‏Poetry لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Poetry لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 29 جون، 2017

ساتوں رنگ ۔۔۔۔ ناصر کاظمی کے دیوان اور مختلف اشعار کا انتخاب

ناصر کاظمی ایک بلند پایہ شاعر تھے ۔۔ ان کی شاعری اپنی مثال آپ ہے ۔۔ساتوں رنگ میں اعجاز عبید صاحب نے ناصر کاظمی کے دیوان اور مختلف کتب سے بہترین اشعار کا انتخاب کیا ہے ۔ساتوں رنگ کتاب ورڈ فارمیٹ میں پیش کی جارہی ہے جسے آپ یہاں سے کلک کر کے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں ۔

ساتوں رنگ یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
وہ تری یاد تھی اب یاد آیا

آج مشکل تھا سنبھلنا اے دوست
تو مصیبت میں عجب یاد آیا

دن گزارا تھا بڑی مشکل سے
پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا

تیرا بھولا ہوا پیمانِ وفا
مر رہیں گے اگر اب یاد آیا

پھر کئی لوگ نظر سے گزرے
پھر کوئی شہرِ طرب یاد آیا

حالِ دل ہم بھی سُناتے لیکن
جب وہ رُخصت ہوا تب یاد آیا

بیٹھ کر سایۂ گل میں ناصر
ہم بہت روئے وہ جب یاد آیا

بدھ، 29 مارچ، 2017

شاعروں پر ظلم بند کریں

شاعری کیا ہے ؟ ایک احساس ۔۔۔۔ ایسا احساس جسے الفاظ میں ڈھالا جاتا ہے
شاعری کو الفاظ میں ڈھالنا ایک فن ہے اور یہ فن ایک خداداد صلاحیت ہے ۔۔۔۔
دوسرے درجے کی شاعری میں احساس کو الفاظ میں بنایا جاتا ہے جسے ہم تخلیقی شاعری کہہ سکتے ہیں
کئی شاعروں نے چرس کے نشے میں ڈوب کر لکھا ۔۔۔۔ اور جو لکھا ۔۔ وہ یادگار تھا
کئی شاعروں نے شراب کے نشے میں کمال کے شعر کہہ ڈالے ۔۔۔اس وقت ان کو بھی نہیں پتہ چلا کہ کس کی شان میں کہہ ڈالے
کئی شاعروں نے پاخانے میں بیٹھے کمال کی غزلیں تخلیق کر ڈالیں
اب جو شعر کہے جاتے ہیں وہ شاعر کی مختلف ذہنی کفیت اور احساس کا عکاس ہوتے ہیں ۔۔۔تب شاعر کے ذہن میں پتہ نہیں کیا تصور ہوتا ہے یا پتا نہی اس نے وہ کس تناظر میں کہے ہوتے ہیں ۔۔۔
اب انہیں اشعار کو خود پر فٹ کر کے اپنے تئیں موقع کی مناسبت سے میدان میں پھینک کر داد وصول کرنا ظلم نہیں تو اور کیا ہے ؟

جمعہ، 15 جولائی، 2016

مجھے خط ملا ہے غنیم کا



مجھے خط ملا ہے غنیم کا
بڑی عجلتوں میں لکھا ہوا
کہیں رنجشوں کی کہانیاں
کہیں دھمکیوں کا ہے سلسلہ

مجھے کہہ دیا ہے امیر نے
کرو حسنِ یار کا تذکرہ
تمہیں کیا پڑی ہے کہ رات دن
کہو حاکموں کو برا بھلا

تمہیں فکرِ عمرِ عزیز ہے
تو نہ حاکموں کو خفا کرو
جو امیرِ شہر کہے تمہیں
وہی شاعری میں کہا کرو

کوئی واردات کہ دن کی ہو
کوئی سانحہ، کسی رات ہو
نہ امیرِ شہر کا ذکر ہو
نہ غنیمِ وقت کی بات ہو

کہیں تار تار ہوں عصمتیں
مرے دوستوں کو نہ دوش دو
جو کہیں ہو ڈاکہ زنی اگر
تو نہ کوتوال کا نام لو

کسی تاک میں ہیں لگے ہوئے
مرے جاں نثار گلی گلی
ہیں مرے اشارے کے منتظر
مرے عسکری، مرے لشکری

جو تمہارے جیسے جوان تھے
کبھی میرے آگے رکے نہیں
انہیں اس جہاں سے اٹھا دیا
وہ جو میرے آگے جھکے نہیں

