھول جائے گی ۔۔۔اگر وہ کچھ کھا رہا ہو گا تو اسے الٹیاں شروع ہوجائیں گی ۔۔۔
پہلے تو اس پر مکالمہ کیا جائے کہ عشق کرنے والے جوڑے ایک دوسرے کے سامنے گندے بدبودار ‘‘ پاد ‘‘ ہوا خارج کر سکتے ہیں یا نہیں اور اگر کر سکتے ہیں تو آیا ہوا خارج کرتے ہی پیٹھ کے ساتھ منہہ لگانے سے جذبات کی شدت اور سیکس میں کتنا اضافہ ممکن ہے
-------------------------------------------
ہمارے ایک بہت محترم بلاگر جناب سلیم شانتو صاحب نے مخصوص ایام ( ماہواری ) کے حوالے سے کچھ تحقیقی مواد جمع کیا ہے ۔۔۔ جو میں اسی اپنی تحریر کے نیچے جوں کا توں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں ۔۔۔ تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت آنے والی نسلوں کے کام آوے
-------------------------------------------
(5:25 AM - 29 Sep 2014)
کو ایک بدیشی خاتونہ (پروفائل سے اس کے علاوہ کچھ پتہ نہیں چل پا رہا کہ یہ بس کسی لبرل کی بہن ہے) نے عورتوں کی آبرو ریزی پر مردوں کی عدم دلچسپی اور بیزار رویئے کو عورتوں کی ماہواری سے جوڑ کر ایک ٹویٹ کیا جسے ہزاروں بار پڑھا اور پسند کیا گیا۔
(imagine if men were as disgusted with rape as they are with periods)
مارچ 2015 میں ایلن نامی ایک جرمن خاتون بلاگر نے اس ٹویٹ سے متاثر ہو کر اپنے ماہواری پیڈز پر کچھ تنبیہی، کچھ آگاہی اور بیشتربولڈ اور غیر مہذب پیغامات لکھے اور اپنے شہر
(Karlsruhe)
کے سارے در و دیوار پر چپکا دیئے۔ تاہم اس کی یہ حرکت قابل دست اندازی قانون ٹھہری اور اسے عدالت کا سامنا کرنا پڑا۔
عالمی اخبارات میں اس خبر کی پذیرائی کے بعد اسی ہفتے دہلی کی "جامعہ ملیہ اسلامیہ" کی طالبات نے ایلن کی اس انفرادی حرکت کو باقاعدہ تحریک کے طور پر اپنایا اور اپنی جامعہ میں اور جامعہ سے باہر دہلی مین راتوں رات نسوانی پیڈز پر عبارات لکھ کر جگہ جگہ پبلک مقامات پر لگا دیئے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طالبات سے شہ پا کر کولکتہ کی جامعہ
(Kolkata’s Jadavpur University)
کی طالبات نے بھی اپنی جامعہ کی در و دیوار کو اپنے پیڈز پر اپنے دلی جذبات لکھ لکھ کر خوب سجایا۔
اس کے بعد بھی یہ سلسلہ دراز رہا تاہم "با جماعت" ایلن کی اس سنت کے احیاء کیلئے اس ہفتے پاکستان کے زندہ دلان لاہور کی کچھ کاکیوں نے ایلن کی اس سنت کی عملی ادائیگی کا عملی اہتمام کیا۔
سبب بننے والا ٹویٹ یہاں دیکھیں:
https://twitter.com/cutequeer96/status/516564388606521346
جرمنی کی ایلن کا تذکرہ یہاں دیکھیں:
http://www.buzzfeed.com/…/a-woman-is-writing-feminist-messa
دہلی کی خواتین کا کمال یہاں دیکھیں:
http://www.indiatimes.com/…/sanitary-pads-with-pro-women-me
کولکتہ کی جامعہ کی طالبات کے بیانات پیڈز پر لکھے ہوئے یہاں دیکھیں:
http://indianexpress.com/…/sanitary-pad-protest-spreads-to…/
لاہور کی کاکیوں کے کمالات یہاں دیکھیں
http://snaji.com/2016/04/14/mahwari/
ہفتہ، 14 نومبر، 2015
پیرس دہشت گردی اور براؤن ، پیلا ، نیلا بوتھا
میں پیرس دہشت گردی کی شدید مذمت کرتا ہوں ۔۔ انسانی خون کسی بھی رنگ ، نسل یا مذہب سے تعلق رکھتا ہو وہ مقدم ہے ۔۔۔ بے گناہ اور معصوم لوگوں پر ایسی دہشت گردی کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا ۔۔
سوشل میڈیا پر ہمارے بہت سے معزز ، عزت ماآب محترم دوستوں ، ساتھیوں نے اس غم میں اپنے چہرے کا رنگ ‘‘ براؤن ، پیلا اور نیلا ‘‘ کر لیا ہے ۔۔۔ میں ان کے اس غم میں بھی شریک ہوں اور بوتھے کو اس طرح رنگنے کی حمایت بھی کرتا ہوں ۔۔۔ مگر ۔۔۔۔۔۔ میں سوچ رہا ہوں کیا مسلمان انسان نہیں ہیں اور اگر انسان نہیں ہیں تو کون سے جانور کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں
چلیں کشمیر کو چھوڑیں ۔۔۔ فلسطین کو چھوڑیں ۔۔۔۔ عراق کو بھی چھوڑیں اور افغانستان کی تو بات ہی نہ کریں ۔۔۔ پاکستان میں کونسے جانور بستے ہیں اور وہ کس نسل سے تعلق رکھتے ہیں ۔۔۔۔ اگر جانور ہیں تو کیا ان کے خون کا رنگ لال نہیں ۔۔۔۔۔
امریکہ کی شروع کی گئی دہشت گردی کی اس جنگ ( جو ہماری اپنی بھی نہیں ) میں ہمارے پاکستان میں کتنے بم دھماکے ہوئے ۔۔۔۔ کتنی معصوم جانوں کے بموں سے چیتھڑے اُڑائے گئے ۔۔۔۔ کتنے معصوم بچوں کے لاشے اُٹھائے گئے ۔۔۔۔ کتنی بے گناہ عورتیں خون میں نہلائی گئیں ۔۔۔کتنے فوجی جوان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔۔۔۔۔۔ لاہور سانحہ ، پنڈی سانحہ ، کراچی سانحہ ۔۔۔ غرض کس کس شہر کا ذکر کروں ۔۔۔ پشاور میں اسکول کے معصوم بچوں کا قتل عام کیا انسان کے بچوں کا قتل عام نہیں تھا ۔۔۔۔۔
اس پر تو کسی پاکستانی نے غم میں اپنا بوتھا لال نیلا پیلا نہیں کیا ۔۔۔۔ چلیں غم کو تھوڑا کم کر کے بوتھے کو ‘‘ سبز ‘‘ ہی کر لیا جاتا ۔۔۔۔ تو ہم جانتے کہ ان کی نظر میں مسلمان کا خون بھی ارزاں نہیں ہے ۔۔
بات بوتھے کو رنگنے کی نہیں ہے ۔۔۔ بات دو رخی رویے کی ہے ۔۔۔ آپ مسلمان ہیں ۔۔۔ باہر رہتے ہیں ۔۔۔ باہر والوں کو باور کروائیں کہ آپ کی شروع کی گئی دہشت گردی کی یہ جنگ پاکستانی لڑ رہے ہیں اور ہم بھی انسان ہیں ، ہماری بھی جان آپ کی طرح قیمتی ہے۔۔۔ ہمارے بچے اور عورتیں بھی ہمیں پیاری ہیں ۔۔۔ ہم بھی آپ جیسا خون رکھتے ہیں ۔۔۔۔اگر ہم آپ کے غم میں بوتھا رنگتے ہیں تو آپ کو بھی اپنا بوتھا رنگنا چاہئے۔
سوشل میڈیا پر ہمارے بہت سے معزز ، عزت ماآب محترم دوستوں ، ساتھیوں نے اس غم میں اپنے چہرے کا رنگ ‘‘ براؤن ، پیلا اور نیلا ‘‘ کر لیا ہے ۔۔۔ میں ان کے اس غم میں بھی شریک ہوں اور بوتھے کو اس طرح رنگنے کی حمایت بھی کرتا ہوں ۔۔۔ مگر ۔۔۔۔۔۔ میں سوچ رہا ہوں کیا مسلمان انسان نہیں ہیں اور اگر انسان نہیں ہیں تو کون سے جانور کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں
چلیں کشمیر کو چھوڑیں ۔۔۔ فلسطین کو چھوڑیں ۔۔۔۔ عراق کو بھی چھوڑیں اور افغانستان کی تو بات ہی نہ کریں ۔۔۔ پاکستان میں کونسے جانور بستے ہیں اور وہ کس نسل سے تعلق رکھتے ہیں ۔۔۔۔ اگر جانور ہیں تو کیا ان کے خون کا رنگ لال نہیں ۔۔۔۔۔
