Pakistan Election لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Pakistan Election لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 22 جولائی، 2018

الیکشن 2018 سوشل میڈیا اور نفرت انگیز مواد کی تشہیر


آج سے تین دن پیشتر مجھے فرخ منظور نے پاکستان کی ایک معروف این جی اوز ‘‘ برگد ‘‘ کی جانب سے آیا ہوا ایک دعوت نامہ پہنچایا کہ اتوار صبح گیارہ بجے سے ایک بجے تک ‘‘ برگد ‘‘ کی جانب سے پاکستان الیکشن 2018 کے سلسلہ میں سوشل میڈیا پر گالی گلوچ اور نفرت انگیز مواد کی روک تھام پر ایک مکالمہ ہو رہا ہے جس میں بلاگرز نے بھی شرکت کرنی ہے ۔

موضوع چونکہ دلچسپ تھا اس لئے سوچا شرکت لازمی کرنا چاہئے ۔۔۔ وقت زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے میں نے صرف لاہور کے مرد و زن اور ایک خواجہ سرا بلاگر کو بھی اپنی طرف سے اس مکالمے میں شرکت کی درخواست کر دی ۔۔۔مگر خواتین اور خواجہ سرا بلاگر نے مصروفیت زیادہ ہونے کی وجہ سے مکالمے میں شرکت پر معذرت کر لی ۔۔۔ جس کا مجھے افسوس ہوا۔

وقت مقررہ پر جب ہم معروف این جی اوز ‘‘ برگد ‘‘ کے آفس پہنچے تو انہوں نے بڑی عزت سے ہمیں خوش آمدید کہا ۔۔۔ آپس میں تعارف کروانے کے بعد ہمیں الیکشن 2018 کے سلسلے میں سوشل میڈیا پر مختلف لوگوں اور تنظیمیوں کی جانب سے جو نفرت انگیز مواد شائع کیا جارہا تھا اس کے سروے سے آگاہ کیا گیا اور اس پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔


معروف این جی اوز ‘‘ برگد ‘‘ کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فیس بک کے ماہانہ صارفین کی تعداد ‘‘ تین کروڑ ‘‘ کے لگ بھگ ہے جبکہ دوسری جانب اس کے مقابلے میں ٹیویٹر کے ماہانہ صارفین صرف 35 لاکھ ہیں ۔۔مگر پھر بھی فیس بک کی نسبت ٹویٹر پر نفرت انگیز مواد اور اس پر اظہار رائے زیادہ موثر ثابت ہوتا ہے ۔۔الیکشن 2018 اور سوشل میڈیا صارفین کے حوالے سے مرتب کی جانے والی اس رپورٹ کے لئے تیس ہزار صارفین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا تین ماہ ( اپریل 2018 تا جولائی 2018 تک ڈیٹقا اکھٹا کیا گیا ۔

یہ تحقیقایک پراجیکٹ ‘‘ پر امن الیکشن اور نوجوانوں کا کردار ‘‘ کا حصہ تھی جس میں خیبر پختونخواہ اور پنجاب کی کل دس یونیورسٹیز کے 200 طلباء و طالبات نے براہ راست دو دن کے مشاورتی اجلاسوں میں حصہ لیا اور تربیت حاصل کرنے کے بعد دونوں صوبوں میں پر امن الیکشن اور نوجوانوں کے کردار کے حوالہ سے 100 کے قریب مختلف پراجیکٹس کئے ۔

اس رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی کہ سوشل میڈیا نفرت نانگیز مواد کی اشاعت میں کس طرح مددگار ثابت ہو رہا ہے۔اور سیاسی تشہیر میں اس قابل نفرت مواد کو سیاسی رہنما اور اس کے حامی کس طرح استمال کر رہے ہیں ۔


