twitter لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
twitter لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 3 اگست، 2018

مرشد پاک دیاں ایجنسیاں شریف


آجکل ایجنسیز لوگوں کو اٹھا کر لے جاتی ہیں اور کچھ دنوں بعد کالا سیاہ کرکے پانچ وقت کا پابند نمازی کرکے چھوڑ جاتی ہیں۔
یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ سمجھ لیں بندے کے اندر جو "کیڑا" ہوتا ہے وہ کڈ کر بندے کو سیدھا تیر یعنی صراط المسقیم پر چڑھا دیتی ہیں۔
اور دعا بھی دیتی ہیں کہ جا بچہ اللہ دین ایمان کا پکا رکھے ای۔
زیادہ تو نہیں معلوم لیکن اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ کوئی نا کوئی "وجہ" ضرور ہوتی ہے۔
کہ "ایجنسیوں" کو مجبوراً بندہ "چیک" کرنا پڑتا ہے۔
ایسے حالات میں گہیوں کے ساتھ تھوڑا بہت گہن بھی پس ہی جاتا ہے۔
صبر کر لینا چاھے اور درجات کی بلندی کی دعا کرلینی چاھئے۔
اب یہی دیکھ لیں ۔
دہشت گردی میں کافی کمی ہوئی ہے۔ ورنہ ڈر ہی لگا رہتا تھا کہ کون کہاں پر پھٹ پڑےگا۔
الیکشن کا کنجر خانہ جو فی الحال پورے جوش وخروش سے رواں دواں ہی ہے۔ اس کے دوران ہی دو شدید قسم کے "دہشت گردی" کے واقعات ہوئے ہیں۔
لوگوں کی کافی تعداد ماری گئی اور سینکڑوں لولے لنگڑے ابھی بھی زیر علاج ہیں۔۔
فوج کو گالیاں دینے والے ایک لمحے کیلئے سوچیں کہ جنہیں "ایجنسیز " اٹھاتی ہیں۔ وہ لوگ آخر کیوں "ایجنسیز" کی نگاہ میں آتے ہیں؟
مثال کے طور پر
"سوشل میڈیا" پر ہمارے سامنے سلیمان حیدر ، وقاص گورایہ ، اور ابو علیحہ کو اٹھایا گیا اور جھاڑ پونچھ کرکے چھوڑ دیا گیا۔
ان تینوں کو ہم پڑھتے ہی رہتے تھے۔ اور اب بھی ان کا لکھا نظروں سے گذرتا ہی رہتا ہے۔
ابو علیحہ فی الحال زیر علاج اور آفٹر شاکس سے گذر رہے ہیں۔ کافی شبھ شبھ لکھ رہے ہیں۔
باقی دو کا "کیڑا" شاید سپورٹ تگڑی ہونے کی وجہ سے سر "اٹھاتا" ہی رہتا ہے۔
بحرحال ہم ان تینوں کے لکھے کو کسی طرح بھی "آزادیِ اظہارِ رائے" کے زمرے نہیں رکھ سکتے تھے۔
ایک دو سٹیٹس لوگوں کو جمع کرنے کیلئے "لفاظیت" سے لکھتے تھے اور پھر "حق سچ" کےنام پر "منافرت" پھیلاتے تھے۔
ساری دنیا میں "ریاستوں" کا یہی طریقہ کار ہے مشکوک بندے کو پہلے اٹھایا جاتا ہے "تفتیش" کی جاتی ہے۔
بیگناہ یا احمق بیوقوفانہ طریقہ سے سستی شہرت یا مالی فائدہ اٹھانے والا ہونے کی تصدیق ہونے کے بعد چھوڑ دیا جاتا ہے۔
جاؤ تسی بیگناہ ہو۔ اللہ اللہ خیر صلا۔
اگر اس "تفتیشی عمل" کے دوران بندہ سوکھ سڑ کر تھوڑا بہت "کالا کلوٹا" ہو جاتا ہے تو میرے خیال میں "اٹھائے " جانے والے کو اپنا "حق سچ" بولنے کا "معاوضہ " ادا کرنا سمجھ کر صبر شکر کر لینا چاھئے۔
اور بھولیئے مت پاکستان دہشت گردی کی زد پر ہے اور مسلسل "لاشے" اٹھائے جارہے ہیں۔

ہمارے ادھر جاپان سے قدیم و عظیم بلاگرعقلاں اور دانشاں "کمہاراں " آلی سرکار بھی بہت "حق سچ" کا پر چار کرتے رہتے ہیں۔
مذہبی منافرت ، لسانی منافرت ، نسلی منافرت ، کے علاوہ
ساڈی جان سے بھی پیاری افواج پاکستان کے خلاف ہرزہ سائی بھی کرتے رہتے ہیں۔ :D
بس ان کی بھی پین دی سری کی جائے :D
اس بار پاکستان یاترا کریں تو انہیں بھی ذرا ائیر پورٹ سے "چیک" کرنے کیلئے "ایجنسیوں" کو وصول کر لینا چاھئے۔
سو فیصد ضمانت دی جاتی ہے کہ کچھ فیس بک پیجز اور کچھ مشکوک "سائیٹز" ضرور ان کی "کرامتوں" کی مرہون منت چل رہی ہوں گئیں۔
کون کون سے پیج اور سائیٹز پوچھ مت لینا۔۔تُکے سے کام لیا جارہا ہے۔۔۔۔۔۔
:D :D
اور سلیمان حیدر، وقاص گورایہ ، ابو علیحہ ان تینوں سے ضرور کوئی نا کوئی تعلق واسطہ ہوگا۔ بلکہ میرے خیال میں تو باقاعدہ روابط ہوں گئے۔
ابو علیحہ کی "مشکوک" فلم کیلئے "سرمایہ " فراہم کرنے کا تو "ایجنسیوں" کو معلوم ہو ہی چکا ہے (اندروں دی گل)
ہم نے "حب الوطنی " کا مظاہرہ کرتے ہوئے غفور انکل کو اطلاع دے دی ہے۔
پھر نہ کہنا "خبر " نہ ہوئی۔ :D
نوٹ؛-
منجانب از ادارہ خوامخواہ جاپانی ٹوٹلی حالتِ وجدبوٹ پالشی میں لکھا گیا آرٹیکل

