میرے شہر کی باتیں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
میرے شہر کی باتیں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 27 اپریل، 2017

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
مسجد شب بھر شہر لاہور میں شاہ عالمی چوک کے ساتھ واقع ہے ۔ اگر آپ لوہاری دروازے کی جانب سے آئیں تو دائیں ہاتھ اور اگر موچی دروازہ کی جانب سے آئیں تو بائیں ہاتھ شاہ عالمی چوک کے کونے میں واقع ہے۔۔۔کہا جاتا ہے کہ قیام پاکستان سے قبل مسلمانوں نے اسے ایک رات میں تعمیر کیا تھا۔اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسی مسجد کے بارے میں علامہ اقبال نے یہ شعر کہا تھا ۔۔۔۔۔۔

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا

[gallery ids="2360,2361,2362,2363,2364"]

لاہور میں واقع ‘‘ مسجد شب بھر ‘‘ کو ایک رات میں تعمیر کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ انگریزوں کے دور میں یہ مقام ہندؤں اور مسلمانوں دونوں کی آماجگاہ تھا ۔دو دراز سے آنے والے مسافر یہاں بسیرا کیا کرتے تھے۔کہا جاتا ہے کہ ایک دن ایک مسلمان مسافر کی اس جگہ نماز پڑھنے کے بعد وہاں بیٹھے ہندؤں سے تو تکار ہو گئی ۔بات ہاتھا پائی سے ہوتی ہوئی ہنگامہ آرائی کی شکل اختیار کر گئی ۔ ہنگامہ آرائی اتنی بڑھی کہ پولیس کو مداخلت کرنا پڑی اور دونوں فریقین کے درمیان کیس درج کر لیا گیا ۔۔۔ اب بات عدالت تک جا پہنچی تھی ۔

عدالت میں ہندؤں نے موقف اختیار کیا کہ یہ ہمارے مندر کی جگہ ہے اور یہاں ہم اب نیا مندر تعمیر کریں گے ۔۔۔ جبکہ دوسری جانب مسلمانوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ چونکہ اس جگہ ہم عبادت کرتے ہیں سو یہ جگہ ہماری مسجد کے لئے ہے ۔مسلمانوں کی جانب سے اس کیس کی پیروی قائد اعظم محمد علی جناح کر رہے تھے ۔ اس موقع پر محمد علی جناح نے کہا کہ اگر ہم یہ ثابت کر سکیں کہ یہاں مسلمانوں کی عبادت گاہ موجود ہے تو یہ کیس ہم آسانی سے جیت جائیں گے اور کیس کا فیصلہ ہمارے حق میں ہو گا۔

کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں نے گاماں پہلوان کی قیادت میں پانچ سو سے زائد افراد کے ساتھ راتوں رات مسجد کے ڈھانچے کو کھڑا کر دیا ۔تاریخ بتاتی ہے کہ ان افراد میں کافی تعداد میں عورتیں بھی شامل تھیں جو اپنے گھروں سے پانی لا لا کر مردوں کا ہاتھ بٹاتی رہیں ۔ صبح تک لوگوں نے دیکھا کہ ‘‘ مسجد شب بھر ‘‘ پوری آب و تاب کے ساتھ اپنی جگہ موجود تھی ۔دوسری جانب مسجد کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد عدالت نے مسلمانوں کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔
علامہ اقبال کو جب اس ‘‘ مسجد شب بھر ‘‘ کی تعمیر کا پتہ چلا تو آپ نے یہ مشہور شعرکہے ۔

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا

اب اس کا نام ‘‘ مسجد شب بھر ‘‘ کس نے رکھا ۔۔۔ اس کے بارے میں مختلف بیانات موجود ہیں ۔۔البتہ تاریخ کی کتابوں میں اس مسجد کا سن تعمیر 1917ء اور اس کا نام “مسجد شب بھر“ درج ہے

علامہ اقبال کی لکھی گئی پوری غزل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا
کیا خوب امیرِ فیصل کو سنوسی نے پیغام دیا
تو نام و نسب کا حجازی ہے پر دل کا حجازی بن نہ سکا
تر آنکھیں تو ہو جاتی ہیں پر کیا لذت اس رونے میں
جب خونِ جگر کی آمیزش سے اشک پیازی بن نہ سکا
اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتار کا یہ غازی تو بنا کردار کا غازی بن نہ سکا

جمعرات، 22 دسمبر، 2016

چل گشتی

بابو جی بچے بھوکے ہیں ۔۔۔۔ اللہ کے نام پہ کچھ دے دو نا

جاؤ بی بی جاؤ ۔۔۔ ہٹی کٹی ہو ۔۔۔ سوہنی ہو ۔۔۔۔محنت کرو ۔۔۔کسی کے گھر کا کام کاج کر کے عزت کی روزی کماؤ

بابو جی دے دو نا ۔۔۔اللہ کے نام پر مانگ رہی ہوں ۔۔۔ 

چل گشتی ! کہیں اور جا کہ مانگ ۔۔۔

سبز اشارہ کھلتے ہی لگزری کار میں ساتھ بیٹھی اپنی خوبرو بیوی سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جانو ! یاد ہے نا آج ایک بڑی پارٹی میں جانا جہاں سارے بڑے بڑے افسر اور سیاستدان آرہے ہیں ۔۔۔۔۔ 

ذرا اچھی طرح تیار ہونا
شیخو

اتوار، 6 نومبر، 2016

قبرستان میں ہیرا منڈی ( چکلہ ) ۔۔ پہلا حصہ ۔۔۔

شہر خموشاں میں کوئی جن بھوت نہیں ہوتے یہ سب فرضی باتیں ہیں ۔۔۔۔مردے بھلا کسی کو کیا کہہ سکتے ہیں انہیں تو اپنے حساب کی فکر پڑی رہتی ہے ۔۔۔۔۔ہاں زندہ انسانوں نے وہاں چکلے ضرور کھول لئے ہیں ۔۔۔ کیونکہ وہاں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔۔۔۔ نہ جن بھوت ۔۔۔ نہ مردے اور نہ ہی مردہ دل حکمران ۔۔۔۔
آج ویڈیو بلاگ کا اس سلسلہ میں پہلا حصہ پیش کیا جارہا ہے جلد ہی کل یا پرسوں اس کا دوسرا حصہ پیش کیا جائے گا۔۔۔۔ دیکھنا نہ بھولئے گا ۔۔۔ پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی


سنؤ ! عوام کیا کہتی ہے

بلاگ رپورٹر ۔۔۔ نیر احمد شکوہ
نوٹ ۔۔۔ گفتگو عام پنجابی زبان میں ہے اور پنجاب خصوصاً لاہور کے گلی محلوں میں ایسی ہی پنجابی زبان کا استمال ہوتا ہے جس میں حد سے زیادہ بے تکلفی ہو ۔۔۔۔اور جہاں بے تکلفی سے گفتگو ہوگی وہاں میٹھی گالی گلوچ بھی ضرور ہوگی ۔۔۔۔۔۔ بلاگ کے اسلوب کے لحاظ سے گفتگو کو جوں کا توں رہنے دیا گیا ہے


