گوگل ایڈ سینس گوگل کے وہ اشتہارات ہیں جن کو ویب سائٹس یا بلاگ پر لگا کر پیسے کمائے جاسکتے ہیں۔یہ پہلے صرف انگلش کی ویب سائٹ پر ہی لگائے جا سکتے تھے ۔۔۔ ابھی دو تین دن پیشتر ہی گوگل نے یہ سروس اردو یونی کوڈ یعنی اردو تحریری ویب سائٹ اور بلاگ والوں کے لئے بھی مہیا کر دی ہے ۔۔۔ اس سلسلے میں آپ کی آگاہی کے لئے اردو میں گوگل ایڈ سینس کے بارے میں یہ آسان سی ویڈیو بنائی ہے جس سے آپ کو گوگل ایڈ سینس کو سمجھنے میں آسانی پیش آئے گی ۔
ویڈیو سنئے اور نیک نیتی سے محنت کیجئے اگر نیک نیتی سے محنت کریں گے تو اس کا پھل بھی آپ کو اچھا ملے گا
https://youtu.be/uQJPYVpxjCE
social media لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
social media لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
ہفتہ، 1 جولائی، 2017
بدھ، 29 مارچ، 2017
شاعروں پر ظلم بند کریں
شاعری کیا ہے ؟ ایک احساس ۔۔۔۔ ایسا احساس جسے الفاظ میں ڈھالا جاتا ہے
شاعری کو الفاظ میں ڈھالنا ایک فن ہے اور یہ فن ایک خداداد صلاحیت ہے ۔۔۔۔
دوسرے درجے کی شاعری میں احساس کو الفاظ میں بنایا جاتا ہے جسے ہم تخلیقی شاعری کہہ سکتے ہیں
کئی شاعروں نے چرس کے نشے میں ڈوب کر لکھا ۔۔۔۔ اور جو لکھا ۔۔ وہ یادگار تھا
کئی شاعروں نے شراب کے نشے میں کمال کے شعر کہہ ڈالے ۔۔۔اس وقت ان کو بھی نہیں پتہ چلا کہ کس کی شان میں کہہ ڈالے
کئی شاعروں نے پاخانے میں بیٹھے کمال کی غزلیں تخلیق کر ڈالیں
اب جو شعر کہے جاتے ہیں وہ شاعر کی مختلف ذہنی کفیت اور احساس کا عکاس ہوتے ہیں ۔۔۔تب شاعر کے ذہن میں پتہ نہیں کیا تصور ہوتا ہے یا پتا نہی اس نے وہ کس تناظر میں کہے ہوتے ہیں ۔۔۔
اب انہیں اشعار کو خود پر فٹ کر کے اپنے تئیں موقع کی مناسبت سے میدان میں پھینک کر داد وصول کرنا ظلم نہیں تو اور کیا ہے ؟
شاعری کو الفاظ میں ڈھالنا ایک فن ہے اور یہ فن ایک خداداد صلاحیت ہے ۔۔۔۔
دوسرے درجے کی شاعری میں احساس کو الفاظ میں بنایا جاتا ہے جسے ہم تخلیقی شاعری کہہ سکتے ہیں
کئی شاعروں نے چرس کے نشے میں ڈوب کر لکھا ۔۔۔۔ اور جو لکھا ۔۔ وہ یادگار تھا
کئی شاعروں نے شراب کے نشے میں کمال کے شعر کہہ ڈالے ۔۔۔اس وقت ان کو بھی نہیں پتہ چلا کہ کس کی شان میں کہہ ڈالے
کئی شاعروں نے پاخانے میں بیٹھے کمال کی غزلیں تخلیق کر ڈالیں
اب جو شعر کہے جاتے ہیں وہ شاعر کی مختلف ذہنی کفیت اور احساس کا عکاس ہوتے ہیں ۔۔۔تب شاعر کے ذہن میں پتہ نہیں کیا تصور ہوتا ہے یا پتا نہی اس نے وہ کس تناظر میں کہے ہوتے ہیں ۔۔۔
اب انہیں اشعار کو خود پر فٹ کر کے اپنے تئیں موقع کی مناسبت سے میدان میں پھینک کر داد وصول کرنا ظلم نہیں تو اور کیا ہے ؟
جمعرات، 8 دسمبر، 2016
پی آئی اے کی نا اہلی اور ٹی وی میڈیا کی لاشوں پر کمائی
پی آئی اے کی نا اہلی اور ٹی وی میڈیا کی لاشوں پر کمائی
اتوار، 6 نومبر، 2016
سنؤ ! عوام کیا کہتی ہے
بلاگ رپورٹر ۔۔۔ نیر احمد شکوہ
نوٹ ۔۔۔ گفتگو عام پنجابی زبان میں ہے اور پنجاب خصوصاً لاہور کے گلی محلوں میں ایسی ہی پنجابی زبان کا استمال ہوتا ہے جس میں حد سے زیادہ بے تکلفی ہو ۔۔۔۔اور جہاں بے تکلفی سے گفتگو ہوگی وہاں میٹھی گالی گلوچ بھی ضرور ہوگی ۔۔۔۔۔۔ بلاگ کے اسلوب کے لحاظ سے گفتگو کو جوں کا توں رہنے دیا گیا ہے
