islamabad لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
islamabad لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 3 اگست، 2018

مرشد پاک دیاں ایجنسیاں شریف


آجکل ایجنسیز لوگوں کو اٹھا کر لے جاتی ہیں اور کچھ دنوں بعد کالا سیاہ کرکے پانچ وقت کا پابند نمازی کرکے چھوڑ جاتی ہیں۔
یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ سمجھ لیں بندے کے اندر جو "کیڑا" ہوتا ہے وہ کڈ کر بندے کو سیدھا تیر یعنی صراط المسقیم پر چڑھا دیتی ہیں۔
اور دعا بھی دیتی ہیں کہ جا بچہ اللہ دین ایمان کا پکا رکھے ای۔
زیادہ تو نہیں معلوم لیکن اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ کوئی نا کوئی "وجہ" ضرور ہوتی ہے۔
کہ "ایجنسیوں" کو مجبوراً بندہ "چیک" کرنا پڑتا ہے۔
ایسے حالات میں گہیوں کے ساتھ تھوڑا بہت گہن بھی پس ہی جاتا ہے۔
صبر کر لینا چاھے اور درجات کی بلندی کی دعا کرلینی چاھئے۔
اب یہی دیکھ لیں ۔
دہشت گردی میں کافی کمی ہوئی ہے۔ ورنہ ڈر ہی لگا رہتا تھا کہ کون کہاں پر پھٹ پڑےگا۔
الیکشن کا کنجر خانہ جو فی الحال پورے جوش وخروش سے رواں دواں ہی ہے۔ اس کے دوران ہی دو شدید قسم کے "دہشت گردی" کے واقعات ہوئے ہیں۔
لوگوں کی کافی تعداد ماری گئی اور سینکڑوں لولے لنگڑے ابھی بھی زیر علاج ہیں۔۔
فوج کو گالیاں دینے والے ایک لمحے کیلئے سوچیں کہ جنہیں "ایجنسیز " اٹھاتی ہیں۔ وہ لوگ آخر کیوں "ایجنسیز" کی نگاہ میں آتے ہیں؟
مثال کے طور پر
"سوشل میڈیا" پر ہمارے سامنے سلیمان حیدر ، وقاص گورایہ ، اور ابو علیحہ کو اٹھایا گیا اور جھاڑ پونچھ کرکے چھوڑ دیا گیا۔
ان تینوں کو ہم پڑھتے ہی رہتے تھے۔ اور اب بھی ان کا لکھا نظروں سے گذرتا ہی رہتا ہے۔
ابو علیحہ فی الحال زیر علاج اور آفٹر شاکس سے گذر رہے ہیں۔ کافی شبھ شبھ لکھ رہے ہیں۔
باقی دو کا "کیڑا" شاید سپورٹ تگڑی ہونے کی وجہ سے سر "اٹھاتا" ہی رہتا ہے۔
بحرحال ہم ان تینوں کے لکھے کو کسی طرح بھی "آزادیِ اظہارِ رائے" کے زمرے نہیں رکھ سکتے تھے۔
ایک دو سٹیٹس لوگوں کو جمع کرنے کیلئے "لفاظیت" سے لکھتے تھے اور پھر "حق سچ" کےنام پر "منافرت" پھیلاتے تھے۔
ساری دنیا میں "ریاستوں" کا یہی طریقہ کار ہے مشکوک بندے کو پہلے اٹھایا جاتا ہے "تفتیش" کی جاتی ہے۔
بیگناہ یا احمق بیوقوفانہ طریقہ سے سستی شہرت یا مالی فائدہ اٹھانے والا ہونے کی تصدیق ہونے کے بعد چھوڑ دیا جاتا ہے۔
جاؤ تسی بیگناہ ہو۔ اللہ اللہ خیر صلا۔
اگر اس "تفتیشی عمل" کے دوران بندہ سوکھ سڑ کر تھوڑا بہت "کالا کلوٹا" ہو جاتا ہے تو میرے خیال میں "اٹھائے " جانے والے کو اپنا "حق سچ" بولنے کا "معاوضہ " ادا کرنا سمجھ کر صبر شکر کر لینا چاھئے۔
اور بھولیئے مت پاکستان دہشت گردی کی زد پر ہے اور مسلسل "لاشے" اٹھائے جارہے ہیں۔