اتوار، 22 جولائی، 2018

الیکشن 2018 سوشل میڈیا اور نفرت انگیز مواد کی تشہیر


آج سے تین دن پیشتر مجھے فرخ منظور نے پاکستان کی ایک معروف این جی اوز ‘‘ برگد ‘‘ کی جانب سے آیا ہوا ایک دعوت نامہ پہنچایا کہ اتوار صبح گیارہ بجے سے ایک بجے تک ‘‘ برگد ‘‘ کی جانب سے پاکستان الیکشن 2018 کے سلسلہ میں سوشل میڈیا پر گالی گلوچ اور نفرت انگیز مواد کی روک تھام پر ایک مکالمہ ہو رہا ہے جس میں بلاگرز نے بھی شرکت کرنی ہے ۔

موضوع چونکہ دلچسپ تھا اس لئے سوچا شرکت لازمی کرنا چاہئے ۔۔۔ وقت زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے میں نے صرف لاہور کے مرد و زن اور ایک خواجہ سرا بلاگر کو بھی اپنی طرف سے اس مکالمے میں شرکت کی درخواست کر دی ۔۔۔مگر خواتین اور خواجہ سرا بلاگر نے مصروفیت زیادہ ہونے کی وجہ سے مکالمے میں شرکت پر معذرت کر لی ۔۔۔ جس کا مجھے افسوس ہوا۔

وقت مقررہ پر جب ہم معروف این جی اوز ‘‘ برگد ‘‘ کے آفس پہنچے تو انہوں نے بڑی عزت سے ہمیں خوش آمدید کہا ۔۔۔ آپس میں تعارف کروانے کے بعد ہمیں الیکشن 2018 کے سلسلے میں سوشل میڈیا پر مختلف لوگوں اور تنظیمیوں کی جانب سے جو نفرت انگیز مواد شائع کیا جارہا تھا اس کے سروے سے آگاہ کیا گیا اور اس پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔


معروف این جی اوز ‘‘ برگد ‘‘ کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فیس بک کے ماہانہ صارفین کی تعداد ‘‘ تین کروڑ ‘‘ کے لگ بھگ ہے جبکہ دوسری جانب اس کے مقابلے میں ٹیویٹر کے ماہانہ صارفین صرف 35 لاکھ ہیں ۔۔مگر پھر بھی فیس بک کی نسبت ٹویٹر پر نفرت انگیز مواد اور اس پر اظہار رائے زیادہ موثر ثابت ہوتا ہے ۔۔الیکشن 2018 اور سوشل میڈیا صارفین کے حوالے سے مرتب کی جانے والی اس رپورٹ کے لئے تیس ہزار صارفین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا تین ماہ ( اپریل 2018 تا جولائی 2018 تک ڈیٹقا اکھٹا کیا گیا ۔

یہ تحقیقایک پراجیکٹ ‘‘ پر امن الیکشن اور نوجوانوں کا کردار ‘‘ کا حصہ تھی جس میں خیبر پختونخواہ اور پنجاب کی کل دس یونیورسٹیز کے 200 طلباء و طالبات نے براہ راست دو دن کے مشاورتی اجلاسوں میں حصہ لیا اور تربیت حاصل کرنے کے بعد دونوں صوبوں میں پر امن الیکشن اور نوجوانوں کے کردار کے حوالہ سے 100 کے قریب مختلف پراجیکٹس کئے ۔

اس رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی کہ سوشل میڈیا نفرت نانگیز مواد کی اشاعت میں کس طرح مددگار ثابت ہو رہا ہے۔اور سیاسی تشہیر میں اس قابل نفرت مواد کو سیاسی رہنما اور اس کے حامی کس طرح استمال کر رہے ہیں ۔


تحقیقی رپورٹ کے مطابق یہ بات بھی سامنے آئی کی تحریری مواد کے ساتھ ساتھ تصاویر ، آڈیو اور ویڈیوز کا استمال نفرت انگیز مواد پھیلانے میں سب سے زیادہ ہوتا ہے ۔۔۔اپریل سے جولائی تک کی سیاسی تشہیر میں سب سے زیادہ نفرت انگیز مواد کا استمال کیا گیا جس میں نفرت انگیز مواد کی تائید ، تشہیر اور اس پر مباحث شامل تھے ۔اس رپورٹ سے یہ بھی بات سامنے آئی کہ نفرت انگیز مواد میں اعتراضات ،الزامات اور شخصی تشخص کو نشانہ بنانے کا استمال سب سے زیادہ کیا جاتا ہے ۔۔مزید مذہبی عدم برداشت اور صنفی اعتبار سے مخالفین کو تضحیک اور قابل نفرت انداز میں پیش کرنا بھی ایک مقبول طرز عمل ہے ۔۔اس حوالے سے ٹویٹر پر ایسے ہیش ٹیگ کا استمال جا بجا دیکھا گیا جو براہ راست نفرت انگیز بیانئے پر مشتمل تھے ۔سیاسی جماعتوں مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے حامیوں کے درمیان سوشل میڈیا پر براہ راست گالم گلوچ ،عقیدے ، برادری ، پیشہ اور صنفی اعتبار سے نفرت انگیز مواد کا پھیلاؤ زیادہ نمایاں طور پر سامنے آیا ۔۔


اس تحقیقی رپورٹ میں یہ بھی بات سامنے آئی کہ الیکشن کے دنوں میں انفرادی اور ایک گروہ کی صورت میں نفرت انگیز مواد کی تخلیق و تشہیر کو باقاعدہ ایک منظم طریقے سے بھی کیا جارہا ہے اور ایسے کئی صارفین اور پیج متحرک ہیں جو نفرت انگیز مواد کی تشہیر باقاعدہ کرتے ہیں ۔۔


معروف این جی اوز ‘‘ برگد ‘‘ کی اس حالیہ رپورٹ کی رو سے ہمیں ضرورت ہے کہ نفرت انگیز مواد کے حوالے سے قابل عمل قانون سازی کی جائے اس کے ساتھ ساتھ لوگوں میں جانکاری بڑھانے کے لئے نصاب میں ایسے اسباق شامل کئے جائیں جو کہ قابل نفرت رویے اور ان کے اظہار کو روکنے میں مدد دے سکیں ۔