جمعہ، 29 اپریل، 2016

گشتی اور کنجری میں فرق

گشتی اصل میں فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ۔۔۔ چکر لگانا یا مارا مارا پھرنا کے ہیں۔۔بعد آزاں یہ لفظ اور دوسرے بہت سارے فارسی الفاظ کی طرح اردو میں بھی رائج ہو گیا۔۔۔۔اس کے معنی وہی رہے۔۔

۔۔۔"" گشتی "" لفظ اردو زبان میں ایک عزت والا لفظ ہے جس کے عام معانی یہ ہیں کہ ایک مخصوص جگہ یا علاقے کے گرد چکر لگانا۔۔۔۔۔جیسے گشی پولیس یا گشتی پارٹی ۔۔۔۔جیسا کے گاؤں کے یا شہر کے لوگ بدامنی ، چوروں ڈاکؤں سے بچاؤ کے لئے چار پانچ یا دس پر مشتمل افراد کا ایک جتھا تشکیل دیتے ہیں جو علاقے کی حفاظت پر مامور ہوتا ہے ۔۔۔۔ اسے گشتی پارٹی بھی کہا جاتا ہے۔
تمام محکموں میں یا جگہوں پر ایک ہی مراسلے کو بانٹنے کو گشتی مراسلہ بھی کہا جاتا ہے۔

گشتی لفظ اپنے نام کی وجہ سے مونث ہونےکا تاثر چھوڑتا ہے مگر یہ اسم نکرہ ہے ۔

ہماری پنجابی زبان ذرا وکھری ٹائپ کی ہے۔۔۔ اس کی مثالیں اندر خانے چبھنے کے ساتھ ساتھ سچائی کے اظہار میں بھی کوئی ثانی نہیں رکھتی ۔

پنجابی میں گشتی ایک غلیظ گالی ہے۔مگر اس غلاظت کے باوجود پنجابی گھرانوں کے ساٹھ فیصد سے زائد گھروں میں گشتی لفظ کا استمال کثرت سے کیا جاتا ہے۔

پنجابی میں گشتی اس عورت کو کہتے ہیں جو شریفانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے غلط کاموں میں ملوث ہو ۔۔۔یعنی یوں جانئے کہ گشتی شریفوں کے محلات کی ہی عورتوں میں سے کوئی عورت ہوتی ہے۔۔۔۔

پنجاب خاص کر لاہور میں آپ کو بس اسٹاپ ، سکول سٹاپ ، بازار یا راہ چلتے کبھی بھی کسی گشتی سے پالا پڑ سکتا ہے۔۔۔۔ نقاب کئے ہوئے کالے رنگ کا مخصوص برقعہ ان کی پہچان ہے۔۔۔۔بعض گشتیوں کو چادروں میں بھی دیکھا گیا ہے۔

اسی طرح شریفوں کے محلے کے ایک ہی گھر میں بہت ساری یا چند عورتوں کے اکھٹا ہو کر جسم فروشی کے کاروبار کرنے والی جگہ کو "" گشتی خانہ "" بھی کہا جاتا ہے۔

گشتی کی نسبت کنجری ایک عزت دار خاتون ہوتی ہے۔اس کے قول و فعل میں نہ ہی کوئی تضاد ہوتا ہے اور نہ ہی وہ منافقت سے بھری ہوتی ہے۔کنجری کو سب لوگ کنجری ہی کہتے اور سمجھتے ہیں ۔اسے اپنے پیشے سے دکھ تو ہوتا ہے مگر شرمندگی نہیں ۔۔۔

دوسری جانب اگر ہم گشتی کے قول و فعل اور کردار کا جائزہ لیں تو یہ کنجری سے زیادہ خطرناک ہے ۔۔۔۔۔ یہ اپنے گندے اور عیاش ذہن کی وجہ سے ایک شریف معاشرے کے لئے زہر قاتل ہے ۔۔۔ اس کا ذہن ایک کنجری کی نسبت انتہائی غلیظ ، شاطر اور مکارانہ ہوتا ہے۔یہ کسی بھی وقت اپنے کسی بھی پیارے فرد ۔۔۔۔ ماں ، باپ ، بھائی ، بہن ، خاوند بیٹے یا بیٹی کو دغا دے سکتی ہے۔

جمعرات، 14 اپریل، 2016

مخصوص ایام جنسی خواہش کو کم نہیں کرتے ؟

مخصوص ایام جنسی خواہش کو کم نہیں کرتے ؟

کچھ روز پیشتر لاہور کی بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی میں لڑکیوں نے مخصوص ایام ( ماہواری ) کے ساتھ خواتین سے وابستہ شرمندگی کے احساس اور تصورات کے خلاف احتجاج کیا۔جس میں انہوں نے اپنی یونیورسٹی کی دیوار مہربانی پر خواتین کے مخصوص ایام ( ماہواری ) پیریڈ میں استعمال ہونے والے پیڈز بڑی تعداد میں یونیورسٹی کی دیوار مہربانی پر لگا دیئے اور ان کے اوپر خوشنما انداز میں یہ فقرے لکھ دئے کہ ۔۔۔۔۔۔

ماہواری کا ۔۔۔۔۔ ”خون گندہ نہیں ہوتا“ ۔۔۔
ہمارے مخصوص ایام ہماری جنسی خواہش کوکم نہیں کرتے، بلکہ بڑھاتے ہیں
اگر مرد کھلے عام کنڈوم خرید سکتا ہے تو میں پیڈ کیوں نہیں خرید سکتی؟
ہمارے سیکس آرگنز سے متعلق مسائل کو اتنا پیچیدہ اور پوشیدہ کیوں کر دیا گیا ہے ؟
پیریڈز کو اتنا برا کیوں سمجھا جاتا ہے ؟
جب ہر گھر میں ماں، بہن، بیوی، بیٹی موجود ہے تو کیا انکو یہ مسائل نہیں ہوتے ؟
ہمیں اک چھوئی موئی، اچھوت اور چھپنے کے قابل مخلوق ہی کیوں بنا دیا گیا ہے ؟
جبکہ یہ قدرتی عمل ہے پھر ہم کو کیوں محسوس کروایا جاتا ہے اس بات پر شرمندہ بھی ہونا ہے ؟
اگر ایک بیٹی کو پہلی بار پیریڈ ہوں تو وہ بے چاری ڈر کے مارے کونوں میں چھپتی پھرتی ہے
اس کو گناہ یا بے شرمی کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔
جب ہر طرف مردانہ کمزوری کے اشتہارات نظر آتے ہیں تو پھر عورتوں کے مسائل پر بات تک کیوں نہیں ہو سکتی ؟
ہمیں اس کو ایک نارمل چیز ماننا ہوگا اور اس پر اپنے بچوں کو کھل کر تعلیم دینی ہوگی۔