ہمارے ادھر جاپان سے قدیم و عظیم بلاگرعقلاں اور دانشاں "کمہاراں " آلی سرکار بھی بہت "حق سچ" کا پر چار کرتے رہتے ہیں۔
مذہبی منافرت ، لسانی منافرت ، نسلی منافرت ، کے علاوہ
ساڈی جان سے بھی پیاری افواج پاکستان کے خلاف ہرزہ سائی بھی کرتے رہتے ہیں۔ :D
بس ان کی بھی پین دی سری کی جائے :D
اس بار پاکستان یاترا کریں تو انہیں بھی ذرا ائیر پورٹ سے "چیک" کرنے کیلئے "ایجنسیوں" کو وصول کر لینا چاھئے۔
سو فیصد ضمانت دی جاتی ہے کہ کچھ فیس بک پیجز اور کچھ مشکوک "سائیٹز" ضرور ان کی "کرامتوں" کی مرہون منت چل رہی ہوں گئیں۔
کون کون سے پیج اور سائیٹز پوچھ مت لینا۔۔تُکے سے کام لیا جارہا ہے۔۔۔۔۔۔
:D :D
اور سلیمان حیدر، وقاص گورایہ ، ابو علیحہ ان تینوں سے ضرور کوئی نا کوئی تعلق واسطہ ہوگا۔ بلکہ میرے خیال میں تو باقاعدہ روابط ہوں گئے۔
ابو علیحہ کی "مشکوک" فلم کیلئے "سرمایہ " فراہم کرنے کا تو "ایجنسیوں" کو معلوم ہو ہی چکا ہے (اندروں دی گل)
ہم نے "حب الوطنی " کا مظاہرہ کرتے ہوئے غفور انکل کو اطلاع دے دی ہے۔
پھر نہ کہنا "خبر " نہ ہوئی۔ :D
نوٹ؛-
منجانب از ادارہ خوامخواہ جاپانی ٹوٹلی حالتِ وجدبوٹ پالشی میں لکھا گیا آرٹیکل

جمعرات، 28 جون، 2018

کیا عمران خان ہنی ٹریپ کا شکار ہوچکے ہیں؟؟ ۔۔ مہتاب عزیز






کیا عمران خان ہنی ٹریپ کا شکار ہوچکے ہیں؟؟

حالات تو اسی جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ تحریک انصاف کے سربراہ اس جال میں پھنس چکے ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ 66 سال کا جہاندیدہ سیاستدان کیا دامِ الفت (honey trap) کا شکار ہو سکتا ہے؟
اس کا جواب ہاں میں ہے، دنیا کے کئی سیاسی اور عسکری رہنماوں کی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ جہیں ڈھلتی یا آخری عمر میں دامِ الفت (honey trap) میں پھنسا کر استعمال کیا گیا۔