منگل، 17 جولائی، 2018

تجربات سے سیکھنا اور "کمینگی" ۔۔۔۔ یاسر جاپانی



آ ئیے آپ کو "تجربات" کا سفر پڑھائیں :D

یکسانیت کے شکار ہوں یا تکرار مسلسل لگے تو مرغِ بسمل کی طرح بانگنا منع نہیں ہے :D

مسلمانوں کی "معصومیت" صدیوں سے "مشہور ومعروف" ہے اور "یہود ونصاری" کی عیارانہ و مکارانہ "سازشیں" بھی صدیوں سے مشہور و معروف ہیں۔۔

اسپین میں مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہوئیں مسلمان کو سپین سے مار نکال دیا گیا۔

اٹلی کے "سسلی" اور سابقہ "صقیلیہ" میں مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہوتی رہیں۔

اور مسلمان "سسلی" میں اپنی عظیم والشان نشانیاں ہی چھوڑ گئے۔

یہ علیحدہ بات ہے کہ "پناہ گزین" مسلمان اب بھی اسپین اور اٹلی میں ہی اپنی جان ومال و عزت مسلم ممالک کی نسبت زیادہ محفوظ سمجھتا ہے۔

ھندوستان میں مسلمانوں کی حکمرانی تھی ۔

مسلمانوں کی "سلطنت" ختم ہونے کے قریب ہی تھی کہ

"احمد شاہ ابدالی" نے "مرہٹوں" کو ایسی شکست فاش دی کہ "مرہٹے" ہمیشہ ہمیشہ کیلئے "پانی پت " میں نیست و نابود ہوگئے۔

پھر "برطانوی گوروں " نے "سازش کرکے "مسلمانوں" کی حکومت کا خاتمہ کیا اور "جھوٹا" بیان دے دیا کہ

ہم نے تو انڈیا کا "اقتدار" مسلمانوں سے نہیں "مرہٹوں" سے چھینا ہے۔

"مغل شہنشاہیت" ایک "نشانی" کے طور پر وجود ضرور رکھتی تھی۔

زیادہ تر "مولوی" اور "شاعر" اس شہنشاہت کے "ٖخطبے و قصیدے" پڑھتے رہتے تھے۔

اور ہندوں سکھوں اور مسلمانوں کے راجاؤں ،نوابوں اور نکے نکے بادشاہوں کی اپنی اپن ریاستیں تھیں۔

جو کہ ایک دوسرے سے ہمیشہ "خطرے" میں ہی رہتی تھیں۔جیسے ہی "بیرونی" طاقت کو دیکھا سب ایک دوسرے کے خوف سے اس "بیرونی" طاقت کے ہاتھ پاؤں مضبوط کرنا شروع ہوگئے تھے اور ہوجاتے تھے۔

"خلافت عثمانیہ" کی بحالی تحریک "ہندوستان " میں زور وشور سے جاری تھی۔۔۔

"عرب" ترکوں سے "آزادی" کی جنگ لڑ رہے تھے۔یہودی اسرائیل کے قیام کی سازشوں میں لگے ہوئے تھے۔

تھوڑا ماضی میں جائیں تو "برصغیر" کا یہی حال تھا۔ہر "بیرونی طاقت" سے مل کر ایک دوسرے کی "بینڈ " ہی بجائی جاتی تھی۔

اللہ انگریز کی عمردراز کرے اور برطانیہ کو تاقیامت قائم رکھے۔ کہ وکٹوریائی ہندوستان کے تمام راجے مہاراجے نواب وغیرہ کے خاندان اب بھی اپنے لئے "لندن" کو ہی زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔

اور اپنی "بادشاہت" کے مزے لینے کیلئے سال میں چند بار انڈیا پاکستان بھی آجاتے ہیں۔

ہم نے اپنے تجربے سے یہی سیکھا ہے کہ " ہندوستانی ، پاکستانی ، افغانستانی" مسلمان نے ہر حال میں ایک دوسرے کے "خلاف" سازش کرنی ہوتی ہے۔

چاھے اس کا ایک ٹکے کا فائدہ بھی نہ ہو۔

فیس بک کی وجہ سے جاپان میں بھی "پاکستانی و جاپانی " ہمارے "انجانے" جاننے والے کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ جس کا ہمیں کافی عرصے بعد "علم" ہوا۔

وہ بھی اس طرح کہ فیس بک نے پرانی آئی ڈی بلاک کردی تو

"تھرتھلی" مچ گئی۔۔۔

ابے۔۔۔۔۔یہ کیا ۔۔۔۔روزانہ کوئی نا کوئی کسی ناکسی طریقے سے "کھوج " لگا رہاہے۔!!

بس کچھ ایسی ہی حالت تھی۔

ابے ۔۔اگر پڑھتے دیکھتے تھے تو "لائیک " ہی کر دیا کرتے؟

یا کم ازکم "اچھا یا برا" کمنٹ ہی کردیا کرتے تاکہ ہمیں بھی معلوم ہوا۔ آپ کو ہمارا "لکھا" سمجھ آیا ہے کہ نہیں؟ یا کم ازکم "مہذب" انداز میں آپ اپنی "رائے" کا اظہار ہی کردیتے؟

تاکہ ہم ہی آپ سے کچھ سیکھ سکتے۔

غیر ضروری "سازشی" ذہنیت کا آخری تازہ تازہ انتہائی "بے فضول تجربہ " ہمارے ساتھ تین چار ماہ پہلے واقعہ ہوا تھا کہ

ایک جاننے والے جو کہ کافی " کمپلیکیٹڈ پرسنالٹی" ہیں۔ کبھی کبھی ملاقات کرنے آجاتے تھے۔ تو ہم بھی "مروت"میں صاف انکار نہیں کرتے تھے کہ کسی کی دل آزاری کرنا بھی اچھی بات نہیں ہے۔

ایک بارریسٹورنٹ میں کھانا کھایا۔ بل ادائیگی کے وقت "میں دوں گا ، میں دوں گا" کا ڈرامہ چلا اور آخر کار "ہیرو" کا سین مجھے مل گیا۔

جب میں بل ادا کر رہا تھا۔ تو سامنے "کھڑکی کے شیشے" پر نظر پڑی رات کا وقت تھا۔ دیکھا ایک "ارب پتی " بزنس مین کرسی پہ بیٹھے بیٹھے ہی خوشی میں دیوانگی سے ہاتھ اٹھائے ناچ رہے ہیں۔

ارے۔۔پین دی سری ۔انہیں کیا ہوا؟!!

