pakistan media لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
pakistan media لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 2 نومبر، 2018

پوچھتے ہیں آپ کی کیا رائے ہے۔۔آسیہ بی بی کی رہائی کے بارے میں ؟

پوچھتے ہیں آپ کی کیا رائے ہے۔۔آسیہ بی بی کی رہائی کے بارے میں ؟

کوئی رائے نہیں ۔۔۔۔۔

میں رائے تب دوں گا جب سب اخبار والوں کو لٹکا دیا جائے جو روزانہ اخبار پر قرآن و حدیث چھاپ کر توہین کے مرتکب ہوتے ہیں

دوسرے نمبر پر ان کو بھی پھانسی دیجئے جو اخبار میں جوتے ، روٹیاں اور دوسری چیزیں لپیٹتے ہیں۔۔

اور پھر ان کو بھی پھانسی دیں جو اخبار ردی اور کوڑے دان میں پھینکتے ہیں

اس مذہبی جماعت کو بھی پھانسی دی جائے جن کے جھنڈے پر کلمہ لکھا ہوا ہے اور وہ جھنڈے غلاظت میں پڑے ملتے ہیں

پھر ان مسجد کے اماموں کو بھی پھانسی دیجئے جو ممبر رسول پر بیٹھ کر اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے جھوٹی باتیں گھڑتے ہیں

اور ہاں ان کو بھی لٹکانا مت بھولئے گا جو مسجد مدرسوں میں بچے بچیوں کے ساتھ زنا بالجبر کرتے ہیں

مجھ سے پوچھتے ہیں۔۔۔کیا رائے ہے آپ کی آسیہ کی رہائی بارے ؟
کوئی رائے نہیں ۔۔۔۔۔۔

پیر، 3 فروری، 2014

اردو بلاگرز اور میڈیائی مفتے

الیکشن سے چند مہینے پہلے سے لے کر آج سے چند ہفتوں پہلے تک سوشل میڈیا پر جہاں گندے سیاستدانوں کی مٹی پلید کی گئی وہاں ٹی وی میڈیا کے غلط اقدامات پر اسے بھی آڑے ہاتھوں لیا گیا ۔اب لگام تو ڈالنی ہی تھی نا ان لوگوں کو ۔۔۔ سو مفت کا دانہ ڈال کر ابتدا کر دی گئی ۔
یہ بھی یاد رہے کہ میڈیائی مفتوں نے دھڑلے سے اردو بلاگروں کی تحریریں چوری کر کے اپنے اخباروں میں بغیر ویب سائٹ کا لنک دئے چھاپی ہیں ۔ پتہ چلنے پر بغیر کوئی معذرت کئے بلاگروں کو مفتے کا لولی پاپ دے کر خوش کیا جارہا ہے ۔اور اردو بلاگرز بھی ایسے بھولے بادشاہ اور جذباتی ہیں کہ بس نہ پوچھیں ۔۔۔۔  اگر اپنے یہ محترم بلاگرز میڈیا خصوصاً ٹی وی اور اخبارات کے حالات و واقعات سے آگاہ ہوتے تو یوں تالیاں نہ پیٹ رہے ہوتے ۔

اردو بلاگرز کا مشہور ہونا اچھی بات ہے ۔ان کو پیسے ملنا اور بھی اچھی بلکہ خوشی کی بات ہے ۔۔۔۔ کروڑوں روپے روزانہ کمانے والے میڈیائی مفتے اگر بلاگروں کو ان کی تحریروں کا مناسب معاوضہ دیتے ہیں تو ان کے لئے لکھنے میں کوئی برائی نہیں ہے ۔

اب یہاں ایک بات جو انتہائی اہم ہے کہ بلاگ ایک سوچ کا نام ہے اور سوچوں پر پہرے نہیں بٹھائے جا سکتے ۔
اب ایک بلاگر کے کسی بھی روزنامے پر لکھنے سے کیا ہوگا ۔۔۔۔بس یہی ہوگا کہ ان کی تحریریں ایک خاص انداز اور نظم و ضبط کے اندر چھپنے کی وجہ سے یہ بلاگر کی پہچان کھو بیٹھیں گی ۔کیونہ یہ تجارتی بنیادوں پر لکھیں گے اور تجارتی بنیادوں پر لکھنے والا اپنے آقا کے بنائے ہوئے قوانین کا پابند ہوتا ہے ۔۔۔ سو اسے پابندی تو کرنی پڑے گی ۔
بلاگر وہی رہے گا اور کہلائے گا جس کی تحریر میں اس کی سوچ اور آزادی کا پر تو ہوگا