urdu poetry لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
urdu poetry لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 20 جون، 2018

Tu Mujhe Jab Nazar nahi Aata .....تو مجھے جب نظر نہیں آتا



سیمی ہاشمی کی خوبصورت آواز میں ایک بہترین غزل

تو مجھے جب نظر نہیں آتا
چین بھی لمحہ بھر نہیں آتا
جب نکلتا ہے تیری خواہش میں
دل کبھی لوٹ کر نہیں آتا
آشنائی ہے اس کی سب سے مگر
وہ فقط میرے گھر نہیں آتا

جمعرات، 29 جون، 2017

ساتوں رنگ ۔۔۔۔ ناصر کاظمی کے دیوان اور مختلف اشعار کا انتخاب

ناصر کاظمی ایک بلند پایہ شاعر تھے ۔۔ ان کی شاعری اپنی مثال آپ ہے ۔۔ساتوں رنگ میں اعجاز عبید صاحب نے ناصر کاظمی کے دیوان اور مختلف کتب سے بہترین اشعار کا انتخاب کیا ہے ۔ساتوں رنگ کتاب ورڈ فارمیٹ میں پیش کی جارہی ہے جسے آپ یہاں سے کلک کر کے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں ۔

ساتوں رنگ یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
وہ تری یاد تھی اب یاد آیا

آج مشکل تھا سنبھلنا اے دوست
تو مصیبت میں عجب یاد آیا

دن گزارا تھا بڑی مشکل سے
پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا

تیرا بھولا ہوا پیمانِ وفا
مر رہیں گے اگر اب یاد آیا

پھر کئی لوگ نظر سے گزرے
پھر کوئی شہرِ طرب یاد آیا

حالِ دل ہم بھی سُناتے لیکن
جب وہ رُخصت ہوا تب یاد آیا

بیٹھ کر سایۂ گل میں ناصر
ہم بہت روئے وہ جب یاد آیا

بدھ، 27 اپریل، 2016

ہم اہل قلم کیا ہیں ؟





ہم اہل قلم کیا ہیں ؟
اَلفاظ کا جھگڑا ہیں ، بے جوڑ سراپا ہیں
بجتا ہوا ڈنکا ہیں ، ہر دیگ کا چمچا ہیں
ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
مشہور صحافی ہیں ، عنوانِ معافی ہیں
شاہانہ قصیدوں کے، بے ربط قوافی ہیں
ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
یہ شکل یہ صورت ہے، سینوں میں کدورت ہے
آنکھوں میں حیا کیسی؟ پیسے کی ضرورت ہے
ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
اپنا ہی بَھرم لے کر، اپنا ہی قلم لے کر
کہتے ہیں …کہ لکھتے ہیں، انسان کا غم لے کر
ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
تابع ہیں وزیروں کے، خادم ہیں امیروں کے
قاتل ہیں اَسیروں کے، دشمن ہیں فقیروں کے
ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
اَوصاف سے عاری ہیں ، نُوری ہیں نہ ناری ہیں
طاقت کے پُجاری ہیں ، لفظوں کے مداری ہیں
ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
تصویرِ زمانہ ہیں ، بے رنگ فسانہ ہیں
پیشہ ہی کچھ ایسا ہے، ہر اِک کا نشانہ ہیں
ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
رَہ رَہ کے ابھرتے ہیں ، جیتے ہیں نہ مرتے ہیں
کہنے کی جو باتیں ہیں ، کہتے ہوئے ڈرتے ہیں
ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
بے تیغ و سناں جائیں ، با آہ و فغاں جائیں
اس سوچ میں غلطاں ہیں ، جائیں تو کہاں جائیں ؟
ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
۔
شورش کاشمیری ۔۔

اتوار، 19 اپریل، 2015

مگر ہمیں کیا ۔۔۔۔ ! ۔۔

ایک نظم کے جواب میں لکھی میری ایک نظم

مگر ہمیں کیا ۔۔۔۔ !