نوٹ ۔۔۔ گفتگو عام پنجابی زبان میں ہے اور پنجاب خصوصاً لاہور کے گلی محلوں میں ایسی ہی پنجابی زبان کا استمال ہوتا ہے جس میں حد سے زیادہ بے تکلفی ہو ۔۔۔۔اور جہاں بے تکلفی سے گفتگو ہوگی وہاں میٹھی گالی گلوچ بھی ضرور ہوگی ۔۔۔۔۔۔ بلاگ کے اسلوب کے لحاظ سے گفتگو کو جوں کا توں رہنے دیا گیا ہے
جمعرات، 27 اکتوبر، 2016
اتوار، 31 جولائی، 2016
اپنے بچوں کو ‘‘ گے ‘‘ ہونے سے بچائیں
پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی
اپنے بچوں کو nick کارٹون چینل سے بچا کر رکھیں ۔۔۔یہ نہ ہو کہ کل کلاں کو آپ کے بچے بھی ، gay کہلوائیں ۔۔۔دنیا نے پہلے مسلمانوں کو دہشت گرد بنایا ان نئی جنریشن کو GAY بنانے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں ۔۔۔بچا لو اپنے بچوں کی پیٹھوں کو ۔۔۔۔ پھر آنکھوں میں گھسن ( مکے ) دے کر واویلا مت مچانا کہ ہمیں تو پتہ ہی نہیں چلا
اپنے بچوں کو nick کارٹون چینل سے بچا کر رکھیں ۔۔۔یہ نہ ہو کہ کل کلاں کو آپ کے بچے بھی ، gay کہلوائیں ۔۔۔دنیا نے پہلے مسلمانوں کو دہشت گرد بنایا ان نئی جنریشن کو GAY بنانے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں ۔۔۔بچا لو اپنے بچوں کی پیٹھوں کو ۔۔۔۔ پھر آنکھوں میں گھسن ( مکے ) دے کر واویلا مت مچانا کہ ہمیں تو پتہ ہی نہیں چلا
منگل، 19 جولائی، 2016
اپنے موبائل فون سے بہت آسانی سے اردو میں لکھیں ۔۔جدید ایڈیشن
اپنے موبائل فون سے بہت آسانی سے اردو میں لکھیں ۔۔جدید ایڈیشن
ویڈیو کو بڑا کر کے دیکھیں ۔۔۔ آپ کو سمجھنے میں آسانی رہے گی
ویڈیو کو بڑا کر کے دیکھیں ۔۔۔ آپ کو سمجھنے میں آسانی رہے گی
پیر، 23 مئی، 2016
پیر، 9 مئی، 2016
بلاگروں کا ماما
پاکستان بنا ۔۔۔۔ لوگوں نے مل بانٹ کے کھایا ۔۔۔ تم نے کچھ لکھا ؟
بالکل نہیں۔۔۔
آدھا پاکستان بیچ دیا گیا ۔۔۔۔ تم نے اس پر روشنی ڈالی ؟
بالکل نہیں جی۔۔۔
سیاستدانوں نے رج کے ملک کو لوٹا اور پھر کھایا ۔۔۔۔ تم نے کچھ لکھا ؟
نہیں جی ۔۔۔
لوگوں نے زمینوں پر قبضے کر کے بنگلے بنا دیئے ۔۔۔ تم کچھ بولے؟
نہیں جی۔۔۔
لوگوں نے پاکستانی پیسوں سے سوئس بینک بھر دئے۔۔۔تم نے کچھ کہا
نہیں تو۔۔۔
اب پانامہ لیگ کا کٹا کھلا ۔۔۔ تمہیں تکلیف ہوئی ؟
بالکل بھی نہیں ۔۔میں نے اس کو معمول کی بات جانا ۔۔۔۔
اور یہ جو اب سیکرٹری مالیات بلوچستان کے اربوں ڈکارے سامنے آئے ۔۔۔ تمیں حیرت ہوئی ؟
حیرت تو دور کی بات میں نے اسے روز کا معمول جانا ۔۔۔
تو پھر ماما یہ معمولی سی بات پر اپنوں سے پنگا لینا کیا معنی ؟
بات تو آپ کی ٹھیک ہے مگر ۔۔۔
اگر مگر کچھ نہیں ، تم مامے ہو بلاگروں کے ؟
نہیں ۔۔ بالکل بھی نہیں ۔۔
اگر بلاگروں کے مامے نہیں ہو تو مارو پھر نعرہ ۔۔۔ سانوں کی
جی بہتر ۔۔۔ مار دیا نعرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سانوں کی
بالکل نہیں۔۔۔
آدھا پاکستان بیچ دیا گیا ۔۔۔۔ تم نے اس پر روشنی ڈالی ؟
بالکل نہیں جی۔۔۔
سیاستدانوں نے رج کے ملک کو لوٹا اور پھر کھایا ۔۔۔۔ تم نے کچھ لکھا ؟
نہیں جی ۔۔۔