جنہیں جان و مال عزیز تھے
وہ تو میرے ڈر سے پگھل گئے
جو تمہاری طرح اٹھے بھی تو
انہیں بم کے شعلے نگل گئے

مرے جاں نثاروں کو حکم ہے
کہ گلی گلی یہ پیام دیں
جو امیرِ شہر کا حکم ہے
بِنا اعتراض وہ مان لیں

جو مرے مفاد کے حق میں ہیں
وہی عدلیہ میں رہا کریں
مجھے جو بھی دل سے قبول ہوں
سبھی فیصلے وہ ہوا کریں

جنہیں مجھ سے کچھ نہیں واسطہ
انہیں اپنے حال پہ چھوڑ دو
وہ جو سرکشی کے ہوں مرتکب
انہیں گردنوں سے مروڑ دو

وہ جو بے ضمیر ہیں شہر میں
انہیں زر کا سکہّ اچھال دو
جنہیں اپنے درش عزیز ہوں
انہیں کال کوٹھی میں ڈال دو

جو مرا خطیب کہے تمہیں
وہی اصل ہے اسے مان لو
جو مرا امام بیاں کرے
وہی دین ہے سبھی جان لو

جو غریب ہیں مرے شہر میں
انہیں بھوک پیاس کی مار دو
کوئی اپنا حق جو طلب کرے
تو اسے زمیں میں اتار دو

جو مرے حبیب و رفیق ہیں
انہیں خوب مال و منال دو
جو مرے خلاف ہیں بولتے
انہیں نوکری سے نکال دو

جو ہیں بے خطا، وہی دربدر
یہ عجیب طرزِ نصاب ہے
جو گنہ کریں، وہی معتبر
یہ عجیب روزِ حساب ہے

یہ عجیب رت ہے بہار کی
کہ ہر ایک زیرِ عتاب ہے
’’کہیں پر شکستہ ہے فاختہ
کہیں زخم زخم گلاب ہے‘‘

مرے دشمنوں کو جواب ہے
نہیں غاصبوں پہ شفیق مَیں
مرے حاکموں کو خبر کرو
نہیں آمروں کا رفیق مَیں

مجھے زندگی کی ہوس نہیں
مجھے خوفِ مرگ نہیں ذرا
مرا حرف حرف، لہو لہو
مرا لفظ لفظ ہے آبلہ

ڈاکٹر سید صغیر صفی​

بدھ، 27 اپریل، 2016

ہم اہل قلم کیا ہیں ؟





ہم اہل قلم کیا ہیں ؟
اَلفاظ کا جھگڑا ہیں ، بے جوڑ سراپا ہیں
بجتا ہوا ڈنکا ہیں ، ہر دیگ کا چمچا ہیں
ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
مشہور صحافی ہیں ، عنوانِ معافی ہیں
شاہانہ قصیدوں کے، بے ربط قوافی ہیں
ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
یہ شکل یہ صورت ہے، سینوں میں کدورت ہے
آنکھوں میں حیا کیسی؟ پیسے کی ضرورت ہے
ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
اپنا ہی بَھرم لے کر، اپنا ہی قلم لے کر
کہتے ہیں …کہ لکھتے ہیں، انسان کا غم لے کر
ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
تابع ہیں وزیروں کے، خادم ہیں امیروں کے
قاتل ہیں اَسیروں کے، دشمن ہیں فقیروں کے
ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
اَوصاف سے عاری ہیں ، نُوری ہیں نہ ناری ہیں
طاقت کے پُجاری ہیں ، لفظوں کے مداری ہیں
ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
تصویرِ زمانہ ہیں ، بے رنگ فسانہ ہیں
پیشہ ہی کچھ ایسا ہے، ہر اِک کا نشانہ ہیں
ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
رَہ رَہ کے ابھرتے ہیں ، جیتے ہیں نہ مرتے ہیں
کہنے کی جو باتیں ہیں ، کہتے ہوئے ڈرتے ہیں
ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
بے تیغ و سناں جائیں ، با آہ و فغاں جائیں
اس سوچ میں غلطاں ہیں ، جائیں تو کہاں جائیں ؟
ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
۔
شورش کاشمیری ۔۔

پیر، 15 جون، 2015

پاک ٹی ہاؤس اور ہیر رانجھا

اس تحریر کو آپ آڈیو میں بھی سن سکتے ہیں

[audio mp3="http://snaji.com/wp-content/uploads/2015/06/pak-tea-house-lhr.mp3"][/audio]