تم آڑھے ترچھے خیال سوچو
کہ بے ارادہ ۔۔۔۔۔ کتاب لکھو
کوئی ۔۔۔۔۔ شناسا غزل بھی کہہ دو
کہ اجنبی انتساب ۔۔۔۔۔ لکھو
گنوا دو اک عمر کے زمانے ۔۔۔۔ !
کہ ایک ۔۔۔۔۔ پل کا حساب لکھو
تمہاری طبیعت پہ منحصر ۔۔۔ ہے
تم جس طرح کا ۔۔۔ نصاب لکھو
یہ تمہارے اپنے مزاج ۔۔۔۔ پر ہے
عذاب سوچو ۔۔۔۔ثواب ۔۔۔ لکھو

طویل تر ہے ۔۔۔۔۔ سفر ہمیں کیا ؟
تم جی رہی ہو۔۔۔۔ مگر ہمیں کیا ؟

مگر ہمیں کیا ۔۔۔۔ کہ تم تو کب سے
اپنے ۔۔۔۔۔۔۔ ارادے گنوا چکی ہو
جلا کے سارے حروف ۔۔۔۔۔ اپنے
اپنی ..........دعائیں بجھا چکی ہو
تم رات اوڑھو۔۔۔۔۔ کہ صبح پہنو
تم اپنی رسمیں اٹھا ۔۔۔۔ چکی ہو
سنا ہے۔۔۔۔ سب کچھہ بھلا چکی ہو

تو اب اپنے دل پہ ۔۔۔۔ جبر کیسا ؟
یہ دل ۔۔۔۔ تو حد سے گزر چکا ہے
گزر چکا ہے ۔۔۔۔۔۔ مگر ہمیں کیا ؟
خزاں کا۔۔۔۔۔ موسم گزر چکا ہے
ٹھہر ۔۔۔۔۔ چکا ہے مگر ہمیں کیا ؟

مگر ہمیں کیا .........کہ اس خزاں میں
تم جس طرح کے ۔۔۔ بھی خواب لکھو

منگل، 10 جون، 2014

فیض احمد فیض کی شاعری ڈاؤنلوڈ کریں

فیض احمد فیض کی شاعری یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

ڈاکٹر شکیل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ فیض احمد فیض برصغیر کی تہذیب کی جمالیات سے رشتہ رکھتے ہں جس کی جڑیں اس زمین کی گہرائیوں مںو پیوست اور دور دور تک پھیلی ہوئی ہں ، جس کی خوبصورت روایتیں تاریخ مں مسلسل سفر کرتی رہی ہںت اور جس نے اس عہد مںا اپنی تاریخی، سماجی اور سیاسی حیثیتوں کو زندگی کی معنویت کے ساتھ اُجاگر کر رکھا ہے۔
فیض احمد فیض کی شخصیت کا ارتقاء اسی تہذیب مںت ہوا ہے، ان کی شاعری اسی تہذیب کی جمالیات کے مختلف پہلوؤں کو پیش کرتی ہے، ان پہلوؤں اور جہتوں کو ’ہیومنزم‘ کے جمالیاتی مظاہر سے تعبیر کرنا مناسب ہوگا۔ فیض احمد فیض کا اپنا منفرد رومانی،جمالیاتی شعور و احساس ہے جو اس عہد کی دین ہے۔ ’ہیومنزم‘ کے جمالیاتی مظاہر، معاشرے کے مختلف طبقوں کے احساس و شعور کا حصہ بن کر ’’جمالیاتی ثقافت‘‘ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہںخ ۔


میں فیض احمد فیض کی اس قیمتی شاعری کے لئے اردو محفل خصوصاً اعجاز عبید صاحب ، جویریہ مسعود صاحبہ ، منصور قیصرانی صاحب ، فرخ منظور صاحب سیدہ شگفتہ صاحبہ ، نبیل نقوی صاحب ، شعیب افتخار (فریب) صاحب، محب علوی صاحب، رضوان صاحب ، شمشاد صاحب سید اویس قرنی المعروف بہ چھوٹا غالب کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور ساتھ ساتھ اردو محفل لائبریری کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اپنی محنت سے انٹرنیٹ کی دنیا میں یونی کوڈ کتابوں کے حصول کو آسان اور مفت بنا دیا