لوگوں نے زمینوں پر قبضے کر کے بنگلے بنا دیئے ۔۔۔ تم کچھ بولے؟
نہیں جی۔۔۔
لوگوں نے پاکستانی پیسوں سے سوئس بینک بھر دئے۔۔۔تم نے کچھ کہا
نہیں تو۔۔۔
اب پانامہ لیگ کا کٹا کھلا ۔۔۔ تمہیں تکلیف ہوئی ؟
بالکل بھی نہیں ۔۔میں نے اس کو معمول کی بات جانا ۔۔۔۔
اور یہ جو اب سیکرٹری مالیات بلوچستان کے اربوں ڈکارے سامنے آئے ۔۔۔ تمیں حیرت ہوئی ؟
حیرت تو دور کی بات میں نے اسے روز کا معمول جانا ۔۔۔
تو پھر ماما یہ معمولی سی بات پر اپنوں سے پنگا لینا کیا معنی ؟
بات تو آپ کی ٹھیک ہے مگر ۔۔۔
اگر مگر کچھ نہیں ، تم مامے ہو بلاگروں کے ؟
نہیں ۔۔ بالکل بھی نہیں ۔۔
اگر بلاگروں کے مامے نہیں ہو تو مارو پھر نعرہ ۔۔۔ سانوں کی
جی بہتر ۔۔۔ مار دیا نعرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سانوں کی
پیر، 18 اپریل، 2016
فیس بک سے پیسے کمانے کے انتہائی آسان طریقے
آج میں آپ کو بتاؤن گا کہ فیس بک سے کتنی آسانی کے ساتھ ہزاروں روپے مہینہ کمائے جا سکتے ہیں ۔۔۔اگر آپ نیک نیت ، ایماندار اور محنتی ہیں تو میں آپ کو گارنٹی دیتا ہوں کہ انشاءاللہ آپ فیس بک سے ہزاروں نہیں لاکھوں روپے کما سکتے ہیں ۔۔۔۔ مکمل تفصیل کے لئے پرسکون ہو کر ویڈیو دیکھئے اور سنئے ۔۔۔۔۔۔اس کے بدلے میں صرف دعائیں دے دیجئے گا ۔
جمعرات، 14 اپریل، 2016
مخصوص ایام جنسی خواہش کو کم نہیں کرتے ؟
مخصوص ایام جنسی خواہش کو کم نہیں کرتے ؟
کچھ روز پیشتر لاہور کی بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی میں لڑکیوں نے مخصوص ایام ( ماہواری ) کے ساتھ خواتین سے وابستہ شرمندگی کے احساس اور تصورات کے خلاف احتجاج کیا۔جس میں انہوں نے اپنی یونیورسٹی کی دیوار مہربانی پر خواتین کے مخصوص ایام ( ماہواری ) پیریڈ میں استعمال ہونے والے پیڈز بڑی تعداد میں یونیورسٹی کی دیوار مہربانی پر لگا دیئے اور ان کے اوپر خوشنما انداز میں یہ فقرے لکھ دئے کہ ۔۔۔۔۔۔
ماہواری کا ۔۔۔۔۔ ”خون گندہ نہیں ہوتا“ ۔۔۔
ہمارے مخصوص ایام ہماری جنسی خواہش کوکم نہیں کرتے، بلکہ بڑھاتے ہیں
اگر مرد کھلے عام کنڈوم خرید سکتا ہے تو میں پیڈ کیوں نہیں خرید سکتی؟
ہمارے سیکس آرگنز سے متعلق مسائل کو اتنا پیچیدہ اور پوشیدہ کیوں کر دیا گیا ہے ؟
پیریڈز کو اتنا برا کیوں سمجھا جاتا ہے ؟
جب ہر گھر میں ماں، بہن، بیوی، بیٹی موجود ہے تو کیا انکو یہ مسائل نہیں ہوتے ؟
ہمیں اک چھوئی موئی، اچھوت اور چھپنے کے قابل مخلوق ہی کیوں بنا دیا گیا ہے ؟
جبکہ یہ قدرتی عمل ہے پھر ہم کو کیوں محسوس کروایا جاتا ہے اس بات پر شرمندہ بھی ہونا ہے ؟
اگر ایک بیٹی کو پہلی بار پیریڈ ہوں تو وہ بے چاری ڈر کے مارے کونوں میں چھپتی پھرتی ہے
اس کو گناہ یا بے شرمی کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔
جب ہر طرف مردانہ کمزوری کے اشتہارات نظر آتے ہیں تو پھر عورتوں کے مسائل پر بات تک کیوں نہیں ہو سکتی ؟
ہمیں اس کو ایک نارمل چیز ماننا ہوگا اور اس پر اپنے بچوں کو کھل کر تعلیم دینی ہوگی۔