حیرت سے گردن موڑ کردیکھا تو

بالکل سنجیدہ چہرے لئے بیٹھے ہوئے ہیں۔!!!

ابے۔۔۔۔۔یہ کیا؟!!

ظاہر ہے ہم نے اپنی " سادگی" کے باوجود دنیا دیکھی ہے۔بندے کے "اندر کا چینل" میرے خیال میں ، میں بہت اچھی طرح "پڑھ " لیتا ہوں۔

یہ علیحدہ بات ہے کہ عموماً "نظر انداز" کر دیتا ہوں۔ جس سے مجھے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اچھے برے لوگوں کا اندازہ ہوجاتا ہے۔

بحرحال ۔۔۔

کہنے کا مقصد یہ ہے۔

کم ازکم پاکستانی "عیاری و مکاری و چالاکی" موقعہ پرستی، مفاد پرستی ، خود غرضی اور خاص کر ضروری و غیر ضروری سازشیں کرنے میں "اپنی مثال" آپ ہیں۔

مجھے ان "ارب پتی" صاحب کی حرکت کا "مقصد" بالکل سمجھ نہیں آیا تھا اور نا ہی آیا ہے۔

شاید ان کی " خوشی " کی وجہ

1ٓ- ہم لوگوں نے جو مشترکہ کھانا پینا کیا تھا اس کا خرچہ میری جیب سے کروانا انہیں میرا نقصان لگا تھا اور انہیں میرے نقصان کی "خوشی" ہوئی تھی۔

حالانکہ ان سے میری نا ہی دوستی ہے اور نا ہی کوئی کاروباری تعلق!۔

بس ایک "مشترکہ " دوست یا جاننے والے صاحب کی وجہ سے دسترخوان کااشتراک ہوگیا تھا۔

2- ان صاحب کے دل میں میرے لئے کسی "وجہ" سے شدید کا قسم کا "بغض و عناد یا حسد" جڑ پکڑے بیٹھی تھی۔

اور ان کے خیال میں "بل" کی ادائیگی کرنے سے میرا "نقصان" ہوا ہے ۔ اور میرے جیسے غریب مسکین بندے کیلئے یہ بہت بڑا" جانی نقصان" ہے۔ انہیں اس بات کی خوشی ہوئی تھی؟

3- یا صرف صدیوں کی اپنے آپ کو "مسلمان" کہنے والی "ذہنیت" کی "گندگی" تھی ۔

جو کہ وجہ بلاوجہ ایک دوسرے کے خلاف موقعہ پاتے ہی متحرک ہو جاتی ہے۔ اور "تعلق واسطے رشتے" کی کوئی بھی کم سے کم شکل ہونے کی صورت میں "تکلیف" پہونچانے کی "کمینگی" اچھل کر باہر آگئی تھی؟۔

*

ہماری یہ "کمینگی" اس وقت "پائے تسکین" پہونچتی ہے۔ جب تک ہم "دوسرے" کا جانی مالی نقصان نہ کردیں۔

یہ "کمینگی" ہمیں سماجی ، معاشرتی معاملات میں "اکثر" دکھائی دیتی ہے اور ہم بہت اچھی طرح اس "کمینگی" سے واقف ہیں۔

ملکی قومی اور سیاسی سطح پر آجکل ہمیں "باپ بیٹی " کا جیل جانا ایک عجیب سی "کمینی قسم " کی "تسکین" دے رہا ہے ۔

سابقہ بیوی ریحام خان کی "کتاب" کے بارویں باب کے بعد جو "رنگین" قسم کی "تذلیل" پڑھنے کو ملتی ہے اس کا اپنا ہی مزا ہے۔

اور عمران خان کا "پٹواریوں" اور لہوریوں کا "کھوتا" کہنے کے انداز نے جو لطف دیا اس "کمینگی" کو لہوریوں کی کھوتا خوری سے جوڑ کر جو مزا آیا اس کے کیا کہنے۔

اور ڈی چوک میں کٹی پتنگ کی طرح جھوم جھوم کر ناچ گانا کرنے والے پرویز خٹک کا "ناچ گانا" کرنے والوں کے گھر کو جھنڈے والا"طوائف" کا گھر کہنے سے "دل ہی دل" میں جو "کمینی سی خوشی" ہوئی اس کا تو جواب ہی نہیں۔ :D

مندرجہ بالا تمام "کمینگیوں" پر غور کیجئے۔!!

ان کے فوائد بھی اور نقصانات بھی "ہم سب" کے "مشترکہ" ہیں۔

جب ہم "خاک" ہو جائیں گئے۔

تو "یاد " کرنے والے "اچھے یا برے" الفاظ میں ہمیں ضرور یاد کریں گے۔

لیکن کیا ہے کہ

ہم نہ ہوں گے۔ اور دنیا چند دنوں کی ہی ہے۔

ہم صدیوں سے "جاری " کمینگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش تو کر سکتے ہیں۔۔

جو کہ

"بارودی جیکٹ" پہن کر پھٹے بغیر بھی کی جا سکتی ہے۔ :D

خلافت راشدہ جیسی "بابرکت و مقدس" ریاست تاقیامت قائم نہ رہ سکی تو ہماری تمہاری "ڈیڑھ اینٹ " کی "عبادت گاہ" کس کھیت کی مولی ہے۔