جمعرات، 29 مئی، 2014

مرزا اسد اللہ خان غالب کے دیوان غالب ڈاؤنلوڈ کریں

مرزا اسد اللہ خان غالب کے دیوان اور ان سے متعلق کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں

تمام کتابیں ورڈ فارمیٹ میں یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

آپ ان کتابوں کو اپنے موبائل میں بھی پڑھ سکتے ہیں
موبائل پر پڑھنے کے لئے آسان طریقہ استمال کریں ۔۔ یعنی جو میل ایڈریس آپ اپنے موبائل پر استمال کرتے ہیں وہاں یہ فائل بھیج کر اپنے موبائل میں ڈاؤنلوڈ کر لیں

میں غالب کے ان قیمتی نسخوں کے لئے اردو محفل خصوصاً اعجاز عبید صاحب ، جویریہ مسعود صاحبہ ، منصور قیصرانی صاحب ، فرخ منظور صاحب سیدہ شگفتہ صاحبہ ، نبیل نقوی صاحب ، شعیب افتخار (فریب) صاحب، محب علوی صاحب، رضوان صاحب ، شمشاد صاحب سید اویس قرنی المعروف بہ چھوٹا غالب کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور ساتھ ساتھ اردو محفل لائبریری کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اپنی محنت سے انٹرنیٹ کی دنیا میں یونی کوڈ کتابوں کے حصول کو آسان اور مفت بنا دیا

بدھ، 28 مئی، 2014

علامہ محمد اقبال کے دیوان ڈاؤنلوڈ کریں

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے دیوان اور ان سے متعلق کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں

میں ان کتابوں کے لئے اردو محفل خصوصاً اعجاز عبید صاحب ، منصور قیصرانی صاحب ، فرخ منظور صاحب اور اردو محفل لائبریری کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اپنی محنت سے انٹرنیٹ کی دنیا میں یونی کوڈ کتابوں کے حصول کو آسان اور مفت بنا دیا

بال جبر یل

بانگ درا

ارمغان حجاز

ضرب کلیم

حیات اقبال

مطالعۂ اقبال کے سو سال

فکرِ اقبال کی تفہیم اور مغالطے:چند معروضات

تمام کتابیں ورڈ فارمیٹ میں یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

آپ ان کتابوں کو اپنے موبائل میں بھی پڑھ سکتے ہیں
موبائل پر پڑھنے کے لئے آسان طریقہ استمال کریں ۔۔ یعنی جو میل ایڈریس آپ اپنے موبائل پر استمال کرتے ہیں وہاں یہ فائل بھیج کر اپنے موبائل میں ڈاؤنلوڈ کر لیں


علامہ محمد اقبال نو نومبر اٹھا رہ سو ستتر کو پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ علامہ محمد اقبال نے مشن ہائی سکول سیالکوٹ سے میٹرک اور مرے کالج سیالکوٹ سے ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور ایم اے پاس کیا۔انیس سو پانچ میں علامہ محمد اقبال اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے جہاں انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی بعد آزاں وہ جرمنی چلے گئے جہاں علامہ محمد اقبال نے میونخ یونیورسٹی سے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وکالت کے ساتھ ساتھ علامہ محمد اقبال شعروشاعری بھی کرتے رہے ۔ انیس سو بائیس میں حکومت کی طرف سے انہیں سر کا خطاب ملا۔ انیس سو چھبیس میں آپ پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی کے ممبر چنے گئے۔علامہ محمد اقبال مسلم لیگ میں شامل ہوکر آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے۔علامہ محمد اقبال کا الہٰ آباد کا مشہور صدارتی خطبہ تاریخی حیثیت رکھتا ہے، جس میں علامہ محمد اقبال نے پاکستان کا تصور پیش کیا۔علامہ محمد اقبال اور قائداعظم کی مشترکہ کاوشوں سے پاکستان معرض وجود میں آیا ۔ پاکستان کی آزادی سے پہلے ہی اکیس اپریل انیس سو اڑتیس میں علامہ محمد اقبال انتقال کر گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون

ہفتہ، 12 اکتوبر، 2013

علماء سُو کے بعد شعراء سُو پر تحریر زنی

فیس بک کی شخصیت عبدالمختار صاحب کہتے ہیں کہ
"پاکستان" کا کوئی شاعر ،ادیب یا لکھاری۔۔۔غربت،بھوک،افلاس یا مہنگائی وغیرہ سےنہ مرا ہے اور نہ مرے گا !!
یہ ہہت ہی سخت جان مخلوق ہے.....!

ہم یہ کہتے ہیں کہ ،
آپ اگر نظر کا زاویہ تھوڑا وسیع کر لیں تو پوری دنیا میں آج تک کوئی بھی شاعر غربت ، بھوک و افلاس یا مہنگائی سے نہیں مرا ۔۔۔۔ البتہ شاعروں نے اپنے شعروں کے زریعہ سے آج تک لاکھوں انسانوں کو غربت ، بھوک و افلاس اور مہنگائی سے ٹھکانے ضرور لگایا ہے ۔
اگر کوئی غلطی سے ساغر صدیقی جیسے اکا دکا عظیم شاعر کی مثال دینا چاہے تو اسے یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ایسے شاعر غربت ، بھوک و افلاس اور مہنگائی وغیرہ سے نہیں بلکہ چرس ، گانجا ، افیون ، بھنگ ، شراب ، مارفین کے انجکشن ، ڈیزی پام کی گولیوں اور دیگر نشوں سے زندگی کی رعنائیوں کو سمییٹتے ہوئے اب اپنے مقبروں میں آرام فرما ہیں ۔

دیکھا جائے تو ویسے بھی ہمارے شعرا کرام نے عوام کی خدمت کی بجائے کنجر خانوں اور نگار خانوں کی خدمت کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ان کی خوبصورت اور دلفریب شاعری سے مزین کانوں میں رس گھولتے ہوئے گانوں نے نوجوان نسل کے ساتھ ساتھ بوڑھوں کو بھی جہنم کا ایندھن بنا دیا ہے ۔
اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ انہی عظیم شعرا کرام نے حسین زلفوں میں جوؤں کا ذکر کئے بغیر اپنے شعروں کی خوشبو سے ازہان کو معطر کر کے نوجوان نسل کو تعلیم سے دور کرنے کے ساتھ ساتھ عاشقی کے گہرے سمندر میں پھینکنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے



علماء سُو کے بعد شعراء سُو پر تحریر زنی

فیس بک کی معروف شخصیت عبدالمختار صاحب کہتے ہیں کہ
"پاکستان" کا کوئی شاعر ،ادیب یا لکھاری۔۔۔غربت،بھوک،افلاس یا مہنگائی وغیرہ سےنہ مرا ہے اور نہ مرے گا !!
یہ ہہت ہی سخت جان مخلوق ہے.....!

ہم یہ کہتے ہیں کہ ،
آپ اگر نظر کا زاویہ تھوڑا وسیع کر لیں تو پوری دنیا میں آج تک کوئی بھی شاعر غربت ، بھوک و افلاس یا مہنگائی سے نہیں مرا ۔۔۔۔ البتہ شاعروں نے اپنے شعروں کے زریعہ سے آج تک لاکھوں انسانوں کو غربت ، بھوک و افلاس اور مہنگائی سے ٹھکانے ضرور لگایا ہے ۔
اگر کوئی غلطی سے ساغر صدیقی جیسے اکا دکا عظیم شاعر کی مثال دینا چاہے تو اسے یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ایسے شاعر غربت ، بھوک و افلاس اور مہنگائی وغیرہ سے نہیں بلکہ چرس ، گانجا ، افیون ، بھنگ ، شراب ، مارفین کے انجکشن ، ڈیزی پام کی گولیوں اور دیگر نشوں سے زندگی کی رعنائیوں کو سمییٹتے ہوئے اب اپنے مقبروں میں آرام فرما ہیں ۔