سب سے پہلی بات کہ ۔۔۔۔۔فرض کریں اگر کسی لڑکی کا دل کرتا ہے کہ وہ ماہواری پر بات کرے اور اس بارے لوگوں کو آگاہی دے تو اسے بالکل دینی چاہئے ۔۔۔۔۔ اب ہونا یہ چاہئے تھا کہ وہ اپنا ماہواری والا پیڈ ، کپڑا ، ٹشو پیپر بغیر دھوئے انڈروئیر سمیت یونیورسٹی کی دیوار مہربانی پر لٹکا کر اس بارے آگاہی دیتیں۔۔۔۔۔۔۔مگر دیکھئے کیسا تضاد ہے کہ گندگی اور بدبو کے خوف سے انہوں نے ان کپڑوں اور اپنی پیٹھ کو مصنوعی لال رنگ سے رنگ و رنگ کیا اور تصویر کھنچوا کر سرخرو ہو گئیں ۔۔۔۔اگر یہی وہ کسی سہیلی کا ماہواری کے خون سے لتھڑا روئی کا گولہ یا کپڑا چوم چوم کر لوگوں کو آگاہی دیتیں تو عام خواتین کی سمجھ میں ان کی بات بھی آتی ۔۔

بیکن ہاؤس یونیورسٹی کی لڑکیاں بالیاں کہتی ہیں کہ ماہواری کا ‘‘ خون گندا نہیں ہوتا ‘‘ ۔۔۔۔۔۔ اچھی بات ہے ۔۔۔ تو پی لو نہ اس خون کو ۔۔۔ کس نے روکا ہے ۔۔۔۔ کوئی فتوی لگائے تو تب بھی لعنت بھیج کر پی لو ۔۔۔۔

میں تو بار بار یہ کہتا ہوں کہ علم تہذیب نہیں سکھاتا بلکہ تہذیب ماں باپ ، گھر کا ماحول اور بعد آزاں معاشرہ سکھاتا ہے ۔۔۔۔ رہی بات جنسی تعلیم کی تو اس کی بھی ایک حد ہے اور اس کو سکھانے کا طریقہ بھی تہذیبانہ ہے ۔۔۔۔۔ جنسی تعلیم میں یہ نہیں ہوتا کہ میاں بیوی کے ذاتی تعلقات کا طریقہ سمجھاتے ہوئے اسے عملی کر کے بھی دکھایا جائے ۔۔۔۔ یعنی ‘‘ جدید معاشرے ‘‘ میں ایک مرد استاد ایک شاگرد لڑکی کو جنسی تعلیم کا لیکچر دے گا تو اسے عملی طریقے سے نہیں سمجھائے گا بلکہ تہذیب یافتہ انداز میں سمجھائے گا ۔۔۔۔۔۔

اصل میں ہمارے معاشرے کی جدید لڑکیاں بذات خود ننگا ہونا چاہتی ہیں ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ ہم سڑکوں پر ‘‘ الف ننگا ‘‘ پھریں ۔۔۔ اور ہمیں چھیڑے بھی کوئی نا ۔۔۔۔۔ ایسا بھلا کیسے ممکن ہے ۔۔۔۔۔ ننگے پن کو دیکھ کر تو جانور بھی بپھر جاتے ہیں ۔۔۔۔ سڑکوں پر چلنے پھرنے والے تو پھر انسان ہیں ۔۔۔۔ وہ کیسے برداشت کریں گے ۔

حیرت مجھے اس بات پر بھی ہے کہ دیکھو ۔۔۔۔ لڑکیوں نے ایشو بھی کونسا اُٹھایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ہاہہہہہہہ گندیاں ۔۔۔۔ آخ تھو ۔۔۔ او بندہ پوچھے یار جسم کے کسی اور جگہ کا ایشو بنا لو ۔۔۔۔دسو یار ۔۔۔ ماہواری کے خون کا ایشو ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ذرا سونگھ کر تو دیکھو اپنا ماہواری کا خون ۔۔۔۔ سہیلی کا خون سونگھنا تو بعد کی بات ہے ۔۔۔۔۔۔

اگر محبت کرنے والے کے پاس بیٹھے ہوئے پیٹھ میں سے گندی ہوا خارج کر دو نا تو اسے تمہاری ساری خوبصورتی بھول جائے گی ۔۔۔اگر وہ کچھ کھا رہا ہو گا تو اسے الٹیاں شروع ہوجائیں گی ۔۔۔

پہلے تو اس پر مکالمہ کیا جائے کہ عشق کرنے والے جوڑے ایک دوسرے کے سامنے گندے بدبودار ‘‘ پاد ‘‘ ہوا خارج کر سکتے ہیں یا نہیں اور اگر کر سکتے ہیں تو آیا ہوا خارج کرتے ہی پیٹھ کے ساتھ منہہ لگانے سے جذبات کی شدت اور سیکس میں کتنا اضافہ ممکن ہے

-------------------------------------------
ہمارے ایک بہت محترم بلاگر جناب سلیم شانتو صاحب نے مخصوص ایام ( ماہواری ) کے حوالے سے کچھ تحقیقی مواد جمع کیا ہے ۔۔۔ جو میں اسی اپنی تحریر کے نیچے جوں کا توں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں ۔۔۔ تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت آنے والی نسلوں کے کام آوے
-------------------------------------------

(5:25 AM - 29 Sep 2014)
کو ایک بدیشی خاتونہ (پروفائل سے اس کے علاوہ کچھ پتہ نہیں چل پا رہا کہ یہ بس کسی لبرل کی بہن ہے) نے عورتوں کی آبرو ریزی پر مردوں کی عدم دلچسپی اور بیزار رویئے کو عورتوں کی ماہواری سے جوڑ کر ایک ٹویٹ کیا جسے ہزاروں بار پڑھا اور پسند کیا گیا۔
(imagine if men were as disgusted with rape as they are with periods)
مارچ 2015 میں ایلن نامی ایک جرمن خاتون بلاگر نے اس ٹویٹ سے متاثر ہو کر اپنے ماہواری پیڈز پر کچھ تنبیہی، کچھ آگاہی اور بیشتربولڈ اور غیر مہذب پیغامات لکھے اور اپنے شہر
(Karlsruhe)
کے سارے در و دیوار پر چپکا دیئے۔ تاہم اس کی یہ حرکت قابل دست اندازی قانون ٹھہری اور اسے عدالت کا سامنا کرنا پڑا۔
عالمی اخبارات میں اس خبر کی پذیرائی کے بعد اسی ہفتے دہلی کی "جامعہ ملیہ اسلامیہ" کی طالبات نے ایلن کی اس انفرادی حرکت کو باقاعدہ تحریک کے طور پر اپنایا اور اپنی جامعہ میں اور جامعہ سے باہر دہلی مین راتوں رات نسوانی پیڈز پر عبارات لکھ کر جگہ جگہ پبلک مقامات پر لگا دیئے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طالبات سے شہ پا کر کولکتہ کی جامعہ
(Kolkata’s Jadavpur University)
کی طالبات نے بھی اپنی جامعہ کی در و دیوار کو اپنے پیڈز پر اپنے دلی جذبات لکھ لکھ کر خوب سجایا۔
اس کے بعد بھی یہ سلسلہ دراز رہا تاہم "با جماعت" ایلن کی اس سنت کے احیاء کیلئے اس ہفتے پاکستان کے زندہ دلان لاہور کی کچھ کاکیوں نے ایلن کی اس سنت کی عملی ادائیگی کا عملی اہتمام کیا۔
سبب بننے والا ٹویٹ یہاں دیکھیں:
https://twitter.com/cutequeer96/status/516564388606521346
جرمنی کی ایلن کا تذکرہ یہاں دیکھیں:
http://www.buzzfeed.com/…/a-woman-is-writing-feminist-messa
دہلی کی خواتین کا کمال یہاں دیکھیں:
http://www.indiatimes.com/…/sanitary-pads-with-pro-women-me
کولکتہ کی جامعہ کی طالبات کے بیانات پیڈز پر لکھے ہوئے یہاں دیکھیں:
http://indianexpress.com/…/sanitary-pad-protest-spreads-to…/
لاہور کی کاکیوں کے کمالات یہاں دیکھیں
http://snaji.com/2016/04/14/mahwari/

