قرآن کی مبینہ بے حرمتی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
قرآن کی مبینہ بے حرمتی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 5 نومبر، 2014

پاکستان میں جب تک جاہل ملا زندہ ہیں ایسا ہوتا رہے گا

koot-radhaپاکستان کے شہر قصور کے ایک گاؤں کوٹ رادھا کشن میں ایک عیسائی میاں بیوی کو بھرے بازار میں قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کرنے کے الزام میں بے پناہ تشدد کر کے ہلاک کر دیا گیا اور بعد ازاں ان کی لاشوں کو جلا دیا گیا۔بتایا جاتا ہے کہ عیسائی خاتون شمع بی بی اور اُس کے شوہر شہزاد مسیح کو شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اُنہیں جلا دیا گیا جبکہ پولیس کا یہ کہنا تھا کہ جب وہ موقع پر پہنچے تو دونوں میاں بیوی کو مشتعل افراد نے جان سے مار دیا تھا۔

تفتیش کو چھوڑیں ۔۔۔ چلیں ہم مان لیتے ہیں کہ انہوں نے قرآن پاک کی بے حرمتی کی تھی ۔ تو کیا اس کا یہ مطلب ہوا کہ ہم خود قانون کو ہاتھ میں لیں ۔۔۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ انہیں قانون کے حوالہ کیا جاتا اور پھر قانون انہیں جو جی چاہے سزا دیتا ۔۔۔۔ جب پاکستان میں قانون موجود ہے تو پھر ایسی ناانصافی کیوں ؟
کیا پاکستان میں غیر مسلموں کو جینے کا کوئی حق نہیں ؟
کیا پاکستان میں غیر مسلموں کو ایسے ہی الزام لگا کر خود سزا دی جاتی رہے گی اور حکومت خاموش تماشائی بنی رہے گی ؟
کیا اسلام ہمیں خود قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت دیتا ہے ؟
کیا اسلام نے ہمیں اختیار دیا ہے کہ ہم حکومتی قانون کے موجود ہوتے ہوئے بھی خود انھیں سزا دیں؟
کیا اسلام میں لاشوں کی بے حرمتی کرنا جائز ہے ؟
کیا کہیں گے ہم ۔۔۔۔۔ یہی کہ مسیحی تھے ۔۔۔۔ ان کو جینے کا کیا حق تھا
کونسا اسلام لئے پھرتے ہیں ہم ۔۔۔ کیا اپنا بنایا ہوا خود ساختہ اسلام ؟
اسلام ہمیں ایسا سبق ہرگز نہیں دیتا بلکہ اسلام ہمیں غیرمسلموں کی عزت آبرو اور ان کی مذہبی عبادات کی حفاظت کا حکم دیتا ہے

بہت ظلم ہوگیا اب پاکستانی حکومت کو اس پر سنجیدہ اقدامات کرنے چاہیئں ۔پاکستانی حکومت کو سب سے پہلے نچلی سطح پر گلی محلوں میں قائم کی گئی مسجدوں کے جاہل ملاؤں پر پولیس کے زریعے نگاہ رکھنی چاہئے ۔جو بھولی بھالی عوام کو اسلام کے نام پر بیوقوف بناتے ہیں ۔اور جس کو جی چاہتا ہے اسلام کے نام پر اپنے وڈیروں کے کہنے پر مروا دیتے ہیں ۔۔۔ کبھی توہین رسالت کے نام پر اور کبھی قرآن کی بے حرمتی کے نام پر ۔۔۔۔
حکومت کو یہ بھی چاہئے کہ ان گلی محلوں کی مساجد میں گورنمنٹ کی جانب سے بھیجا گیا جمعہ کا خطبہ پڑھا جائے تاکہ ملک میں تفرقے بازی کو لگام دی جاسکے ۔اور اگر کوئی مولوی اس سے اجتناب کرے اسے ملکی قانون کے تحت سخت سزا دی جائے ۔

حکومت پاکستان کو اس سلسلہ میں اب کچھ مثبت اقدام اٹھانے چاہیئں ورنہ پاکستان میں جب تک جاہل ملا زندہ ہیں ایسا ہوتا رہے گا