خصوصا پاکستانی سیاستدانوں اور فوجی سربراہوں کے ریکارڈ تو اس سلسلے میں بہت خراب ہے۔ یوں تو اس دامِ الفت (honey trap) میں پھنسنے والوں میں پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کا نام بھی لیا جاتا ہے۔ جن کا تعلق پنجاب کے علاقے کرنال سے تھا۔ جنہوں نے 38 سال کی عمر میں دوسری شادی بیگم رعنا سے 1936 میں ہوئی۔ بیگم رعنا کی پیدائش ہندوستان کے علاقے اترکھنڈ میں الموڑہ کے مقام پرایک عیسائی خاندان میں ہوئی اور ان کے والد ڈینیل پنت نے ان کا نام شیلا آئرین پنت رکھا تھا۔ شیلا آئرین پنت نے بعد میں لیاقت علیخان کی محبت میں گرفتار ہو کر اپنا مذہب تبدیل کیا۔ اور شادی کے بعد رعنا لیاقت علی خان بن گئیں۔ پاکستان آرمی نے انہیں پہلی خاتون بریگیڈئر جنرل کا اعزاز دیا۔آپ نے پاکستان کی پہلی خاتون سفیر کے طور نیدرلینڈ، اٹلی اور تیونس میں خدمات سرانجام دیں۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ میں وزیر رہیں۔بعدازاں بھٹو نے انہیں سندھ کی پہلی خاتون گورنر کے طورپر تعنیات کیا۔ بیگم رعنا پاکستان میں خواتین کو گھروں سے نکالنے، آزاد خیالی اور پردے کی مخالفت کی بانی ہیں۔ انہوں نے اپوا کی بنیاد رکھی جس نے پاکستان کی ابتدا سے شرعی قوانین کے نفاذ کی مخالفت کی۔

دامِ الفت (honey trap) کا باقاعدہ شکار ہونے والا پہلا پاکستانی سربراہ گورنر جنرل غلام محمد تھا۔ فالج کا شکار یہ معذور شخص آخری عمر میں ایک جرمن نژاد امریکی خاتون روتھ بورال کی زلف کا اسیر ہوا۔ یہ ایک ایسا سربراہ تھا فالج کی وجہ سے جس کی زبان بھی کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا۔ اور نہ ہی یہ کسی کاغذ پر دستخط کر سکتا تھا۔ اس کے بیانات اورہر طرح کے احکامات پر دستخط اس کی امریکی سیکریٹری ہی جاری کرتی تھی۔ اس حالت میں اس نے امریکیوں کو پہلی بار پاکستان میں مداخلت کا موقعہ دیا۔ اور پشاور کے نزدیک بڈبھیر کا ہوائی اڈا امریکیوں کو دیا۔ اسی نے اسمبلیاں توڑ کر غلط رسم کا آگاز کیا، امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر محمد علی بوگرا کو اچانک وزیر اعظم مقرر کر کے پورے ملک کو حیران کر دیا۔ یہی دور تھا جب پاکستان امریکی کالونی بنا۔

امریکی میں تعنات پاکستانی سفیر کو اچانک پاکستان کا تیسرا وزیراعظم محمد علی بوگرہ بنائے گئے تھے۔ جن کے دور میں پاکستان میں امریکیوں کو خصوصی مراعات حاصل ہوئیں۔ بوگرا صاحب بھی امریکی میں تعناےی کے دوران دامِ الفت کا شکار ہوئے۔ انکی دوسری بیوی عالیہ سدی لبنانی نژاد امریکی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔

پاکستان کے ایک اور وزیراعظم حسین شہید سہروردی بھی دام الفت کا شکار ہوئے۔ اُن کی دوسری اہلیہ کا تعلق روس سے تھا۔ وہ ماسکو آرٹ تھیٹر سے وابستہ ایک روسی اداکارہ تھیں۔ ان کا نام ویرا الیگزینڈرونا کالڈر تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ حسین شہید سہروردی کا پاکستان میں جاری روس امریکہ کشمکش کے دوران جھکاو روس کی جانب تھا۔

پاکستان کے ساتویں وزیر اعظم ملک فیروز خان نون کی اہلیہ بیگم وقار النسا نون کا تعلق اسٹریا سے تھا۔ ان کا پیدائشی نام وکٹوریہ ریکھی تھا۔ ملک فیروز خان نون جب برطانیہ میں حکومت ہند کے ہائی کمشنر تھے تب ان کی ملاقات وکٹوریہ سے ہوئی۔ جس کے بعد دونوں کی محبت کا آغاز ہوا جو شادی پر منتہج ہوئی۔ بعد ازاں وکٹوریہ اپنا مذہب اور نام ترک کر کے بیگم وقار النسا نون ہوگئیں۔ یہ خواتین کی آزاد خیالی کی حامی اولین تنظیم اپواء کے بانیوں میں شامل تھیں۔ پاکستان میں تعلیم کو سیکولر خطوط پر ڈھالنے میں ان کا اہم کردار ہے۔