جمعہ، 12 فروری، 2016

کبھی کسی سے عشق کیا ہے ؟

کہتی ہے ، کبھی کسی سے عشق کیا ہے ۔۔۔۔ بیوقوف ہے جو ایسے سوالات کرتی ہے ۔۔۔ اسے نہیں پتہ کہ عشق دیوانے لوگ کرتے ہیں اور میں دیوانہ نہیں ہوں ۔۔۔۔۔۔۔

سخت سردیوں کے دن تھے ، رات کے دو بجے ہوں گے کہ کوثر کا فون آگیا اس وقت میں اپنے دوست کے میوزک سنٹر کے اندر ایک بڑی مزیدار قسم کی ڈبل ایکس فلم سے لطف اندوز ہو رہا تھا ۔ کہنے لگی کیا کر رہے ہو ۔۔۔ میرا وہی پرانا جواب تھا کہ تمہاری یاد میں مگن تھا کہ تمہارا فون آگیا ۔۔۔۔۔۔فون کے ماؤتھ پیس کے ساتھ چوڑیاں کھٹکٹاتے ہوئے ایک کھنکتی سی ہنسی کے ساتھ بولی ۔۔۔ جھوٹے ہو تم ۔۔۔۔

وہ جانتی تھی چوڑیوں کی آواز میری کمزوری ہے ۔۔۔ تبھی تو وہ ایسی حرکت کرتی تھی ۔۔۔۔ کہنے لگی آجاؤ ، تم سے ملنے کو دل چاہ رہا ہے ۔۔۔

کوثر سے میری ملاقات انیس سو چوراسی میں پہلی بار اتفاقاً فون پر ایک رانگ نمبر سے ہوئی تھی ۔۔۔ جو بعد میں بڑھتے بڑھتے میری نگاہ میں دوستی اور اس کی نگاہ میں عشق میں تبدیل ہوتی چلی گئی ۔۔۔۔ میدے کی ملاوٹ لئے ہلکا سانولا سا رنگ ، خوصورت جسمانی ساخت کے ساتھ وہ کوئی اپسرا سی لگتی تھی ۔۔۔۔ تہذیب یافتہ اتنی تھی کہ میری غلیظ گالیوں پر بھی ہنس دیا کرتی تھی ۔

کوثر سے میری بہت سی ملاقاتیں ہوئیں ، ہر ملاقات کے بعد وہ مجھ سے یہی کہتی تھی ‘‘ شیخو ‘‘ مجھ سے شادی کر لو ، میں تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گی ، میں انکار کر دیتا ۔۔۔ شاید اس لئے کہ مجھے اس سے انسیت تو تھی مگرعشق اور محبت نہیں تھی ۔

کوثر کا گھر میرے دوست کے میوزک سنٹر سے کوئی دو فرلانگ کے فاصلے پر تھا میں نے اپنی موٹر بائک نکالی ، دراز میں سے پستول نکال کر نیفے میں اڑسا اور جسم کو گرم چادر سے لپیٹے باہر آگیا ۔۔۔۔ تھوڑی دور ہی گیا ہونگا کہ جانے کیا دل میں خیال آیا کہ پستول کو واپس دراز میں رکھ کر کوثر کے گھر کی جانب روانہ ہو گیا ، وقت طے تھا ، گھر کے گیٹ کے پاس ہی وہ موجود تھی ، کہنے لگی ، موٹر بائک اندر گیراج میں کھڑی کر دو ۔۔۔۔ حالانکہ میری عادت ہوتی تھی کہ میں موٹر بائک کبھی کسی کے گھر کے اندر تو کجا گھر کے نزدیک بھی کھڑی نہیں کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔ بس وہ کہتے ہیں نا کہ جب عقل پر پردے پڑ جائیں اور بندہ جذبات میں بہہ جائے تو نقصان اُٹھاتا ہے ۔

پیار بھری سرگوشیوں میں باتیں کرتے ہوئے ہم ڈرائنگ روم میں آکر بیٹھ گئے ۔۔۔ میرے منع کرنے کے باوجود وہ چائے بنانے کے لئے کچن میں چلی گئی ۔۔۔ کچن میں برتنوں کی کھٹ پٹ سے غالباً اس کی خالہ کی آنکھ کھل گئی اور وہ آنکھیں ملتی ہوئی سیدھی ڈرائینگ روم میں آ دھمکی ۔۔۔ پہلے تو وہ مجھے ہکا بکا ہو کر ایک ٹِک دیکھنے لگی اور پھر اس کا منہہ کھلا اور اس نے چیخ مارتے ہوئے چور چور کی آواز لگا دی ۔۔۔۔۔ میں نے جلدی سے اُٹھ کر اس کے منہہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے اپنے باذؤں میں دبوچ لیا مگر مجھے دیر ہو چکی تھی ۔

خالہ کی چیخ اور چور چور کی آواز سے پورے گھر میں ہلچل شروع ہو چکی تھی ۔۔۔ خالو اٹھ کر باہر دروازے پر پہنچ کر چوکیدار کو آوازیں دینے لگ گیا جبکہ کوثر حواس باختہ ہو کر ڈارئینگ روم میں آکر کانپنے لگی ۔۔۔ میں نے اسے اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ ۔۔۔ کچھ نہیں ہوتا ،،،،، حالانکہ اندر سے میرا دل دھک دھک کر رہا تھا اور میں سخت پریشانی میں مبتلا ہو چکا تھا۔۔۔۔۔ اس وقت میرے ذہن میں بس ایک ہی خیال تھا کہ کسی طرح میں اس گھر سے نکل جاؤں ۔۔۔۔ اللہ کا شکر ہے ذہن حاضر تھا ۔۔۔۔میں نے کوثر کی خالہ کو کہا ۔۔۔۔۔ دیکھو خالہ سکون سے بیٹھ کر پہلے میری بات سن لو ۔۔۔۔ سب سے پہلے تو یہ ذہن میں بٹھاؤ کہ میں چور وور نہیں ہوں دوسرا خالو کو منع کرو کہ چوکیدار کو آوازیں نہ دے اور محلے والوں کو نہ جگائے ۔۔۔۔۔۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو میرے ساتھ تو جو ہوگا سو ہو گا مگر بدنام آپ بھی ہوں گے ۔۔۔ آپ کے بھی بیٹی ہے ۔۔۔ میں کہہ دوں گا کہ آپ کی بیٹی نے مجھے ملنے کے لئے بلایا تھا ۔۔۔۔۔ خالہ کہنے لگی آئے ہائے میری بیٹی تو اندر سو رہی ہے ۔۔۔۔ میں نے کہا خالہ لوگوں کو تو نہیں پتہ نا کہ آپ کی بیٹی سو رہی ہے یا جاگ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔آپ نے اب مجھے اور کوثر کو بچانا ہے ۔۔۔ اگر نہ بچایا تو جو آپ کے ساتھ ہوگا زمانہ دیکھے گا ۔۔۔۔۔۔ بات خالہ کی سمجھ میں آگئی ۔۔۔میں نے کہا خالہ آپ صرف خالو کو دو منٹ کے لئے کسی طرح اندر بلا لیں میں دوسرے دروازے سے نکل جاؤں گا ۔۔۔۔بعد میں آپ کہہ دینا کہ غلط فہمی ہوئی تھی وہ بلی کی آواز تھی جسے میں چور سمجھ بیٹھی تھی۔۔۔۔ خالہ خالو کو بلا نے دوسرے گیٹ پر پہنچی اور ادھر میں نے کوثر کو گیٹ کھولنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔۔ جونہی میں نے محسوس کیا کہ خالو گھر کے اندر داخل ہوا ہے میں نے فوراً موٹر بائک نکالی اور یہ جا اور وہ جا ۔۔۔۔ گلی کی نکڑ پر مجھے چوکیدار نظر آیا جس نے مجھ سے پوچھا کہ یہ شور کیسا تھا۔۔۔ میں نے کہا وہ ساتھ والے گھر میں پاگل تھا جو شور مچا رہا تھا ۔