امریکہ کی شروع کی گئی دہشت گردی کی اس جنگ ( جو ہماری اپنی بھی نہیں ) میں ہمارے پاکستان میں کتنے بم دھماکے ہوئے ۔۔۔۔ کتنی معصوم جانوں کے بموں سے چیتھڑے اُڑائے گئے ۔۔۔۔ کتنے معصوم بچوں کے لاشے اُٹھائے گئے ۔۔۔۔ کتنی بے گناہ عورتیں خون میں نہلائی گئیں ۔۔۔کتنے فوجی جوان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔۔۔۔۔۔ لاہور سانحہ ، پنڈی سانحہ ، کراچی سانحہ ۔۔۔ غرض کس کس شہر کا ذکر کروں ۔۔۔ پشاور میں اسکول کے معصوم بچوں کا قتل عام کیا انسان کے بچوں کا قتل عام نہیں تھا ۔۔۔۔۔
اس پر تو کسی پاکستانی نے غم میں اپنا بوتھا لال نیلا پیلا نہیں کیا ۔۔۔۔ چلیں غم کو تھوڑا کم کر کے بوتھے کو ‘‘ سبز ‘‘ ہی کر لیا جاتا ۔۔۔۔ تو ہم جانتے کہ ان کی نظر میں مسلمان کا خون بھی ارزاں نہیں ہے ۔۔
بات بوتھے کو رنگنے کی نہیں ہے ۔۔۔ بات دو رخی رویے کی ہے ۔۔۔ آپ مسلمان ہیں ۔۔۔ باہر رہتے ہیں ۔۔۔ باہر والوں کو باور کروائیں کہ آپ کی شروع کی گئی دہشت گردی کی یہ جنگ پاکستانی لڑ رہے ہیں اور ہم بھی انسان ہیں ، ہماری بھی جان آپ کی طرح قیمتی ہے۔۔۔ ہمارے بچے اور عورتیں بھی ہمیں پیاری ہیں ۔۔۔ ہم بھی آپ جیسا خون رکھتے ہیں ۔۔۔۔اگر ہم آپ کے غم میں بوتھا رنگتے ہیں تو آپ کو بھی اپنا بوتھا رنگنا چاہئے۔
منگل، 27 اکتوبر، 2015
ہندو انتہا پسند اور جامعہ بنوریہ کے مفتی
جامعہ بنوریہ کراچی کے محترم عزت مآب مفتی نعیم صاحب نے زلزلہ آنے سے ایک دن پہلے سوشل میڈیا ( فیس بک ) پر ایک تحریری اور صوتی ( ویڈیو ) کی صورت میں بیان ( فتوٰی ) جاری کیا ہے کہ ‘‘ میں مفتی نعیم صدر جامعہ بنوریہ یونیورسٹی ایک پاکستانی ہوں اور میں انڈیا سے نفرت نہیں کرتا۔۔۔اس محبت میں میں اکیلا نہیں ہوں بلکہ اور بہت سارے عالم حضرات بھی میرے ہمنوا ہیں ‘‘ ۔۔۔۔
محترم عزت مآب مفتی نعیم صاحب نے اپنے ویڈیو پیغام میں یہ بھی کہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان میں گزشتہ ستر سال سے ایسی فضا پیدا کر دی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا آپس میں عناد ہے بغض ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ہندوستان میں چند انتہا پسند لوگ ہیں جنہوں نے پورے ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے پورے ملک کی کفیت میں یئہ دیکھا جارہا ہے کہ ہندوستان کی عوام چاہتی ہے کہ پاکستان میں آئے اور ان کے عزیزواقارب اور رشتہ دار ہیں ۔۔۔۔ اسطرح پاکستان کی عوام چاہتی ہے کہ وہ وہاں جائے وہاں ان کے عزیزو اقارب ہیں،ان کے رشتہ دار موجود ہیں ۔۔ان کے خاندانوں کی قبریں ان کی زمینیں ہیں وہاں پر ۔۔۔۔ وہ ان کے ہاں نہیں جاسکتے اس کی وجہ چند انتہا پسندوں کی دشمنی کی وجہ سے ۔۔۔۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ چند ہندوستان کے نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر یہ بات کہی اور بڑی خوشی کی بات ہے کہ میں پاکستان سے نفرت نہیں کرتا باوجود اس کے کہ میں ہندوستان کا ہوں ۔۔۔۔ اسی طر ح پاکستان کے نوجوانوں نے بھی ان کو پیغام دیا کہ ہم ہندوستان سے محبت کرتے ہیں وہ اس لئے کہ ہمارے اباؤاجداد یہاں پیدا ہوئے ۔۔پہلے ہمارے اباؤاجداد وہیں کے رہنے والے تھے ۔۔۔۔ تو صرف بات یہ ہے کہ چند انتہا پسندوں نے پورے ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے ۔۔۔ دونوں نوجوانوں نے یہ تحریک سوشل میڈیا پر چلائی ہے ۔۔۔ میں سمجھتا ہوں اس کو خوب چلائیں ۔۔۔ ہندوستان کے نوجوان بھی پاکستان کے نوجوان بھی ۔۔۔ تاکہ یہ انتہا پسندوں کا چہرہ سامنے آئے اور ملک کے اندت ایک ایسی فضا قائم ہو کہ دونوں ملک آپس میں پڑوسی ہیں ایک دوسرے کے آ جا سکیں ، ایک دوسرے سے دوستی رکھ سکیں ۔۔ اگر یہ ہوا تو میں سمجھتا ہوں اس سے زیادہ فائدہ ہو گا ۔۔۔ تجارت کے اعتبار سے بھی اور دوسرے اعتبار سے بھی ۔۔۔۔۔ یورپ میں دیکھئے کہ ان تمام ملکوں نے آپس میں اتحاد کر کے بنا لیا ہے ۔۔۔ خلیجی ممالک ایک بن چکے ہیں لیکن پاکستان اور ہندوستان کو ایک ایسی فضا بنانی چاہئے کہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور یہ بنانے والے صرف چند انتہا پسند ہیں ۔۔۔ لہذا ان انتہا پسندوں کو ختم کرنے کے لئے نوجوانوں نے جو ترتیب اختیار کی ہے وہ قابل تحسین ہے اور اس کو زیادہ سے زیادہ چلایا جائے تاکہ یہ اتحادو اتفاق کی بنیاد بن سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت اعلیٰ جناب محترم عزت مآب مفتی نعیم صاحب ۔۔۔ آپ عالم اور مفتی انسان ہیں اور آپ نے یہ بیان یا ( فتوٰٰی، میں اسے فتوٰی ہی کہوں گا) جامعہ بنوریہ یعنی اہل دیوبند کی کی نمائندگی کرتے ہوئے جاری کیا ہے ۔۔۔ ساتھ ہی آپ نے یہ بھی کہا ہے کہ ‘‘ اس محبت میں میں اکیلا نہیں ہوں بلکہ اور بہت سارے عالم حضرات بھی میرے ہمنوا ہیں ‘‘ ۔۔۔۔۔ بہت اعلیٰ جناب محترم عزت مآب مفتی نعیم صاحب ذرا ان کے نام بھی بتائیے کہ اور کون کون ہندوستان سے پیار کی پینگیں بڑھانے کے خواہاں ہیں ۔۔۔تاکہ دنیا کو بھی آپ علماء کرام کی ہندوستان سے محبتوں کا اندازہ ہوسکے ۔۔۔۔۔
جناب محترم عزت مآب مفتی نعیم صاحب مجھے نہیں پتہ آپ کے آباؤاجداد کا مگر ہمارے آباؤ اجداد نے ہجرت کی ۔۔۔اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اپنی ماں ، بہنوں ، بیویوں ، بیٹیوں کی عزتوں کو پامال کرواتے ہوئے اس دھرتی پاکستان پر قدم رکھا ۔۔۔۔۔ کس لئے مفتی صاحب ۔۔۔۔ اس لئے کہ یہ ہمارا اپنا ملک ہے ، یہ مسلمانوں کا ایک اسلامی ملک ہے ۔۔۔۔ اگر ہندو کے ساتھ ہی رہنا تھا تو ہمیں اپنی عزتیں گنوانے کی کیا ضرورت تھی ، پاکستان بنانے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔ ہندو بنئے کی دھوتی میں سر گھسائے وہیں بیٹھے رہتے ۔۔۔۔مفتی صاحب آپ باتیں کرتے ہیں وہاں کے اپنے رشتہ داروں کی ، وہاں دفن ہوئے اپنے مردوں کی ۔۔۔۔۔ جائیے پوچھئے ان رشتہ داروں سے کہ کیسے رہ رہے ہیں وہاں ۔۔۔ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے ڈرتے ہیں ۔۔۔۔۔
اور آپ کہتے ہیں سب کچھ بھول کر ان سے دوستی کر لیں