ہنی ٹریپ کا دوسرا شکار پاکستان کا آخری گورنر جنرل اور پہلا صدر سکندر مرزا تھا۔ جسے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ معروف غدار میر جعفر کا پڑپوتا تھا۔ اس کی دوسری اہلیہ ناہید افغامی سے محبت اور شادی کو باقاعدہ ایرانی انٹیلیجنس کا کارنامہ قرار دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اُس وقت کی ایرانی انٹیلیجنس امریکی سی آئی اے کا ایک ذیلی ادارہ سمجھی جاتی تھی۔ نائید افغامی پاکستان میں ایران کے ملٹری اتاشی کی بیوی کی حیثیت سے پاکستان آئیں۔ ایران کے ڈیفنس اتاشی کی اہلیہ کی حیثیت سے اُن کی ملاقات اُس وقت کےڈیفنس سیکرٹری میجر جنرل سکندر مرزا سے ہوئی۔ ملاقاتیں محبت میں بدل گئیں۔ پھر نائید نے اپنے ایرانی شوہر سے طلاق حاصل کر کے اسکندر مرزا سے شادی کر لی۔ میجر جنرل سکندر مرزا کے چور دروازے سے اقتدار میں آنے کے بعد نائید ملک کے سیاہ اور سفید کی مالک بن گئیں۔ اس دور میں ایران اور امریکہ کے مفاد میں ہونے والے اقدامات کی تفصیل کے لیے ایک پوری کتاب درکار ہے۔

پاکستان کے دوسرے فوجی آمر آغا محمد یحیٰ خان کا کردار اتنا گھنونہ ہے کہ اُس پر بات کرت ہوئے گھن آتی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یحیٰ خان کی داشتہ اقلیم اختر المعروف جنرل رانی بھی غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ایجنٹ تھی۔

ایرانی انٹیلیجنس کا دوسرا کارنامہ ذولفقار علی بھٹو کو دام الفت میں گرفتار کرنا قرار دیا جاتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی دوسری اہلیہ بیگم نصرت اصفحانی کا تعلق ایران کے شہر اصفحان سے تھا۔ وہ گریجویشن کے بعد پاکستان آئیں، جہاں کراچی میں اُن کی ملاقات بھٹو سے کرائی گئی۔ جو پہلے محبت اور پھر شادی کا باعث بنی۔ ذولفقار علی بھٹو کے کئی اقدامات کے پیچھے نصرت بھٹو کی وساطت سے ایرانی اثرات کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے ذولفقار علی بھٹو کی اقتدار سے برطرفی کے بعد میں سزائے موت کے بعد ان کا خاندان افغانستان اور پھر شام منتقل ہوا۔ دونوں ممالک اُس وقت ایران کے زیر اثر تھے۔ خاندان کے باقی افراد بعد ازاں مغربی ممالک چلے گئے لیکن دہشت گردی کی متعدد وارداتوں میں پاکستان کو مطلوب میر مرتضیٰ بھٹو شام میں ہی مقیم رہے۔ جن کی اہلیہ غنویٰ بھٹو کا تعلق بھی شام سے ہے۔