پاک ٹی ہاؤس لاہور میں مال روڈ پر واقع ہے جو کہ نیلا گنبد کے قریب اور انار کلی بازار کے باہری حصے کی جانب واقع ہے ۔پاک ٹی ہاؤس کے سامنے کی جانب پنجاب یونیورسٹی ہے ، دائیں جانب کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج ہے اور بائیں جانب اے جی آفس کی جانب جانے والی سڑک نظر آتی ہے اور اگر ہم پیچے کی جانب دیکھیں تو وائی ایم سی کی پرانی بلڈنگ ہمیں کھڑی نطر آئے گی ۔

کہا یہ جاتا ہے کہ 1940 میں ایک سکھ بوٹا سنگھ نے "انڈیا ٹی ہاؤس" کے نام سے یہ چائے خانہ شروع کیا تھا۔۔۔ تقریباً چار سال اس چائے خانے کو چلانے کے باوجود بھی بوٹا سنگھ کی اس چائے خانے سے آمدن نہ ہونے کے برابر تھی جس سے بوٹا سنگھ کا دل اس چائے خانے سے اچاٹ ہو گیا اور وہ اس کو بیچنے کے بارے میں سوچنے لگا ۔اس زمانے میں بوٹا سنگھ کے چائے خانے میں دو سکھ بھائی جو گورنمنٹ کالج کے سٹوڈنٹ تھے اپنے دوستوں کے ہمراہ اکثر چائے پینے آتے تھے 1940ء میں یہ دونوں بھائی گورنمنٹ کالج سے گریجوایشن کر چکے تھے اور کسی کاروبا ر کے متعلق سوچ رہے تھے کہ ایک روز اس چائے خانہ پر بیٹھے، اس کے مالک بوٹا سنگھ سے بات چل نکلی اور بوٹا سنگھ نے یہ چائے خانہ ان کو بیچ دیا ۔


لاھور کے مشہور چائے خانوں میں سب سے مشہور چائے خانہ پاک ٹی ہاؤس تھا جو ایک ادبی، تہذیبی اور ثقافتی علامت تھا پاک ٹی ہاؤس شاعروں، ادیبوں، نقاد کا مستقل گڑھ تھا جو ثقافتی، ادبی محافل کا انعقاد کیا کرتی تھیں۔


اس زمانے میں پاک ٹی ہاؤس میں بیٹھنے والے ادیبوں اور شاعروں میں سے سوائے چند ایک کے باقی کسی کا بھی کوئی مستقل ذریعہ معاش نہیں تھا کسی ادبی پرچے میں کوئی غزل، نظم یا کوئی افسانہ لکھ دیا تو پندرہ بیس روپے مل جاتے تھے لیکن کبھی کسی کے لب پر تنگی معاش کا شکوہ نہیں تھا اگر شکوہ کرتے تھے تو محبوب کی بے وفائی کا۔۔۔۔۔۔ وہ بھی اپنی شاعری میں ۔۔۔



سعادت حسن منٹو، اے حمید، فیض احمد فیض، ابن انشاء، احمد فراز، منیر نیازی، میرا جی، کرشن چندر، کمال رضوی، ناصر کاظمی، پروفیسر سید سجاد رضوی، استاد امانت علی خان، ڈاکٹر محمد باقر، انتظار حسین، اشفاق احمد، قیوم نظر، شہرت بخاری، انجم رومانی، امجد الطاف امجد، احمد مشتاق، مبارک احمد، انورجلال، عباس احمد عباسی، ہیرو حبیب، سلو، شجاع، ڈاکٹر ضیاء، ڈاکٹر عبادت بریلوی، سید وقار عظیم وغیرہ پاک ٹی ہاؤس کی جان تھے

ساحر لدھیانوی بھارت جا چکے تھے اور وہاں فلمی گیت لکھ کر اپنا نام کما رہے تھے۔۔ اس وقت کے شاعر اور ادیب اپنے اپنے تخلیقی کاموں میں مگن تھے ادب اپنے عروج پہ تھا اس زمانے کی لکھی ھوئی غزلیں، نظمیں، افسانے اور مضامین آج کے اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں اس زمانے کی بوئی ہوئی ذرخیز فصل کو ھم آج کاٹ رہے ہیں