مفتی صاحب یاد کیجئے ہندوستان کا یہ وزیراعظم دہشت گرد انتہا پسند ہندو مودی جب سن 2002 میں چیف منسٹر تھا ۔ایودھیا سے زائرین کی ایک ٹرین آرہی تھی انہی انتہا پسند ہندؤں نے جان بوجھ کر اس ٹرین میں آگ لگا کر پچاس سے زائد مسافروں کو زندہ جلا دیا گیا تھا ۔۔۔ اسی حادثے کو بنیاد بنا کر گجرات میں یہی ہندو شدت پسند جن سے آپ پیار کی پینگیں بڑھانا چاہتے ہیں مسلمانوں سے نفرت کی آگ میں پاگل کتے بن گئے تھے ۔۔۔انہیں شدت پسند ہندؤں نے گجرات کی سٹرکوں پر مسلمانوں کو زندہ جلا دیا تھا گھروں سے مسلمان عورتوں کو نکال کر سرعام ان کی عزتیں لوٹی گئی تھیں۔۔۔ ان کے پستان تک کاٹ دئے گئے تھے۔۔ دوہزار کے قریب مسلمان مردو و عورتوں کو گجرات کی سڑکوں پر سرعام قتل کر دیا گیا تھا ۔ ان کے گھروں کو آگ لگا دی گئی تھی ۔لگ بھگ ایک لاکھ سے زائد مسلمان اپنے گھروں سے بے گھر ہوگئے تھے ۔
اور آپ کہتے ہیں سب کچھ بھول کر ان سے دوستی کر لیں
مفتی صاحب یاد کیجئے سمجھوتہ ایکسپریس والا واقعہ جو اسی دہشت گرد مودی نے انہیں دہشت گرد اور شرپسند ہندؤں نے پوری ٹرین کو آگ لگا کر تمام مسلمانوں کو کوئلہ بنا دیا تھا ۔۔۔۔یہ سب کیسے بھولوں جناب محترم عزت مآب مفتی نعیم صاحب
اور آپ کہتے ہیں سب کچھ بھول کر ان سے دوستی کر لیں
تھوڑے دن پہلے ہی انتہا پسند ہندؤں نے گاؤ ماتا کے چکر میں دو مسلمانوں کو مار ڈالا تھا
اور آپ کہتے ہیں سب کچھ بھول کر ان سے دوستی کر لیں
دہشت گرد ہندوستان آجکل بھی شکر گڑھ کے سکوال ،جگوال ،بھوپال پور ، بیکا چک اور دیگر علاقوں میں بمباری کر کے معصوم شہریوں کو شہید کر رہا ہے ۔۔۔
اور آپ کہتے ہیں سب کچھ بھول کر ان سے دوستی کر لیں
مفتی صاحب بابری مسجد کو شہید کرنے والوں سے کیسے دوستی کا ہاتھ بڑھائیں
کشمیر میں اپنی ماؤں بہنوں کی عزتیں پامال کرنے والوں سے کیسے دوستی کرلیں
مفتی صاحب آپ کو کیا پتہ کہ عزت کیا ہوتی ہے ۔۔۔ اگر پتہ ہوتا تو آج ہندوستان کے ساتھ دوستی کی باتیں نہ کرتے
مفتی صاحب پاکستان میں بم دھماکوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے ؟ انہیں دہشت گرد ہندؤں گا
مفتی صاحب بلوچستان میں شرپسندوں کی مدد کون کر رہا ہے ؟ یہ دہشت گرد ہندو
افغانستان سے پاکستان کے مولویوں کو خرید کر دہشت گردی کے نیٹ ورک کون سپورٹ کر رہا ہے ؟ یہی دہشت گرد ملک ہندوستان
اور آپ کہتے ہیں سب کچھ بھول کر ان سے دوستی کر لیں
چلیں آئیں مفتی نعیم صاحب ۔۔۔۔۔ چھوڑیں اسلام اسلام کھیلنا
چلیں آئیں ہندو کے گھر کا کھاتے ہیں
چلیں آئیں ہندو کی لڑکی سے شادی کرتے ہیں ۔۔۔ جائز ہونے کا فتوٰی آپ دے دینا
چلیں آئیں ان کے استھان پر گاؤماتا کو ذبح کرکے اس کے تکے بھون کر کھاتے ہیں
چلیں آئیں ان کے شمشان گھاٹ پر فاتحہ خوانی کرنے جاتے ہیں
ہمت ہے یہ سب کرنے کی مفتی صاحب ؟
چھوڑیں چلیں آئیں مفتی نعیم صاحب جامعہ بنوریہ میں قرآن و حدیث کی تعلیم کی بجائے انڈیا کی فلمیں لگاتے ہیں ۔۔۔۔ آمدن بھی زیادہ ہوگی اور مریدین کی تعداد میں اضافہ بھی ممکن ہے ۔۔۔ ویسے بھی ہندوستان کی فلم انڈسٹری میں پاکستانی تاجروں کے کروڑوں ڈوب رہے ہیں ۔۔۔۔ وہ ہی بچ جائیں گے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم عزت مآب مفتی نعیم صاحب نے اپنے ویڈیو پیغام میں یہ بھی کہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان میں گزشتہ ستر سال سے ایسی فضا پیدا کر دی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا آپس میں عناد ہے بغض ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ہندوستان میں چند انتہا پسند لوگ ہیں جنہوں نے پورے ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے پورے ملک کی کفیت میں یئہ دیکھا جارہا ہے کہ ہندوستان کی عوام چاہتی ہے کہ پاکستان میں آئے اور ان کے عزیزواقارب اور رشتہ دار ہیں ۔۔۔۔ اسطرح پاکستان کی عوام چاہتی ہے کہ وہ وہاں جائے وہاں ان کے عزیزو اقارب ہیں،ان کے رشتہ دار موجود ہیں ۔۔ان کے خاندانوں کی قبریں ان کی زمینیں ہیں وہاں پر ۔۔۔۔ وہ ان کے ہاں نہیں جاسکتے اس کی وجہ چند انتہا پسندوں کی دشمنی کی وجہ سے ۔۔۔۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ چند ہندوستان کے نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر یہ بات کہی اور بڑی خوشی کی بات ہے کہ میں پاکستان سے نفرت نہیں کرتا باوجود اس کے کہ میں ہندوستان کا ہوں ۔۔۔۔ اسی طر ح پاکستان کے نوجوانوں نے بھی ان کو پیغام دیا کہ ہم ہندوستان سے محبت کرتے ہیں وہ اس لئے کہ ہمارے اباؤاجداد یہاں پیدا ہوئے ۔۔پہلے ہمارے اباؤاجداد وہیں کے رہنے والے تھے ۔۔۔۔ تو صرف بات یہ ہے کہ چند انتہا پسندوں نے پورے ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے ۔۔۔ دونوں نوجوانوں نے یہ تحریک سوشل میڈیا پر چلائی ہے ۔۔۔ میں سمجھتا ہوں اس کو خوب چلائیں ۔۔۔ ہندوستان کے نوجوان بھی پاکستان کے نوجوان بھی ۔۔۔ تاکہ یہ انتہا پسندوں کا چہرہ سامنے آئے اور ملک کے اندت ایک ایسی فضا قائم ہو کہ دونوں ملک آپس میں پڑوسی ہیں ایک دوسرے کے آ جا سکیں ، ایک دوسرے سے دوستی رکھ سکیں ۔۔ اگر یہ ہوا تو میں سمجھتا ہوں اس سے زیادہ فائدہ ہو گا ۔۔۔ تجارت کے اعتبار سے بھی اور دوسرے اعتبار سے بھی ۔۔۔۔۔ یورپ میں دیکھئے کہ ان تمام ملکوں نے آپس میں اتحاد کر کے بنا لیا ہے ۔۔۔ خلیجی ممالک ایک بن چکے ہیں لیکن پاکستان اور ہندوستان کو ایک ایسی فضا بنانی چاہئے کہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور یہ بنانے والے صرف چند انتہا پسند ہیں ۔۔۔ لہذا ان انتہا پسندوں کو ختم کرنے کے لئے نوجوانوں نے جو ترتیب اختیار کی ہے وہ قابل تحسین ہے اور اس کو زیادہ سے زیادہ چلایا جائے تاکہ یہ اتحادو اتفاق کی بنیاد بن سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت اعلیٰ جناب محترم عزت مآب مفتی نعیم صاحب ۔۔۔ آپ عالم اور مفتی انسان ہیں اور آپ نے یہ بیان یا ( فتوٰٰی، میں اسے فتوٰی ہی کہوں گا) جامعہ بنوریہ یعنی اہل دیوبند کی کی نمائندگی کرتے ہوئے جاری کیا ہے ۔۔۔ ساتھ ہی آپ نے یہ بھی کہا ہے کہ ‘‘ اس محبت میں میں اکیلا نہیں ہوں بلکہ اور بہت سارے عالم حضرات بھی میرے ہمنوا ہیں ‘‘ ۔۔۔۔۔ بہت اعلیٰ جناب محترم عزت مآب مفتی نعیم صاحب ذرا ان کے نام بھی بتائیے کہ اور کون کون ہندوستان سے پیار کی پینگیں بڑھانے کے خواہاں ہیں ۔۔۔تاکہ دنیا کو بھی آپ علماء کرام کی ہندوستان سے محبتوں کا اندازہ ہوسکے ۔۔۔۔۔