اب میں سوچتا ہوں کہ اچھا ہوا جو میں خالی ہاتھ گیا کیونکہ بندے کے ہاتھ میں جب ہتھیار ہو تو خومخواہ بہادری جاگ اُٹھتی ہے اور یہ بہادری آخر کار ذلت اور پچھتاوے کا سبب بن جاتی ہے ۔

آج کوثر منوں مٹی تلے دفن ہے ۔۔۔۔۔اس کے مرنے کے چار پانچ سال بعد اس کی خالہ اور خالو بھی چل بسے ۔۔۔اس کے بہن بھائی اب بھی ہمارے علاقے میں رہتے ہیں ۔۔۔۔ کبھی کبھار راہ چلتے اس کی بہن سے ملاقات ہو جاتی ہے جو مجھے دیکھتے ہی نفرت سے منہہ پھیر لیتی ہے ۔۔۔۔۔۔

جمعرات، 1 اکتوبر، 2015

بس دو چار سال کی بات ہے

کیا کرتے ہو ؟
بس دو چار سال کی بات ہے
دو چار سال میں کیا ہوجائے گا ؟
انشااللہ امید ہے مجھے ولائت مل جائے گی
ولائت مل گئی تو کیا کرو گے ؟
لوگوں کی خدمت کروں گا
پہلے اپنی حالت تو بدل لو
ساتھ اپنی حالت بھی بدل جائے گی
نماز پڑھتے ہو ؟
چوبیس گھنٹے نماز ہی میں ہوتا ہوں

ہفتہ، 22 اگست، 2015

لاہور کی ہیرا منڈی میں چند لمحات

بڑے دنوں سے سوچ رہا تھا کہ رنگ محل جانا ہے اور فلاں فلاں چیز خریدنی ہے ۔آج اتفاق سے میرے پاس دوپہر میں دو تین گھنٹے فارغ تھے ، سوچا چونکہ کل اتوار ہے آج ہی رنگ محل والے کام نبٹا دیتا ہوں ۔۔
رنگ محل سے خرایداری کرنے کے بعد ایویں ہی دل میں خیال آیا کہ ساتھ ہی ہیرا منڈی ہے کیوں نہ آج پرانی یادیں تازہ کی جائیں۔۔ارداہ بنایا پہلے ‘‘ پھجے ، فجے ‘‘ کے پائے کھاؤں گا بعد آزاں ‘‘ آس ‘‘ کا ایک عدد پان کھا کر دل پشوری کروں گا۔۔

پھجے کے پائے تیار نہ ہونے کی صورت میں ، میں بُجھے دل کے ساتھ ‘‘ آس ‘‘ پان والے کی جانب پیدل ہی چل پڑا ۔۔ابھی چند قدم ہی چلا ہوں گا کہ پیچھے سے آواز آئی باؤ جی ذرا گل تے سننا( باؤ جی ذرا بات تو سنیں ) میں ایک دم چونک پڑا کیونکہ مجھے آواز جانی پہچانی سی لگی تھی ۔۔۔۔۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ‘‘ ماجھا دَ لاً ‘‘ ( دلال ) جھکی ہوئی کمر کے ساتھ سڑک کنارے چارپائی پر بیٹھا تھا ۔۔۔۔ میں بڑا حیران ہوا اور پوچھا ۔۔ اوئے ماجھیا تینوں کی ہویا ( ارے ماجھے آپ کو کیا ہوا ) ۔۔۔۔ کہنے لگا باؤ جی تسی وی تے چٹے کر لے جے ( آپ کے بھی تو بال سفید ہو گئے ہیں ) ۔۔۔۔

ماجھے سناؤ اور کیا ہو رہا ہے آج کل ، میں نے پوچھا ۔۔۔ کہنے لگا باؤ جی بس ہونا کیا ہے سب کچھ آپ کے سامنے ہی ہے سب برباد ہوا پڑا ہے ، روٹی پانی بڑی مشکل سے چل رہا ہے۔رات مجرے میں بھی کم ظرف لوگ آتے ہیں ۔۔ویسے بھی باؤ جی وہ بہاریں کہاں ۔۔۔ میں نے ماجھے سے پوچھا کہ بازار میں اتنی خاموشی کیوں ہے ۔ نہ کسی دوکان پر گانوں کی آواز نہ کوئی ہلا گلا اور نہ ہی کوئی گالی گلوچ ۔۔۔ کدھر چلے گئے یہاں کہ سارے دَلًے ( دلال ) اور بدمعاش ۔۔۔۔

کہنے لگا ۔۔۔ باؤ جی جانا کہاں ہے بائیاں سب شرفا کے محلوں میں چلی گئیں ، کچھ دلے ( دلال) سیاستدانوں کے ساتھ ان کے بندہ خاص بن گئے اور جو بدمعاش تھے وہ اب بائیوں کے ساتھ رہ کر شرفاء کہلاتے ہیں ۔۔چھڈو باؤ جی آپ سناؤ کیا ہو رہا ہے آج کل ۔۔۔۔ فیس بک پر تو بڑی شریفوں والی تصویر لگا رکھی ہے ۔۔۔۔۔۔

تمہیں کیسے پتا ہے ماجھے ۔۔۔ میں حیران رہ گیا ۔۔۔۔۔ سب پتا ہے باؤ جی ۔۔۔ مجھے تو یہ بھی پتہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بہت سے نام نہاد شرفاء بڑی گندی اور غلیظ گالیاں نکالتے ہیں ۔۔۔۔۔ چھوڑو ماجھے یہ تو چلتا رہتا ہے اب کسی کی زبان کو کوئی روک تو نہیں سکتا۔۔۔۔