پاک ٹی ہاؤس کئ نشیب و فراز سے گزرا اور کئ مرتبہ بند ہو کر خبروں کا موضوع بنتا رہا
عرصہ دراز تک اہل قلم کو اپنی آغوش میں پناہ دینے کے بعد 2000ء میں جب ٹی ہاؤس کے مالک نے اسے بند کرنے کا اعلان کیا تو ادبی حلقوں میں تشویس کی لہر دوڈ گئ اور اھل قلم نے باقاعدہ اس فیصلے کی مزاحمت کرنے کا اعلان کر دیا

دراصل ٹی ہاؤس کے مالک نے یہ بیان دیا تھا کہ "میرا ٹی ہاؤس میں گزارہ نہیں ہوتا میں کوئی دوسرا کاروبار کرنا چاہتا ہوں" ادبی تنظیموں نے مشترکہ بیان دیا کہ ٹی ہاؤس کو ٹائروں کی دکان بننے کی بجائے ادیبوں کی بیٹھک کے طور پر جاری رکھا جائے کیونکہ اس چائے خانے میں کرشن چندر سے لیکر سعادت حسن منٹو تک ادبی محفلیں جماتے رھے
ادیبوں اور شاعروں نے اس چائے خانے کی بندش کے خلاف مظاہرہ کیا اور یہ کیس عدالت میں بھی گیا اور بعض عالمی نشریاتی اداروں نے بھی احتجاج کیا آخر کار 31 دسمبر 2000ء کو یہ دوبارہ کھل گیا اور اہل قلم یہاں دوبارہ بیٹھنے لگے لیکن 6 سال کے بعد مئ 2006ء میں یہ دوبارہ بند ہو گیا اس بار ادیبوں اور شاعروں کی طرف سے کوئی خاص احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا


میاں نواز شریف نے بالآخر 23 مارچ 2012 کو پاک ٹی ہاؤس میں چائے پی کر اور اس کا افتتاح کر کے ادیبوں اور شاعروں کے لیے اس کے دروازے ایک بار پھر کھول دئیے ۔

آجکل پاک ٹی ہاؤس میں ادبا اور شعرا تو خال خال ہی نظر آتے ہیں البتہ دوپہر گیارہ بجے سے شام پانچ بجے تک لیلی مجنوں ، شیریں فرہاد ، سسی پنوں اور ہیر رانجھا اپنی اپنی سرگوشیوں میں مشغول رہتے ہیں ۔

https://soundcloud.com/urduhome/pak-tea-house

.....................

اتوار، 14 جون، 2015

کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے

وہی خدا ہے ۔۔۔۔ مظفر وارثی کی خوبصورت آواز میں سنئے

[audio mp3="http://snaji.com/wp-content/uploads/2015/06/wohi-kjuda-hai.mp3"][/audio]

کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے
وہی خدا ہے
دکھائی بھی جو نہ دے، نظر بھی جو آ رہا ہے
وہی خدا ہے
وہی ہے مشرق، وہی ہے مغرب
سفر کريں سب اُسی کی جانب
ہر آئینے میں جو عکس اپنا دِکھا رہا ہے
وہی خدا ہے
تلاش اُس کو نہ کر بتوں میں
وہ ہے بدلتی ہوئی رُتوں میں
جو دن کو رات اور رات کو دن بنا رہا ہے
وہی خدا ہے
نظر بھی رکھے سماں پہ بھی
وہ جان لیتا ہے نیتیں بھی
جو خانہ لاشعور میں جگمگا رہا ہے
وہی خدا ہے
کسی کو سوچوں نے کب سراہا
وہی ہوا جو خدا نے چاہا
جو اختیارِ بشر پے پہرے بٹھا رہا ہے
وہی خدا ہے
کسی کو تاج وقار بخشے،کسی کو ذلتِ کے غار بخشے
جو سب کے ماتھے پے مہر قدرت لگا رہا ہے
وہی خدا ہے
سفید اسکا، سیاہ اسکا، نفس نفس ہے گواہ اسکا
جو شعلہ جاں جلا رہا ہے، بجھا رہا ہے
وہی خدا ہے


https://soundcloud.com/urduhome/wohi-kjuda-hai

...................

اتوار، 19 اپریل، 2015

مگر ہمیں کیا ۔۔۔۔ ! ۔۔

ایک نظم کے جواب میں لکھی میری ایک نظم

مگر ہمیں کیا ۔۔۔۔ !