بحرحال "خدا" واقعی ہمیں "تجربات" سے "سیکھنے" کا موقعہ دیتا ہے۔

اور ہمارے اندر کی "کمینگی" ہمیں "سیکھنے " نہیں دیتی۔

منگل، 15 اگست، 2017

ہفتہ، 1 جولائی، 2017

گوگل ایڈ سینس سے ہزاروں روپے کمائیں ۔۔ آزمودہ نسخہ

گوگل ایڈ سینس گوگل کے وہ اشتہارات ہیں جن کو ویب سائٹس یا بلاگ پر لگا کر پیسے کمائے جاسکتے ہیں۔یہ پہلے صرف انگلش کی ویب سائٹ پر ہی لگائے جا سکتے تھے ۔۔۔ ابھی دو تین دن پیشتر ہی گوگل نے یہ سروس اردو یونی کوڈ یعنی اردو تحریری ویب سائٹ اور بلاگ والوں کے لئے بھی مہیا کر دی ہے ۔۔۔ اس سلسلے میں آپ کی آگاہی کے لئے اردو میں گوگل ایڈ سینس کے بارے میں یہ آسان سی ویڈیو بنائی ہے جس سے آپ کو گوگل ایڈ سینس کو سمجھنے میں آسانی پیش آئے گی ۔
ویڈیو سنئے اور نیک نیتی سے محنت کیجئے اگر نیک نیتی سے محنت کریں گے تو اس کا پھل بھی آپ کو اچھا ملے گا

https://youtu.be/uQJPYVpxjCE

منگل، 19 جولائی، 2016

اپنے موبائل فون سے بہت آسانی سے اردو میں لکھیں ۔۔جدید ایڈیشن

اپنے موبائل فون سے بہت آسانی سے اردو میں لکھیں ۔۔جدید ایڈیشن
ویڈیو کو بڑا کر کے دیکھیں ۔۔۔ آپ کو سمجھنے میں آسانی رہے گی



پیر، 9 مئی، 2016

بلاگروں کا ماما

پاکستان بنا ۔۔۔۔ لوگوں نے مل بانٹ کے کھایا ۔۔۔ تم نے کچھ لکھا ؟
بالکل نہیں۔۔۔
آدھا پاکستان بیچ دیا گیا ۔۔۔۔ تم نے اس پر روشنی ڈالی ؟
بالکل نہیں جی۔۔۔
سیاستدانوں نے رج کے ملک کو لوٹا اور پھر کھایا ۔۔۔۔ تم نے کچھ لکھا ؟
نہیں جی ۔۔۔
لوگوں نے زمینوں پر قبضے کر کے بنگلے بنا دیئے ۔۔۔ تم کچھ بولے؟
نہیں جی۔۔۔
لوگوں نے پاکستانی پیسوں سے سوئس بینک بھر دئے۔۔۔تم نے کچھ کہا
نہیں تو۔۔۔
اب پانامہ لیگ کا کٹا کھلا ۔۔۔ تمہیں تکلیف ہوئی ؟
بالکل بھی نہیں ۔۔میں نے اس کو معمول کی بات جانا ۔۔۔۔
اور یہ جو اب سیکرٹری مالیات بلوچستان کے اربوں ڈکارے سامنے آئے ۔۔۔ تمیں حیرت ہوئی ؟
حیرت تو دور کی بات میں نے اسے روز کا معمول جانا ۔۔۔
تو پھر ماما یہ معمولی سی بات پر اپنوں سے پنگا لینا کیا معنی ؟
بات تو آپ کی ٹھیک ہے مگر ۔۔۔
اگر مگر کچھ نہیں ، تم مامے ہو بلاگروں کے ؟
نہیں ۔۔ بالکل بھی نہیں ۔۔
اگر بلاگروں کے مامے نہیں ہو تو مارو پھر نعرہ ۔۔۔ سانوں کی
جی بہتر ۔۔۔ مار دیا نعرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سانوں کی

جمعرات، 7 اپریل، 2016

انسانی ذہن پر سوشل میڈیا کے اثرات اور اس کے نتائج

اردو ہوم کا ایک سروے جو پانچ سالوں ( ٢٠١١ تا ٢٠١٦ ) پر محیط ہے ۔۔۔یہ سروے فروری ٢٠١١ میں شروع کیا گیا ۔۔۔ جس کے مختصر ترین نتائج آج میں اپنے بلاگ پر پیش کر رہا ہوں ۔۔۔۔

انسانی ذہن پر سوشل میڈیا کے اثرات اور اس کے نتائج

انسان بہت جلد مذہبی ہوجاتا ہے ( چاہے وہ کسی بھی مذہب سے ہو ) ۔۔۔۔۔ 20 پرسنٹ
انسان بہت جلد انتہا پسند مذہبی ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 10 پرسنٹ
انسان بہت جلد دہریہ ( ملحد ) ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 20 پرسنٹ
انسان بہت جلد ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. 40 پرسنٹ
انسان معتدل رہنا سیکھ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 10 پرسنٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ ۔۔۔ یہ تمام نتائج سوشل میڈیا فیس بک، گوگل پلس اور ٹویٹر کی تحریروں اور تبصروں سے اخذ کئے گئے ہیں ۔جن میں مختلف موضوعات کے تقریباً بارہ ہزارگروپس ، دس ہزار کے قریب ذاتی صفحات ، دوست و احباب اور ہزاروں کی تعداد میں عام لوگ شامل ہیں

اتوار، 11 جنوری، 2015

ٹویٹر سے عام موبائل فون تک ( مائکرو بلاگنگ ) ۔

مائکرو بلاگنگ کی اگر بات ہو تو ٹویٹر کا نام نہ آئے یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ ٹویٹر بذات خود مائکرو بلاگنگ کے ابا جی ہیں ۔ یعنی یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ ٹویٹر سوفٹ وئیر ہی مائکرو بلاگنگ کا وہ واحد سوفٹ وئیر ہے جس سے مائکرو بلاگنگ متعارف ہوئی اور سوشل میڈیا نے ترقی کی ۔ بعد ازاں فیس بک ، گوگل پلس، ٹمبلر نے مائکرو بلاگنگ میں حصہ لے کر دنیائے سوشل میڈیا میں انقلاب برپا کر دیا ۔

یہ وہی ٹویٹر ہے جس کا سہارا لے کر اوباما نے امریکہ میں اپنی الیکشن کی بھرپور مہم چلائی اور کامیابی حاصل کی ۔اور یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کے تمام نامور لوگ ، سیاستدان ، حکمران ، میڈیا کے لوگ ، بزنس مین و دیگر لوگوں کے علاوہ ، عاشق ، معشوق ، ویلے ، نکمے، شاعر ، ادیب ، لکھاری، بلاگرز اور شریف آدمی بھی یہاں پائے جاتے ہیں ۔

ٹویٹر کو اگر انفرادی طور پر استمال کیا جائے تو آپ اپنی بات ، اپنی تجاویز ، اپنی شکایات صدر اوباما سے لے کر دنیا کے کسی سربراہ مملکت یا عہدیداران ، ادارے، بزنس کمپنیز حتکہ پاکستان کے کسی بھی آدمی تک پہنچا سکتے ہیں ۔(جس کا ٹویٹر اکاؤنٹ بنا ہوا ہو ) ۔۔