سب سے پہلی بات کہ ۔۔۔۔۔فرض کریں اگر کسی لڑکی کا دل کرتا ہے کہ وہ ماہواری پر بات کرے اور اس بارے لوگوں کو آگاہی دے تو اسے بالکل دینی چاہئے ۔۔۔۔۔ اب ہونا یہ چاہئے تھا کہ وہ اپنا ماہواری والا پیڈ ، کپڑا ، ٹشو پیپر بغیر دھوئے انڈروئیر سمیت یونیورسٹی کی دیوار مہربانی پر لٹکا کر اس بارے آگاہی دیتیں۔۔۔۔۔۔۔مگر دیکھئے کیسا تضاد ہے کہ گندگی اور بدبو کے خوف سے انہوں نے ان کپڑوں اور اپنی پیٹھ کو مصنوعی لال رنگ سے رنگ و رنگ کیا اور تصویر کھنچوا کر سرخرو ہو گئیں ۔۔۔۔اگر یہی وہ کسی سہیلی کا ماہواری کے خون سے لتھڑا روئی کا گولہ یا کپڑا چوم چوم کر لوگوں کو آگاہی دیتیں تو عام خواتین کی سمجھ میں ان کی بات بھی آتی ۔۔
بیکن ہاؤس یونیورسٹی کی لڑکیاں بالیاں کہتی ہیں کہ ماہواری کا ‘‘ خون گندا نہیں ہوتا ‘‘ ۔۔۔۔۔۔ اچھی بات ہے ۔۔۔ تو پی لو نہ اس خون کو ۔۔۔ کس نے روکا ہے ۔۔۔۔ کوئی فتوی لگائے تو تب بھی لعنت بھیج کر پی لو ۔۔۔۔
میں تو بار بار یہ کہتا ہوں کہ علم تہذیب نہیں سکھاتا بلکہ تہذیب ماں باپ ، گھر کا ماحول اور بعد آزاں معاشرہ سکھاتا ہے ۔۔۔۔ رہی بات جنسی تعلیم کی تو اس کی بھی ایک حد ہے اور اس کو سکھانے کا طریقہ بھی تہذیبانہ ہے ۔۔۔۔۔ جنسی تعلیم میں یہ نہیں ہوتا کہ میاں بیوی کے ذاتی تعلقات کا طریقہ سمجھاتے ہوئے اسے عملی کر کے بھی دکھایا جائے ۔۔۔۔ یعنی ‘‘ جدید معاشرے ‘‘ میں ایک مرد استاد ایک شاگرد لڑکی کو جنسی تعلیم کا لیکچر دے گا تو اسے عملی طریقے سے نہیں سمجھائے گا بلکہ تہذیب یافتہ انداز میں سمجھائے گا ۔۔۔۔۔۔
اصل میں ہمارے معاشرے کی جدید لڑکیاں بذات خود ننگا ہونا چاہتی ہیں ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ ہم سڑکوں پر ‘‘ الف ننگا ‘‘ پھریں ۔۔۔ اور ہمیں چھیڑے بھی کوئی نا ۔۔۔۔۔ ایسا بھلا کیسے ممکن ہے ۔۔۔۔۔ ننگے پن کو دیکھ کر تو جانور بھی بپھر جاتے ہیں ۔۔۔۔ سڑکوں پر چلنے پھرنے والے تو پھر انسان ہیں ۔۔۔۔ وہ کیسے برداشت کریں گے ۔
حیرت مجھے اس بات پر بھی ہے کہ دیکھو ۔۔۔۔ لڑکیوں نے ایشو بھی کونسا اُٹھایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ہاہہہہہہہ گندیاں ۔۔۔۔ آخ تھو ۔۔۔ او بندہ پوچھے یار جسم کے کسی اور جگہ کا ایشو بنا لو ۔۔۔۔دسو یار ۔۔۔ ماہواری کے خون کا ایشو ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ذرا سونگھ کر تو دیکھو اپنا ماہواری کا خون ۔۔۔۔ سہیلی کا خون سونگھنا تو بعد کی بات ہے ۔۔۔۔۔۔
اگر محبت کرنے والے کے پاس بیٹھے ہوئے پیٹھ میں سے گندی ہوا خارج کر دو نا تو اسے تمہاری ساری خوبصورتی بھول جائے گی ۔۔۔اگر وہ کچھ کھا رہا ہو گا تو اسے الٹیاں شروع ہوجائیں گی ۔۔۔
پہلے تو اس پر مکالمہ کیا جائے کہ عشق کرنے والے جوڑے ایک دوسرے کے سامنے گندے بدبودار ‘‘ پاد ‘‘ ہوا خارج کر سکتے ہیں یا نہیں اور اگر کر سکتے ہیں تو آیا ہوا خارج کرتے ہی پیٹھ کے ساتھ منہہ لگانے سے جذبات کی شدت اور سیکس میں کتنا اضافہ ممکن ہے
-------------------------------------------
ہمارے ایک بہت محترم بلاگر جناب سلیم شانتو صاحب نے مخصوص ایام ( ماہواری ) کے حوالے سے کچھ تحقیقی مواد جمع کیا ہے ۔۔۔ جو میں اسی اپنی تحریر کے نیچے جوں کا توں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں ۔۔۔ تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت آنے والی نسلوں کے کام آوے