جناب محترم عزت مآب مفتی نعیم صاحب مجھے نہیں پتہ آپ کے آباؤاجداد کا مگر ہمارے آباؤ اجداد نے ہجرت کی ۔۔۔اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اپنی ماں ، بہنوں ، بیویوں ، بیٹیوں کی عزتوں کو پامال کرواتے ہوئے اس دھرتی پاکستان پر قدم رکھا ۔۔۔۔۔ کس لئے مفتی صاحب ۔۔۔۔ اس لئے کہ یہ ہمارا اپنا ملک ہے ، یہ مسلمانوں کا ایک اسلامی ملک ہے ۔۔۔۔ اگر ہندو کے ساتھ ہی رہنا تھا تو ہمیں اپنی عزتیں گنوانے کی کیا ضرورت تھی ، پاکستان بنانے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔ ہندو بنئے کی دھوتی میں سر گھسائے وہیں بیٹھے رہتے ۔۔۔۔مفتی صاحب آپ باتیں کرتے ہیں وہاں کے اپنے رشتہ داروں کی ، وہاں دفن ہوئے اپنے مردوں کی ۔۔۔۔۔ جائیے پوچھئے ان رشتہ داروں سے کہ کیسے رہ رہے ہیں وہاں ۔۔۔ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے ڈرتے ہیں ۔۔۔۔۔
اور آپ کہتے ہیں سب کچھ بھول کر ان سے دوستی کر لیں
مفتی صاحب یاد کیجئے ہندوستان کا یہ وزیراعظم دہشت گرد انتہا پسند ہندو مودی جب سن 2002 میں چیف منسٹر تھا ۔ایودھیا سے زائرین کی ایک ٹرین آرہی تھی انہی انتہا پسند ہندؤں نے جان بوجھ کر اس ٹرین میں آگ لگا کر پچاس سے زائد مسافروں کو زندہ جلا دیا گیا تھا ۔۔۔ اسی حادثے کو بنیاد بنا کر گجرات میں یہی ہندو شدت پسند جن سے آپ پیار کی پینگیں بڑھانا چاہتے ہیں مسلمانوں سے نفرت کی آگ میں پاگل کتے بن گئے تھے ۔۔۔انہیں شدت پسند ہندؤں نے گجرات کی سٹرکوں پر مسلمانوں کو زندہ جلا دیا تھا گھروں سے مسلمان عورتوں کو نکال کر سرعام ان کی عزتیں لوٹی گئی تھیں۔۔۔ ان کے پستان تک کاٹ دئے گئے تھے۔۔ دوہزار کے قریب مسلمان مردو و عورتوں کو گجرات کی سڑکوں پر سرعام قتل کر دیا گیا تھا ۔ ان کے گھروں کو آگ لگا دی گئی تھی ۔لگ بھگ ایک لاکھ سے زائد مسلمان اپنے گھروں سے بے گھر ہوگئے تھے ۔
اور آپ کہتے ہیں سب کچھ بھول کر ان سے دوستی کر لیں
مفتی صاحب یاد کیجئے سمجھوتہ ایکسپریس والا واقعہ جو اسی دہشت گرد مودی نے انہیں دہشت گرد اور شرپسند ہندؤں نے پوری ٹرین کو آگ لگا کر تمام مسلمانوں کو کوئلہ بنا دیا تھا ۔۔۔۔یہ سب کیسے بھولوں جناب محترم عزت مآب مفتی نعیم صاحب
اور آپ کہتے ہیں سب کچھ بھول کر ان سے دوستی کر لیں
تھوڑے دن پہلے ہی انتہا پسند ہندؤں نے گاؤ ماتا کے چکر میں دو مسلمانوں کو مار ڈالا تھا
اور آپ کہتے ہیں سب کچھ بھول کر ان سے دوستی کر لیں
دہشت گرد ہندوستان آجکل بھی شکر گڑھ کے سکوال ،جگوال ،بھوپال پور ، بیکا چک اور دیگر علاقوں میں بمباری کر کے معصوم شہریوں کو شہید کر رہا ہے ۔۔۔
اور آپ کہتے ہیں سب کچھ بھول کر ان سے دوستی کر لیں
مفتی صاحب بابری مسجد کو شہید کرنے والوں سے کیسے دوستی کا ہاتھ بڑھائیں
کشمیر میں اپنی ماؤں بہنوں کی عزتیں پامال کرنے والوں سے کیسے دوستی کرلیں
مفتی صاحب آپ کو کیا پتہ کہ عزت کیا ہوتی ہے ۔۔۔ اگر پتہ ہوتا تو آج ہندوستان کے ساتھ دوستی کی باتیں نہ کرتے
مفتی صاحب پاکستان میں بم دھماکوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے ؟ انہیں دہشت گرد ہندؤں گا
مفتی صاحب بلوچستان میں شرپسندوں کی مدد کون کر رہا ہے ؟ یہ دہشت گرد ہندو
افغانستان سے پاکستان کے مولویوں کو خرید کر دہشت گردی کے نیٹ ورک کون سپورٹ کر رہا ہے ؟ یہی دہشت گرد ملک ہندوستان
اور آپ کہتے ہیں سب کچھ بھول کر ان سے دوستی کر لیں
چلیں آئیں مفتی نعیم صاحب ۔۔۔۔۔ چھوڑیں اسلام اسلام کھیلنا
چلیں آئیں ہندو کے گھر کا کھاتے ہیں
چلیں آئیں ہندو کی لڑکی سے شادی کرتے ہیں ۔۔۔ جائز ہونے کا فتوٰی آپ دے دینا
چلیں آئیں ان کے استھان پر گاؤماتا کو ذبح کرکے اس کے تکے بھون کر کھاتے ہیں
چلیں آئیں ان کے شمشان گھاٹ پر فاتحہ خوانی کرنے جاتے ہیں
ہمت ہے یہ سب کرنے کی مفتی صاحب ؟
چھوڑیں چلیں آئیں مفتی نعیم صاحب جامعہ بنوریہ میں قرآن و حدیث کی تعلیم کی بجائے انڈیا کی فلمیں لگاتے ہیں ۔۔۔۔ آمدن بھی زیادہ ہوگی اور مریدین کی تعداد میں اضافہ بھی ممکن ہے ۔۔۔ ویسے بھی ہندوستان کی فلم انڈسٹری میں پاکستانی تاجروں کے کروڑوں ڈوب رہے ہیں ۔۔۔۔ وہ ہی بچ جائیں گے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جمعرات، 20 اگست، 2015
دنیا والو , ایک کمزور عورت کو جینے دو
باجی ایان علی غلطی سے ایک بڑے مگر مچھ کی کیرئر بن کے تین ماہ جیل میں رہی.ایک مجبور و مظلوم عورت کو روزانہ میڈیا پر ذہنی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاتا رہا......مگر باجی ایان کچھ نہ بولی..
اور اب جبکہ وہ رہا ہوکر فلاحی کاموں میں حصہ لے کر خود پر لگائے دھبے کو دھونا چاہتی ہے تو عوام کو بھی اس کا ساتھ دینا چاہئے.
ابھی گزشتہ روز ہی مولانا طارق جمیل کی تقلید کرتے ہوئے جامعہ کراچی جو کہ جماعت اسلامی کا گڑھ ہے نے باجی ایان کو اپنے ہاں تبلیغ کے لئے مدعو کیا.باجی ایان نے وہاں سے باقاعدہ ایوارڈ بھی وصول کیا اور وہاں موجود طلباء و طالبات کو بھاشن بھی دیا.بھاشن کے بعد وہاں کی نقاب پوش طالبات نے اپنے نقاب اتار کر باجی ایان کے ساتھ بڑے ذوق و شوق سے سیلفیوں کا سیشن مکمل کیا.
ظلم کی بات دیکھئے کہ کسی کم ظرف نے باجی ایان کے بھاشن کی فوٹو اور وہ خوبصورت سیلفیاں میڈیا کو پہنچا دیں جن کی خوب تشہیر کر کے باجی ایان کو بدنام کرنے کی کوششیں جاری و ساری ہیں.
سوشل میڈیا پر باجی ایان سے زیادہ جامعہ کراچی کے پرنسپل سمیت سب استادوں کو کے بارے میں خوب لے دے جاری ہے.کچھ لوگ انہیں بھڑووں سے تشبیح دے رہے ہیں اور کچھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اب جامعہ کے باہر ہیرا منڈی کا بورڈ بھی چسپاں کر دینا چاہئے.
اگر ہم ٹھنڈے دل سے سوچیں اور دوسری باجی کنجرہوں سے باجی ایان کا موازنہ کریں تو باجی ایان کے کریکٹر پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا..
کیا کسی نے باجی ایان کو سٹیج پر فحش ڈانس یا ننگا ڈانس کرتے دیکھا ہے؟
کیا کسی نے باجی ایان کی کسی نے کوئی فحش ویڈیو دیکھی ہے؟
کیا کسی نے باجی ایان کو فلموں میں سرعام بوس وکنار کرتے دیکھا ہے؟
کیا کسی نے باجی ایان کی دوسری باجی کنجریوں کی طرح کوئی غیر اخلاقی حرکت دیکھی ہے؟
صرف باجی ایان کے تین قصور ہیں.....
