تفتیش کو چھوڑیں ۔۔۔ چلیں ہم مان لیتے ہیں کہ انہوں نے قرآن پاک کی بے حرمتی کی تھی ۔ تو کیا اس کا یہ مطلب ہوا کہ ہم خود قانون کو ہاتھ میں لیں ۔۔۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ انہیں قانون کے حوالہ کیا جاتا اور پھر قانون انہیں جو جی چاہے سزا دیتا ۔۔۔۔ جب پاکستان میں قانون موجود ہے تو پھر ایسی ناانصافی کیوں ؟
کیا پاکستان میں غیر مسلموں کو جینے کا کوئی حق نہیں ؟
کیا پاکستان میں غیر مسلموں کو ایسے ہی الزام لگا کر خود سزا دی جاتی رہے گی اور حکومت خاموش تماشائی بنی رہے گی ؟
کیا اسلام ہمیں خود قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت دیتا ہے ؟
کیا اسلام نے ہمیں اختیار دیا ہے کہ ہم حکومتی قانون کے موجود ہوتے ہوئے بھی خود انھیں سزا دیں؟
کیا اسلام میں لاشوں کی بے حرمتی کرنا جائز ہے ؟
کیا کہیں گے ہم ۔۔۔۔۔ یہی کہ مسیحی تھے ۔۔۔۔ ان کو جینے کا کیا حق تھا
کونسا اسلام لئے پھرتے ہیں ہم ۔۔۔ کیا اپنا بنایا ہوا خود ساختہ اسلام ؟
اسلام ہمیں ایسا سبق ہرگز نہیں دیتا بلکہ اسلام ہمیں غیرمسلموں کی عزت آبرو اور ان کی مذہبی عبادات کی حفاظت کا حکم دیتا ہے
بہت ظلم ہوگیا اب پاکستانی حکومت کو اس پر سنجیدہ اقدامات کرنے چاہیئں ۔پاکستانی حکومت کو سب سے پہلے نچلی سطح پر گلی محلوں میں قائم کی گئی مسجدوں کے جاہل ملاؤں پر پولیس کے زریعے نگاہ رکھنی چاہئے ۔جو بھولی بھالی عوام کو اسلام کے نام پر بیوقوف بناتے ہیں ۔اور جس کو جی چاہتا ہے اسلام کے نام پر اپنے وڈیروں کے کہنے پر مروا دیتے ہیں ۔۔۔ کبھی توہین رسالت کے نام پر اور کبھی قرآن کی بے حرمتی کے نام پر ۔۔۔۔
حکومت کو یہ بھی چاہئے کہ ان گلی محلوں کی مساجد میں گورنمنٹ کی جانب سے بھیجا گیا جمعہ کا خطبہ پڑھا جائے تاکہ ملک میں تفرقے بازی کو لگام دی جاسکے ۔اور اگر کوئی مولوی اس سے اجتناب کرے اسے ملکی قانون کے تحت سخت سزا دی جائے ۔
حکومت پاکستان کو اس سلسلہ میں اب کچھ مثبت اقدام اٹھانے چاہیئں ورنہ پاکستان میں جب تک جاہل ملا زندہ ہیں ایسا ہوتا رہے گا