لوگوں کی تو بات دور کی ٹھرتی ہے ہم بذات خود مچھر سے بڑا ڈرتے ہیں ۔ یہ ڈر ہمیں اس وقت سے پیدا ہوا جب ڈینگی سرکار نے لاہور میں پہلی دفعہ دھاوا بول کے ہمیں بھی اپنی لپیٹ میں لے کر ادھ موا کر دیا تھا۔تب سے اب تک ہم ایک ‘‘ عام مچھر ‘‘ ( ڈینگی سرکار کا مرید ) کو بھی جہاں دیکھ لیں ہمیں اس پر ڈینگی کا ہی گمان ہوتا ہے اور ہماری پہلی کوشش یہی ہوتی ہے کہ سب کام چھوڑ کے پہلے اس کو پھڑکا دیں ۔۔۔ کیونکہ اگر ہم نے اس کو نہیں پھڑکایا تو یہ ہمیں پھڑکانے میں دیر بالکل نہیں لگائے گا ۔
دوسرے بہت سے سیانوں کی طرح ہم نے بھی مچھروں کو بھگانے کے لئے بہت سے ٹوٹکے آزمائے ہیں مگر سب بیکار ۔ ہزاروں روپے مچھر مار سپرے ، کوائل ، آئل ، کریم اور دیگر چیزوں پر ضائع کرنے کے باوجود شام پڑتے ہی یہ ‘‘ ڈھیٹ مچھر ‘‘ ہمارے کانوں میں کسی گندے اور غلیظ سیاستدان کی طرح بھوں بھوں کرنا شروع ہوجاتے ہیں ۔
ایک عدد تازہ لیموں لیجئے اور اسے درمیان میں سے کاٹ کر دو ٹکڑے کر لیں ۔۔۔ کسی بھی ایک ٹکڑے پر چار یا پانچ لونگ لگا کر کمرے میں رکھ دیں ۔۔۔۔۔پُرسکون نیند سونے پر ہمیں دعائیں دیں کیونکہ اب آپ کے کمرے میں ڈینگی اور اس کے مریدین ( عام مچھر ) کا داخلہ ممنوع ہوچکا ہے ۔