اگر آپ اس کو اجتماعی طور پر استمال کرنا چاہتے ، یعنی تعلیمی ، تنظیمی ، کاروباری ۔ سیاسی وغیرہ وغیرہ تو پھر آپ اس سے بہت سے فوائد حاصل کر سکتے ہیں ۔آپ اس پر اپنی بات سیکنڈوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں ۔
غرض یہ کہ آپ اجتماعی طور پر ٹویٹر کو استمال کر کے اپنا پیغام عام عوام تک پہنچا کر حکومت بنا بھی سکتے ہیں اور گرا بھی سکتے ہیں ۔اور یہ کیسے ممکن ہے اس کی تفصیل پھر کبھی ۔۔۔۔۔۔۔

ٹویٹر کی اگر بات کی جائے تو ہمارے بہت سے پاکستانی ابھی بھی ناک بھوں چڑھاتے نظر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ بھی کوئی جگہ ہے اور کچھ تو یہاں تک کہتے ہیں جی ہاں ہم نے ٹیوٹر استمال کیا ہے مگر ہمیں اس کی ککھ سمجھ نہیں آئی ۔
چلیں آج ہم ٹویٹر کو ککھ کی بجائے آکھ ( آنکھ ) سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔ شاید کہ پاکستانیوں کے دل میں اتر جائے میری بات ۔۔۔۔

سب سے پہلے ٹویٹر ڈاٹ کوم twitter.com پر جائیں ۔ یہاں لوگن ہوں یا اپنا نیا اکاؤنٹ بنائیں ۔۔۔ جو کہ بہت آسان ہے ۔۔۔۔ نیچے دیکھیں تصاویر ۔۔۔۔



ٹویٹر اکاؤنٹ بنانے یا لاگن ہونے کے بعد آپ اپنے ٹویٹر کے پہلے صفحہ پر آجاتے ہیں ۔۔۔۔یہاں ہم سب سے پہلے سیٹنگ کرتے ہیں ۔۔
١ ۔۔ اپنی تصویر یا اس جگہ کو کلک کریں
٢ ۔۔اس سے منسلک ایک ونڈو کھلے گی جس پر نیچے ‘‘ سیٹنگ ‘‘ لکھا ہو گا اس کو کلک کر دیں ۔۔۔ نیچے دیکھیں تصاویر ۔۔۔۔



اب ہم اپنی سیٹنگ کے مین صفحے پر آ گئے ہیں ۔۔۔ اگر آپ اپنے بائیں ہاتھ دیکھیں گے تو آپ کو ٹویٹر سیٹنگ کی مختلف آپشن نظر آ رہی ہوں گی ۔۔۔ سب سے اوپر اکاؤنٹ کو کلک کریں اس پر اپنی مرضی کی ترتیب دیں ۔۔۔ نیچے دیکھیں تصاویر ۔۔۔۔



دوسرے نمبر پر ‘‘ سیکورٹی اور پرائیویسی ‘‘ کی آپشن ہے جو کہ انتہائی اہم ہے ۔۔۔اس کو ضرور استمال کرنا چاہئے تاکہ آپ اپنے اکاؤنٹ کو ہیکر وغیرہ یا کسی کے ہاتھوں غلط استمال سے بچا سکیں ۔۔۔جب آپ اس کو کلک کریں گے تو آپ کے داہنے ہاتھ اس کی تمام تفصیلات آ جائیں گے ۔۔۔ اگر آپ کے پاس اینڈرائیڈ موبائل ہے تو اس کو منتخب کریں ورنہ عام موبائل فون والی آپشن کو منتخب کریں ۔۔۔۔ویسے میری نگاہ میں عام موبائل فون والی آپشن سب سے بہتر ہے ۔۔۔اب آپ سوچیں گے کہ اس سے کیا ہو گا ،،،،،اس سے ہو گا یہ کہ آپ یا کوئی بھی اگر آپ کے ٹویٹر اکاؤنٹ میں کسی اور براؤزر ، کمپیوٹر یا اینڈرائیڈ فون سے لاگن ہونا چاہے گا تو سب سے پہلے والے اسے سیکورٹی کوڈ بھیجیں گے جو اس موبائل نمبر یا اینڈرائیڈ فون پر آئے گا جو آپ نے منتخب کیا ہو گا اس کوڈ کو ڈالنے یا اس کو اوکے کرنے کے بعد ہی آپ یا کوئی اور ٹویٹر اکاؤنٹ میں لاگن ہو سکیں گے ۔
اس صفحے کے نیچے باقی تمام سیٹنگ بھی اپنی مرضی سے کر کے اس صفحے کو بھی سیو کر دیں ۔۔۔۔۔ نیچے دیکھیں تصاویر ۔۔۔۔




بائیں ہاتھ تیسرے نمبر پر پاسورڈ کی آپشن ہے ۔۔۔ اس کو اگر آپ نے تبدیل کرنا ہے تو منتخب کریں ورنہ رہنے دیں ۔۔۔ چوتھے اور پانچویں نمبر کی آپشن کی فی الحال ضرورت نہیں ہے ۔ اس لئے اس پر بھی میں روشنی نہیں ڈالتا ۔۔۔

چھٹے نمبر کی آپشن یعنی موبائل والی آپشن سب سے اہم ہے اس کو منتخب کر کے کلک کر دیں آپ کے داہنے ہاتھ اس کی تفصیل آ جائے گی ۔
جب آپ اس آپشن کو کلک کریں گے تو سب سے اوپر موبائل کی آپشن ہو گی ۔۔آپ اس میں اپنا موبائل نمبر ڈالیں ۔۔۔۔موبائل نمبر ڈالنے کے بعد ٹویٹر آپ کو آپ کے موبائل پر میسیج بھیجے گا جس کا آپ نے اسی نمبر پر ریپلائی یعنی جواب دینا ہوگا۔
اگر آپ کا نمبر صحیح ہوا تو ٹویٹر آپ کے اکاؤنٹ پر آپ کا موبائل نمبر رجسٹرڈ کر لے گا۔۔۔رجسٹرڈ ہونے کے بعد اسی صفحے پر آپ اپنا موبائل نمبر اور بہت سے تفصیل دیکھیں گے جنہیں آپ اپنی مرضی سے منتخب کر کے صفحے کو سییو کر دیجئے ۔۔۔۔۔۔ نیچے دیکھیں تصاویر ۔۔۔۔