وہ ایک خوبصورت عورت ہے
منی لارڈنگ کے کیس میں ملوث ہوئی
ماڈلنگ کرتی ہے
دنیا والو , ایک کمزور عورت کو جینے دو
کسی پر ثبوت دیکھے بغیر الزام نہ لگاؤ کل کلاں کو آپ نے بھی جواب دینا ہے
منگل، 2 جون، 2015
بلاگر بنیں مراثی نہ بنیں
پچھلے چند سالوں سے خبر گرم ہے کہ بلاگروں کی تحریریں فیس بکیے اور میڈیا والے دھڑلے سے چوری کرتے ہیں اور چوری بھی ایسے کرتے ہیں جیسے یہ اُن کی اپنی ذاتی جاگیر ہو۔
بابے عیدو سے جب اس بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے جو جواب دیا وہ میں یہاں حرف بہ حرف نقل کئے دیتا ہوں ۔۔۔۔ بابے عیدو کی تحقیق کے مطابق اصل میں جس بلاگرز کی تحریریں چوری ہوتی وہ بلاگ کی عین روح کے مطابق نہیں ہوتی ۔۔بابے عیدو کا کہنا یہ ہے کہ وہ تحریریں تہذیب کے دامن میں لپٹے ہوئے ایک مضمون یا کالم کی صورت ہوتی ہیں جو کہ کسی بھی میڈیا والے کے مزاج اور اور ان کے اخبار کی پالیسی کے عین مطابق ہیں ۔اس لئے وہ ظالم لوگ ان تحریروں کو لے اُڑتے ہیں اور کسی بھی نسوانی نام سے ان کو اپنے اخبار کی زینت بنا کر بلاگر کی پیٹھ پر ٹھبہ لگانے میں دیر نہیں لگاتے ۔
اصل میں بلاگنگ ایک سوچ کا نام ہے اور سوچ جب بنا کپڑوں کے الفاظ میں ڈھلتی ہے تو سب کو ننگا کردیتی ہے اب اس ننگے پن کو ایک اچھے بلاگر نے اپنے اپنے انداز سے کپڑے پہنانے ہوتے ہیں ۔کوئی کم کپڑے پہناتا ہے تو کوئی زیادہ ۔اب اس ننگی سوچ کو کبھی بھی کوئی میڈیا والا چرا نہیں سکتا ۔۔۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ ایک بلاگر کی سوچ اس کے دل کی آواز ہوتی ہے اور اس آواز کو جب وہ تحریر کے زریعہ سے لوگوں تک پہنچاتا ہے تو وہ اثر بھی رکھتی ہے ۔۔۔ میرے خیال میں ایک اچھے بلاگر کا تحریر کے قواعد و ضوابط یا تحریر کی حدود و قیود سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہونا چاہئے ۔وہ اسی سوچ کو لکھے جو اس کے ذہن میں ہے اور جس کے متعلق وہ آگاہی دینا چاہتا ہے ۔
یاد رہے کہ بلاگرز پوری دنیا میں اپنی ایک علیحدہ پہچان رکھتے ہیں اور اسی لحاظ سے اردو بلاگرز کا بھی اپنا ایک قبیلہ ہے اور اس کی بھی دنیا میں اپنی ایک پہچان ہے ایک نام ہے ۔۔حال ہی میں دیکھا گیا ہے اردو بلاگرز میں بہت سے نئے لوگوں نے قدم رکھا ہے جو کہ ایک خوش آئند بات ہے ۔مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ کچھ لوگ تحریر تو اچھی خاصی لکھ رہے ہیں مگر اپنی پہچان چھپا رہے ہیں ۔
بلاگر ایک آزاد منش اور ایک آزاد خیال انسان ہوتا ہے جسے اپنی پہچان چھپانے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہوتی ۔۔۔۔ اگر آپ نے بلاگنگ کرنی ہے تو کھل کر کریں اور پہچان کے ساتھ کریں ۔یاد رکھئے چور بن کے سچی بات کا ڈھنڈورا کبھی نہیں پیٹا جا سکتا ۔
ایک بلاگر کو مراثی کی طرح کبھی بھی شاباشی کی چاہ نہیں ہونی چاہئے ، جو شاباشی کے لئے لکھتے ہیں وہ بلاگر نہیں مراثی ہیں اس لئے اگر آپ بلاگر ہیں تو اپنی سوچ کو تہذیب کی تحریر کے کپڑے ضرور پہنائیے ۔۔۔ اگر آپ اپنی ‘‘ میں ‘‘ کے لئے یا خود کو نمایاں کرنے کے لئے لکھنا چاہتے ہیں تو پھر میرا آپ کو مشورہ ہے کہ آپ بلاگر نہیں مراثی بنئے کیونکہ مراثیوں کی آجکل میڈیا میں ویسے ہی بڑی مانگ ہے ۔۔۔
بابے عیدو سے جب اس بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے جو جواب دیا وہ میں یہاں حرف بہ حرف نقل کئے دیتا ہوں ۔۔۔۔ بابے عیدو کی تحقیق کے مطابق اصل میں جس بلاگرز کی تحریریں چوری ہوتی وہ بلاگ کی عین روح کے مطابق نہیں ہوتی ۔۔بابے عیدو کا کہنا یہ ہے کہ وہ تحریریں تہذیب کے دامن میں لپٹے ہوئے ایک مضمون یا کالم کی صورت ہوتی ہیں جو کہ کسی بھی میڈیا والے کے مزاج اور اور ان کے اخبار کی پالیسی کے عین مطابق ہیں ۔اس لئے وہ ظالم لوگ ان تحریروں کو لے اُڑتے ہیں اور کسی بھی نسوانی نام سے ان کو اپنے اخبار کی زینت بنا کر بلاگر کی پیٹھ پر ٹھبہ لگانے میں دیر نہیں لگاتے ۔
اصل میں بلاگنگ ایک سوچ کا نام ہے اور سوچ جب بنا کپڑوں کے الفاظ میں ڈھلتی ہے تو سب کو ننگا کردیتی ہے اب اس ننگے پن کو ایک اچھے بلاگر نے اپنے اپنے انداز سے کپڑے پہنانے ہوتے ہیں ۔کوئی کم کپڑے پہناتا ہے تو کوئی زیادہ ۔اب اس ننگی سوچ کو کبھی بھی کوئی میڈیا والا چرا نہیں سکتا ۔۔۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ ایک بلاگر کی سوچ اس کے دل کی آواز ہوتی ہے اور اس آواز کو جب وہ تحریر کے زریعہ سے لوگوں تک پہنچاتا ہے تو وہ اثر بھی رکھتی ہے ۔۔۔ میرے خیال میں ایک اچھے بلاگر کا تحریر کے قواعد و ضوابط یا تحریر کی حدود و قیود سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہونا چاہئے ۔وہ اسی سوچ کو لکھے جو اس کے ذہن میں ہے اور جس کے متعلق وہ آگاہی دینا چاہتا ہے ۔
یاد رہے کہ بلاگرز پوری دنیا میں اپنی ایک علیحدہ پہچان رکھتے ہیں اور اسی لحاظ سے اردو بلاگرز کا بھی اپنا ایک قبیلہ ہے اور اس کی بھی دنیا میں اپنی ایک پہچان ہے ایک نام ہے ۔۔حال ہی میں دیکھا گیا ہے اردو بلاگرز میں بہت سے نئے لوگوں نے قدم رکھا ہے جو کہ ایک خوش آئند بات ہے ۔مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ کچھ لوگ تحریر تو اچھی خاصی لکھ رہے ہیں مگر اپنی پہچان چھپا رہے ہیں ۔
بلاگر ایک آزاد منش اور ایک آزاد خیال انسان ہوتا ہے جسے اپنی پہچان چھپانے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہوتی ۔۔۔۔ اگر آپ نے بلاگنگ کرنی ہے تو کھل کر کریں اور پہچان کے ساتھ کریں ۔یاد رکھئے چور بن کے سچی بات کا ڈھنڈورا کبھی نہیں پیٹا جا سکتا ۔
ایک بلاگر کو مراثی کی طرح کبھی بھی شاباشی کی چاہ نہیں ہونی چاہئے ، جو شاباشی کے لئے لکھتے ہیں وہ بلاگر نہیں مراثی ہیں اس لئے اگر آپ بلاگر ہیں تو اپنی سوچ کو تہذیب کی تحریر کے کپڑے ضرور پہنائیے ۔۔۔ اگر آپ اپنی ‘‘ میں ‘‘ کے لئے یا خود کو نمایاں کرنے کے لئے لکھنا چاہتے ہیں تو پھر میرا آپ کو مشورہ ہے کہ آپ بلاگر نہیں مراثی بنئے کیونکہ مراثیوں کی آجکل میڈیا میں ویسے ہی بڑی مانگ ہے ۔۔۔
منگل، 24 جون، 2014
زمین ڈاٹ کوم کے زیر اہتمام لاہور میں بلاگرز میٹ اپ