تم آڑھے ترچھے خیال سوچو
کہ بے ارادہ ۔۔۔۔۔ کتاب لکھو
کوئی ۔۔۔۔۔ شناسا غزل بھی کہہ دو
کہ اجنبی انتساب ۔۔۔۔۔ لکھو
گنوا دو اک عمر کے زمانے ۔۔۔۔ !
کہ ایک ۔۔۔۔۔ پل کا حساب لکھو
تمہاری طبیعت پہ منحصر ۔۔۔ ہے
تم جس طرح کا ۔۔۔ نصاب لکھو
یہ تمہارے اپنے مزاج ۔۔۔۔ پر ہے
عذاب سوچو ۔۔۔۔ثواب ۔۔۔ لکھو

طویل تر ہے ۔۔۔۔۔ سفر ہمیں کیا ؟
تم جی رہی ہو۔۔۔۔ مگر ہمیں کیا ؟

مگر ہمیں کیا ۔۔۔۔ کہ تم تو کب سے
اپنے ۔۔۔۔۔۔۔ ارادے گنوا چکی ہو
جلا کے سارے حروف ۔۔۔۔۔ اپنے
اپنی ..........دعائیں بجھا چکی ہو
تم رات اوڑھو۔۔۔۔۔ کہ صبح پہنو
تم اپنی رسمیں اٹھا ۔۔۔۔ چکی ہو
سنا ہے۔۔۔۔ سب کچھہ بھلا چکی ہو

تو اب اپنے دل پہ ۔۔۔۔ جبر کیسا ؟
یہ دل ۔۔۔۔ تو حد سے گزر چکا ہے
گزر چکا ہے ۔۔۔۔۔۔ مگر ہمیں کیا ؟
خزاں کا۔۔۔۔۔ موسم گزر چکا ہے
ٹھہر ۔۔۔۔۔ چکا ہے مگر ہمیں کیا ؟

مگر ہمیں کیا .........کہ اس خزاں میں
تم جس طرح کے ۔۔۔ بھی خواب لکھو

منگل، 10 جون، 2014

فیض احمد فیض کی شاعری ڈاؤنلوڈ کریں

فیض احمد فیض کی شاعری یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

ڈاکٹر شکیل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ فیض احمد فیض برصغیر کی تہذیب کی جمالیات سے رشتہ رکھتے ہں جس کی جڑیں اس زمین کی گہرائیوں مںو پیوست اور دور دور تک پھیلی ہوئی ہں ، جس کی خوبصورت روایتیں تاریخ مں مسلسل سفر کرتی رہی ہںت اور جس نے اس عہد مںا اپنی تاریخی، سماجی اور سیاسی حیثیتوں کو زندگی کی معنویت کے ساتھ اُجاگر کر رکھا ہے۔
فیض احمد فیض کی شخصیت کا ارتقاء اسی تہذیب مںت ہوا ہے، ان کی شاعری اسی تہذیب کی جمالیات کے مختلف پہلوؤں کو پیش کرتی ہے، ان پہلوؤں اور جہتوں کو ’ہیومنزم‘ کے جمالیاتی مظاہر سے تعبیر کرنا مناسب ہوگا۔ فیض احمد فیض کا اپنا منفرد رومانی،جمالیاتی شعور و احساس ہے جو اس عہد کی دین ہے۔ ’ہیومنزم‘ کے جمالیاتی مظاہر، معاشرے کے مختلف طبقوں کے احساس و شعور کا حصہ بن کر ’’جمالیاتی ثقافت‘‘ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہںخ ۔


میں فیض احمد فیض کی اس قیمتی شاعری کے لئے اردو محفل خصوصاً اعجاز عبید صاحب ، جویریہ مسعود صاحبہ ، منصور قیصرانی صاحب ، فرخ منظور صاحب سیدہ شگفتہ صاحبہ ، نبیل نقوی صاحب ، شعیب افتخار (فریب) صاحب، محب علوی صاحب، رضوان صاحب ، شمشاد صاحب سید اویس قرنی المعروف بہ چھوٹا غالب کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور ساتھ ساتھ اردو محفل لائبریری کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اپنی محنت سے انٹرنیٹ کی دنیا میں یونی کوڈ کتابوں کے حصول کو آسان اور مفت بنا دیا

بدھ، 4 جون، 2014

جون ایلیا کی غزلیں، نظمیں، قطعات ڈاؤنلوڈ کریں

جون ایلیا کی غزلیں، نظمیں، قطعات یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

جون ایلیا ایک عجیب اور منفرد شاعر جو کہ چھوٹے بحر کی شاعری میں کمال کا درجہ رکھتا تھا ۔۔۔ ایسا شاعر جو تھوڑے الفاظ میں بہت کچھ کہہ جاتا تھا ۔ جون ایلیا ایک جگہ کہتا ہے ۔اپنی شاعری کا جتنا منکر میں ہوں، اتنا منکر کوئی نہ ہو گا. کبھی کبھی تو مجھے اپنی شاعری اشتعال انگیز حد تک بری اور بے تکی لگتی ہے.