باؤ جی یہ جو گندی اور غلیظ گالیاں اور حرکتیں کرنے والے ہیں نا ۔۔ یہ اپنے ہی بھائی بند ہیں اور انہی کنجریوں کے نطفے ہیں جو شرفاء کے محلوں میں جا کر بس گئی ہیں ۔۔۔۔ میں نے کہا نہیں یار ماجھے ایسا نہیں ہے اور ایسا نہیں کہتے ۔۔۔ بری بات ہے۔۔اچھا چلو چھوڑو پھر بات ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔میں ‘‘ آس ‘‘ پان والے طرف چل پڑا ۔۔۔۔۔۔۔پیچھے سے ماجھے دَلًے کی آواز پھر مجھے آئی باؤ جی مان لو یہ حقیقت ہے ‘‘ یہ انہی کنجریوں کے نطفے ہیں جو شرفاء کے محلوں میں جا کر بس گئی ہیں ‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔

شام ہو چلی ہے مگر اب بھی ماجھے دَلًے کی آواز میرے کانوں میں گونج رہی ہے کہ ‘‘ یہ انہی کنجریوں کے نطفے ہیں جو شرفاء کے محلوں میں جا کر بس گئی ہیں ‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔

منگل، 30 جون، 2015

روزہ خور کا پہلا روزہ

ماضی کے جھروکوں میں جانے کے لئے بس آنکھیں بند کرنے کی دیر ہوتی ہے تو آپ نے جہاں جانا ہوتا ہے وہاں پہنچ جاتے ہیں ۔صفدر گھمن صاحب نے ماضی کے جھروکوں سے اپنے پہلے روزے کا احوال لکھ کر ساتھ ہی دوسروں کو بھی تحریک دے دی ۔ کوثر بہن اور نعیم خاں نے بھی اپنی اپنی خوبصورت یادوں سے روداد پیش کی ۔اب جانے نعیم خاں صاحب کو ہمارے روزہ خور کے بارے میں کس نے بتایا کہ انہوں نے ہمیں بھی کہہ ڈالا ۔۔۔۔۔ شاید انہیں طاہر القادری کی طرح عالم رویا میں کسی نے بتایا ہوگا ۔۔۔۔

میں جب اپنے ماضی میں جھانکتا ہوں تو مجھے ایک ایک لمحے کی بات یاد آتی ہے ۔ میں پانچویں کلاس میں تھا جب میں نے پہلا روزہ رکھا ۔سخت گرمیوں کے دن تھے ۔ہر دس منٹ بعد میں پانی کی ٹونٹیوں پر جا کر کبھی سر میں پانی ڈالتا تھا اور کبھی منہہ میں پانی لے کر کلیاں کرتا جاتا تھا۔افطار تک وقت کیسے گزرا ۔۔۔ بس مت پوچھئے ۔۔۔۔ بس اس ایک روزے کے بعد مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے بہت عرصہ تک روزہ نہیں رکھا۔

1986 کو میری شادی ہوئی تب تک اور شادی کے بعد بھی میں نے کسی رمضان میں پندرہ یا سولہ روزوں سے زیادہ کبھی نہیں رکھے وہ بھی صرف ایک یا دو دفعہ ۔۔۔ ورنہ کبھی کسی رمضان میں دو رکھ لئے کسی میں تین ۔۔۔البتہ میں سحری بڑے اہتمام سے کرتا تھا یعنی پراٹھے وغیرہ کھا کر صبح پھر ناشتہ پھڑکا دینا۔۔۔جہاں تک نماز کی بات ہے تو جمعہ ضرور پڑھتا تھا مگر وہ بھی باقاعدہ نہیں ۔

1992 میری زندگی کا ایسا سال ہے جس میں اللہ کی رحمت سے میں بالکل تبدیل ہوگیا ۔۔۔ اسی سال میں نے الحمدللہ حج کی سعادت حاصل کی اور بعد ازاں آج تک الحمدللہ کبھی روزہ اور نماز نہیں چھوڑی ۔۔۔
میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ وہ مجھے توفیق دیتا ہے کہ میں روزہ رکھوں اور نماز پڑھوں ۔۔۔ میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ میرے گناہ معاف کردے اور مجھے بخش دے ۔ اور میں جب تک زندہ رہوں مجھے صحت و تندرستی کے ساتھ توفیق دے کہ میں اس کی عبادت کرتا رہوں ۔آمین

پیر، 15 جون، 2015

پاک ٹی ہاؤس اور ہیر رانجھا

اس تحریر کو آپ آڈیو میں بھی سن سکتے ہیں

[audio mp3="http://snaji.com/wp-content/uploads/2015/06/pak-tea-house-lhr.mp3"][/audio]

پاک ٹی ہاؤس لاہور میں مال روڈ پر واقع ہے جو کہ نیلا گنبد کے قریب اور انار کلی بازار کے باہری حصے کی جانب واقع ہے ۔پاک ٹی ہاؤس کے سامنے کی جانب پنجاب یونیورسٹی ہے ، دائیں جانب کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج ہے اور بائیں جانب اے جی آفس کی جانب جانے والی سڑک نظر آتی ہے اور اگر ہم پیچے کی جانب دیکھیں تو وائی ایم سی کی پرانی بلڈنگ ہمیں کھڑی نطر آئے گی ۔

کہا یہ جاتا ہے کہ 1940 میں ایک سکھ بوٹا سنگھ نے "انڈیا ٹی ہاؤس" کے نام سے یہ چائے خانہ شروع کیا تھا۔۔۔ تقریباً چار سال اس چائے خانے کو چلانے کے باوجود بھی بوٹا سنگھ کی اس چائے خانے سے آمدن نہ ہونے کے برابر تھی جس سے بوٹا سنگھ کا دل اس چائے خانے سے اچاٹ ہو گیا اور وہ اس کو بیچنے کے بارے میں سوچنے لگا ۔اس زمانے میں بوٹا سنگھ کے چائے خانے میں دو سکھ بھائی جو گورنمنٹ کالج کے سٹوڈنٹ تھے اپنے دوستوں کے ہمراہ اکثر چائے پینے آتے تھے 1940ء میں یہ دونوں بھائی گورنمنٹ کالج سے گریجوایشن کر چکے تھے اور کسی کاروبا ر کے متعلق سوچ رہے تھے کہ ایک روز اس چائے خانہ پر بیٹھے، اس کے مالک بوٹا سنگھ سے بات چل نکلی اور بوٹا سنگھ نے یہ چائے خانہ ان کو بیچ دیا ۔


لاھور کے مشہور چائے خانوں میں سب سے مشہور چائے خانہ پاک ٹی ہاؤس تھا جو ایک ادبی، تہذیبی اور ثقافتی علامت تھا پاک ٹی ہاؤس شاعروں، ادیبوں، نقاد کا مستقل گڑھ تھا جو ثقافتی، ادبی محافل کا انعقاد کیا کرتی تھیں۔


اس زمانے میں پاک ٹی ہاؤس میں بیٹھنے والے ادیبوں اور شاعروں میں سے سوائے چند ایک کے باقی کسی کا بھی کوئی مستقل ذریعہ معاش نہیں تھا کسی ادبی پرچے میں کوئی غزل، نظم یا کوئی افسانہ لکھ دیا تو پندرہ بیس روپے مل جاتے تھے لیکن کبھی کسی کے لب پر تنگی معاش کا شکوہ نہیں تھا اگر شکوہ کرتے تھے تو محبوب کی بے وفائی کا۔۔۔۔۔۔ وہ بھی اپنی شاعری میں ۔۔۔