ساتواں نمبر ای میل نوٹیفیکیشن کے لئے ہے اگر آپ چاہیں تو اس کو منتخب کر سکتے ہیں ۔۔۔۔
آٹھواں نمبر اپنے اکاؤنٹ کو عارضی طور پر خاموش کرنے کے لئے ہے
نواں آپشن اکاؤنٹ بلاک کرنے کے لئے ہے
دسواں نمبر اپنے مین صفحے کا ڈیزائین اور رنگ و خوبصورتی کے لئے ہے ۔۔۔۔ نیچے دیکھیں تصاویر ۔۔۔۔



گیارواں نمبر پھر اہم ہے ۔جہاں ‘‘ ایپ ‘‘ لکھا ہوا ہے اسے کلک کریں۔۔ اس میں آپ اپنے اکاؤنٹ کو فیس بک کے ساتھ نتھی یعنی جوڑ سکتے ہیں ۔۔۔ یعنی جو ٹویٹ ( پیغام ) آپ ادھر لکھیں گے وہ ساتھ ہی آپ کے فیس بک پر بھی پبلش ( شائع ) ہو گا ۔۔۔ اگر آپ کا فیس بک کا پیج بھی ہے تو ساتھ ہی اس پر بھی شائع ہو گا ۔۔۔۔۔ نیچے دیکھیں تصاویر ۔۔۔۔



اگر آپ کی اپنی کوئی ویب سائٹ یا بلاگ ہے تو بارہویں نمبر پر جو widgets کی آپشن ہے اس کو کلک کریں ۔اس کو کلک کرنے سے دائیں ہاتھ آپ کے جو آپشن آئی ہے اسے کلک کریں ۔۔۔۔ نیچے دیکھیں تصاویر ۔۔۔۔



یہاں سے آپ اپنی مرضی کا widgets بنا کر اس کا ایچ ٹی ایم ایل کوڈ لے کے اپنی ویب سائٹ یا بلاگ میں ڈال کر اپنی وال کے پیغامات دیکھ بھی سکتے ہیں اور وہاں سے ہی آپ یا کوئی بھی آپ کی وال پر پیغامات پوسٹ بھی کر سکتا ہے ۔۔۔۔۔نیچے دیکھیں تصاویر ۔۔۔۔



اب آپ کی تمام سیٹنگ مکمل ہو چکی ۔۔۔اب آپ بائیں ہاتھ اوپر ‘‘ ہوم ‘‘ پر کلک کر کے مین صفحے پر آجائیے ۔۔
1 ۔۔ جہاں نمبر ایک دیا گیا ہے وہ آپ کا دیا گیا نام ہے ۔۔ ٹویٹر پر آپ کی پہچان یعنی آپ کی آئی ڈی کی پہچان ‘‘ ایٹ دا ریٹ آف‘‘ ٹیگ یعنی ‘‘ @ ‘‘ اس ٹیگ سے ہوتی ہے ۔۔یعنی اگر آپ مجھے پیغام دیں گے تو ایسے لکھیں گے ۔۔۔۔۔ urduhome@ ۔۔۔۔۔اسی طرح آپ کسی کو بھی سرچ کر کے اسے ‘‘ فالو ‘‘ کر سکتے ہیں اور اسے پیغام بھیج سکتے ہیں ۔
2 ۔۔ یہاں آپ کے پیغامات کی تعداد لکھی ہو گی ۔
3 ۔۔یہاں پر وہ تعداد ہے جس کو آپ ‘‘ فالو ‘‘ کر رہے ہو
4 ۔۔یہاں پر وہ تعداد ہے جو آپ کو فالو کر رہی ہے
5 ۔۔یہاں بائیں ہاتھ پر وہ ‘‘ موضوعات ‘‘ ہیں اس وقت ٹویٹر پر چل رہے ہیں یعنی جس پر لوگ گفتگو کر رہے یا دلچسپی لے رہے ہیں ۔۔۔۔۔یہاں یہ بات بڑی اہم ہے کہ بڑی تنظیمیں یا گروہ اس ٹرینڈز کو اپنی مرضی سے تبدیل کرسکتی ہیں ۔۔۔۔ ۔۔۔
6۔۔ اس جگہ پر وہ تمام پیغامات آئیں گے جس کو آپ فالو کریں گے
7۔۔یہاں آپ اپنا پیغام لکھ کر پوسٹ کریں گے ۔۔۔ ٹویٹر پر لکھے گئے پیغام کو ٹویٹ کہتے ہیں
۔۔۔۔نیچے دیکھیں تصاویر ۔۔۔۔



اب آپ کے ذہن میں خیال آئے گا کہ میں تو کسی کو جانتا تک نہیں میں کس کو فالو کروں ۔۔۔ تو غم نہ کریں جونہی آپ اپنا صفحہ کھولیں گے آپ کے دائیں ہاتھ ٹویٹر اپنی ٹویٹری دکھائے گا یعبی آپ کو آپ کے مطلب کے مرد و عورتوں کے نام دکھانا شروع کر دے گا۔۔۔۔جو جو آپ کو پسند آتا جائے اسے فالو کرتے جائیں۔۔۔۔۔جیسا کہ ایک دوست نے ‘‘ باجی پلیز ‘‘ کو کیا ہوا ہے ۔۔۔۔نیچے دیکھیں تصاویر ۔۔۔۔