میں جون ایلیا کی ان قیمتی غزلوں ، نظموں اور قطعات کے لئے اردو محفل خصوصاً اعجاز عبید صاحب ، جویریہ مسعود صاحبہ ، منصور قیصرانی صاحب ، فرخ منظور صاحب سیدہ شگفتہ صاحبہ ، نبیل نقوی صاحب ، شعیب افتخار (فریب) صاحب، محب علوی صاحب، رضوان صاحب ، شمشاد صاحب سید اویس قرنی المعروف بہ چھوٹا غالب کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور ساتھ ساتھ اردو محفل لائبریری کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اپنی محنت سے انٹرنیٹ کی دنیا میں یونی کوڈ کتابوں کے حصول کو آسان اور مفت بنا دیا

جمعرات، 29 مئی، 2014

مرزا اسد اللہ خان غالب کے دیوان غالب ڈاؤنلوڈ کریں

مرزا اسد اللہ خان غالب کے دیوان اور ان سے متعلق کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں

تمام کتابیں ورڈ فارمیٹ میں یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

آپ ان کتابوں کو اپنے موبائل میں بھی پڑھ سکتے ہیں
موبائل پر پڑھنے کے لئے آسان طریقہ استمال کریں ۔۔ یعنی جو میل ایڈریس آپ اپنے موبائل پر استمال کرتے ہیں وہاں یہ فائل بھیج کر اپنے موبائل میں ڈاؤنلوڈ کر لیں

میں غالب کے ان قیمتی نسخوں کے لئے اردو محفل خصوصاً اعجاز عبید صاحب ، جویریہ مسعود صاحبہ ، منصور قیصرانی صاحب ، فرخ منظور صاحب سیدہ شگفتہ صاحبہ ، نبیل نقوی صاحب ، شعیب افتخار (فریب) صاحب، محب علوی صاحب، رضوان صاحب ، شمشاد صاحب سید اویس قرنی المعروف بہ چھوٹا غالب کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور ساتھ ساتھ اردو محفل لائبریری کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اپنی محنت سے انٹرنیٹ کی دنیا میں یونی کوڈ کتابوں کے حصول کو آسان اور مفت بنا دیا

بدھ، 28 مئی، 2014

علامہ محمد اقبال کے دیوان ڈاؤنلوڈ کریں

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے دیوان اور ان سے متعلق کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں

میں ان کتابوں کے لئے اردو محفل خصوصاً اعجاز عبید صاحب ، منصور قیصرانی صاحب ، فرخ منظور صاحب اور اردو محفل لائبریری کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اپنی محنت سے انٹرنیٹ کی دنیا میں یونی کوڈ کتابوں کے حصول کو آسان اور مفت بنا دیا

بال جبر یل

بانگ درا

ارمغان حجاز

ضرب کلیم

حیات اقبال

مطالعۂ اقبال کے سو سال

فکرِ اقبال کی تفہیم اور مغالطے:چند معروضات

تمام کتابیں ورڈ فارمیٹ میں یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

آپ ان کتابوں کو اپنے موبائل میں بھی پڑھ سکتے ہیں
موبائل پر پڑھنے کے لئے آسان طریقہ استمال کریں ۔۔ یعنی جو میل ایڈریس آپ اپنے موبائل پر استمال کرتے ہیں وہاں یہ فائل بھیج کر اپنے موبائل میں ڈاؤنلوڈ کر لیں