تحقیقی رپورٹ کے مطابق یہ بات بھی سامنے آئی کی تحریری مواد کے ساتھ ساتھ تصاویر ، آڈیو اور ویڈیوز کا استمال نفرت انگیز مواد پھیلانے میں سب سے زیادہ ہوتا ہے ۔۔۔اپریل سے جولائی تک کی سیاسی تشہیر میں سب سے زیادہ نفرت انگیز مواد کا استمال کیا گیا جس میں نفرت انگیز مواد کی تائید ، تشہیر اور اس پر مباحث شامل تھے ۔اس رپورٹ سے یہ بھی بات سامنے آئی کہ نفرت انگیز مواد میں اعتراضات ،الزامات اور شخصی تشخص کو نشانہ بنانے کا استمال سب سے زیادہ کیا جاتا ہے ۔۔مزید مذہبی عدم برداشت اور صنفی اعتبار سے مخالفین کو تضحیک اور قابل نفرت انداز میں پیش کرنا بھی ایک مقبول طرز عمل ہے ۔۔اس حوالے سے ٹویٹر پر ایسے ہیش ٹیگ کا استمال جا بجا دیکھا گیا جو براہ راست نفرت انگیز بیانئے پر مشتمل تھے ۔سیاسی جماعتوں مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے حامیوں کے درمیان سوشل میڈیا پر براہ راست گالم گلوچ ،عقیدے ، برادری ، پیشہ اور صنفی اعتبار سے نفرت انگیز مواد کا پھیلاؤ زیادہ نمایاں طور پر سامنے آیا ۔۔


اس تحقیقی رپورٹ میں یہ بھی بات سامنے آئی کہ الیکشن کے دنوں میں انفرادی اور ایک گروہ کی صورت میں نفرت انگیز مواد کی تخلیق و تشہیر کو باقاعدہ ایک منظم طریقے سے بھی کیا جارہا ہے اور ایسے کئی صارفین اور پیج متحرک ہیں جو نفرت انگیز مواد کی تشہیر باقاعدہ کرتے ہیں ۔۔


معروف این جی اوز ‘‘ برگد ‘‘ کی اس حالیہ رپورٹ کی رو سے ہمیں ضرورت ہے کہ نفرت انگیز مواد کے حوالے سے قابل عمل قانون سازی کی جائے اس کے ساتھ ساتھ لوگوں میں جانکاری بڑھانے کے لئے نصاب میں ایسے اسباق شامل کئے جائیں جو کہ قابل نفرت رویے اور ان کے اظہار کو روکنے میں مدد دے سکیں ۔

جمعہ، 10 مئی، 2013

اس دفعہ حکومت مسلم لیگ نواز کی ہو گی ۔۔ ہمارے موکلوں کا دعوٰی

پاکستان میں قومی الیکشن 2013 کی پولنگ شروع ہونے میں پانچ گھنٹے رہ گئے ہیں ۔ایسے میں ہمارے موکلوں نے آخری پیشگوئی کر دی ہے ۔ موکلوں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون 120 سے زائد سیٹیں لے کر ہمدردوں کے ساتھ حکومت بنائے گی ۔
پاکستان تحریک انصاف کے بارے میں ہمارے موکلوں کا کہنا تھا کہ اسے 20 سے 25 سیٹیں مل سکتی ہیں ۔۔۔ پیپلز پارٹی کے بارے میں ہمارے موکلوں نے 40 سے 50 سیٹیوں کی پیشگوئی کی ہے

ہم نے موکلوں کے روحانی پیشوا بابے عیدو سے جب موکلوں کی اس پیشگوئی بارے رائے پوچھی تو وہ گم سم سے نظر آئے ۔ ان کا بس یہ کہنا تھا کہ وہ اپنے رائے محفوظ رکھتے ہیں



اس دفعہ حکومت مسلم لیگ نواز کی ہو گی ۔۔ ہمارے موکلوں کا دعوٰی

پاکستان میں قومی الیکشن 2013 کی پولنگ شروع ہونے میں پانچ گھنٹے رہ گئے ہیں ۔ایسے میں ہمارے موکلوں نے آخری پیشگوئی کر دی ہے ۔ موکلوں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون 120 سے زائد سیٹیں لے کر ہمدردوں کے ساتھ حکومت بنائے گی ۔
پاکستان تحریک انصاف کے بارے میں ہمارے موکلوں کا کہنا تھا کہ اسے 20 سے 25 سیٹیں مل سکتی ہیں ۔۔۔ پیپلز پارٹی کے بارے میں ہمارے موکلوں نے 40 سے 50 سیٹیوں کی پیشگوئی کی ہے