دیکھا جائے تو ویسے بھی ہمارے شعرا کرام نے عوام کی خدمت کی بجائے کنجر خانوں اور نگار خانوں کی خدمت کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ان کی خوبصورت اور دلفریب شاعری سے مزین کانوں میں رس گھولتے ہوئے گانوں نے نوجوان نسل کے ساتھ ساتھ بوڑھوں کو بھی جہنم کا ایندھن بنا دیا ہے ۔
اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ انہی عظیم شعرا کرام نے حسین زلفوں میں جوؤں کا ذکر کئے بغیر اپنے شعروں کی خوشبو سے ازہان کو معطر کر کے نوجوان نسل کو تعلیم سے دور کرنے کے ساتھ ساتھ عاشقی کے گہرے سمندر میں پھینکنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے



منگل، 20 نومبر، 2012

ساغر صدیقی غزل ۔۔۔ وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو

وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو
ہم نہ جائیں تو کیا تماشا ہو

یہ کناروں سے کھیلنے والے
ڈوب جائیں تو کیا تماشا ہو

بندہ پرور جو ہم پہ گزری ہے
ہم بتائیں تو کیا تماشا ہو

آج ہم بھی تری وفاؤں پر
مسکرائیں تو کیا تماشا ہو

تیری صورت جو اتفاق سے ہم
بھول جائیں تو کیا تماشا ہو

وقت کی چند ساعتیں ساغر
لوٹ آئیں تو کیا تماشا ہو

بدھ، 15 جون، 2011

میری محبوب! کہیں اور ملا کر مجھ سے

تاج، تیرے لئے اک مظہرِ اُلفت ہی سہی
تُجھ کو اس وادئ رنگیں ‌سے عقیدت ہی سہی

میری محبوب! کہیں اور ملا کر مجھ سے
بزمِ شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی؟
ثبت جس راہ پہ ہوں سطوتِ شاہی کے نشاں
اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی؟

مری محبوب پسِ پردہِ تشہیر وفا
سطوت کے نشانوں کے مقابر سے بہلنے والی
مُردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی
اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا

ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے
کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جذبے ان کے
لیکن ان کے لئے تشہیر کا ساماں نہیں
کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے

یہ عمارات و مقابر، یہ فصیلیں، یہ حصار
مطلق الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستوں
سینہ دہر کے ناسور ہیں کہنہ ناسور
جذب ہے ان میں ترے اور مرے اجداد کا خوں

میری محبوب! انہیں بھی تو محبت ہوگی
جن کی صنائی نے بخشی ہے اسے شکلِ جمیل
ان کے پیاروں کے مقابر رہے بے نام و نمود
آج تک ان پہ چلائی نہ کسی نے قندیل

یہ چمن زار، یہ جمنا کا کنارہ یہ محل
یہ منقش درودیوار، یہ محراب، یہ طاق
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق

میری محبوب! کہیں اور ملا کر مجھ سے

ساحر لدھیانوی

ہفتہ، 4 جون، 2011

ہیں رہبروں کی عقل پر پتھر پڑے ہوئے

نکلے صدف کی آنکھ سے موتی مرے ہوئے
پھوٹے ہیں چاندنی سے شگوفے جلے ہوئے
ہے اہتمام گریہ و ماتم چمن چمن
رکھے ہیں مقتلوں میں جنازے سجے ہوئے
ہر ایک سنگ میل ہے اب تگِ رہگذر
ہیں رہبروں کی عقل پر پتھر پڑے ہوئے
بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں
کچھ باغباں ہیں برق و شرر سے ملے ہوئے
اب میکدے میں بھی نہیں کچھ اہتمام کیف
ویران ہیں شعور تو دل ہیں بجھے ہوئے
ساغر یہ واردات سخن بھی عجیب ہے
نغمہ طراز شوق ہوں لب ہیں سلے ہوئے
ساغر صدیقی