علامہ محمد اقبال نو نومبر اٹھا رہ سو ستتر کو پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ علامہ محمد اقبال نے مشن ہائی سکول سیالکوٹ سے میٹرک اور مرے کالج سیالکوٹ سے ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور ایم اے پاس کیا۔انیس سو پانچ میں علامہ محمد اقبال اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے جہاں انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی بعد آزاں وہ جرمنی چلے گئے جہاں علامہ محمد اقبال نے میونخ یونیورسٹی سے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وکالت کے ساتھ ساتھ علامہ محمد اقبال شعروشاعری بھی کرتے رہے ۔ انیس سو بائیس میں حکومت کی طرف سے انہیں سر کا خطاب ملا۔ انیس سو چھبیس میں آپ پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی کے ممبر چنے گئے۔علامہ محمد اقبال مسلم لیگ میں شامل ہوکر آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے۔علامہ محمد اقبال کا الہٰ آباد کا مشہور صدارتی خطبہ تاریخی حیثیت رکھتا ہے، جس میں علامہ محمد اقبال نے پاکستان کا تصور پیش کیا۔علامہ محمد اقبال اور قائداعظم کی مشترکہ کاوشوں سے پاکستان معرض وجود میں آیا ۔ پاکستان کی آزادی سے پہلے ہی اکیس اپریل انیس سو اڑتیس میں علامہ محمد اقبال انتقال کر گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون

ہفتہ، 12 اکتوبر، 2013

علماء سُو کے بعد شعراء سُو پر تحریر زنی

فیس بک کی شخصیت عبدالمختار صاحب کہتے ہیں کہ
"پاکستان" کا کوئی شاعر ،ادیب یا لکھاری۔۔۔غربت،بھوک،افلاس یا مہنگائی وغیرہ سےنہ مرا ہے اور نہ مرے گا !!
یہ ہہت ہی سخت جان مخلوق ہے.....!

ہم یہ کہتے ہیں کہ ،
آپ اگر نظر کا زاویہ تھوڑا وسیع کر لیں تو پوری دنیا میں آج تک کوئی بھی شاعر غربت ، بھوک و افلاس یا مہنگائی سے نہیں مرا ۔۔۔۔ البتہ شاعروں نے اپنے شعروں کے زریعہ سے آج تک لاکھوں انسانوں کو غربت ، بھوک و افلاس اور مہنگائی سے ٹھکانے ضرور لگایا ہے ۔
اگر کوئی غلطی سے ساغر صدیقی جیسے اکا دکا عظیم شاعر کی مثال دینا چاہے تو اسے یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ایسے شاعر غربت ، بھوک و افلاس اور مہنگائی وغیرہ سے نہیں بلکہ چرس ، گانجا ، افیون ، بھنگ ، شراب ، مارفین کے انجکشن ، ڈیزی پام کی گولیوں اور دیگر نشوں سے زندگی کی رعنائیوں کو سمییٹتے ہوئے اب اپنے مقبروں میں آرام فرما ہیں ۔

دیکھا جائے تو ویسے بھی ہمارے شعرا کرام نے عوام کی خدمت کی بجائے کنجر خانوں اور نگار خانوں کی خدمت کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ان کی خوبصورت اور دلفریب شاعری سے مزین کانوں میں رس گھولتے ہوئے گانوں نے نوجوان نسل کے ساتھ ساتھ بوڑھوں کو بھی جہنم کا ایندھن بنا دیا ہے ۔
اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ انہی عظیم شعرا کرام نے حسین زلفوں میں جوؤں کا ذکر کئے بغیر اپنے شعروں کی خوشبو سے ازہان کو معطر کر کے نوجوان نسل کو تعلیم سے دور کرنے کے ساتھ ساتھ عاشقی کے گہرے سمندر میں پھینکنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے



علماء سُو کے بعد شعراء سُو پر تحریر زنی

فیس بک کی معروف شخصیت عبدالمختار صاحب کہتے ہیں کہ
"پاکستان" کا کوئی شاعر ،ادیب یا لکھاری۔۔۔غربت،بھوک،افلاس یا مہنگائی وغیرہ سےنہ مرا ہے اور نہ مرے گا !!
یہ ہہت ہی سخت جان مخلوق ہے.....!