-------------------------------------------
(5:25 AM - 29 Sep 2014)
کو ایک بدیشی خاتونہ (پروفائل سے اس کے علاوہ کچھ پتہ نہیں چل پا رہا کہ یہ بس کسی لبرل کی بہن ہے) نے عورتوں کی آبرو ریزی پر مردوں کی عدم دلچسپی اور بیزار رویئے کو عورتوں کی ماہواری سے جوڑ کر ایک ٹویٹ کیا جسے ہزاروں بار پڑھا اور پسند کیا گیا۔
(imagine if men were as disgusted with rape as they are with periods)
مارچ 2015 میں ایلن نامی ایک جرمن خاتون بلاگر نے اس ٹویٹ سے متاثر ہو کر اپنے ماہواری پیڈز پر کچھ تنبیہی، کچھ آگاہی اور بیشتربولڈ اور غیر مہذب پیغامات لکھے اور اپنے شہر
(Karlsruhe)
کے سارے در و دیوار پر چپکا دیئے۔ تاہم اس کی یہ حرکت قابل دست اندازی قانون ٹھہری اور اسے عدالت کا سامنا کرنا پڑا۔
عالمی اخبارات میں اس خبر کی پذیرائی کے بعد اسی ہفتے دہلی کی "جامعہ ملیہ اسلامیہ" کی طالبات نے ایلن کی اس انفرادی حرکت کو باقاعدہ تحریک کے طور پر اپنایا اور اپنی جامعہ میں اور جامعہ سے باہر دہلی مین راتوں رات نسوانی پیڈز پر عبارات لکھ کر جگہ جگہ پبلک مقامات پر لگا دیئے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طالبات سے شہ پا کر کولکتہ کی جامعہ
(Kolkata’s Jadavpur University)
کی طالبات نے بھی اپنی جامعہ کی در و دیوار کو اپنے پیڈز پر اپنے دلی جذبات لکھ لکھ کر خوب سجایا۔
اس کے بعد بھی یہ سلسلہ دراز رہا تاہم "با جماعت" ایلن کی اس سنت کے احیاء کیلئے اس ہفتے پاکستان کے زندہ دلان لاہور کی کچھ کاکیوں نے ایلن کی اس سنت کی عملی ادائیگی کا عملی اہتمام کیا۔
سبب بننے والا ٹویٹ یہاں دیکھیں:
https://twitter.com/cutequeer96/status/516564388606521346
جرمنی کی ایلن کا تذکرہ یہاں دیکھیں:
http://www.buzzfeed.com/…/a-woman-is-writing-feminist-messa
دہلی کی خواتین کا کمال یہاں دیکھیں:
http://www.indiatimes.com/…/sanitary-pads-with-pro-women-me
کولکتہ کی جامعہ کی طالبات کے بیانات پیڈز پر لکھے ہوئے یہاں دیکھیں:
http://indianexpress.com/…/sanitary-pad-protest-spreads-to…/
لاہور کی کاکیوں کے کمالات یہاں دیکھیں
http://snaji.com/2016/04/14/mahwari/
کچھ روز پیشتر لاہور کی بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی میں لڑکیوں نے مخصوص ایام ( ماہواری ) کے ساتھ خواتین سے وابستہ شرمندگی کے احساس اور تصورات کے خلاف احتجاج کیا۔جس میں انہوں نے اپنی یونیورسٹی کی دیوار مہربانی پر خواتین کے مخصوص ایام ( ماہواری ) پیریڈ میں استعمال ہونے والے پیڈز بڑی تعداد میں یونیورسٹی کی دیوار مہربانی پر لگا دیئے اور ان کے اوپر خوشنما انداز میں یہ فقرے لکھ دئے کہ ۔۔۔۔۔۔
ماہواری کا ۔۔۔۔۔ ”خون گندہ نہیں ہوتا“ ۔۔۔
ہمارے مخصوص ایام ہماری جنسی خواہش کوکم نہیں کرتے، بلکہ بڑھاتے ہیں
اگر مرد کھلے عام کنڈوم خرید سکتا ہے تو میں پیڈ کیوں نہیں خرید سکتی؟
ہمارے سیکس آرگنز سے متعلق مسائل کو اتنا پیچیدہ اور پوشیدہ کیوں کر دیا گیا ہے ؟
پیریڈز کو اتنا برا کیوں سمجھا جاتا ہے ؟
