‏سیاستدان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏سیاستدان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 13 نومبر، 2017

پیرا ڈائز لیک میں شرفاء کے ناموں کی لسٹ


پیرا ڈائز لیک ۔۔۔دیکھئے کیسے کیسے شرفاء اس میں شامل ہیں

کیا آپ بھی اِن شرفاء میں سے تو نہیں ؟

نرل (ر)مرزا اسلم بیگ ، لیفٹیننٹ جنرل (ر)زاہد علی اکبر ، ایڈمرل (ر) منصور الحق ، ایڈمرل (ر) سعیدمحمد خان ، ائیر 
چیف مارشل (ر) انور شمیم ، بریگیڈئیر (ر) امتیاز ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) فضل حق ، ائیر چیف مارشل(ر) عباس خٹک ، میجر جنرل (ر) شجاعت علی بخاری


بیوروکریٹس:
جاوید خانزادہ ، احمد صادق ، جاوید قریشی ، ایم بی عباسی ، اے آر صدیقی ، بریگیڈئیر (ر)اسلم حیات قریشی ، کیپٹن ایس ناصر ، مسعود شریف ،سلمان فاروقی ،شفیع شہوانی ، عثمان فاروقی ، شاہد رفیع ، واجد شمس الحسن ، شوکت علی کاظمی


بزنس مین:
صدر الدین ہاشوانی، بہرام ڈی آواری، سعید شیخ، سلطان لاکھانی، امین لاکھانی، ذوالفقار لاکھانی، اقبال لاکھانی، یونس ڈالیا، عبدالرزاق یعقوب، علی جعفری، اسد اللہ شیخ، اصغر ملک ، آصف میمن، حسین لوائی، اقبال میمن، جاوید سلطان، ریاض لعل جی، نسیم الرحمن، آصف اقبال، ہارون حاجی کباڈیا، آصف سیہگل، عارف سہگل، عابد سہگل، شیخ عبدالشمویل قریشی، محفوظ مصطفیٰ، ماجد بشیر، محمد آصف، محمد رضی، محمد صالح، جاوید سلطان، بدرالزمان، میاں فاروق احمد شیخ، میاں سہیل احمد شیخ، عبدالشکور اسماعیل کلوڈی، عبداللہ کلوڈی، صدر الدین گانجی، ہاشم گانجی، چوہدری زاہد احمد، چوہدری شاہد حمید، بشرازاہد حمید، میاں شہزاد اسلم، میاں شمیم انور، میاں فرخ نسیم، میاں محمد احمد، جاوید اشرف، سعید جاوید طارق، وقار عظیم ، نصرت عظیم ، شوکت عظیم ، سجاد عظیم ، شفیق سہگل ، شاہد سہگل ، شہزاد سہگل، سرور علی، رفیق سہگل ، چوہدری محمد انور حسین سندھو، انور نسرین ، خالد حسین چوہدری، فوزیہ بی بی ، نسیم منور، سید ثمینہ ابرار، ضیاء الرحمٰن ، کیپٹن نصیر احمد ،سید شہزاد ظہور ، فوزیہ حیدر ،جاوید احمد شاہ ،دردانہ شاہ ،فوزیہ علی کاظمی ، عبدالستار کیریو،ڈاکٹر غنی انصاری ،فرید ویریانی ،فرید عطاءاللہ ،حبیب اللہ خان کنڈی ،میاں محمد علی طارق، محمدصالح،مسلم لاکھانی ، ناہید خان ، ناصر وسیم خان ،نیئر باری ،ایس ایم اسحٰق،سید جاوید طارق ،سجاد حسین ،شجاع الحسن ،سراج شمس الدین ،طاہر خان نیازی، طفیل شیخ ،مسعود شاہ ، سید طاہر حسین ، ناہر حسین ،سید عامر حسین ،انجم طاہر حسین ،فرح ناصر حسین ،کیپٹن ایس ایچ اطہر ، فرناز عامر حسین ، شیخ ضمیر احمد ،عائشہ آفتاب ، ایم ایم اسلم خان ،مریم آفتاب ، ایس جے او فاطمی ، بیگم پروین حیات، ڈاکٹر جریر ایس دجانی ، ایم ابراہیم فیاض حمید ،حیدر علی خان ،حسن محمود سیال ،میجر (ر) جہانگیر خان ، کے ایچ ایم عبدالرحمان جامی ،بلقیس اختر، نور جہاں، کے ایچ ایم یوسف ، کے ایچ ایم عبداللہ ،عائشہ فرزانہ ، مہر فاطمہ ،کنیز فاطمہ ، عبدالشکور ،حاکم شیخ ، اختر علی ، قمر جہاں، محمد بہاؤالدین پرویز،محمد سعید خان ، شلیم انڈریوز