ہم یہ کہتے ہیں کہ ،
آپ اگر نظر کا زاویہ تھوڑا وسیع کر لیں تو پوری دنیا میں آج تک کوئی بھی شاعر غربت ، بھوک و افلاس یا مہنگائی سے نہیں مرا ۔۔۔۔ البتہ شاعروں نے اپنے شعروں کے زریعہ سے آج تک لاکھوں انسانوں کو غربت ، بھوک و افلاس اور مہنگائی سے ٹھکانے ضرور لگایا ہے ۔
اگر کوئی غلطی سے ساغر صدیقی جیسے اکا دکا عظیم شاعر کی مثال دینا چاہے تو اسے یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ایسے شاعر غربت ، بھوک و افلاس اور مہنگائی وغیرہ سے نہیں بلکہ چرس ، گانجا ، افیون ، بھنگ ، شراب ، مارفین کے انجکشن ، ڈیزی پام کی گولیوں اور دیگر نشوں سے زندگی کی رعنائیوں کو سمییٹتے ہوئے اب اپنے مقبروں میں آرام فرما ہیں ۔

دیکھا جائے تو ویسے بھی ہمارے شعرا کرام نے عوام کی خدمت کی بجائے کنجر خانوں اور نگار خانوں کی خدمت کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ان کی خوبصورت اور دلفریب شاعری سے مزین کانوں میں رس گھولتے ہوئے گانوں نے نوجوان نسل کے ساتھ ساتھ بوڑھوں کو بھی جہنم کا ایندھن بنا دیا ہے ۔
اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ انہی عظیم شعرا کرام نے حسین زلفوں میں جوؤں کا ذکر کئے بغیر اپنے شعروں کی خوشبو سے ازہان کو معطر کر کے نوجوان نسل کو تعلیم سے دور کرنے کے ساتھ ساتھ عاشقی کے گہرے سمندر میں پھینکنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے



پیر، 25 مارچ، 2013

پاک ٹی ہاؤس لاہور میں محفلین کے اعزاز میں ایک پرتکلف پارٹی کا اہتمام

مورخہ 24 مارچ 2013 بروز اتوار کو پاک ٹی ہاؤس لاہور میں اردو محفل کے آراکین کی جانب سے محفلین کے اعزاز میں ایک پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔جس میں محفلین میں سے عاطف بٹ ، بابا جی ، متلاشی ، عبدالرزاق ، محمد عمرفاروق ، نعیم قیصر، محمدکامران اختر اور پردیسی نے شرکت کی ۔
[gallery ids="761,762,763,764,765,766,767,768,769,770,771,772,773,774,775,776,777,778,779,780,781,782,783,784,785,786,787,788,789,790,791,792,793,794,795,796,797,798,799,800,801,802,803,804,805,806,807,808,809,810,811,812,813,814,815,816,817,818,819,820,821,822,823,824,825,826,827,828,829,830,831,832,833,834,835,836,837,838,839,840,841,842,843,844,845,846,847,848,849,850,851,852,853,854,855,856,857,858,859,860,861,862,863,864,865,866,867,868,869,870,871,872,873,874,875,876,877,878,879,880,881,882,883,884,885,886,887,888,889,890"]



جمعہ، 23 نومبر، 2012

دل تے ماریں چاقو ایہنے ، وچ رب کیوں ریہندا

خبر کچھ یوں تھی کہ اوکارہ میں حجام کے ناک کان اور ہونٹ کاٹ دئے۔آنکھیں باہر نکال دیں

نک وڈ دے ، کَن وڈ دے ، وڈ دے جو دل کیہندا
آنکھاں کڈ کے انہاں کر دے درد تو نہیں سینہدا
دل تے ماریں چاقو ایہنے ، وچ رب کیوں ریہندا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناک کاٹ دو ، کان کاٹ دو ، کاٹ دو جو آپ کا دل کہتا ہے
آنکھیں نکال کر اندھا کردو ، درد آپ نے تو نہیں جھیلنا
دل پر اتنے چاقو مارو کہ اس کے دل میں رب کیوں رہتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کب بدلے گا پاکستان

چڑیا گھر ہیں بچوں کے

کچھ سالوں سے پہلے تک
سب نگر تھے بچوں کے
اب اپنا گھر تو دور کی بات
چڑیا گھر ہیں بچوں کے

کب بدلے گا پاکستان

منگل، 20 نومبر، 2012

ساغر صدیقی غزل ۔۔۔ وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو

وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو
ہم نہ جائیں تو کیا تماشا ہو

یہ کناروں سے کھیلنے والے
ڈوب جائیں تو کیا تماشا ہو

بندہ پرور جو ہم پہ گزری ہے
ہم بتائیں تو کیا تماشا ہو

آج ہم بھی تری وفاؤں پر
مسکرائیں تو کیا تماشا ہو

تیری صورت جو اتفاق سے ہم
بھول جائیں تو کیا تماشا ہو

وقت کی چند ساعتیں ساغر
لوٹ آئیں تو کیا تماشا ہو