جب ہر گھر میں ماں، بہن، بیوی، بیٹی موجود ہے تو کیا انکو یہ مسائل نہیں ہوتے ؟
ہمیں اک چھوئی موئی، اچھوت اور چھپنے کے قابل مخلوق ہی کیوں بنا دیا گیا ہے ؟
جبکہ یہ قدرتی عمل ہے پھر ہم کو کیوں محسوس کروایا جاتا ہے اس بات پر شرمندہ بھی ہونا ہے ؟
اگر ایک بیٹی کو پہلی بار پیریڈ ہوں تو وہ بے چاری ڈر کے مارے کونوں میں چھپتی پھرتی ہے
اس کو گناہ یا بے شرمی کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔
جب ہر طرف مردانہ کمزوری کے اشتہارات نظر آتے ہیں تو پھر عورتوں کے مسائل پر بات تک کیوں نہیں ہو سکتی ؟
ہمیں اس کو ایک نارمل چیز ماننا ہوگا اور اس پر اپنے بچوں کو کھل کر تعلیم دینی ہوگی۔
سب سے پہلی بات کہ ۔۔۔۔۔فرض کریں اگر کسی لڑکی کا دل کرتا ہے کہ وہ ماہواری پر بات کرے اور اس بارے لوگوں کو آگاہی دے تو اسے بالکل دینی چاہئے ۔۔۔۔۔ اب ہونا یہ چاہئے تھا کہ وہ اپنا ماہواری والا پیڈ ، کپڑا ، ٹشو پیپر بغیر دھوئے انڈروئیر سمیت یونیورسٹی کی دیوار مہربانی پر لٹکا کر اس بارے آگاہی دیتیں۔۔۔۔۔۔۔مگر دیکھئے کیسا تضاد ہے کہ گندگی اور بدبو کے خوف سے انہوں نے ان کپڑوں اور اپنی پیٹھ کو مصنوعی لال رنگ سے رنگ و رنگ کیا اور تصویر کھنچوا کر سرخرو ہو گئیں ۔۔۔۔اگر یہی وہ کسی سہیلی کا ماہواری کے خون سے لتھڑا روئی کا گولہ یا کپڑا چوم چوم کر لوگوں کو آگاہی دیتیں تو عام خواتین کی سمجھ میں ان کی بات بھی آتی ۔۔
بیکن ہاؤس یونیورسٹی کی لڑکیاں بالیاں کہتی ہیں کہ ماہواری کا ‘‘ خون گندا نہیں ہوتا ‘‘ ۔۔۔۔۔۔ اچھی بات ہے ۔۔۔ تو پی لو نہ اس خون کو ۔۔۔ کس نے روکا ہے ۔۔۔۔ کوئی فتوی لگائے تو تب بھی لعنت بھیج کر پی لو ۔۔۔۔
میں تو بار بار یہ کہتا ہوں کہ علم تہذیب نہیں سکھاتا بلکہ تہذیب ماں باپ ، گھر کا ماحول اور بعد آزاں معاشرہ سکھاتا ہے ۔۔۔۔ رہی بات جنسی تعلیم کی تو اس کی بھی ایک حد ہے اور اس کو سکھانے کا طریقہ بھی تہذیبانہ ہے ۔۔۔۔۔ جنسی تعلیم میں یہ نہیں ہوتا کہ میاں بیوی کے ذاتی تعلقات کا طریقہ سمجھاتے ہوئے اسے عملی کر کے بھی دکھایا جائے ۔۔۔۔ یعنی ‘‘ جدید معاشرے ‘‘ میں ایک مرد استاد ایک شاگرد لڑکی کو جنسی تعلیم کا لیکچر دے گا تو اسے عملی طریقے سے نہیں سمجھائے گا بلکہ تہذیب یافتہ انداز میں سمجھائے گا ۔۔۔۔۔۔
اصل میں ہمارے معاشرے کی جدید لڑکیاں بذات خود ننگا ہونا چاہتی ہیں ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ ہم سڑکوں پر ‘‘ الف ننگا ‘‘ پھریں ۔۔۔ اور ہمیں چھیڑے بھی کوئی نا ۔۔۔۔۔ ایسا بھلا کیسے ممکن ہے ۔۔۔۔۔ ننگے پن کو دیکھ کر تو جانور بھی بپھر جاتے ہیں ۔۔۔۔ سڑکوں پر چلنے پھرنے والے تو پھر انسان ہیں ۔۔۔۔ وہ کیسے برداشت کریں گے ۔
حیرت مجھے اس بات پر بھی ہے کہ دیکھو ۔۔۔۔ لڑکیوں نے ایشو بھی کونسا اُٹھایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ہاہہہہہہہ گندیاں ۔۔۔۔ آخ تھو ۔۔۔ او بندہ پوچھے یار جسم کے کسی اور جگہ کا ایشو بنا لو ۔۔۔۔دسو یار ۔۔۔ ماہواری کے خون کا ایشو ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ذرا سونگھ کر تو دیکھو اپنا ماہواری کا خون ۔۔۔۔ سہیلی کا خون سونگھنا تو بعد کی بات ہے ۔۔۔۔۔۔