پیر، 23 فروری، 2015

رانا بھگوان داس اور جنت

پاکستان کے سابق چیف جسٹس رانابھگوان داس جو کہ ایک ہندو گھرانے سے تعلق رکھتے تھے آج انتقال کر گئے ہیں ۔رانا بھگوان داس نے 1965ء میں بار میں شمولیت اختیار کی اور 1967 میں عدلیہ کا حصہ بنے ۔انہوں نے کئی سال سیشن جج کے طور پر بھی اپنے فرائض انجام دئے۔1994میں سندھ ہائیکورٹ کے جج بنے اور سن 2000 میں سپریم کورٹ کے جج تعینات کر دئے گئے ۔9 مارچ 2007 ءکو جسٹس افتخار چوہدری کی معزولی کے بعد جسٹس رانا بھگوان داس کو پرویز مشرف نے قائم مقام چیف جسٹس تعینات کر دیا ۔رانا بھگوان داس نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار بھی کیا تھا جس کی پاداش میں انہیں دیگر ججز کی طرح گھر میں نظر بند کردیاگیا تھا۔رانا بھگوان داس انتہائی اچھی شہرت کے حامل ہوتے اپنے کیرئیر کے دوران ہمیشہ غیر متنازع رہے۔ان کی نیک نامی کی وجہ سےگزشتہ برس حکومت اور اپوزیشن نے اتفاق رائے سے چیف الیکشن کمشنرکےعہدے کےلیےان کےنام پراتفاق کرلیاتھا لیکن رانا بھگوان داس نے عہدہ سنبھالنےسےمعذرت کرلی تھی ۔

رانا بھگوان داس ایک ہندو ہونے کے باوجود اپنی نیک نامی ، ایمانداری اور اچھی شہرت کی وجہ سے ہمیشہ غیر متنازعہ رہے ۔رانا بھگوان داس ایک اچھے شاعر بھی تھے ان کی ایک نعت جو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ صلعم کے حضور نذرانہ عقیدت کے طور پر لکھی تھی اور وہ خاصی مشہور بھی ہوئی تھی ۔

جمالِ دو عالم تری ذاتِ عالی​
دو عالم کی رونق تری خوش جمالی​
خدا کا جو نائب ہوا ہے یہ انسان​
یہ سب کچھ ہے تری ستودہ خصالی ​
تو فیاضِ عالم ہے دانائے اعظم​
مبارک ترے در کا ہر اِک سوالی​
نگاہِ کرم ہو نواسوں کا صدقہ​
ترے در پہ آیا ہوں بن کے سوالی ​
میں جلوے کا طالب ہوں ، اے جان عالم!​
دکھادے ،دکھادے وہ شانِ جمالی ​
ترے آستانہ پہ میں جان دوں گا ​
نہ جاؤں ، نہ جاؤں ، نہ جاؤں گا خالی ​
تجھے واسطہ حضرتِ فاطمہ کا​
میری لاج رکھ لے دو عالم کے والی ​
نہ مایوس ہونا ہے یہ کہتا ہے بھگوان ​
کہ جودِ محمد ہے سب سے نرالی ​

بے شمار ایسے ہندو ہیں جن کے نعتیہ کلام موجود ہیں چند ایک کے تو نعتیہ دیوان بھی شائع ہو چکے ہیں جن میں ایک چودھری دلو رام کوثری کا دیوان حلقہ مشائخ بک ڈپو دہلی نے شائع کیا تھا۔

رانا بھگوان داس چونکہ ایک ہندو تھے اس لئے وہ جنت میں ہرگز نہیں جائیں گے ۔ان کی اچھی خدمات اور نیک نامیوں کا صلہ انہیں ان کی زندگی میں ہی مل گیا ہوگا۔

جمعرات، 2 اکتوبر، 2014

پی ٹی آئی ، عمران خان ‘‘ کے سپورٹرز کون لوگ ہیں ؟

qadiani-02اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ‘‘ پی ٹی آئی ، عمران خان ‘‘ کو منکرین حدیث ، قادیانیت نواز ، دہرئے ،گوہر شاہی اور مادر پدر آزاد قسم کے لوگ سپورٹ کر رہے ہیں ۔

دوہزار تیرہ کے الیکشن سے پہلے عمران خان کی جانب سے قادیانی ہیڈ کواٹرز لندن میں ان کی حمایت حاصل کرنے کے لئے ایک وفد بھیجا گیا تھا جس میں قادیانی خلیفہ مرزا مسرور احمد نے یہ انکشاف کیا تھا کہ مجھے عمران خان کی جانب سے یہ پیغام ملا تھا کہ اگر ہم اقتدار میں آئے تو اسمبلی میں آپ کے خلاف کی گئی قرارداد پر نظرثانی کریں گے۔