جوں جوں انٹر نیٹ ترقی کی منازل طے کرتا جا رہا ہے ۔آن لائن خریدوفروخت کو بھی محفوظ کر دیا گیا ہے۔اس لئے اب پاکستان میں بھی زیادہ تر لوگ تمام چیزیں آن لائن خریدنے میں دلچسپی لینے لگے ہیں ۔دیکھا جائے تو پوری دنیا میں زیادہ تر لوگ اب ہر قسم کی خریداری آن لائن کرنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں ۔
اسی سلسلے میں گذشتہ روز پراپرٹی کی خریدو فروخت سے متعلق پاکستان کی سب سے بڑی ویب سائٹ زمین ڈاٹ کوم کی جانب سے لاہور کے علاقے گلبرگ میں کیفے اپ سٹیرز میں ایک بلاگر میٹ اپ کا اہتمام کیا گیا جس میں لاہور کے بلاگرز کے علاوہ صحافت،کیمونیکیشن اور آئی ٹی سے متعلقہ افراد نے بھی شرکت کی۔
انٹرنیٹ کی دنیا میں پراپرٹی کی خریدو فروخت سے متعلق زمین ڈاٹ کوم کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے کیونکہ اس ویب سائٹ کے زریعہ سے پوری دنیا سے روزانہ سینکڑوں لوگ آن لائن جائیداد کی خریدوفرخت میں حصہ لیتے ہیں ۔پراپرٹی کی خریدو فروخت سے متعلق زمین ڈاٹ کوم کی ابتدا دو بھائیوں مسٹر ذیشان علی خان اور عمران علی خان نے 2006 میں کی ۔یہ ویب سائٹ اتنی مشہور ہوئی کہ اگلے ہی سال 2007 میں ‘‘ سی این بی سی ‘‘ نے اسے پاکستان کی بہترین ویب پراپرٹی پورٹل کے ایوارڈ سے نوازا۔سٹاف کی مسلسل محنت اور عوام کی آن لائن پراپرٹی کی خریدوفروخت میں دلچسپی کی وجہ سے 2009 ایک ہزار چار سو چوبیس اسٹیٹ ایجینسیز سے اس کے روابط استوار ہوئے جنہوں نے جائیداد کی خریدو فروخت کے سلسلے میں زمین ڈاٹ کوم کی ویب سائٹ کا استمال کیا۔جبکہ اسی سال دنیا سے آٹھ لاکھ چوالیس ہزار سات سو چھبیس لوگوں نے اس سائٹ کا وزٹ کیا۔2010 میں پراپرٹی کی خریدو فروخت سے متعلق زمین ڈاٹ کوم کی اس ویب سائٹ کے ایک لاکھ نو سو چھیاسٹھ اسٹیٹ ایجینسیز سے روابط استوار ہوئے جبکہ اس سال ویب سائٹ پر پوری دنیا سے آنے والے لوگوں کی تعداد ایک کروڑ بیس لاکھ آٹھ ہزار چھ سو پینتالیس تک پہنچ چکی تھی۔اسی طرح 2012 کے آخر تک پراپرٹی کی خریدو فروخت سے متعلق زمین ڈاٹ کوم کی ویب سائٹ پر سالانہ لوگوں کی تعداد دو کروڑ چون لاکھ تین ہزار چار سو اکتیس تک پہنچ چکی تھی جبکہ پراپرٹی کی خریدو فروخت سے متعلق اس ویب سائٹ کے روابط تین ہزار پانچ سو ستاسی اسٹیٹ ایجینسیز سے ہو چکے تھے جو کہ زمین ڈاٹ کوم کو مسلسل استمال کر رہی تھیں۔
پراپرٹی کی خریدو فروخت سے متعلق زمین ڈاٹ کوم نے 2013 میں انگلش زبان کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں بھی اپنی ویب سائٹ کا ترجمہ کر دیا تاکہ اردودان طبقہ بھی اس سے بھرپور استفادہ حاصل کر سکے۔اسی سال زمین ڈاٹ کوم کو موبائل پر استمال کے قابل بنانے کے ساتھ ساتھ پراپرٹی فورم کا اجراء بھی گیا گیا۔دوہزار تیرہ میں ہی زمین ڈاٹ کوم کے ملک بھر سے چار ہزار پانچ سو اسٹیٹ ایجینسیز سے روابط استوار ہو چکے تھے جو مسلسل پراپرٹی کی خریدو فروخت سے متعلق اس ویب سائٹ کو استمال کر رہے تھے جبکہ اس سال ویب سائٹ پر لوگوں کی سالانہ تعداد چار کروڑ انتیس لاکھ تین ہزار پانچ سو اکیانوے تک پہنچ چکی تھی جبکہ سوشل میڈیا میں فیس بک پر اس کے چاہنے والوں کی تعداد دولاکھ سے تجاوز کر چکی تھی ۔
۔2014 میں پراپرٹی کی خریدو فروخت سے متعلق زمین ڈاٹ کوم کی اس ویب سائٹ کے کراچی، اسلام آباد آفس کے علاوہ لاہور آفس کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔زمین ڈاٹ کوم کا 120 سے زائد افراد پر مشتمل محنتی سٹاف پاکستان اور پاکستان سے باہر کے رہنے والے لوگوں کو دن رات پراپرٹی کی خریدو فروخت سے متعلق ایک بہترین سروس مہیا کر رہا ہے۔زمین ڈاٹ کوم نے پراپرٹی سے متعلق حال ہی میں اپنے میگزین کا بھی اجرا کر دیا ہے جبکہ پراپرٹی کی خریدو فروخت سے متعلق زمین ڈاٹ کوم کے پانچ ہزار اسٹیٹ ایجینسیز سے روابط استوار ہو چکے ہیں اور فیس بک پر اس کے چاہنے والوں کی تعداد دولاکھ ستر ہزار تک پہنچ چکی ہے۔
تمام تصاویر البم میں دیکھنے اور ڈاونلوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کر کے میری گوگل پروفائل پر جائیں
[gallery ids="1398,1399,1400,1401,1402,1403,1404,1405,1406,1407,1408,1409,1410,1411,1412,1413,1414,1415,1416,1417,1418,1419,1420,1421,1422,1423,1424,1425,1426,1427,1428,1429,1430,1431,1432,1433,1434,1435,1436,1437,1438,1439,1440,1441,1442,1443,1444,1445,1446,1447,1448,1449,1450,1451,1452,1453,1454,1455,1456,1457,1458,1459,1460,1461,1462,1463,1464,1465,1466,1467,1468,1469,1470,1471,1472,1473,1474,1475,1476,1477,1478"]
اسی سلسلے میں گذشتہ روز پراپرٹی کی خریدو فروخت سے متعلق پاکستان کی سب سے بڑی ویب سائٹ زمین ڈاٹ کوم کی جانب سے لاہور کے علاقے گلبرگ میں کیفے اپ سٹیرز میں ایک بلاگر میٹ اپ کا اہتمام کیا گیا جس میں لاہور کے بلاگرز کے علاوہ صحافت،کیمونیکیشن اور آئی ٹی سے متعلقہ افراد نے بھی شرکت کی۔
انٹرنیٹ کی دنیا میں پراپرٹی کی خریدو فروخت سے متعلق زمین ڈاٹ کوم کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے کیونکہ اس ویب سائٹ کے زریعہ سے پوری دنیا سے روزانہ سینکڑوں لوگ آن لائن جائیداد کی خریدوفرخت میں حصہ لیتے ہیں ۔پراپرٹی کی خریدو فروخت سے متعلق زمین ڈاٹ کوم کی ابتدا دو بھائیوں مسٹر ذیشان علی خان اور عمران علی خان نے 2006 میں کی ۔یہ ویب سائٹ اتنی مشہور ہوئی کہ اگلے ہی سال 2007 میں ‘‘ سی این بی سی ‘‘ نے اسے پاکستان کی بہترین ویب پراپرٹی پورٹل کے ایوارڈ سے نوازا۔سٹاف کی مسلسل محنت اور عوام کی آن لائن پراپرٹی کی خریدوفروخت میں دلچسپی کی وجہ سے 2009 ایک ہزار چار سو چوبیس اسٹیٹ ایجینسیز سے اس کے روابط استوار ہوئے جنہوں نے جائیداد کی خریدو فروخت کے سلسلے میں زمین ڈاٹ کوم کی ویب سائٹ کا استمال کیا۔جبکہ اسی سال دنیا سے آٹھ لاکھ چوالیس ہزار سات سو چھبیس لوگوں نے اس سائٹ کا وزٹ کیا۔2010 میں پراپرٹی کی خریدو فروخت سے متعلق زمین ڈاٹ کوم کی اس ویب سائٹ کے ایک لاکھ نو سو چھیاسٹھ اسٹیٹ ایجینسیز سے روابط استوار ہوئے جبکہ اس سال ویب سائٹ پر پوری دنیا سے آنے والے لوگوں کی تعداد ایک کروڑ بیس لاکھ آٹھ ہزار چھ سو پینتالیس تک پہنچ چکی تھی۔اسی طرح 2012 کے آخر تک پراپرٹی کی خریدو فروخت سے متعلق زمین ڈاٹ کوم کی ویب سائٹ پر سالانہ لوگوں کی تعداد دو کروڑ چون لاکھ تین ہزار چار سو اکتیس تک پہنچ چکی تھی جبکہ پراپرٹی کی خریدو فروخت سے متعلق اس ویب سائٹ کے روابط تین ہزار پانچ سو ستاسی اسٹیٹ ایجینسیز سے ہو چکے تھے جو کہ زمین ڈاٹ کوم کو مسلسل استمال کر رہی تھیں۔