ہم نے موکلوں کے روحانی پیشوا بابے عیدو سے جب موکلوں کی اس پیشگوئی بارے رائے پوچھی تو وہ گم سم سے نظر آئے ۔ ان کا بس یہ کہنا تھا کہ وہ اپنے رائے محفوظ رکھتے ہیں

منگل، 26 مارچ، 2013

امریکہ سے نفرت کس کے لئے ؟

میرے بہت سے رشتہ دار دوست احباب امریکہ اور دوسرے ملکوں میں مقیم ہیں۔مگر امریکہ میں سب سے زیادہ ہیں ۔وہ پاکستانی ہیں ، وہاں رہتے ہیں، امریکہ کے قانون فالو کرتے ہیں ۔اپنے مذہب پر بھی عمل پیرا ہیں اور اس میں انہیں کوئی روک ٹوک بھی نہیں ہے ۔ ان کو پاکستان سے زیادہ اپنے اس رہنے والے ملک امریکہ سے ہمدردی ہے۔ان میں سے اب ان کی اولادیں جو وہاں پیدا ہوئی ہیں ان کا ملک امریکہ ہی ہے۔ان کے نزدیک پاکستان کی اہمیت صرف اتنی ہے کہ وہ ان کے آباؤاجداد کا ملک ہے۔

میری طرح اور بھی بہت سے پاکستانی ، خصوصاً پاکستانی سیاستدانوں ، بیوروکریٹ ، کاروباری حضرات اور دیگر بہت سے لوگوں کے عزیزو اقارب امریکہ میں رہائش پذیر ہیں اور بہت سے وہاں کے نیشنل بھی ہیں ۔ان سب کی ہمدردیاں بھی امریکہ کے ساتھ ہیں کیونکہ وہ ان کا ملک ہے ۔

امریکہ پاکستانی عوام کی فلاح و بہبود کے درجنوں منصوبوں میں مدد کرتا ہے اور کر رہا ہے ۔صحت اور تعلیم کے شعبے کے علاوہ دیگر بہت سے شعبوں میں بھی امداد کی مد میں امریکہ پاکستان کو کروڑوں ڈالر کی امداد دیتا ہے ۔خواتین اور بچوں کے فلاحی منصوبوں میں بھی امریکی امداد اور سپورٹ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔

امریکہ کی جانب سے اتنا کچھ کرنے کے باوجود بھی پاکستان کے رہنے والے عوام امریکہ سے نفرت کرتے ہیں ۔اور یہ واقع میں بڑی حیرت کی بات ہے کہ امریکہ کی اتنی مہربانیوں کے باوجود بھی پاکستانی عوام امریکہ سے نفرت کرتی ہے ۔میری نظر میں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے سیاستدان ، مذہبی رہنما اور دیگر کچھ سرکردہ لوگ امریکہ سے مفادات حاصل کرنے کے باوجود بھی یہ نہیں چاہتے کہ عوام کی ہمدردیاں امریکہ کے حق میں ہوں ۔

اب یہاں ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ۔۔۔
پاکستان کی ہمدردی میں اتنا کچھ کرنے کے پیچھے امریکہ کے کیا مقاصد کارفرما ہیں ؟
یا کہ امریکہ اتنی ساری مہربانیوں کے عوض ہم ( پاکستانیوں ) سے بدلے میں کیا چاہتا ہے ؟

ان دو اہم سوالوں کا کوئی لمبا چوڑا جواب نہیں ہے اور نہ ہی اس میں کوئی ہیر پھیر والی بات ہے اور نہ ہی ان سوالوں کے جواب کو سمجھنے کے لئے سائنس دان یا حساب دان یا کہ کوئی بڑا پڑھا لکھا ہونے کی ضرورت ہے ۔دو اور دو چار کی طرح ان سوالوں کا صرف ایک آسان اور سادہ سا جواب ہے وہ یہ کہ ۔۔۔
امریکہ ہم سے صرف اور صرف یہ چاہتا ہے کہ ۔۔۔
۔۔ ‘‘ ہم اس کے قوانین پر عمل کریں ‘‘۔۔۔۔

