History لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
History لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 27 اپریل، 2017

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
مسجد شب بھر شہر لاہور میں شاہ عالمی چوک کے ساتھ واقع ہے ۔ اگر آپ لوہاری دروازے کی جانب سے آئیں تو دائیں ہاتھ اور اگر موچی دروازہ کی جانب سے آئیں تو بائیں ہاتھ شاہ عالمی چوک کے کونے میں واقع ہے۔۔۔کہا جاتا ہے کہ قیام پاکستان سے قبل مسلمانوں نے اسے ایک رات میں تعمیر کیا تھا۔اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسی مسجد کے بارے میں علامہ اقبال نے یہ شعر کہا تھا ۔۔۔۔۔۔

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا

[gallery ids="2360,2361,2362,2363,2364"]

لاہور میں واقع ‘‘ مسجد شب بھر ‘‘ کو ایک رات میں تعمیر کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ انگریزوں کے دور میں یہ مقام ہندؤں اور مسلمانوں دونوں کی آماجگاہ تھا ۔دو دراز سے آنے والے مسافر یہاں بسیرا کیا کرتے تھے۔کہا جاتا ہے کہ ایک دن ایک مسلمان مسافر کی اس جگہ نماز پڑھنے کے بعد وہاں بیٹھے ہندؤں سے تو تکار ہو گئی ۔بات ہاتھا پائی سے ہوتی ہوئی ہنگامہ آرائی کی شکل اختیار کر گئی ۔ ہنگامہ آرائی اتنی بڑھی کہ پولیس کو مداخلت کرنا پڑی اور دونوں فریقین کے درمیان کیس درج کر لیا گیا ۔۔۔ اب بات عدالت تک جا پہنچی تھی ۔

عدالت میں ہندؤں نے موقف اختیار کیا کہ یہ ہمارے مندر کی جگہ ہے اور یہاں ہم اب نیا مندر تعمیر کریں گے ۔۔۔ جبکہ دوسری جانب مسلمانوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ چونکہ اس جگہ ہم عبادت کرتے ہیں سو یہ جگہ ہماری مسجد کے لئے ہے ۔مسلمانوں کی جانب سے اس کیس کی پیروی قائد اعظم محمد علی جناح کر رہے تھے ۔ اس موقع پر محمد علی جناح نے کہا کہ اگر ہم یہ ثابت کر سکیں کہ یہاں مسلمانوں کی عبادت گاہ موجود ہے تو یہ کیس ہم آسانی سے جیت جائیں گے اور کیس کا فیصلہ ہمارے حق میں ہو گا۔

کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں نے گاماں پہلوان کی قیادت میں پانچ سو سے زائد افراد کے ساتھ راتوں رات مسجد کے ڈھانچے کو کھڑا کر دیا ۔تاریخ بتاتی ہے کہ ان افراد میں کافی تعداد میں عورتیں بھی شامل تھیں جو اپنے گھروں سے پانی لا لا کر مردوں کا ہاتھ بٹاتی رہیں ۔ صبح تک لوگوں نے دیکھا کہ ‘‘ مسجد شب بھر ‘‘ پوری آب و تاب کے ساتھ اپنی جگہ موجود تھی ۔دوسری جانب مسجد کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد عدالت نے مسلمانوں کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔
علامہ اقبال کو جب اس ‘‘ مسجد شب بھر ‘‘ کی تعمیر کا پتہ چلا تو آپ نے یہ مشہور شعرکہے ۔

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا

اب اس کا نام ‘‘ مسجد شب بھر ‘‘ کس نے رکھا ۔۔۔ اس کے بارے میں مختلف بیانات موجود ہیں ۔۔البتہ تاریخ کی کتابوں میں اس مسجد کا سن تعمیر 1917ء اور اس کا نام “مسجد شب بھر“ درج ہے

علامہ اقبال کی لکھی گئی پوری غزل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا
کیا خوب امیرِ فیصل کو سنوسی نے پیغام دیا
تو نام و نسب کا حجازی ہے پر دل کا حجازی بن نہ سکا
تر آنکھیں تو ہو جاتی ہیں پر کیا لذت اس رونے میں
جب خونِ جگر کی آمیزش سے اشک پیازی بن نہ سکا
اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتار کا یہ غازی تو بنا کردار کا غازی بن نہ سکا