سیاستدان:
میاں محمد شریف ، میاں محمد نواز شریف ، میاں محمد شہباز شریف ،میاں محمد عباس شریف ، میاں حسین نواز،میاں حسن نواز،میاں حمزہ نواز، بیگم کلثوم نواز، شمیم اختر ، آصف علی زرداری ، بینظیر بھٹو ، آفتاب احمد شیرپائو، جہانگیر بدر، خاقان عباسی ، سید غوث علی شاہ ، سید عبداللہ شاہ ، شاہدہ فیصل ، زوجہ فیصل صالح حیات ، سید اسد حیات بھائی فیصل صالح حیات، فیصل صالح حیات ،عامر مگسی ، انور سیف اللہ ، اعظم ہوتی ، چوہدری شیر علی، غلام مصطفیٰ کھر ، گوہر ایوب، گلزار احمد (سینیٹر)، ہارون اختر، ہمایوں اختر، جام معشوق علی ، جاوید ہاشمی ، منظور وٹو ،منور حسین منج، نادر مگسی ،نواب یوسف تالپور ، رانا شوکت محمود ، وقار احمد، ذوالقار مگسی ، احمد مختار ،ڈاکٹر ذوالفقار مرزا،خالد کھرل ،رائو سکندر، رحمان ملک ، سردار مہتاب احمد خان ،فوزیہ یوسف رضا گیلانی ، آفتاب اے شیخ ، نسرین آفتاب، اسلام الدین شیخ ، نورمحمد شیخ ، نورالدین شیخ ، نورین شیخ ۔

بدھ، 25 اکتوبر، 2017

بھٹو ایک مکار اور مداری سیاستدان

بھٹو ایک مکار اور مداری سیاستدان تھا
۔۔۔ پاکستان کو دولخت کرنے میں اس کردار تھا
۔۔۔پاکستان کی ابھرتی معشیت کا بیڑا غرق اس نے کیا
۔۔۔پاکستان کے نیچے سے اوپر لیول تک سیکورٹی اداروں کو عوام کے ہاتھوں اس نے ذلیل کروایا
۔۔۔رینجرز کے مقابل اس نے اپنی ذاتی فورس ‘‘ ایف ایس ایف ‘‘ کے نام سے تشکیل دی جس نے تمام قوانین کو بالائے طاق رکھ کر اپنے مخالفوں کا بے رحمانہ قتل کیا اور نو ستاروں کی تحریک کے دوران درجنوں بے گناہ لوگوں کو مروایا
۔۔۔گھر بیٹھے شریف لوگوں کو گمشدہ کرنا اس کے دور میں شروع ہوا ۔۔۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کا آج تک پتہ نہ چل سکا۔۔۔ دہائی دیتے دیتے ان کی نسلیں بھی قبروں میں جا سوئیں
۔۔۔اس کے دور میں اسی کے چہیتے پنجاب کے گورنر غلام مصطفے کھر نے کالج میں پڑھنے والی شریف زادیوں کو راتوں میں ہوسٹل سے اغوا کر کے گورنر ہاؤس میں ان کے ساتھ زنا بالجبر کیا ۔۔۔ ان میں سے کچھ لڑکیوں نے خود کشی بھی کی
۔۔۔۔اس کے دور میں آٹا ، گھی ، چینی ، مٹی کا تیل اور دیگر اشیاء راشن ڈپوؤں پر راشن کارڈ پر ،لتی تھیں ۔۔ میرے سمیت پورا پاکستان کو ان کھانے پینے اور ضروریات زندگی کی چیزیں لینے کے لئے گھنٹوں ذلیل و خوار ہونا پڑتا تھا
۔۔۔شملہ معاہدہ اور قوام محتدہ میں جان بوجھ کر کشمیر ریزولیشن کی کاپی پھاڑ نے کا ڈرامہ کر کے کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کا جتنا ذمدار یہ بھٹو مداری تھا اور کوئی نہیں ہوگا۔
۔۔۔ابھی اس مداری کے پاکستان کا بیڑا غرق کرنے کا اتنا مواد ہے کہ درجنوں کتابیں لکھی جا سکتی ہیں ۔۔۔ اس لئے انہی پر گزارا کیجئے