اب میں کسی تہمید کے بغیر ہم سب کے ذہن میں آئے سوالات اور اس کا جواب نیچے لکھ دیتا ہوں تاکہ اور آسانی رہے ۔۔

سوال ۔۔۔
پاکستان کی ہمدردی میں اتنا کچھ کرنے کے پیچھے امریکہ کے کیا مقاصد کار فرما ہیں ؟
یا کہ امریکہ اتنی ساری مہربانیوں کے عوض ہم ( پاکستانیوں ) سے بدلے میں کیا چاہتا ہے ؟

جواب ۔۔۔
۔۔ ‘‘ ہم اس کے قوانین پر عمل کریں ‘‘۔۔۔۔

اب یہاں سوال ذہن میں ابھرتے ہیں ۔۔
١ ۔پاکستان میں تمام قوانین امریکہ کے لاگو کر دئے جائیں ۔۔۔ ۔( جو کہ درپردہ اہم فیصلوں پر لاگو ہیں ) ۔

یہاں ایک اور بڑی اہم بات ۔۔۔ وہ یہ کہ پاکستان میں وہ لوگ جو امریکہ کے قوانین پر عمل کر رہے ہیں وہ حکمرانی بھی کر رہے ہیں ، خوشحال بھی ہیں ، بھوکے بھی نہیں سوتے ۔
اور عوام جو ان کی منصوبہ بندی ، سازش اور حکمت عملی سے پھیلائی ہوئی نفرت زدہ سوچ کے تحت امریکہ سے نفرت کرتی چلی جارہی ہے ، وہ بھوکی بھی ہے ، بدحال بھی ہے




اتوار، 17 مارچ، 2013

امریکہ زندہ باد

آج علی الصبح ہمارے موکلوں نے اطلاع دی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے وزیراعظم کے طور پر نامزد کئے گئے آراکین کے نام ڈھکوسلہ ہیں ۔ جلد ہی نیا پاکستانی وزیر اعظم مسند اقتدار پر بیٹھنے والا ہے ۔جس پر حکومت اور اپوزیشن دونوں متفق ہوں گے ۔اطلاعات کے مطابق اتنے اہم موقع پر مسلم لیگ نون کے صدر میاں نواز شریف علاج کے بہانے لندن میں مقیم ہیں ۔جہاں پاکستان کے مستقبل کی کھچڑی بس تیار ہونے کے قریب ہے ۔میرے موکلوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ نئے وزیراعظم کے نام پر مولانا فضل الرحمن اور دوسرے اہم رہنماؤں کو اعتماد میں لیا جاچکا ہے ۔


پیر، 14 جنوری، 2008

الیکشن ٢٠٠٨ کا ایک تجزیہ

میرا یہ مضمون آپ اردو نیوز پر بھی پڑھ سکتے ہیں

جب الیکشن ٢٠٠٨ کی بازگشت شروع ہوئی تھی تو ساتھ ہی میاں نواز شریف کی آمد کا بگل بھی بجنا شروع ہو گیا تھا۔سیاسی تجزیہ نگاروں کا یہ ماننا تھا کہ بے نظیر تو پاکستان میں امریکہ کہ آشیرباد سے آسکتی ہیں مگر نواز شریف کا آنا نا ممکن دکھائی دیتا ہے۔قصہ مختصر کہ دنیا نے دیکھا کہ بے نظیر بھی پاکستان آئیں اور حکومت پاکستان کو نواز شریف کی آمد کا غم بھی سہنا پڑا۔میاں نواز شریف کی وطن واپسی سے قاف لیگ کو جتنا بڑا دھچکا لگا شاید وہ بے نظیر کی آمد کا عشرِ عشیر بھی نہیں تھا۔