سعادت حسن منٹو، اے حمید، فیض احمد فیض، ابن انشاء، احمد فراز، منیر نیازی، میرا جی، کرشن چندر، کمال رضوی، ناصر کاظمی، پروفیسر سید سجاد رضوی، استاد امانت علی خان، ڈاکٹر محمد باقر، انتظار حسین، اشفاق احمد، قیوم نظر، شہرت بخاری، انجم رومانی، امجد الطاف امجد، احمد مشتاق، مبارک احمد، انورجلال، عباس احمد عباسی، ہیرو حبیب، سلو، شجاع، ڈاکٹر ضیاء، ڈاکٹر عبادت بریلوی، سید وقار عظیم وغیرہ پاک ٹی ہاؤس کی جان تھے

ساحر لدھیانوی بھارت جا چکے تھے اور وہاں فلمی گیت لکھ کر اپنا نام کما رہے تھے۔۔ اس وقت کے شاعر اور ادیب اپنے اپنے تخلیقی کاموں میں مگن تھے ادب اپنے عروج پہ تھا اس زمانے کی لکھی ھوئی غزلیں، نظمیں، افسانے اور مضامین آج کے اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں اس زمانے کی بوئی ہوئی ذرخیز فصل کو ھم آج کاٹ رہے ہیں

پاک ٹی ہاؤس کئ نشیب و فراز سے گزرا اور کئ مرتبہ بند ہو کر خبروں کا موضوع بنتا رہا
عرصہ دراز تک اہل قلم کو اپنی آغوش میں پناہ دینے کے بعد 2000ء میں جب ٹی ہاؤس کے مالک نے اسے بند کرنے کا اعلان کیا تو ادبی حلقوں میں تشویس کی لہر دوڈ گئ اور اھل قلم نے باقاعدہ اس فیصلے کی مزاحمت کرنے کا اعلان کر دیا

دراصل ٹی ہاؤس کے مالک نے یہ بیان دیا تھا کہ "میرا ٹی ہاؤس میں گزارہ نہیں ہوتا میں کوئی دوسرا کاروبار کرنا چاہتا ہوں" ادبی تنظیموں نے مشترکہ بیان دیا کہ ٹی ہاؤس کو ٹائروں کی دکان بننے کی بجائے ادیبوں کی بیٹھک کے طور پر جاری رکھا جائے کیونکہ اس چائے خانے میں کرشن چندر سے لیکر سعادت حسن منٹو تک ادبی محفلیں جماتے رھے
ادیبوں اور شاعروں نے اس چائے خانے کی بندش کے خلاف مظاہرہ کیا اور یہ کیس عدالت میں بھی گیا اور بعض عالمی نشریاتی اداروں نے بھی احتجاج کیا آخر کار 31 دسمبر 2000ء کو یہ دوبارہ کھل گیا اور اہل قلم یہاں دوبارہ بیٹھنے لگے لیکن 6 سال کے بعد مئ 2006ء میں یہ دوبارہ بند ہو گیا اس بار ادیبوں اور شاعروں کی طرف سے کوئی خاص احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا


میاں نواز شریف نے بالآخر 23 مارچ 2012 کو پاک ٹی ہاؤس میں چائے پی کر اور اس کا افتتاح کر کے ادیبوں اور شاعروں کے لیے اس کے دروازے ایک بار پھر کھول دئیے ۔

آجکل پاک ٹی ہاؤس میں ادبا اور شعرا تو خال خال ہی نظر آتے ہیں البتہ دوپہر گیارہ بجے سے شام پانچ بجے تک لیلی مجنوں ، شیریں فرہاد ، سسی پنوں اور ہیر رانجھا اپنی اپنی سرگوشیوں میں مشغول رہتے ہیں ۔

https://soundcloud.com/urduhome/pak-tea-house

.....................

منگل، 9 جون، 2015

پاک ٹی ہاؤس لاہور میں قیصرانی بھائی کے ساتھ ایک تعزیتی نشست

زندگی میں انسان کو بہت سے لوگ ملتے ہیں ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بے غرض اور بے لوث ہوتے ہیں ۔ منصور محمد المعروف قیصرانی بھائی بھی انہیں میں سے ایک شخصیت ہیں ۔قیصرانی بھائی سے میری شناسائی تب سے ہے جب اردو محفل نئی نئی وجود میں آئی تھی ۔ زیادہ یاد اللہ ان سے تقریباً چار سال پہلے ہوئی ۔انٹرنیٹ کی دنیا میں اردو کی ترویج میں قیصرانی بھائی کا نام بھی صف اول کے مجاہدوں میں شمار ہوتا ہے اور اردو بلاگنگ کی تاریخ میں قیصرانی بھائی کا نام شروع کے چند بلاگرز میں آتا ہے۔

پچھلے دنوں قیصرانی بھائی کی والدہ ماجدہ کا قضائے الہی سے انتقال ہوگیا تھا ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔۔۔۔ اپنی والدہ کی وفات کی وجہ سے وہ پاکستان تشریف لائے ۔ میں ، ساجد بھائی اور عاطف بٹ بھائی تعزیت کرنے کے لئے ان کے گھر گئے ۔بعد ازاں گزشتہ روز پاک ٹی ہاؤس لاہور میں ایک تعزیتی نشست کا اہتمام کیا گیا جہاں فاتحہ خوانی کی گئی اور دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ والدہ محترمہ کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین ۔

پاک ٹی ہاؤس لاہور کی اس تعزیتی نشست میں قیصرانی بھائی کے ساتھ ساجد شیخ ، عاطف بٹ ، محمد شاکر عزیز ، بابا جی ، حسیب نذیرگل اور خاکسار نجیب عالم نے شرکت کی ۔

تمام تصاویر آپ گوگل میں میری پروفائل سے بھی ڈانلوڈ کرسکتے ہیں ۔۔۔۔ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

[gallery link="file" ids="2034,2033,2032,2031,2030,2025,2026,2027,2028,2029,2024,2020,2021,2022,2023,2010,2011,2012,2013,2014,2009,2008,2007,2006,2005,2001,2003,2004,2015,2016,2017,2018,2019"]

بدھ، 13 مئی، 2015

بھونڈوں اور بھونڈی سے بچیں

بھونڈ ایک ایسا اُڑنے والا کیڑا ہے جو اگر انسان کے اند اپنا ڈنگ گھسیڑ دے تو انسان کی چیخیں نکل جاتی ہیں ۔کچھ لوگ اسے بھِڑ اور ڈیمو کے نام سے بھی پکارتے ہیں ۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں اسے اپنی زبان کے حساب سے اور بہت سے ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے ۔

ویسے تو بھونڈ بہت سی قسموں کے ہوتے ہیں مگر تین قسم کے بھونڈ زیادہ مشہور ہیں ۔ پیلا ۔۔۔ براؤن اور پیلا ( دو رنگا ) ۔۔۔۔ تیسرا کالے رنگ کا
کالے رنگ کا بھونڈ دیکھنے میں جتنا خطرناک ہوتا ہے اتنا اس کا ڈنگ خطرناک نہیں ہوتا جبکہ پیلے اور براؤن پیلے رنگ کے بھونڈوں کے ڈنگ زیادہ خطرناکی لئے ہوتے ہیں ۔بڑے بوڑھے اور سیانے برؤن اور پیلے یعنی دورنگی بھونڈ کا ڈنگ زیادہ خطرناک بتاتے ہیں ۔

shehad-ki-makhiشہد کی مکھی کا ڈنگ بھی انتہائی خطرناک ہوتا ہے کچھ لوگ اسے بھونڈی بھی کہتے ہیں ۔کچھ سیانے بھونڈ اور شہد کی مکھی کے ڈنگ میں شہد کی مکھی کو زیادہ خطرناک بھی بتاتے ہیں ۔