اگر محبت کرنے والے کے پاس بیٹھے ہوئے پیٹھ میں سے گندی ہوا خارج کر دو نا تو اسے تمہاری ساری خوبصورتی بھول جائے گی ۔۔۔اگر وہ کچھ کھا رہا ہو گا تو اسے الٹیاں شروع ہوجائیں گی ۔۔۔
پہلے تو اس پر مکالمہ کیا جائے کہ عشق کرنے والے جوڑے ایک دوسرے کے سامنے گندے بدبودار ‘‘ پاد ‘‘ ہوا خارج کر سکتے ہیں یا نہیں اور اگر کر سکتے ہیں تو آیا ہوا خارج کرتے ہی پیٹھ کے ساتھ منہہ لگانے سے جذبات کی شدت اور سیکس میں کتنا اضافہ ممکن ہے
-------------------------------------------
ہمارے ایک بہت محترم بلاگر جناب سلیم شانتو صاحب نے مخصوص ایام ( ماہواری ) کے حوالے سے کچھ تحقیقی مواد جمع کیا ہے ۔۔۔ جو میں اسی اپنی تحریر کے نیچے جوں کا توں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں ۔۔۔ تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت آنے والی نسلوں کے کام آوے
-------------------------------------------
(5:25 AM - 29 Sep 2014)
کو ایک بدیشی خاتونہ (پروفائل سے اس کے علاوہ کچھ پتہ نہیں چل پا رہا کہ یہ بس کسی لبرل کی بہن ہے) نے عورتوں کی آبرو ریزی پر مردوں کی عدم دلچسپی اور بیزار رویئے کو عورتوں کی ماہواری سے جوڑ کر ایک ٹویٹ کیا جسے ہزاروں بار پڑھا اور پسند کیا گیا۔
(imagine if men were as disgusted with rape as they are with periods)
مارچ 2015 میں ایلن نامی ایک جرمن خاتون بلاگر نے اس ٹویٹ سے متاثر ہو کر اپنے ماہواری پیڈز پر کچھ تنبیہی، کچھ آگاہی اور بیشتربولڈ اور غیر مہذب پیغامات لکھے اور اپنے شہر
(Karlsruhe)
کے سارے در و دیوار پر چپکا دیئے۔ تاہم اس کی یہ حرکت قابل دست اندازی قانون ٹھہری اور اسے عدالت کا سامنا کرنا پڑا۔
عالمی اخبارات میں اس خبر کی پذیرائی کے بعد اسی ہفتے دہلی کی "جامعہ ملیہ اسلامیہ" کی طالبات نے ایلن کی اس انفرادی حرکت کو باقاعدہ تحریک کے طور پر اپنایا اور اپنی جامعہ میں اور جامعہ سے باہر دہلی مین راتوں رات نسوانی پیڈز پر عبارات لکھ کر جگہ جگہ پبلک مقامات پر لگا دیئے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طالبات سے شہ پا کر کولکتہ کی جامعہ
(Kolkata’s Jadavpur University)
کی طالبات نے بھی اپنی جامعہ کی در و دیوار کو اپنے پیڈز پر اپنے دلی جذبات لکھ لکھ کر خوب سجایا۔
اس کے بعد بھی یہ سلسلہ دراز رہا تاہم "با جماعت" ایلن کی اس سنت کے احیاء کیلئے اس ہفتے پاکستان کے زندہ دلان لاہور کی کچھ کاکیوں نے ایلن کی اس سنت کی عملی ادائیگی کا عملی اہتمام کیا۔
سبب بننے والا ٹویٹ یہاں دیکھیں:
https://twitter.com/cutequeer96/status/516564388606521346
جرمنی کی ایلن کا تذکرہ یہاں دیکھیں:
http://www.buzzfeed.com/…/a-woman-is-writing-feminist-messa
دہلی کی خواتین کا کمال یہاں دیکھیں:
http://www.indiatimes.com/…/sanitary-pads-with-pro-women-me
کولکتہ کی جامعہ کی طالبات کے بیانات پیڈز پر لکھے ہوئے یہاں دیکھیں:
http://indianexpress.com/…/sanitary-pad-protest-spreads-to…/
لاہور کی کاکیوں کے کمالات یہاں دیکھیں
http://snaji.com/2016/04/14/mahwari/
جمعرات، 7 اپریل، 2016
انسانی ذہن پر سوشل میڈیا کے اثرات اور اس کے نتائج