اب آپ نے ٹویٹر پر اکاؤنٹ بھی بنا لیا اور آپ اسے استمال بھی کر رہے ہیں اور آپ یہ بھی چاہتے ہیں کہ مجھے لمحہ بہ لمحہ تازہ حالات کا علم بھی ہوتا رہے یعنی تازہ خبریں ، حالات و واقعات یا کہ اندرون ملک یا بیرون ملک دوستوں ، رشتہ داروں کے حالات سے باخبری ان کے پیغامات اور آپ کے جوابات کا ان تک پہنچنا بھی ہو ۔۔۔ تو اس کے لئے آپ اپنے عام موبائل پر لمحہ بہ لمحہ با خبر بھی رہ سکتے ہیں اور اس کا جواب بھی دے سکتے ہیں۔۔۔۔ایک نمبر یعنی آپشن والے پہیے کو کلک کریں اور اس کے بعد آپ نے صرف ایک کام کرنا ہے کہ جدھر 7 نمبر پر ‘‘ ٹرن آن موبائل ‘‘ لکھا ہوا ہے اسے کلک کر دیں ۔اس کے کلک کرنے سے جیونیوز کی تمام خبریں آپ کے عام موبائل تک آنا شروع ہو جائیں گی ۔۔۔۔ پہلے موبائل کمپنیوں کی جانب سے پابندی نہیں تھی مگر اب پاکستانی موبائل کمپنیاں پچاس پیغامات روزانہ آنے دیتی ہیں باقی وہ بلاک کر دیتی ہیں ۔۔۔۔ ۔ آئیے دیکھئے کیسے ۔۔۔نیچے دیکھیں تصاویر ۔۔۔۔



اب انفرادی طور پر بھی دیکھیں یعنی آپ کسی کے بھی پیغامات اپنے عام موبائل پر پڑھ سکتے ہیں اور اس کا جواب بھی دے سکتے ہیں ۔آپشن والے پہیے کو کلک کر کے جہاں ‘‘ ٹرن آن موبائل ‘‘ لکھا ہوا ہے اسے کلک کر دیں ۔۔اب جو بھی ٹویٹ یعنی پیغام ساجد صاحب ٹویٹر پر کریں گے وہ آپ کے موبائل پر آئیں گے اور آپ ان کا جواب بھی دے سکتے ہیں ۔



نیچے دیکھئے پیغام موبائل پر کیسے آتے ہیں ۔۔۔۔نیچے دیکھیں تصاویر ۔۔۔۔




ویب پر ٹویٹر کا ٹیٹوریل اپنے اختتام کو پہنچا اس میں بہت سی چیزیں میں نے طوالت کی وجہ اور کچھ خاص وجوہات کی بنا پر نہیں بتائیں ۔۔۔ان کا بتانا میں نے مناسب نہیں جانا ۔اب آتا ہوں ٹویٹر کے اس ڈیسکٹاپ سوفٹ وئیر tweetdeck کی جانب جو کہ بڑے ادارے یا تنظیموں کے زیر استمال میں رہتا ہے جس سے آپ ٹویٹر کو اپنے کمپیوٹر کے ڈیسکٹاپ سے ہی آسانی ، زیادہ تیزرفتاری ، ترتیب اور احسن طریقہ سے استمال کر سکتے ہیں ۔یہ ٹویٹر والوں کا ہی ڈیسکٹاپ سوفٹ وئیر ہے اور بالکل مفت ہے ۔۔۔آپ اسے یہاں سے ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں

ٹویٹ ڈیسک کو ڈاؤنلوڈ کر کے انسٹال کر لیں۔۔۔انسٹال کرنے کے بعد اسے کلک کر کے کھولیں اور اپنا لوگن نیم اور پاسورڈ دے کر لاگن ہو جائیں ۔نیچے دیکھیں تصاویر ۔۔۔۔



لاگن ہونے کے بعد اگر آپ نے ویب پر ٹیوٹر میں سیکورٹی کے آپشن میں اپنا موبائل نمبر ڈالا ہوگا تو پہلے وہ سیکورٹی کا پوچھے گا۔۔۔نیچے دیکھیں تصاویر ۔۔۔۔



اس کے بعد آپ اپنے مین صفحے پر پہنچ جائیں گے ۔۔اس میں آپ ایک ہی صفحے پر لسٹ بنا کر آسانی سے ترتیب دے سکتے ہیں ۔۔۔نیچے دیکھیں تصاویر ۔۔۔۔




اگر آپ نے اس کی اپنی مرضی کی کوئی سیٹنگ وغیرہ کرنا ہو تو بائیں ہاتھ نیچے سیٹنگ کے آپشن میں جا کر کر سکتے ہیں ۔۔۔نیچے دیکھیں تصاویر ۔۔۔۔




بائیں ہاتھ سب سے اوپر کلک کر کے آپ اس میں اپنی ٹویٹ ( پیغام ) لکھ کر بھیج سکتے ہیں۔۔۔نیچے دیکھیں تصاویر ۔۔۔۔



خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں

پیر، 6 اکتوبر، 2014

سماجی رابطوں کی رنگ برنگی دنیا اور ڈپریشن

facebookسماجی رابطوں کے اس جدید ترین دور اور رنگ برنگی دنیا میں جس تیزی سے نِت نئی معلومات ، سوچ ، باتوں سے ہم لوگ روزانہ مستفید ہو رہے ہیں ان کو ہضم کرنا یا ان سے فائدہ اٹھانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے ۔ بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ ان کو بہت کم لوگ برداشت کر پاتے ہیں ۔

بہت سے لوگ دوسروں کی مختلف سوچوں ، باتوں ، انداز ، عادات و اطوار ، خصوصا ایسی سوچ یا باتیں جو ان کی ذہنی سوچ سے مطابقت نہ رکھتی ہوں سے متنفر ہو کر ذہنی ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ہر انسان کی سوچ عمومی یا خصوصی دوسروں کی سوچ سے بہت کم مطابقت رکھتی ہے جس کی وجہ سے انسان اکتاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے اور یہی اکتاہٹ جب حد سے بڑحتی ہے تو بندہ سکون چاہتا ہے۔

میری نظر میں اس کے سب سے بہتر دو حل ہیں
اگر تو آپ میں برداشت کا مادہ کم ہے اور آپ صرف اپنی ذہنی سوچ کے مطابق ہی ہر چیز چاہتے ہیں تو آپ کو چاہئے کہ کتابوں کی طرح اپنے موضوع کی کتاب تک محدود رہیں۔
دوسرا اس کا حل یہ ہے کہ دوسروں کی سوچوں کو پڑھیں اور اس سے سبق حاصل کریں ۔اگر کوئی سوچ آپ کی برداشت سے باہر ہے تو اسے نظرانداز کردیں ۔

نظراندازی خود کے لئے سکون اور دوسروں کے لئے عذاب کا باعث ہوتی ہے