پراپرٹی کی خریدو فروخت سے متعلق زمین ڈاٹ کوم نے 2013 میں انگلش زبان کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں بھی اپنی ویب سائٹ کا ترجمہ کر دیا تاکہ اردودان طبقہ بھی اس سے بھرپور استفادہ حاصل کر سکے۔اسی سال زمین ڈاٹ کوم کو موبائل پر استمال کے قابل بنانے کے ساتھ ساتھ پراپرٹی فورم کا اجراء بھی گیا گیا۔دوہزار تیرہ میں ہی زمین ڈاٹ کوم کے ملک بھر سے چار ہزار پانچ سو اسٹیٹ ایجینسیز سے روابط استوار ہو چکے تھے جو مسلسل پراپرٹی کی خریدو فروخت سے متعلق اس ویب سائٹ کو استمال کر رہے تھے جبکہ اس سال ویب سائٹ پر لوگوں کی سالانہ تعداد چار کروڑ انتیس لاکھ تین ہزار پانچ سو اکیانوے تک پہنچ چکی تھی جبکہ سوشل میڈیا میں فیس بک پر اس کے چاہنے والوں کی تعداد دولاکھ سے تجاوز کر چکی تھی ۔
۔2014 میں پراپرٹی کی خریدو فروخت سے متعلق زمین ڈاٹ کوم کی اس ویب سائٹ کے کراچی، اسلام آباد آفس کے علاوہ لاہور آفس کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔زمین ڈاٹ کوم کا 120 سے زائد افراد پر مشتمل محنتی سٹاف پاکستان اور پاکستان سے باہر کے رہنے والے لوگوں کو دن رات پراپرٹی کی خریدو فروخت سے متعلق ایک بہترین سروس مہیا کر رہا ہے۔زمین ڈاٹ کوم نے پراپرٹی سے متعلق حال ہی میں اپنے میگزین کا بھی اجرا کر دیا ہے جبکہ پراپرٹی کی خریدو فروخت سے متعلق زمین ڈاٹ کوم کے پانچ ہزار اسٹیٹ ایجینسیز سے روابط استوار ہو چکے ہیں اور فیس بک پر اس کے چاہنے والوں کی تعداد دولاکھ ستر ہزار تک پہنچ چکی ہے۔
تمام تصاویر البم میں دیکھنے اور ڈاونلوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کر کے میری گوگل پروفائل پر جائیں
[gallery ids="1398,1399,1400,1401,1402,1403,1404,1405,1406,1407,1408,1409,1410,1411,1412,1413,1414,1415,1416,1417,1418,1419,1420,1421,1422,1423,1424,1425,1426,1427,1428,1429,1430,1431,1432,1433,1434,1435,1436,1437,1438,1439,1440,1441,1442,1443,1444,1445,1446,1447,1448,1449,1450,1451,1452,1453,1454,1455,1456,1457,1458,1459,1460,1461,1462,1463,1464,1465,1466,1467,1468,1469,1470,1471,1472,1473,1474,1475,1476,1477,1478"]
اتوار، 25 مئی، 2014
شورہ ۔۔۔۔ شوربہ نہیں بن سکتا
شورہ پنجابی زبان کا لفظ ہے ۔آپ اس لفظ کو پنجابی کی گالی بھی کہہ سکتے ہیں۔ہمارے لاہوریوں میں یہ گالی کثرت سے نکالی جاتی ہے ۔یعنی اگر کوئی شخص گندہ ، غلیظ ہو یا کہ اس کی عادتیں غلیظ ہوں اس کو عموماً ‘‘ شورہ ‘‘ کہا جاتا ہے۔کچھ لوگ لڑکیوں کے دلال جسے عرف عام میں پنجابی زبان میں ‘‘ دلا ‘‘ بھی کہا جاتا ہے ۔۔ کو بھی شورہ کہتے ہیں ۔۔۔۔
ضروری نہیں کہ دلال کو ہی شورہ کہا جاتا ہے بلکہ ایسے لوگ جو بغل میں چھری منہہ میں رام رام کی مالا جپتے نظر آتے ہیں ۔۔یعنی منافق کو۔۔۔ کو بھی لاہوری ‘‘ شورہ ‘‘ کے لقب سے پکارتے ہیں ۔
ایک آدمی میں بہت سی بری عادتیں جمع ہوں اور اس کی حرکتیں بھی گندی ہوں جو کہ اس کے قول فعل سے ظاہر بھی ہوتی ہوں تو اسے بھی ‘‘ شورہ ‘‘ کہتے ہیں ۔
کچھ ایسے لوگوں کو بھی ‘‘ شورہ ‘‘ کا لقب دیا جاتا ہے جن کو عزت راس نہ آئے ۔۔ یعنی کہ ان کی عزت کی جائے مگر وہ اپنی ہٹ دھرمی پر اڑے رہیں ۔ ۔۔ اس لئے انہیں شورہ کا لقب دیا جاتا ہے اور انہیں جتایا جاتا ہے کہ تم شورے ہی رہو گے شوربے نہیں بن سکتے ۔
اب ‘‘ شورے ‘‘ اور ‘‘ شوربے ‘‘ میں کیا فرق ہے ۔کسی بھی سالن میں پانی میں مرچ مصالحے ڈال شوربہ تیار کیا جاسکتا ہے ۔پتلے اور زیادہ شوربے کے لئے زیادہ پانی اور گاڑھے شوربے کے لئے مصالحہ جات کے ساتھ کم پانی استمال کر کے شوربہ بنایا جاتا ہے۔
اسی طرح ‘‘ شورہ ‘‘ معاشرے کے مصالحہ جات سے پک کر تیار ہوتا ہے ۔اس کی ابیاری اس کے گھر سے ہوتی ہے ۔بعد ازاں اس میں تمام بری عادتیں ڈال کر اس کو پکایا جاتا ہے تب جاکر اسے اس عظیم نام ‘‘ شورہ ‘‘ کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔
اسی طرح پاکستان کے مختلف شہروں میں اپنی اپنی بولی اور مزاج کے حساب سے مختلف الفاظ رائج ہیں ۔ جو کہ اپنے آپ میں معنی خیز ہوتے ہوئے ایک پوری تاریخ رکھتے ہیں ۔اسی طرح لفظ ‘‘ شورے ‘‘ کی بھی اپنی ایک تاریخ ہے ۔کہا جاتا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد تقریباً ١٩٥٠ میں پہلی دفعہ یہ لفظ ‘‘ شاہی محلے ‘‘ میں ‘‘ استاد فیقے ‘‘ نے بولا تھا۔کنجروں کے مستند زرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ استاد فیقے کی معشوقہ ایک دن کوٹھے پر ڈانس کے لئے نہیں آئی تو اس کے دلال کو استاد فیقے نے ‘‘ شورے ‘‘ کے الفاظ سے پکارا تھا ۔۔۔ صحیح الفاظ کے بارے میں کوئی سند تو نہیں مل سکی البتہ تاریخ ( بڑے بوڑھوں کی زبانی تاریخ ) میں جو الفاظ ملتے ہیں وہ کچھ یوں تھے‘‘‘‘‘ اوئے شورے اج ننھی مجرے تے نہی آئی ‘‘‘‘
اردو بلاگرز اور میڈیائی مفتے
الیکشن سے چند مہینے پہلے سے لے کر آج سے چند ہفتوں پہلے تک سوشل میڈیا پر جہاں گندے سیاستدانوں کی مٹی پلید کی گئی وہاں ٹی وی میڈیا کے غلط اقدامات پر اسے بھی آڑے ہاتھوں لیا گیا ۔اب لگام تو ڈالنی ہی تھی نا ان لوگوں کو ۔۔۔ سو مفت کا دانہ ڈال کر ابتدا کر دی گئی ۔
یہ بھی یاد رہے کہ میڈیائی مفتوں نے دھڑلے سے اردو بلاگروں کی تحریریں چوری کر کے اپنے اخباروں میں بغیر ویب سائٹ کا لنک دئے چھاپی ہیں ۔ پتہ چلنے پر بغیر کوئی معذرت کئے بلاگروں کو مفتے کا لولی پاپ دے کر خوش کیا جارہا ہے ۔اور اردو بلاگرز بھی ایسے بھولے بادشاہ اور جذباتی ہیں کہ بس نہ پوچھیں ۔۔۔۔ اگر اپنے یہ محترم بلاگرز میڈیا خصوصاً ٹی وی اور اخبارات کے حالات و واقعات سے آگاہ ہوتے تو یوں تالیاں نہ پیٹ رہے ہوتے ۔
اردو بلاگرز کا مشہور ہونا اچھی بات ہے ۔ان کو پیسے ملنا اور بھی اچھی بلکہ خوشی کی بات ہے ۔۔۔۔ کروڑوں روپے روزانہ کمانے والے میڈیائی مفتے اگر بلاگروں کو ان کی تحریروں کا مناسب معاوضہ دیتے ہیں تو ان کے لئے لکھنے میں کوئی برائی نہیں ہے ۔