اردو ہوم کا ایک سروے جو پانچ سالوں ( ٢٠١١ تا ٢٠١٦ ) پر محیط ہے ۔۔۔یہ سروے فروری ٢٠١١ میں شروع کیا گیا ۔۔۔ جس کے مختصر ترین نتائج آج میں اپنے بلاگ پر پیش کر رہا ہوں ۔۔۔۔
انسانی ذہن پر سوشل میڈیا کے اثرات اور اس کے نتائج
انسان بہت جلد مذہبی ہوجاتا ہے ( چاہے وہ کسی بھی مذہب سے ہو ) ۔۔۔۔۔ 20 پرسنٹ
انسان بہت جلد انتہا پسند مذہبی ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 10 پرسنٹ
انسان بہت جلد دہریہ ( ملحد ) ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 20 پرسنٹ
انسان بہت جلد ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. 40 پرسنٹ
انسان معتدل رہنا سیکھ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 10 پرسنٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ ۔۔۔ یہ تمام نتائج سوشل میڈیا فیس بک، گوگل پلس اور ٹویٹر کی تحریروں اور تبصروں سے اخذ کئے گئے ہیں ۔جن میں مختلف موضوعات کے تقریباً بارہ ہزارگروپس ، دس ہزار کے قریب ذاتی صفحات ، دوست و احباب اور ہزاروں کی تعداد میں عام لوگ شامل ہیں
انسانی ذہن پر سوشل میڈیا کے اثرات اور اس کے نتائج
انسان بہت جلد مذہبی ہوجاتا ہے ( چاہے وہ کسی بھی مذہب سے ہو ) ۔۔۔۔۔ 20 پرسنٹ
انسان بہت جلد انتہا پسند مذہبی ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 10 پرسنٹ
انسان بہت جلد دہریہ ( ملحد ) ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 20 پرسنٹ
انسان بہت جلد ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. 40 پرسنٹ
انسان معتدل رہنا سیکھ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 10 پرسنٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ ۔۔۔ یہ تمام نتائج سوشل میڈیا فیس بک، گوگل پلس اور ٹویٹر کی تحریروں اور تبصروں سے اخذ کئے گئے ہیں ۔جن میں مختلف موضوعات کے تقریباً بارہ ہزارگروپس ، دس ہزار کے قریب ذاتی صفحات ، دوست و احباب اور ہزاروں کی تعداد میں عام لوگ شامل ہیں
پیر، 6 اکتوبر، 2014
سماجی رابطوں کی رنگ برنگی دنیا اور ڈپریشن
بہت سے لوگ دوسروں کی مختلف سوچوں ، باتوں ، انداز ، عادات و اطوار ، خصوصا ایسی سوچ یا باتیں جو ان کی ذہنی سوچ سے مطابقت نہ رکھتی ہوں سے متنفر ہو کر ذہنی ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ہر انسان کی سوچ عمومی یا خصوصی دوسروں کی سوچ سے بہت کم مطابقت رکھتی ہے جس کی وجہ سے انسان اکتاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے اور یہی اکتاہٹ جب حد سے بڑحتی ہے تو بندہ سکون چاہتا ہے۔
میری نظر میں اس کے سب سے بہتر دو حل ہیں
اگر تو آپ میں برداشت کا مادہ کم ہے اور آپ صرف اپنی ذہنی سوچ کے مطابق ہی ہر چیز چاہتے ہیں تو آپ کو چاہئے کہ کتابوں کی طرح اپنے موضوع کی کتاب تک محدود رہیں۔
دوسرا اس کا حل یہ ہے کہ دوسروں کی سوچوں کو پڑھیں اور اس سے سبق حاصل کریں ۔اگر کوئی سوچ آپ کی برداشت سے باہر ہے تو اسے نظرانداز کردیں ۔
نظراندازی خود کے لئے سکون اور دوسروں کے لئے عذاب کا باعث ہوتی ہے
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)