بھونڈ کو پنجابی میں پونڈ بھی کہا جاتا ہے ۔پنجاب میں لڑکیوں کے آس پاس مسلسل چکر لگانے والے لڑکے کو بھی پونڈ ( بھونڈ ) کے نام سے تشبیہ دی جاتی ہے ۔ایسا کرنے کو پونڈی کرنا بھی کہتے ہیں ۔ یہ پونڈ ( بھونڈ ) اسکول اور کالجوں کے باہر بکثرت پائے جاتے ہیں ۔اسی پونڈ کو تہذیب یافتہ انداز اور شاعروں کی زبان میں بھنورا بھی کہا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ پونڈی میں تہذیب کہاں ؟

کہا جاتا ہے کہ بھونڈ یا شہد کی مکھی جب ڈنگ مارتی ہے تو جہاں ڈنگ مارا جاتا ہے وہاں شدید قسم کی درد کی لہریں چلنا شروع ہوجاتی ہیں جو انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہیں بھونڈ یا شہد کی مکھی کے ڈنگ مارتے ہی کئی لوگوں کو تو چیخیں ( چانگریں ) مارتے بھی دیکھا گیا ہے ۔
آج کل چونکہ بھونڈوں کا سیزن شروع ہو چکا ہے ۔ پھلوں کی ریڑھیوں کے آس پاس درجنوں بھونڈ آپ کو بھنبھناتے نظر آئیں گے ان میں سے کچھ شرارتی بھونڈ لوگوں کی شلوار قمیض کے اندر بھی گھس جاتے ہیں جن کی وجہ سے وہ بیچارے شلوار قمیض اتار کر ننگے چانگریں مار کر بھاگتے نظر آتے ہیں ۔

اگر آپ کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ رونما ہو جائے تو گھبرائیے گا نہیں ۔۔۔۔
جب بھی آپ یا کسی کو بھونڈ ، شہد کی مکھی کاٹے یعنی ڈنگ مارے تو فوری طور پر پٹرول لے کر اُس ڈنگ والے حصے یعنی متاثرہ جگہ پر اچھی طرح مل لیں ۔۔۔ چند ہی لمحوں بعد ڈنگ کا اثر زائل اور درد ختم ہوجائے گا ۔
راہ چلتے ہوئے عموماً پٹرول پاس نہیں ہوتا ایسی صورت میں کسی موٹر سائکل والے کوروک کر اس سے تھوڑا پٹرول لے کر فوری طور پر متاثرہ جگہ پر اچھی طرح مل لیں ۔یاد رہے کہ یہ ہمارا آزمایا ہوا نسخہ ہے اور اسے ہم نے سوفیصد کار آمد پایا ہے ۔ہم نے اس نسخے کو بچھو اور سانپ کے کاٹے کے علاوہ تمام چھوٹے موٹے کیڑوں کے کاٹنے پر استمال کیا ہے اور اسے سو فیصد کارآمد پایا ہے ۔

پیر، 4 مئی، 2015

ڈینگی سرکار اور اس کے مریدوں سے بچاؤ کا ٹوٹکہ

انڈین فلموں کے معروف اداکار نانا پاٹیکر کا ایک مشہور ڈائلاگ تھا کہ ‘‘ سالا ایک مچھر آدمی کو ہیجڑا بنا دیتا ہے ‘‘ اس وقت تو شاید لوگوں کو اس فقرے کی سمجھ نہ آئی ہو مگر جب سے ہمارے ملک میں ڈینگی مچھر نے دھاوا بولا ہے ۔۔ بہت سوں کو اس کی سمجھ آ گئی ہے اور بہت سے تو مچھر کا نام سن کے خوف سے تھر تھر کانپنے بھی لگ جاتے ہیں ۔

لوگوں کی تو بات دور کی ٹھرتی ہے ہم بذات خود مچھر سے بڑا ڈرتے ہیں ۔ یہ ڈر ہمیں اس وقت سے پیدا ہوا جب ڈینگی سرکار نے لاہور میں پہلی دفعہ دھاوا بول کے ہمیں بھی اپنی لپیٹ میں لے کر ادھ موا کر دیا تھا۔تب سے اب تک ہم ایک ‘‘ عام مچھر ‘‘ ( ڈینگی سرکار کا مرید ) کو بھی جہاں دیکھ لیں ہمیں اس پر ڈینگی کا ہی گمان ہوتا ہے اور ہماری پہلی کوشش یہی ہوتی ہے کہ سب کام چھوڑ کے پہلے اس کو پھڑکا دیں ۔۔۔ کیونکہ اگر ہم نے اس کو نہیں پھڑکایا تو یہ ہمیں پھڑکانے میں دیر بالکل نہیں لگائے گا ۔

دوسرے بہت سے سیانوں کی طرح ہم نے بھی مچھروں کو بھگانے کے لئے بہت سے ٹوٹکے آزمائے ہیں مگر سب بیکار ۔ ہزاروں روپے مچھر مار سپرے ، کوائل ، آئل ، کریم اور دیگر چیزوں پر ضائع کرنے کے باوجود شام پڑتے ہی یہ ‘‘ ڈھیٹ مچھر ‘‘ ہمارے کانوں میں کسی گندے اور غلیظ سیاستدان کی طرح بھوں بھوں کرنا شروع ہوجاتے ہیں ۔

lemon-02چند دن پہلے ہماری بچی نے کہیں سے پڑھا ہوا ہمیں ایک ٹوٹکہ بتایا جو کہ ‘‘ ایک عدد لیموں اور چند لونگ ‘‘ پر مشتمل تھا ۔پہلے تو ہم نے سوچا کہ یہ بھی بس ایویں ہی ہوگا ۔ ہم نے اتنی بڑی بڑی کیمپنیوں کے مہنگے مہنگے سپرے تک استمال کر لئے اس سے کچھ نہیں بنا تو بھلا اس سے کیا ہوگا ۔ پھر سوچا کہ چلو اس میں کونسا زیادہ خرچہ آتا ہے ، آزما لیتے ہیں ۔۔ سو لیموں والے ٹوٹکے کو آزمایا گیا اور شدید حیرت ہوئی کہ پوری رات میں ایک بھی مچھر کمرے میں نظر نہیں آیا۔

ایک عدد تازہ لیموں لیجئے اور اسے درمیان میں سے کاٹ کر دو ٹکڑے کر لیں ۔۔۔ کسی بھی ایک ٹکڑے پر چار یا پانچ لونگ لگا کر کمرے میں رکھ دیں ۔۔۔۔۔پُرسکون نیند سونے پر ہمیں دعائیں دیں کیونکہ اب آپ کے کمرے میں ڈینگی اور اس کے مریدین ( عام مچھر ) کا داخلہ ممنوع ہوچکا ہے ۔