منگل، 22 جولائی، 2014

انسانی تاریخ کا آغاز

tareekh-01انسانی تاریخ کا آغاز
تاریخ کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب انسان معاشرتی حالات میں داخل ہوتا ہے۔جب تک انسان دور فطرت میں رہتا تھا اسے دوسروں کی کچھ پرواہ نہ تھی۔اس کی صرف ایک ہی ضرورت تھی کہ وہ کسی طرح اپنی بھوک مٹائے۔دور وحشت کی انسانی حالت حیوانی حالت سے ملتی جلتی تھی،جب دور وحشت کا خاتمہ ہوا،انسانی معاشرہ وجود میں آیا اور باہمی ضروریات کے لئے انسان آپس میں ملے تو انسانی تاریخ کا آغاز ہوا۔

ماضی کے واقعات جاننے کی جستجو
جوں جوں انسان نے تہذیب و ثقافت میں قدم آگے بڑھائے،اس کا ماضی کے حالات دریافت کرنے کا شوق بڑھتا گیا۔اس کے ساتھ ساتھ انسان کو یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ آنے والی نسلیں کہیں اس کے قیمتی تجربات سے محروم نہ رہ جائیں۔ان قیمتی تجربات کو محفوظ کرنے کی کوششیں شروع ہوئیں اور فن تحریر ایجاد ہوا۔پہلے تو قیمتی تجربات سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے رہے۔اس کے بعد پتھروں ، درختوں کی چھالوں ، جانوروں کی کھالوں ، پتوں اور پھر صفحہ قرطاس پر اتارے جانے لگے۔۔آریوں کی وید ، زرتشتوں کے زند و اوستہ ، حضرت موسیٰ علیہ السلا م کے فرامین ، زبور ، توریت ، حمورابی کے قوانین ، فراعین کے اہرام اور اشوک کی لاٹیں قدیم تاریخیں ہیں جو انسانوں کے تاریخی ذوق و ورثہ کا پتہ دیتی ہیں ۔

انسانی تہذیب و تمدن کی تاریخ
انسانی تہذیب و تمدن کا یہ سلسلہ قریباً دس ہزار سال پر محیط ہے ۔ لہذا تاریخ کا علم انسانی زندگی کے ماضی کے حالات و واقعات کو ہمارے سامنے لاتا ہے اور ان حالات کو معلوم کر کے ہم اپنی زندگی کو آگے بڑھاتے ہیں۔ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ۔۔۔۔
۔۔ ‘‘ علم تاریخ راہ حیات کی وہ گاڑی ہے جو مختلف زمانوں کی تہذیبوں کے راستے سے گذرتی ہوئی ان کی ابتدا و انتہا اور ارتقاء سے آگاہ کرتی ہے ‘‘ ۔۔۔
ڈچ مورخ ہوزنگ کے مطابق ۔۔۔
۔۔۔ ‘‘ تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں سے ماضی کی تہذیب کا عکس نظر آتا ہے ‘‘۔۔۔
تاریخ یقیناً داستان سرائی ہے لیکن یہ خود ساختہ داستان نہیں ۔ اس میں وہ داستان بیان کی جاتی ہے جو زمانہ ماضی کے حالات پر مبنی ہو ، یا مورخ اپنی چھان بین سے ماضی کے واقعات دریافت کر کے انہیں ازسر نو مرتب کر دے ۔بلاشبہ ہم ماضی کو اس صورت میں بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں جب ہمارے پاس ماضی کے حوادث و واقعات کا وسیع مواد موجود ہو ۔
قوموں کی بلندی و پستی کے جس قدر اسباب ہوتے ہیں تاریخ ان کا تجزیہ پیش کرتی ہے کہ کس طرح ایک قوم ایک وقت میں گوشہ گمنامی میں روپوش ہوتی ہے اور وہ پھر کیونکر بتدیج منازل ارتقاء طے کرتی ہوئی منظر تاباں پر آتی ہے اور پھر کس طرح بگڑتے بگڑتے ایسی روپوش ہوتی ہے کہ کسی کو خیال تک نہیں آتا کہ یہ بھی کبھی زندہ قوم تھی ۔