اب جبکہ پاکستان کے اقتدار کی جنگ میں محترمہ بے نظیر بھٹو اپنی جان کی بازی ہار چکی ہیں تو میدان میاں نواز شریف کے لئے بالکل خالی ہوچکا ہے۔قاف لیگ کو عوام میں پہلے بھی اتنی پزیرائی حاصل نہیں تھی جو کہ ان دونوں بڑی پارٹیوں ( پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ نون ) کے مقابلے میں کوئی قابل ذکر کارکردگی دکھا پاتی مگر اب بے نظیر کی المناک موت کے بعد تو قاف لیگ صرف نام کی جماعتوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔

اگر ہم صرف پنجاب کے حوالے سے ہی الیکشن ٢٠٠٨ کی صورتحال کا جائزہ لیں تو ١٨ فروری کو ہونے والے انتخابات میں پنجاب میں کل اہل ووٹروں کی تعداد ٤ کروڑ ٤٦ ہزار ہے ، ضلع لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد میں سیاسی صورتحال بظاہر نون لیگ کے حق میں دکھائی دیتی ہے، گجرات، رحیم یار خان اور بعض دیگر اضلاع قاف لیگ کے مضبوط قلعے ہیں۔



پنجاب میں عام انتخابات ٢٠٠٨ء میں اس مرتبہ صورتحال نہایت دلچسپ رہیگی، ضلع لاہور میں سیاسی صورتحال واضح طور پر (ن) لیگ کے حق میں نظر آرہی ہے، اسی طرح راولپنڈی اور فیصل آباد میں بھی بظاہر (ن) لیگ مضبوط دکھائی دیتی ہے، تاہم گجرات، رحیم یار خان اور بعض دیگر اضلاع میں (ق) لیگ کی پوزیشن انتہائی مستحکم ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پہلے نمبر پر صوبہ پنجاب میں جہاں مجموعی طور پر 4 کروڑ 46 ہزار 914 ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سب سے کم 4 لاکھ 37 ہزار 4 سو 34 مرد اور خواتین ووٹر اپنا ووٹ کا حق استعمال کریں گے۔ضلع اٹک میں 461032 مرد اور 3 لاکھ 94 ہزار 9 سو 9 خواتین اپنا ووٹ کاسٹ کریں گے۔ ضلع بہاولپنگر میں 747178 مرد حضرات 617973 خواتین، ضلع خوشاب میں 299426 مرد، 257371 خواتین، ضلع گجرات جو کہ (ق) لیگ کے سرکردہ رہنماؤں کا گڑھ کہلاتا ہے چھ لاکھ 85 ہزار 9 سو 65 مرد، 603228 خواتین ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گی۔ ضلع بھکر میں 31278 مرد حضرات، 253267 خواتین ووٹرز ہین۔ یہاں شاہانی گروپ کے امیدوار عروج پر ہیں۔ ضلع ڈیرہ غازی خان میں (ن) لیگ کے امیدواروں کا گراف دن بدن بڑھ رہا ہے۔ یہاں پر مرد ووٹروں کی تعداد 626101 اور 480849 خواتین ووٹرز ہیں۔ ضلع فیصل آباد میں پی پی پی اور (ن) لیگ کے امیدواروں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہو گی۔یہاں مرد ووٹروں کی تعداد 1636649 اور 1311049 خواتین ووٹرز میں یہ پنجاب میں دوسرے نمبر پر ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں بھی دوسرے نمبر پر اتنی بڑی تعداد میں ووٹ ہیں جبکہ ملک بھر میں ضلع لاہور پہلے نمبر پر ہے جس میں مرد ووٹروں کی تعداد 20 لاکھ 42 ہزار 4 سو 82، خواتین 1631638 رائے دہی کیلئے اپنا حق استعمال کریں گی۔ ضلع لاہور سیاست کے اعتبار سے مسلم لیگ (ن) کا قلعہ ہے اور یہاں بھی (ق) لیگ کی دال گلتی نظر نہیں آرہی۔ اسی طرح دیگر اضلاع جن میں خانیوال مرد 572197 اور خواتین 457522 ضع قصور میں 722771 مرد اور 551886 خواتین، ضلع گوجرانوالہ جہاں ہمیشہ برادری ازم کو فوقیت حاصل رہی ہے میں مرد ووٹرز کی تعداد 133072 اور خواتین 1101947 ہیں۔ ضلع حافظ آباد میں 228873 مرد اور 173909 خواتین ووٹرز ہیں۔ ضلع جھنگ جو کہ ایک کالعدم مذہبی تنظیم کا گڑھ سمجھا جاتا ہے میں مرد ووٹرز کی تعداد 103345 اور خواتین کی 858753 ہے۔ اسی طرح دیگر اضلاع کی تعداد درج ذیل ہے۔ ضلع جہلم مرد حضرات 191771، خواتین 357277، ضلع لیہ مرد 320559 خواتین 238002، ضلع لودھراں ، مرد 307536، خواتین اور خواتین 225177، ضلع منڈی بہاؤ الدین میں 370528 مرد اور 278521 خواتین، ضلع میانوالی 348786 مرد اور خواتین 289180، ضلع ملتان 1206049 مرد اور خواتین 1002299، ضلع مظفر گڑھ میں مرد اہل ووٹروں کی تعداد 778637، خواتین 559666، ضلع ننکانہ میں مرد 364884 اور 286070 خواتین، ضلع نارووال میں 3565641 مرد اور 286072 خواتین، ضلع اوکاڑہ میں 804629 مرد اور 693515 خواتین، ضلع پاکپتن میں 3581442 مرد اور 297288 خواتین اہل ووٹر ہیں۔ ضلع رحیم یار خان میں مرد ووٹرز 1188090 اور خواتین 967464، ضلع راجن پور میں مرد 347217 اور خواتین 230476 اہل ووٹرز ہیں۔ ضلع راولپنڈی جہاں پر اس دفعہ فرزند راولپنڈی شیخ رشید کو دونوں حلقوں میں جاوید ہاشمی اور محمد حنیف عباسی جیسے مضبوط امیدواروں کا سامنا ہے۔ یہاں پر اہل مرد ووٹرز کی تعداد 1271509 اور 1137849 خواتین ووٹرز ہیں۔ ضلع ساہیوال بودلہ اور کاٹھیاں خاندانوں کا روائتی اکھاڑہ رہا ہے یہاں پر اہل رائے دہند گان مردوں کی تعداد 526909 اور خواتین 426251 ہیں۔ ضلع سرگودھا میں 1055628 اور خواتین 884451، ضلع شیخو پورہ میں 522932 مرد، 385144 خواتین ووٹرز ہیں۔ سیالکوٹ 814130 مرد اور 669993 لیڈیز ووٹرز ہیں۔ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مرد ووٹر حضرات 48714 اور خواتین 404518 اہل ہیں جبکہ ضلع وہاڑی میں مرد اہل رائے دھند گان کی تعداد 714447 اور خواتین کی 610418 موجود ہیں۔ پورے صوبہ پنجاب میں حلقہ این اے 53 راولپنڈی جہاں دونوں سابق وزراء پنجہ آزما ہیں ان میں (ن) لیگ کے چوہدری نثار علی خان اور (ق) لیگ کے غلام سرور خان آمنے سامنے ہیں جبکہ این اے 55,56 سے شیخ رشید احمد اور (ن) لیگ کے جاوید ہاشمی اور حنیف عباسی، این اے 72 میانوالی سے ڈاکٹر شیر افگن، این اے 69 سے خوشاب 14 سے سمیرا ملک سابق وزیر امور خواتین و امور نوجوانان، این اے 1269 نارووال سے محمد نصیر خان، سابق وزیر صحت اپنی قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ 2002ء میں ہونے والے الیکشن میں ٹرن اوور 35-6 فیصد تھا اور موجودہ ملکی صورتحال میں ٹرن اوور 25 یا 30 فیصد سے زائد نہیں ہو گا۔قیاس یہی ہے کہ صوبہ پنجاب میں (ن) لیگ اپنے قائد نواز شریف کی واپسی کی بدولت کلین سویپ کر جائیگی۔ اب یہ وقت ہی بتائے گا کہ آئیندہ پاکستان کے اقتدار کی مسند پر کون بیٹھے گا؟