اب یہاں ایک بات جو انتہائی اہم ہے کہ بلاگ ایک سوچ کا نام ہے اور سوچوں پر پہرے نہیں بٹھائے جا سکتے ۔
اب ایک بلاگر کے کسی بھی روزنامے پر لکھنے سے کیا ہوگا ۔۔۔۔بس یہی ہوگا کہ ان کی تحریریں ایک خاص انداز اور نظم و ضبط کے اندر چھپنے کی وجہ سے یہ بلاگر کی پہچان کھو بیٹھیں گی ۔کیونہ یہ تجارتی بنیادوں پر لکھیں گے اور تجارتی بنیادوں پر لکھنے والا اپنے آقا کے بنائے ہوئے قوانین کا پابند ہوتا ہے ۔۔۔ سو اسے پابندی تو کرنی پڑے گی ۔
بلاگر وہی رہے گا اور کہلائے گا جس کی تحریر میں اس کی سوچ اور آزادی کا پر تو ہوگا
پیر، 3 فروری، 2014
اردو بلاگرز اور میڈیائی مفتے
الیکشن سے چند مہینے پہلے سے لے کر آج سے چند ہفتوں پہلے تک سوشل میڈیا پر جہاں گندے سیاستدانوں کی مٹی پلید کی گئی وہاں ٹی وی میڈیا کے غلط اقدامات پر اسے بھی آڑے ہاتھوں لیا گیا ۔اب لگام تو ڈالنی ہی تھی نا ان لوگوں کو ۔۔۔ سو مفت کا دانہ ڈال کر ابتدا کر دی گئی ۔
یہ بھی یاد رہے کہ میڈیائی مفتوں نے دھڑلے سے اردو بلاگروں کی تحریریں چوری کر کے اپنے اخباروں میں بغیر ویب سائٹ کا لنک دئے چھاپی ہیں ۔ پتہ چلنے پر بغیر کوئی معذرت کئے بلاگروں کو مفتے کا لولی پاپ دے کر خوش کیا جارہا ہے ۔اور اردو بلاگرز بھی ایسے بھولے بادشاہ اور جذباتی ہیں کہ بس نہ پوچھیں ۔۔۔۔ اگر اپنے یہ محترم بلاگرز میڈیا خصوصاً ٹی وی اور اخبارات کے حالات و واقعات سے آگاہ ہوتے تو یوں تالیاں نہ پیٹ رہے ہوتے ۔
اردو بلاگرز کا مشہور ہونا اچھی بات ہے ۔ان کو پیسے ملنا اور بھی اچھی بلکہ خوشی کی بات ہے ۔۔۔۔ کروڑوں روپے روزانہ کمانے والے میڈیائی مفتے اگر بلاگروں کو ان کی تحریروں کا مناسب معاوضہ دیتے ہیں تو ان کے لئے لکھنے میں کوئی برائی نہیں ہے ۔
اب یہاں ایک بات جو انتہائی اہم ہے کہ بلاگ ایک سوچ کا نام ہے اور سوچوں پر پہرے نہیں بٹھائے جا سکتے ۔
اب ایک بلاگر کے کسی بھی روزنامے پر لکھنے سے کیا ہوگا ۔۔۔۔بس یہی ہوگا کہ ان کی تحریریں ایک خاص انداز اور نظم و ضبط کے اندر چھپنے کی وجہ سے یہ بلاگر کی پہچان کھو بیٹھیں گی ۔کیونہ یہ تجارتی بنیادوں پر لکھیں گے اور تجارتی بنیادوں پر لکھنے والا اپنے آقا کے بنائے ہوئے قوانین کا پابند ہوتا ہے ۔۔۔ سو اسے پابندی تو کرنی پڑے گی ۔
بلاگر وہی رہے گا اور کہلائے گا جس کی تحریر میں اس کی سوچ اور آزادی کا پر تو ہوگا
یہ بھی یاد رہے کہ میڈیائی مفتوں نے دھڑلے سے اردو بلاگروں کی تحریریں چوری کر کے اپنے اخباروں میں بغیر ویب سائٹ کا لنک دئے چھاپی ہیں ۔ پتہ چلنے پر بغیر کوئی معذرت کئے بلاگروں کو مفتے کا لولی پاپ دے کر خوش کیا جارہا ہے ۔اور اردو بلاگرز بھی ایسے بھولے بادشاہ اور جذباتی ہیں کہ بس نہ پوچھیں ۔۔۔۔ اگر اپنے یہ محترم بلاگرز میڈیا خصوصاً ٹی وی اور اخبارات کے حالات و واقعات سے آگاہ ہوتے تو یوں تالیاں نہ پیٹ رہے ہوتے ۔
اردو بلاگرز کا مشہور ہونا اچھی بات ہے ۔ان کو پیسے ملنا اور بھی اچھی بلکہ خوشی کی بات ہے ۔۔۔۔ کروڑوں روپے روزانہ کمانے والے میڈیائی مفتے اگر بلاگروں کو ان کی تحریروں کا مناسب معاوضہ دیتے ہیں تو ان کے لئے لکھنے میں کوئی برائی نہیں ہے ۔
اب یہاں ایک بات جو انتہائی اہم ہے کہ بلاگ ایک سوچ کا نام ہے اور سوچوں پر پہرے نہیں بٹھائے جا سکتے ۔
اب ایک بلاگر کے کسی بھی روزنامے پر لکھنے سے کیا ہوگا ۔۔۔۔بس یہی ہوگا کہ ان کی تحریریں ایک خاص انداز اور نظم و ضبط کے اندر چھپنے کی وجہ سے یہ بلاگر کی پہچان کھو بیٹھیں گی ۔کیونہ یہ تجارتی بنیادوں پر لکھیں گے اور تجارتی بنیادوں پر لکھنے والا اپنے آقا کے بنائے ہوئے قوانین کا پابند ہوتا ہے ۔۔۔ سو اسے پابندی تو کرنی پڑے گی ۔
بلاگر وہی رہے گا اور کہلائے گا جس کی تحریر میں اس کی سوچ اور آزادی کا پر تو ہوگا
جمعہ، 10 مئی، 2013
اس دفعہ حکومت مسلم لیگ نواز کی ہو گی ۔۔ ہمارے موکلوں کا دعوٰی
پاکستان میں قومی الیکشن 2013 کی پولنگ شروع ہونے میں پانچ گھنٹے رہ گئے ہیں ۔ایسے میں ہمارے موکلوں نے آخری پیشگوئی کر دی ہے ۔ موکلوں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون 120 سے زائد سیٹیں لے کر ہمدردوں کے ساتھ حکومت بنائے گی ۔
پاکستان تحریک انصاف کے بارے میں ہمارے موکلوں کا کہنا تھا کہ اسے 20 سے 25 سیٹیں مل سکتی ہیں ۔۔۔ پیپلز پارٹی کے بارے میں ہمارے موکلوں نے 40 سے 50 سیٹیوں کی پیشگوئی کی ہے
ہم نے موکلوں کے روحانی پیشوا بابے عیدو سے جب موکلوں کی اس پیشگوئی بارے رائے پوچھی تو وہ گم سم سے نظر آئے ۔ ان کا بس یہ کہنا تھا کہ وہ اپنے رائے محفوظ رکھتے ہیں
پاکستان تحریک انصاف کے بارے میں ہمارے موکلوں کا کہنا تھا کہ اسے 20 سے 25 سیٹیں مل سکتی ہیں ۔۔۔ پیپلز پارٹی کے بارے میں ہمارے موکلوں نے 40 سے 50 سیٹیوں کی پیشگوئی کی ہے
ہم نے موکلوں کے روحانی پیشوا بابے عیدو سے جب موکلوں کی اس پیشگوئی بارے رائے پوچھی تو وہ گم سم سے نظر آئے ۔ ان کا بس یہ کہنا تھا کہ وہ اپنے رائے محفوظ رکھتے ہیں
اس دفعہ حکومت مسلم لیگ نواز کی ہو گی ۔۔ ہمارے موکلوں کا دعوٰی
پاکستان میں قومی الیکشن 2013 کی پولنگ شروع ہونے میں پانچ گھنٹے رہ گئے ہیں ۔ایسے میں ہمارے موکلوں نے آخری پیشگوئی کر دی ہے ۔ موکلوں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون 120 سے زائد سیٹیں لے کر ہمدردوں کے ساتھ حکومت بنائے گی ۔
پاکستان تحریک انصاف کے بارے میں ہمارے موکلوں کا کہنا تھا کہ اسے 20 سے 25 سیٹیں مل سکتی ہیں ۔۔۔ پیپلز پارٹی کے بارے میں ہمارے موکلوں نے 40 سے 50 سیٹیوں کی پیشگوئی کی ہے
ہم نے موکلوں کے روحانی پیشوا بابے عیدو سے جب موکلوں کی اس پیشگوئی بارے رائے پوچھی تو وہ گم سم سے نظر آئے ۔ ان کا بس یہ کہنا تھا کہ وہ اپنے رائے محفوظ رکھتے ہیں
پاکستان تحریک انصاف کے بارے میں ہمارے موکلوں کا کہنا تھا کہ اسے 20 سے 25 سیٹیں مل سکتی ہیں ۔۔۔ پیپلز پارٹی کے بارے میں ہمارے موکلوں نے 40 سے 50 سیٹیوں کی پیشگوئی کی ہے
ہم نے موکلوں کے روحانی پیشوا بابے عیدو سے جب موکلوں کی اس پیشگوئی بارے رائے پوچھی تو وہ گم سم سے نظر آئے ۔ ان کا بس یہ کہنا تھا کہ وہ اپنے رائے محفوظ رکھتے ہیں
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)