دوہزار تیرہ کے الیکشن سے پہلے عمران خان کی جانب سے قادیانی ہیڈ کواٹرز لندن میں ان کی حمایت حاصل کرنے کے لئے جو وفد بھیجا گیا تھا اس کی سربراہی ‘‘ نادیہ رمضان چوہدری ‘‘ جو کہ پاکستان تحریک انصاف سیکرٹریٹ عمران خان کے ساتھ کام کرتی ہیں ، کر رہی تھی ۔ان کا قادیانی خلیفہ مرزا مسرور احمد کو کہنا تھا کہ قادیانی تحریک کا جو منشور ہے وہ ہمارے منشور کے ساتھ بہت زیادہ مطابقت رکھتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس الیکشن میں آپ کی کیمونٹی ہمیں سپورٹ کرے ۔

قادیانی خلیفہ نے اس ملاقات میں یہ کہا کہ جب تحریک انصاف بنی اس وقت میں پاکستان کا ناظم اعلیٰ تھا اور اس وقت عمران خان میں نے میرے پاس ایک وفد کو بھیجا کہ ہم ایک نئی پارٹی بنا رہے ہیں آپ ہمیں الیکشن میں ووٹ اور سپورٹ کریں ۔قادیانی خلیفہ کا کہنا تھا کہ میں نے انہیں باور کروایا کہ ہمارا تو ووٹ ہی نہیں ہے ۔۔ جس پر عمران خان کے ہرکارے نے کہا کہ آپ سپورٹ کریں جب ہم اسمبلی میں جائیں گے تو ہم آپ کا حق بھی دلوائیں گے۔

لندن کی بیٹھک میں نادیہ رمضان چوہدری کا پھر کہنا تھا کہ آپ ہمیں سپورٹ کریں ہمارا منشور تمام لوگوں کے لئے ہے ۔قادیانی خلیفہ کے ایک سوال کے جواب میں کہ ہماری بھی پاکستانی شہری کے حساب سے جسٹیفیکیشن ہونی چاہئے پر کہا کہ یہ ہم آپ کے لئے کر رہے ہیں ۔

qadiani-01

نوٹ ۔نادیہ رمضان چوہدری نے اپنے ویڈیو پیغام میں اپنی کہی گئی باتوں کی تردید بھی کی تھی جو کہ سراسر ایک بھونڈی اور عام آدمی کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے ۔

دوسری جانب گوہر شاہی کا نمبر ون چیلا ‘‘ یونس گوہر شاہی ‘‘ جو کہ سرعام اللہ رسول کا مذاق اڑاتا رہتا ہے اور خانہ کعبہ کو گالیاں بکتا ہے کے ورکرز آجکل دھرنے میں بڑے بڑے بینر اٹھائے عمران خان کو سپورٹ کرتے نظر آرہے ہیں۔یونس گوہر شاہی اپنی ویڈیوز میں سرعام مسلمانوں کوگندی غلیظ گالیوں سے نواز رہا ہے ۔

دھرنے اور عمران خان کو سپورٹ کرنے والوں میں منکرین حدیث غلام احمد پرویز ، منکرین حدیث جاوید احمد غامدی کے چاہنے والوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے ۔جبکہ دہرئے اور مادر پدر آزاد قسم کے تمام لوگ عمران خان کو مکمل سپورٹ کر رہے ہیں ۔

عمران خان کی تحریک کا اگر ہم ایک سرسری سا جائزہ بھی لیں تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ عمران خان کا ایجنڈا ‘‘ ارادی یا غیر ارادی طور پر ‘‘ پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانا ہے ۔سول نافرمانی کی تحریک کا بیان ہو یا ، ہنڈی کے زریعہ سے باہر پیسہ منگوانا یا بھیجنا جیسے بیان یا کہ پاکستان کے لئے گئے قرضے واپس نہ کرنے جیسے بیانات نے عمران خان کی اصلیت کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